|
رنگوں
اور روشنیوں کی کہکشاں
لینٹرن
فیسٹول کے بارے رپورٹ
مختلف
ثقافتوں میں اہم اور تاریخ ساز دنوں کو
منانے کے لیے نت نئے انداز اختیار کیے
جاتے ہیں جو انتہائی دلچسپ اور رنگا رنگ
ہوتے ہیں۔ بہار کی آمد جہاں باغوں میں
خوشنما اور معطر پھولوں کی رونق لاتی ہے
وہاں لوگوں کے چہرے بھی خوشی اور طمانیت
سے معمور نظر آتے ہیں۔ اس موسم میں دنیا
بھر میں بے شمار میلوں کا اہتمام کیا جاتا
ہے جو اپنے رنگ و بو اور مستی میں کوئی
نظیر نہیں رکھتے۔ایسا ہی ایک میلہ کئی
ایشیائی ممالک مثلاً چین، ویتنام، سنگا
پور اور تائیوان میں منایا جاتا ہے۔ اس
کو نئے چینی برس کے شروع ہونے سے بھی منسلک
کیا جاتا ہے لیکن ہر ملک میں اس کو ایک ہی
وقت میں لیکن مختلف مقاصد کے ساتھ منایا
جاتا ہے ۔
تاریخی
حوالے سے یہ میلہ چھٹی صدی سے منایا جارہا
ہے جب اس وقت کے چین کے حکمران دوسرے ممالک
کے سفیروں کو بلا کر اپنے ملک کا یہ رنگ
برنگ میلہ دکھایا کرتے تھے۔ اس میلے کا
آغاز نئے چینی برس شروع ہونے کے پندرھویں
دن کیا جاتا ہے جب پورا چاند اپنی آب و تاب
کے ساتھ آسمان پر جگمگا رہا ہوتا ہے۔ تب
رات کے اندھیرے کو دن کی روشنی میں بدلنے
میں ہزاروں کی تعداد میں برقی اور تیل سے
جلنے والی لالٹینوں کو اہم مقامات اور
گھروں کے باہر نصب کیا جاتا ہے۔ ان قمقوں
اور لالٹینوں کے ڈیزائن تیار کرنے کے لیے
کئی ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ان میں
رنگوں اور روشنیوں کا بھرپور استعمال کیا
جاتا ہے جن کو جب منور کیا جاتا ہے تو گویا
رات کی تا ریکی رنگوں اور
رو
شنیوں کی کہکشاں میں بکھر جاتی ہے۔
ثقافتی
ورثے کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈریگن اور مختلف
جانوروں کے روپ میں جلتے یہ قمقے بچوں اور
بڑوں دونوں کے لیے باعث حیرت بنتے ہیں۔
ان لالٹین نما قمقوں کی ایک اہم بات ان کے
ڈیزائن میں چھپائی گئی پزل ہوتی ہے جس کا
حل تلاش کرنے والوں کو انعام سے نوازا
جاتا ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت بھرپور
قسم کی آتش بازی کی جاتی ہے جن کو ایک خاص
زاویے سے چھوڑ اجاتا ہے،
جب وہ آسمان پر پہنچتی ہیں تو خوبصورت
ڈئزائنز اور رنگوں کے ساتھ ہر سُو پھیل
جاتی ہیں۔ یہ میلہ عام طور پر صرف ایک دن
کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن تمام خاندان
والے اور دوست رشتے دار ایک دوسرے ملتے
ہیں اور دعوتیں کرتے ہیں۔ اس تہوار کا عمو
می مقصد ہی خاندانی نظام کو مزید مضبوط
بنانا اور دوستوں کے ساتھ تعلق بہتر بنانا
ہے۔
|