|
فلم
ریویو
ہالی
وڈ پولیس پر بنی کئی فلمیں سپر ہٹ رہیں
ہیں اور شائقین ان کو نہایت دلچسپی سے
دیکھتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ایسی ہی ایک فلم
” کوپ آؤٹ “ کے نام سے
ریلیز ہو ئی جس کے مرکزی ستاروں میں بروس
ولس اور ٹریسی مورگن شامل ہیں ۔ فلم کی
کہانی کے مطابق جمی (بروس)
اور
پال (ٹریسی)
دونوں
پولیس افسر ہیں اور نو برس تک ایک دوسرے
کے پا ٹنر رہے ہیں لیکن ان دونوں کو کسی
وجہ سے معطل کر دیا جاتا ہے۔ جمی کی بیٹی
ایوا کی شادی ہونے والی ہے جس کے لیے
اس کو پچاس ہزار ڈالر تک کی رقم درکار ہے۔
جبکہ پال کو یہ شک ہے کہ اس کی بیوی کا کسی
اور کے ساتھ چکر چل رہا ہے چنانچہ وہ ایک
بھالو نما کھلونے میں ویڈیو کیمرہ رکھ
دیتا ہے۔ یہاں ایک دم پلاٹ نیا رخ اختیار
کرتا ہے، جمی اپنی بیٹی کی شادی کا خرچہ
پورا کرنے کے لیے اپنا
پسندیدہ بیس بال بیٹ فروخت کرنے جا رہا
ہوتا ہے کہ اس کو ڈیو (شین
ولیم سکاٹ)
لوٹ
لیتا ہے اور بیٹ چھین لیتا ہے۔ بھاگتے
ہوئے وہ پال کی گن کو بھی چوری کر لیتا ہے۔
اب ان دونوں دوستوں کا مشترکہ دشمن ایک
ہے جس کے بارے میں ان کو پتہ چلتا ہے کہ وہ
رات کو ایک گھر میں ڈاکہ مارنے والا ہے،
وہ دونوں وہاں جا پہنچتے ہیں۔ ڈیو کو قابو
کرنے کے بعد ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کی
دونوں چیزیں ڈرگ مافیا کو بیچی جا چکی ہیں
اور ا ن کو واپس لانے کے ضروری ہے کہ وہ
ایک چوری شدہ گاڑی کو ڈھونڈ کر لائیں۔
لیکن آئندہ ایک ایسا مشن شروع ہوتا ہے جس
کا انہوں نے سوچا تک نہ تھا، وہ اپنی
پسندیدہ چیزیں حاصل کرنے کے لیے
ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں جس کے لیے
انہیں قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا
پڑتا ہے اور بے شمار دلچسپ واقعات سامنے
آتے چلے جاتے ہیں۔
اس
فلم کی سب سے خاص بات فلم کے دونوں مرکزی
کرداروں کی بہترین اداکاری اور آپس کی
کیمسٹری ہے جو ذاتی زندگیوں کے گرد گھومتی
ہوئی اس کہانی کو یکسانیت سے پاک رکھتی
ہے اور اس کو دلچسپ بناتی ہے۔
بہترین سیٹ اور بڑی سکرین کی سنیماٹو
گرافی فلم کو اچھوتا انداز دیتے ہیں جس
کے باعث فلم دیکھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا
ہے۔ فلم کی ہدایتکاری اور مکالمہ نویسی
جاندار اور برمحل ہے لیکن اس کا ایک منفی
پہلو یہ بھی نظر آتا ہے کہ جیسے جیسے فلم
کا پلاٹ اپنے کلائمکس کی جانب بڑھتا ہے
اور کہانی میں گہرائی آنا شروع ہوتی ہے
تو کرداروں کی آپس میں کیمسٹری کمزور پڑتی
دکھائی دیتی ہے اور پلا ٹ واضح طور پر اپنے
موضوع سے ہٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے
باعث فلم کا دوسرا ہاف پہلے
حصے کے مقابلے میں کچھ کمزور پڑتا محسوس
ہوتا ہے۔لیکن مجموعی طور پر فلم ایک دلچسپ
کہانی کی احاطہ کرتی ہے۔
فلم
ریویو(تین
پتی)
بالی
