|
کرکٹ
ٹیم میں انتظامی تبدیلیاں
پاکستان
کرکٹ بورڈ کے اہم فیصلوں کے بارے رپورٹ
ع۔س
آسٹریلیا
میں کرکٹ ٹیم کی بدترین شکست کے بعد ٹیم
میں انتظامی تبدیلیوں کا عمل شروع ہوچکا
ہے۔ چیف سلیکٹر اور سلیکشن کمیٹی کی تبدیلی
کے بعد ٹیم کے کوچ کو بھی تبدیل کردیا گیا
ہے۔ نئی سلیکشن کمیٹی اب ٹیم کا اعلان کرے
گی جس کے بعد پتہ چلے گا کہ کھلاڑیوں میں
بھی کوئی تبدیلی لائی گئی ہے یا نہیں۔
کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کا ضابطہ اخلاق
مؤثر بنانے کا بھی اعلان
کیا ہے۔ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے لیے
ضابطہ اخلاق کو مزید سخت کرتے ہوئے کرکٹر
کو ملک اور بیرون ملک میڈیا سے دور رکھنے
کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک اجلاس میں گورننگ
بورڈ کے اراکین سے بھی ایک ضابطہ اخلاق
پردستخط کرائے گئے ہیں۔ جس کے تحت وہ پی
سی بی کی پالیسیوں پر میڈیا سے بات نہیں
کر سکیں گے۔ اعجاز بٹ کے چیئرمین بننے کے
بعد پی سی بی اور میڈیاکے تعلقات زیادہ
خوشگوار نہیں ہیں۔ پی سی بی کے نئے اقدام
کے بعد ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ بورڈ اور
میڈیا میں دوریاں مزید بڑھیں گی۔ پی سی
بی کے حد درجہ مصدقہ ذرائع کے مطابق پی سی
بی نے قومی کرکٹرز کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ
میں تین شقوں کا اضافہ کردیا ہے۔ جس کے
تحت غیر ملکی دوروں میں کھلاڑی اخبار
نویسوں سے نہیں ملیں گے اور نہ ہی انٹرویوز
دے سکیں گے۔ پاکستان میں بھی کرکٹرز میڈیا
سے بورڈ کی پیشگی اجازت کے تحت بات نہیں
کرسکیں گے۔ پی سی بی کے ایک اعلیٰ افسر نے
تصدیق کی کہ کھلاڑیوں اور میڈیا کے تعلقات
بورڈکے لیے مسائل پیدا کر
رہے ہیں۔ اس لیے نئے سینٹرل
کنٹریکٹ میں کرکٹرز کے لیے
سخت ضابطہ اخلاق تیار کیا جا رہا ہے۔ اس
کا اطلاق اپریل میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے
ہو گا۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ریٹائرڈ
لیفٹیننٹ کرنل وسیم احمد شاہد کو چیف
سیکورٹی آفیسر اور خواجہ نجم جاوید کو
سیکورٹی منیجر مقرر کیا ہے۔ خواجہ نجم
جاوید غیر ملکی دوروں میں قومی ٹیم کے
ساتھ سفر کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اعجاز
بٹ نے اپنے ہم زلف اور فنانشل ایڈوائزر
محمد نعیم کو فارغ کرنے کا اصولی فیصلہ
کر لیا ہے۔ چیف فنانشل آفیسر کے لیے
رضا احمد اور جاوید مرتضیٰ کے نام شارٹ
لسٹ ہوئے ہیں۔ رضا احمد کو ساڑھے چار لاکھ
اور جاوید مرتضیٰ کو ان کی قابلیت کے مطابق
ساڑھے تین لاکھ روپے تنخواہ
کی پیشکش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی
بی نے تین ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک ثالثی
پینل تشکیل دیا ہے۔ جسٹس جمشید علی شاہ
کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ کسی بھی
تنازع کو حل کرنے کے لیے
کردار ادا کریں گے۔ سروس رولز میں تبدیلی
کے حوالے سے بھی اجلاس میں کوئی فیصلہ نہ
ہو سکا کیونکہ نئے اراکین نے کہا کہ انہیں
پرانے سروس رولز کا علم نہیں ہے۔ زیر التوا
سالانہ بجٹ پر بھی نئے اراکین کسی نتیجے
پر نہیں پہنچ سکے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ
گورننگ بورڈ کے اجلاس میں اعجاز بٹ کو نئے
اراکین کی طرف سے زیادہ مزاحمت کا سامنا
نہیں کرنا پڑا۔ میٹنگ خوشگوا، دوستانہ
ماحول میں ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے
انتخاب عالم کی جگہ سابق کپتان وقار یونس
کو قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا
فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ آئندہ ہفتے باضابطہ
اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔ انہیں دسمبر
2011ء
تک قومی ٹیم کا کوچ مقرر کیا جا رہا ہے۔
سابق ٹیسٹ بیٹسمین اعجاز احمد، وقار یونس
کے معاون ہوں گے۔ انہیں بیٹنگ، بولنگ اور
فیلڈنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ وقار یونس
اس سے قبل دو بار پاکستان ٹیم کے بولنگ
