|
انرجی
ڈرنکس اور خواتین کی صحت
سدرہ
کاظمی
مارکیٹ
میں دستیاب طاقت اور توانائی فراہم کرنے
والے مشروبات، کیا واقعی توانائی فراہم
کرتے ہیں؟ خاص طور پر خواتین کے لیے۔ اس
سوال کا جواب ازحد ضروری ہے۔ اگر آپ نے
کسی اشتہاری مہم سے متاثر ہو کر توانائی
فراہم کرنے والے کسی مشروب کااستعمال
شروع کر رکھا ہے تو یقین کر لیں کہ اس مشروب
کو تیار کرنے والی کمپنی کے تمام دعوے سو
فیصد درست نہیں ہیں اور یہ ہو سکتا ہے کہ
توانائی بخش مشروب کے چند گھونٹ پیتے ہی
آپ واقعی اپنے آپ کو توانا محسوس کر سکتی
ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس مشروب کے
مسلسل استعمال کے چند روز بعد آپ اس مشروب
کے بغیر سست روی اور تھکاوٹ کا شکار ہو
جائیں یا دوسرے لفظوں میں آپ کا جسم اس کی
طلب محسوس کرے یا پھر آپ مشروب پیئے بغیر
چین سے سو بھی نہ سکیں....
ایسی
کئی دیگر وجوہات کی بنا پر ماہرین توانائی
بخش مشروبات کے مسلسل استعمال کی حوصلہ
شکنی کر رہے ہیں۔
توانائی
بخش مشروبات کی تیاری کے لیے سب سے اہم
جزو کیفین ہے، توانائی بخش مشروب کے ایک
کین میں 8
اونس
مقدار شامل ہوتی ہے، بالکل یہی مقدار کسی
بھی کولا مشروب میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
کیفین اور شکر کے مناسب امتزاج سے تیار
ہونے والا کوئی بھی مشروب استعمال کرنے
کے بعد انسانی فوری طور پر خود کو توانا
محسوس کرتا ہے۔ لیکن جب آپ ایسا مشروب
استعمال کرنا بند کر دیں تو عین ممکن ہے
کہ آپ کے جسم میںشوگر کی شدید کمی ہو جائے
اور آپ توانائی بخش مشروب کے دوبارہ
استعمال کی طلب محسوس کریں۔ ذرا غور کیجئے،
کہیں آپ کو اس مشروب سے Addiction
تو
نہیں ہو چکی؟ ماہرین خوراک کا کہنا ہے کہ
8
اونس
کیفین 5
اونس
کافی کی مقدار کے برابر توانائی فراہم
کرتی ہے اور 5
اونس
کافی کا مطلب ہے کہ آپ کم از کم ایک چھوٹا
کپ کافی استعمال کر رہے ہیں کافی (Coffee)
کی
نسبت کیفین کی صفت یہ ہے کہ یہ انسان کے
اعصابی نظام کو زیادہ تیزی کے ساتھ محرک
اور فعال کرتی ہے۔ توانائی بخش مشروبات
میں کیفین اور شکر کا استعمال انسانی جسم
کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ لیکن یہ
توانائی بالکل عارضی اور فریب نظر کے
مترادف ہے۔ گھریلو کام کاج کرنے والی
خواتین جنہیں عام فرد کے مقابلے میں زیادہ
جسمانی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ شدید
تھکن کے بعد فطری طور پر توانائی کو بحال
کرنا ہر فرد کی ضرورت ہے۔ اسی فطری ضرورت
کی فوری بحالی کے نام پر توانائی بخش
مشروبات بنانے والی کمپنیاں اپنی اشتہاری
مہمات کے ذریعے نوجوانوں اور خاص طور پر
خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں۔
کیفین
کے غیر ضروری اور مسلسل استعمال سے صحت
کو ہونے والے نقصان کے بارے میں ماہرین
کا کہنا ہے کہ کیفین کے مضر صحت اثرات میں
بلڈ پریشر میں کمی، سر چکرانا، شدید
گھبراہٹ، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی، نظام
انہضام میں خرابی اور شدید بے خوابی یا
نیند کا نہ آنا شامل ہے۔ کیفین سے تیار
شدہ توانائی بخش مشروبات کی عادت ہو جانے
کے بعد خاص طور پر خواتین میں دیکھا گیا
ہے کہ ایک دم انرجی ڈرنکس کا استعمال بند
کر دینے سے شدید سر درد کی شکایت ہو جاتی
ہے۔ توانائی بخش مشروبات تیار کرنے والی
کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسے مشروبات
کی تیاری کے لیے خاص جڑی بوٹیاں بھی استعمال
کرتی ہیں۔ Guarana
اور
Yerbamate
کے
اجزاء توانائی کو فوراً بحال کرتے ہیں
لیکن حیرت یہ ہے کہ جڑی بوٹیوں کی آمیزش
کے ساتھ انرجی ڈرنک تیار کرنے والی ان
ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ان جڑی بوٹیوں
کے استعمال کے لیے یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ
ایڈمنسٹریشن سمیت کسی ملکی یا عالمی ادارے
کی ”تصدیق“ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے
کہ انرجی ڈرنک میں استعمال ہونے والی ان
جڑی بوٹیوں کے خواص اور اثرات کسی طور پر
قابل اعتبار نہیں، ان کے استعمال سے خواتین
میں الرجی کی شکایات میں بھی اضافہ ہو رہا
ہے۔ دنیا میں بکنے والے توانائی بخش
مشروبات میں مختلف وٹامنز کی آمیزش اور
Aminoacids
کے
بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دعوے
بھی سو فیصد درست نہیں ہیں۔ خواتین کو
چاہیے کہ وہ انرجی ڈرنک استعمال کرنے کی
بجائے اپنی خوراک میں پھل شامل کریں اور
کام کاج کے معمولات کو تبدیل کریں۔ اگر
آپ صرف سادہ غذا، پھل اور سبزیاں استعمال
کر رہی ہیں تو آپ کو Taurine
،
Glutamine
،
Arginine
سمیت
کسی اضافی جزو کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اشتہاری
مہمات سے متاثر ہو کر انرجی ڈرنکس استعمال
کرنے والی اکثر خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ
ورزش کے بعد انرجی ڈرنک ان کے لیے فائدہ
مند رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ”
توانائی بخش مشروب“ خوراک کا نعم البدل
نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ورزش کے بعد یہ
مشروبات نمکیات وغیرہ کی بحالی میں معاونت
کر سکتے ہیں ۔غذائیت کے ماہرین کے مطابق
کیفین اور شکر سے بنے ہوئے یہ مشروبات
دراصل انسانی جسم میں Dehydration
کا
سبب بھی بن سکتے ہیں۔
خواتین
کو ایام حیض میں توانائی کی خاص ضرورت
ہوتی ہے جسے سادہ غذا سبزیوں، پھلوں اور
دودھ سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ ان خاص دنوں
میں کیفین سے تیار ہونے والے یہ مشروبات
نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ توانائی
بخش مشروبات استعمال کرتے ہی جسم میں
توانائی کا احساس جاگ اٹھتا ہے اور آپ کی
تھکن دور ہو جاتی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ
”توانائی“ کا یہ عارضی احساس دراصل آپ
کو دیمک کی طرح چاٹ لینے میں اپنی مثال آپ
بن سکتا ہے۔ اگر آپ کو واقعی توانائی بحال
کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے تو صاف ستھرے
پانی، دودھ، سادہ غذا اور ہلکی پھلکی ورزش
سے کام چلائیے، انرجی ڈرنک مہنگا بھی ہے
اور مضر صحت بھی........
|