وڈ کی عالمی سطح پر ریلیز ہونے والی نئی
فلم ’تین پتی‘ سنیما گھروں میں شائقین
کے لیے پیش کر دی گئی جس
میں امیتابھ بچن اور آسکر ایوارڈ یافتہ
برطانوی فنکار بن کنگسلے نے مرکزی کردار
نبھایا ہے۔ فلم کے ہدایتکار لینا یادو
ہیں، فلم کا پلاٹ ایک پروفیسر کی زندگی
کے گرد گھومتا ہے جو اپنے شعبے میں نہایت
ذہین فطین ہے لیکن اس کی شہرت کو کوئی نہیں
پرکھ پا تا۔ فلم کے دوسرے مرکزی کرداروں
میں مادھون اور پروفیسر کے پانچ طلبا کو
دکھایا گیا ہے۔ یہ تمام چھ افراد امیتابھ
کے دریافت کیے گئے نئے اصول
کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے
استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی مدد
سے وہ تاش کی ایک گیم ”تین پتی“ کو بآسانی
جیت سکتے ہیں۔ یہ تمام کاوشیں مقابلے
کی فضا پیدا کر دیتی ہیں اور ان سب کو جواء
مافیا کی جانب سے بھاری رقوم کی پیشکش
ہوتی ہے، تا کہ وہ راتوں راتوں امیر بن
سکیں۔ پیسے کی ہوس بڑھنے کے باعث تمام
گروپ میں مقابلے اور نفرت کی فضاءقائم ہو
جاتی ہے۔یہاں سے فلم میں بے شمار کہانیاں
ایک ساتھ امڈ کر سامنے آتی ہیں جن میں سے
کئی ایک نہایت دلچسپ اور باقی غیر حقیقت
پسند لگتی ہیں۔
فلم
کا موضوع نہایت دلچسپ ہے جو ناظرین کو
اپنی جانب بھرپور انداز میں متوجہ کرتا
ہے لیکن دوسرے ہاف میں ایک ہی پلاٹ سے پے
درپے کئی کہانیاں نکلتی ہیں جس کی بدولت
سب کچھ الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے اور شائقین
کے لئے یہ پتہ چلانا مشکل ہو جاتا ہے کہ
وہ کس کہانی میں الجھے ہوئے ہیں اور یہ
کردار ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ فلم میں کئی
نئے کردار اس تیزی سے آتے اور جاتے ہوئے
نظر آتے ہیں کہ ان کا فلم کی کہانی سے تعلق
جوڑنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ فلم کی کاسٹ
میں شامل دونوں مرکزی کرداروں کی پرفارمنس
عمدہ اور لازوال ہے جو فلم کے پلاٹ کو کسی
حد تک سہارا دیتے ہیں اور دلچسپ بنا تے
ہیں لیکن باقی ماندہ کاسٹ ایسی پرفارمنس
دینے میں ناکام ہے جو اس فلم کے شایان ہو
سکتی تھی۔ لیکن ایک نئی اداکارہ شردھا
کپور نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے
جو سینئر اداکار شکتی کپور کی بیٹی ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں سکرپٹ میں بھی کئی جگہ
خامیاں نظر آتی ہیں جس کے باعث کہانی اپنا
وہ تاثر چھوڑنے میں ناکام نظر آئی جس کی
توقع کی جا رہی تھی۔ فلم کا سب سے مثبت
پہلو اس کی موسیقی ہے جس کو سلیم سلیمان
نے پروڈیوس کیا ہے۔ یہ مدھر موسیقی پوری
فلم کے دوران لوگوں کا دل
بہلاتی ہے اور اس میں موجود کسینو کے مناظر
کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔ فلم کے کلائمکس
کو ضرورت سے زیادہ طویل کر دیا گیا ہے جو
اس کے تاثر کو خراب کرنے کی ایک بڑی وجہ
بنی۔
|