کوچ رہ چکے ہیں۔ پی سی بی نے سابق ٹیسٹ
بیٹسمین محسن حسن خان کو قومی سلیکشن
کمیٹی کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ وہ
تنخواہ دار چیف سلیکٹر ہوں گے۔ سلیکشن
کمیٹی کے دیگر اراکین میں محمد الیاس،
سلیم جعفر، اظہر خان، کوآپٹڈ ممبر آصف
بلوچ اور فرخ زمان شامل ہیں۔ تقرری کے بعد
محسن خان نے کہا کہ مجھے پوری قوم کی سپورٹ
کی ضرورت ہے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ اہل
کھلاڑی ملک کے کسی علاقے کا ہو، اسے موقع
ضرور ملے گا۔ میں کرکٹر ہوں اور اس مرحلے
سے گزر چکا ہوں۔ انشاءاللہ کسی کرکٹر کے
ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ ہمیں بہتری کی
طرف جانا ہے۔ پاکستان ٹیم میں کیا کمی ہے۔
اسے دور کرنا ہو گا اور نیک نیتی سے ذمہ
داری نبھانا ہوں گی۔ ہمارے
ملک میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں
ہے۔ 54
سالہ
محسن خان نے پاکستان کی طرف سے 48
ٹیسٹ
اور 75ون
ڈے انٹرنیشنل کھیلے۔آسٹریلیا سے شکست کی
تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی تحقیقات
مکمل کر کے سفارشات پی سی بی کے چیئرمین
اعجاز بٹ کے حوالے کر دیں۔ کمیٹی کا آخری
اجلاس گزشتہ منگل کو وسیم باری کی صدارت
میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی
نے شاہد آفریدی اور کامران اکمل کے خلاف
جرمانے کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے
کہ عمر اکمل سزا سے بال بال بچ گئے کیونکہ
منیجر عبدالرقیب کی رپورٹ کے مطابق ان کی
انجری حقیقی تھی۔ کمیٹی کے اراکین میں
وزیر علی خوجہ، یاور سعید،
ذاکر خان اور تفصل رضوی شامل ہیں۔ وسیم
اکرم نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ پی سی بی
کے ترجمان کے مطابق چیئرمین اعجاز بٹ
سفارشات پر عمل درآمد کریں گے۔ پی سی بی
گورننگ بورڈ میں چار سابق کپتانوں جاوید
میانداد، وسیم اکرم، ماجد خان اور ظہیر
عباس کی شمولیت کے امکانات ہیں۔ خیال ہے
کہ تینوں سپر اسٹارز کی شمولیت کے بعد
گورننگ بورڈ میں ون مین شو کا خاتمہ ہو
سکے گا۔ ایوان صدر سے ان کی تقرری کا
نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائے گا۔ گورننگ
بورڈ سے جاوید میانداد اور انتخاب عالم
کو رخصت کردیا گیا ہے۔ تاہم امکان ہے کہ
جاوید میانداد کو نئی مدت کے لئے گورننگ
بورڈ میں شامل کیا جائے گا۔ پی سی بی کے
ذمہ دار ذرائع کے مطابق لاہورمیں ہونے
والے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں انتخاب
عالم خاموش رہے جبکہ جاوید میانداد بھی
کم بولے۔ تاہم چیئرمین اعجاز بٹ نے جاوید
میانداد، انتخاب عالم اورعبدالرقیب کو
آگاہ کیا ہے کہ یہ گورننگ بورڈ میں ان کی
آخری شرکت ہے۔ پی سی بی نے ایوان صدر کو
نئے اراکین کے نام منظور کرنے کی سفارش
کی ہے۔ امید ہے کہ اگلے چند دنوں میں نئے
اراکین کا اعلان ہو جائے گا۔ عبدالرقیب
کی جگہ واپڈا کے نوید چیمہ لیں گے۔ ذرائع
کے مطابق ایوان صدر چار سابق کپتانوں کو
ممبر بناکر گورننگ بورڈ کو مضبوط کررہا
ہے۔ اعجاز بٹ کے دست راست اور گورننگ بورڈ
کے اہم رکن وزیرعلی خوجہ بدستور رکن رہیں
گے۔ وزیر علی خوجہ اس وقت پی سی بی کے زیادہ
تر مالی معاملات کے نگران ہیں۔ آئی سی سی
کی طرف سے دو پاکستانی کھلاڑیوں کے میچ
فکسنگ میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے بعد
ملک بھر میں افواہواں کا ایک بازار گرم
ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نے اس سلسلے
میں یہ اعلان کر کے کہ رانا نوید الحسن
اور کامران اکمل میچ فکسنگ میں ملوث ہیں،
پاکستان بھر میں ایک نئی بحث شروع کرا دی
ہے تاہم چیئرمین اعجاز بٹ نے فوری طور پر
اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجود
ٹیم کا کوئی کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث
نہیں۔ آئی سی سی نے ہمیں سلیم ملک اور عطا
الرحمن کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے
ثبوت فراہم کئے ہیں جس کے بعد میچ فکسنگ
کی یہ بحث کسی حد تک کم ہو گئی ہے۔
|