03/09/2010
 
 
   
 
 
  ادب

 
موجِ سیراب
دن کو چین نہ رات کو آرام، متواتر آٹھ دن سے یہی حال تھا۔ میرا بایاں بازو سوج کے ٹائر بن چکا تھا۔ ایک ایسا ٹائر جوکئی جگہ سے پھٹ چکا تھا اور پھر بھی پہیے پر چڑھا تھا۔ جی میں آئی کہ اس ٹائر کو اپنے کندھے سے اتار پھینکوں۔ دل میں جو بقراط تھا۔ چپکے سے یوں کہنے لگا”۔ اور تم بھی بائیں بازو کے دشمن ہو!“
مزید

 
بس ہوا سے دوستی رکھی
یہ کتاب چھپنے سے کافی مہینے پہلے کی بات ہے کہ پہلی بار ظہور احمد کے دفتر گیا تھا۔ کام تو جو ہوا سو ہوا، البتہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کی ایک صورت نکل آئی۔ وجہ ہم دونوں میں چار باتوں کا مشترک ہونا تھا۔ جن میں سب سے مضبوط حوالہ گورنمنٹ کالج لاہور ہے جس سے ہم دونوں کو محبت ہے۔
مزید
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive