|
قومی
ہاکی ٹیم کے پوسٹمارٹم کا وقت آگیا
ورلڈ
کپ میں شکست کے حوالے سے تجزیہ
عاصم
سلطان
قومی
کرکٹ ٹیم کی پے در پے ناکامیوں کے بعد پوری
قوم مایوس تھی کہ ایسے میں ہاکی ورلڈ کپ
کا آغاز ہوا۔ امید کی جارہی تھی کہ قومی
ہاکی ٹیم اپنی کارکردگی سے قوم کی مایوسی
اور دکھ کا کسی حد تک مداوا کرے گی لیکن
ورلڈ کپ میں ہاکی ٹیم کی بدترین کارکردگی
نے پوری قوم کو نڈھال کر کے دکھ دیا ہے۔
قومی ہاکی ٹیم کی حالیہ برسوں کی کارکردگی
دیکھتے ہوئے یہ اندازہ تو تقریباً تمام
ہی ہاکی ماہرین کو تھا کہ قومی ہاکی ٹیم
ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں البتہ
یہ امید ضرور تھی کہ ہماری ٹیم وکٹری سٹینڈ
تک پہنچنے کی نہ صرف صلاحیت رکھتی ہے بلکہ
اس کے لئے جان توڑ کوشش بھی کرے گی لیکن
ایسا نہ ہو سکا۔ ہماری ٹیم صرف ورلڈ کپ کی
دوڑ سے باہر ہو گئی بلکہ اب وہ آئندہ سال
ہونے والی چمپئنز ٹرافی سے بھی باہر ہو
گئی ہے۔
قومی
ہاکی ٹیم نے ورلڈ کپ کے حصول کیلئے اپنا
آغاز بھارت کے ساتھ میچ سے کیا۔ اس افتتاحی
میچ میں پاکستانی ٹیم پوری طرح آف کلر نظر
آئی۔ بھارتی ٹیم نے ہماری قومی ٹیم کو
پوری طرح پسپائی پر مجبور کر دیا۔ میچ کے
دوران ہماری ٹیم تھکاوٹ زدہ دکھائی دی۔
پہلے ہاف میں گول کیپر سلمان اکبر نے
شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور بھارتی
ٹیم کے کئی یقینی گول بچائے لیکن اکیلا
گول کیپر کب تک بھاری فارورڈ لائن کا
مقابلہ کرتا۔ پہلے ہاف کے خاتمے پر پاکستانی
ٹیم دو گول کے خسارے میں آ چکی تھی۔ دوسرے
ہاف کے آغاز سے ہی بھارتی کھلاڑیوں نے
پاکستانی گول پر تابڑ توڑ حملے شروع کر
دیے۔ ایک بدقسمتی یہ ہوئی
کہ پینلٹی کارنرز پر سہیل عباس کے دو سکوپ
گول پوسٹ سے ٹکرا گئے۔ بھارتی ٹیم کو ہوم
کراﺅڈ کا فائدہ بھی حاصل تھا۔ یہ بات بھی
پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ کافی عرصے
سے کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان کھیلنے نہیں
آئی اس لئے بڑے کراﺅڈ کے سامنے کھیلنے کا
تجربہ بھی ہماری ہاکی ٹیم کو اب حاصل نہیں
رہا۔ بھارتی کراﺅڈ یقیناً
پاکستان کیخلاف جارحانہ مزاج رکھتا تھا،
ایسے میں ہمارے کھلاڑی پوری طرح بوکھلا
گئے اور ان کے اعتماد کا شیرازہ بکھر گیا۔
یوں بھارت نے 4-1
سے
پہلا میچ جیت لیا۔ سفر کے آغاز سے ہی اندازہ
ہو رہا تھا کہکہ آٓگے چل کر کیا ہونے والا
ہے کیونکہ عالمی رینکنگ میں پاکستان
ساتویں نمبر کی ٹیم تھی جبکہ بھارتی ٹیم
بارہویں نمبر کی تھی۔ قومی ہاکی ٹیم کا
دوسرا میچ سپین کیخلاف تھا۔ اس میچ میں
بھی ہماری ٹیم نے غیر معمولی کھیل کا
مظاہرہ نہیں کیا۔ تا ہم ہماری ٹیم 2-1
سے
معمولی فرق سے یہ میچ جیتنے میں کامیاب
ضرور ہو گئی۔ فارورڈ عبدالحسیم نے دونوں
گول کئے۔ قومی ہاکی ٹیم نے اپنا تیسرا میچ
یورپین چمپئن انگلینڈ کیخلاف کھیلا۔
انگلش ٹیم نے پاکستانی دفاع تباہ کر کے
دکھ دیا۔ جونٹی کلارک اور بیری مڈلٹون کے
اوپر تلے حملے پاکستانی دفاعی لائن کو
بیکار کر گئے۔ میچ کے دوران ایک موقع پر
دونوں ٹیموں کا سکور دو دو سے برابر ہوگیا۔
جس کے بعد قومی ٹیم معمول کے مطابق ریلیکس
کر گئی جو اسے راس نہ آیا۔ انگلینڈ نے کھیل
کا شاندار طریقے سے آغاز کرتے ہوئے میچ
کے چوتھے منٹ میں ہی پہلا گول کر دیا۔
انگلش کھلاڑی ای این میک نے کرکٹ کی طرز
پر شارٹ کھیلتے ہوئے گیند پاکستانی گول
میں پھینک دی۔ جس پر ہمارے گول کیپر سلمان
اکبر بھی حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
پاکستانی ٹیم نے اس گول کو چیلنج کرتے
ہوئے معاملہ تھرڈ ایمپائر کو ریفرکر دیا۔
تھرڈ ایمپائر نے پاکستانی اپیل منظور
کرتے ہوئے انگلش ٹیم کا گول مسترد کر دیا۔
بیسیویں منٹ میں انگلش ٹیم نے اپنا پہلا
گول کیا۔ اس دوران ہماری ٹیم نے گول کرنے
کے کم از کم دو اچھے مواقع ضائع کئے جب
ریحان بٹ کی لگائی گئی شارٹ گول سے باہر
چلی گئی۔ پہلے ہاف کے ختم ہونے سے پہلے
انگلش کھلاڑی ایشلے جیکسن نے دوسرا گول
کر کے اپنی برتری مستحکم کر دی۔ میچ کے
دوران سہیل عباس خاطر خواہ کامیابی حاصل
نہ کر سکے۔ میچ کے چالیسویں منٹ تک ان کی
طرف سے لگائے گئے تین پینلٹی کارنرز کو
انگلش ٹیم کے گول کیپر بڑی خوبصورتی سے
روک چکے تھے۔ بالآخر پاکستان کی طرف سے
پہلا گول شکیل عباسی نے کیا۔ اس کے دو منٹ
بعد ہی ریحان بٹ نے دوسرا گول کر کے مقابلہ
2-2
سے
برابر کر دیا۔ اس موقع پر ہماری ٹیم کچھ
ریلیکس کر گئی۔ جس کا بھرپور فائدہ انگلش
ٹیم نے اٹھایا۔ کھیل آخری بارہ منٹوں میں
انگلینڈ کی ٹیم نے مزید 3
گول
کر کے فتح اپنے نام کر لی۔ اس ٹورنامنٹ کو
دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم
ایک چمپئن کی طرح ورلڈ کپ کھیل رہی ہے۔
سیمی فائنل تک وہ پہنچ ہی چکے ہیں۔ تاہم
آثار بتا رہے ہیں کہ کوئی بڑا اپ سیٹ نہ
ہوا تو اب کی بار ورلڈ کپ انگلینڈ کی ٹیم
ہی اپنے ساتھ لے جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان
میچ کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آپس میں
الجھ گئے۔ یورپین ٹیمیں میچ کے دوران باڈی
پلے کا بہت مظاہرہ کرتی ہیں جس سے اکثر
ایشین کھلاڑیوں کو اپنے یورپی حریفوں سے
شکایات پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ قومی ٹیم نے
اپنا چوتھا میچ جنوبی افریقہ کی کم تجربہ
کار ٹیم کے خلاف کھیلا۔ تمام ماہرین اس
بات پر متفق تھے کہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران
کوئی میچ بھی نہ جیتنے والی ٹیم جنوبی
افریقہ کی ٹیم پاکستان کیخلاف بھی کامیابی
حاصل نہ کر سکے گی اور امید یہ کی جا رہی
تھی کہ پاکستانی ٹیم اس میچ میں ایک بڑے
مارجن سے کامیابی حاصل کر کے سیمی فائنل
کیلئے اپنی راہ ہموار کرے گی۔ جنوبی افریقہ
کی ٹیم اس سے پہلے میچ میں آسٹریلیا سے
12-0
سے
شکست کھا چکی تھی۔ جنوبی افریقہ کیخلاف
میچ کے آغاز سے چند منٹ بعد ہی قومی ہاکی
ٹیم نے گول کر کے برتری حاصل کر لی تھی اس
سے یہ امید بندھی کہ ہماری ٹیم میچ میں
ایک بڑے سکور سے کامیابی حاصل کرے گی۔
ہماری ٹیم نے پینلٹی کارنر پر دوسرا گول
بھی کر لیا۔ جسے جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں
نے چیلنج کر دیا۔ تھرڈ ایمپائر نے جنوبی
افریقہ کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے
پاکستانی ٹیم کے گول کو مسترد کر دیا۔
پہلے ہاف کے خاتمے پر پاکستانی ٹیم ایک
صفر سے جیت رہی تھی۔ دوسرے ہاف میں جنوبی
افریقہ کی ٹیم نے چار گول کر کے یک لخت
کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔ اس موقع پر
پاکستانی کھلاڑی بالکل ہکا بکا رہ گئے۔
انہیں سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ ان کے
ساتھ ہوا کیا ہے۔ اسی سوچ بچار میں کھلاڑیوں
نے کچھ وقت ضائع کرنے کے بعد میچ میں واپس
آنے کی کوشش کی لیکن کافی دیر ہو چکی تھی
میچ ختم ہونے سے تین منٹ پہلے قومی ٹیم نے
دوسرا گول کیا اور میچ کے آخری منٹ میں
پینلٹی کارنر حاصل کیا جس پر تیسرا گول
کیا۔ اس طرح پاکستان یہ میچ 4-3
سے
ہار گیا۔ اس شکست نے قومی ٹیم کو نہ صرف
ورلڈ کپ سے باہر کر دیا بلکہ و ہ آئندہ سال
ہونے والی چمیپئنز ٹرافی میں بھی حصہ لینے
کی اہل نہیں رہی۔ ٹیم کی کارکردگی پر کپتان
ذیشان اشرف نے قوم سے معافی مانگی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم کی امیدوں پر
پورا نہ اترنے پر انہیں انتہائی افسوس ہے
اور وہ اس پر قوم سے معافی مانگتے ہیں۔
قومی
ہاکی ٹیم کے کوچ شاہد علی خان کا کہنا ہے
کہ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں سینئر
کھلاڑیوں کی کارکردگی سے بہت مایوسی ہوئی۔
نئی دہلی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے
ہوئے شاہد علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں
نے اپنی زندگی میں قومی ٹیم کی اتنی بری
کارکردگی کبھی نہیں دیکھی۔ ان کا کہنا
تھا کہ سہیل عباس، سلمان اکبر، ریحان بٹ،
ذیشان اشرف اور شکیل عباسی
سمیت تمام سینئر کھلاڑیوں نے بہت مایوس
کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کو
کارکردگی دکھانے کا آخری موقع دیا تھا،
اب نوجوان کھلاڑیوں کو چانس دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ایچ ایف نے انہیں جو
ٹارگٹ دیا ہے وہ اس کے لئے کام کرتے ہیں
گے۔ قومی ہاکی ٹیم کے چیف سلیکٹر حسن
سردارنے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف شکست
پاکستان ہاکی ٹیم کا سیاہ ترین دن ہے۔ ان
کا کہنا تھا کہ میچ میں پاکستان کے تمام
کھلاڑیوں کی کارکردگی شرمناک تھی۔ حسن
سردار نے کہا کہ ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں
بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی کھلاڑی
دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں،
کھلاڑیوں کو فری آف مائنڈ ہوکر گیم کھیلنا
چاہئے تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ قومی ہاکی
ٹیم کا پوسٹمارٹم کیا جائے اور عمر رسیدہ
سینئر کھلاڑیوں کو باعزت طریقے سے کھیل
کے میدان سے رخصت کیا جائے اور نوجوان
کھلاڑیوں کو قومی ہاکی ٹیم کا حصہ بنایا
جائے۔
|