05/02/2010
 
 
   
 
 
  آسکر کے چمکتے ہوئے ستارے
 

آسکر کے چمکتے ہوئے ستارے

آسکر ایورڈ 2010ء پانے والے فن کار

فیصل سعید

ہالی وڈ فلموں کے شائقین ہر خطے اور براعظم میں موجود ہیں جس کے باعث ان کے ستاروں کو عالمی شہرت حاصل ہے، جس رات آسکر ایوارڈز پیش کیے جاتے ہیں تو لاکھوں افراد اپنی ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے اپنے من پسند ستاروں کی جیت کی خوشی مناتے یا پھر ان کو ایوارڈ نہ ملنے پرافسردہ نظر آتے ہیں۔ اس برس بھی آسکر ایوارڈز، جن کو اکیڈمی ایوارڈز بھی کہاجاتا ہے، اپنی روا یتی چکا چوند اور فلمی ستاروں کی چمک دمک کے ساتھ پیش کیے گئے۔ دنیا کے مقبول ترین اور سب سے بڑے ایوارڈز آسکر کا 82 واں میلہ پوری آب و تاب کے ساتھ سجایا گیا۔ فاتح قرار پانے والوں نے تاریخ میں اپنے نام با صلاحیت ترین افراد کے طور پر ہمیشہ کے لیے رقم کروا لیے۔

اس برس دو فلموں کے درمیان سخت ترین مقابلہ دیکھنے میں آیا جن میں مقبول ہدایتکار جیمز کیمرون کی شہرہ آفاق فلم ”اواتار“ اور ہدایتکار کیتھرن بائیگلو کی فلم ”ہرٹ لاکر“ شامل تھیں۔ یہ دونوں ہدایتکار جہاں اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں ایک دوسرے کے رقیب تھے وہاں ان کی ذاتی زندگی بھی اس رقابت سے مبرا نہ تھی، کیو نکہ یہ دونوں طلاق یافتہ جوڑا ہے۔ لیکن قسمت کی یاوری فلم ”ہرٹ لاکر“ کے ساتھ رہی جس نے چھ آسکر ایوارڈز جیتے جبکہ باکس آفس رپورٹ کے مطابق یہ ایک فلاپ فلم تھی۔ دوسری جانب ہالی وڈ کی مہنگی اور مقبول ترین فلم ”اواتار“ کو محض تین ایوارڈز مل سکے۔ اس فلم کو سب سے بڑا جھٹکا اس صورت میں لگا کہ اس کے مدمقابل” ہرٹ لاکر“ کو بہترین فلم اور کیتھرن بائیگلو کی صورت میں بہترین ہدایتکار کے ایوارڈز ملے۔ ”اواتار“ کو یہ ایوراڈز نہ دینے کی یہ وجہ بیان کی گئی۔ یہ فلم زیادہ تر special effects اور کمپیوٹر گرافکس کی مدد سے تیار کی گئی ہے جبکہ اداکاری کے تناظر میں انسا نی کاوش بے حد کم نظر آتی ہے۔ ایوارڈز سے کئی دن قبل ہی مختلف دلچسپ صورتحال سامنے آنا شروع ہو گئیں تھیں جن میں سے ایک تو شرائط کے حوالے سے تھیں، ان میں شائقین کو مختلف انٹرنیٹ سائٹس کی جانب سے یہ آفر دی جا رہی تھی کہ وہ اپنی پسند کی فلم کی جیت پر شرط لگائیں اور قیمتی انعامات جیتیں۔ میڈیا کی جانب سے اس امر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس کوسر عام جواء قرار دیا گیا۔ دوسری جانب فلم ”ہرٹ لاکر“ کے پروڈیوسر گریگ شاپیرو پر آسکر ایوارڈز کی تقریب میں شامل ہونے پر پابندی لگا دی گئی کیو نکہ انتظامیہ کا الزام تھا کہ وہ ای میل کے ذریعے لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ ان کی فلم کی جیت میں اہم کردار ادا کریں۔

اس رنگا رنگ تقریب میں ہالی وڈ کے قریبا ً تمام ستارے موجود تھے، جن کے شاداب چہرے شو کی رونق بڑھا رہے تھے لیکن سب سے زیادہ تمتانے والا چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ سانڈرہ بولاک کا تھا جن کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔ ان کو یہ ایوارڈ فلم ”بلائنڈ سائیڈ‘‘ کے لیے دیا گیا۔ سانڈرہ کی یہ خوش قسمتی رہی کہ ان کو پہلی دفعہ آسکرایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تھا جو انہوں نے ایک سخت مقابلے کے بعد جیت لیا۔ ایوارڈز سے قبل ایک انٹرویو میں سانڈرہ کا دعویٰ تھا کہ ”میں آسکر نہیں جیت سکتی کیونکہ میں جب بھی کسی ایوارڈ سے پہلے اس کے ونر کا نام بتاتی ہوں تو میرا اندازہ نوے فیصد درست ہوتا ہے جبکہ مجھے اس دفعہ اپنے جیتنے کی کوئی امید نہیں۔“ لیکن سانڈرہ خوش تھی کہ اس کا اندازہ غلط ثابت ہوا جس کا اعلان اس نے آسکر ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے یہ کہہ کر دیا کہ ”میں خوش ہوں کہ میں غلط تھی۔“ آسکر انعام یافتگان میں سانڈرہ کا مقابلہ برطانوی اداکارہ کیرے ملیگن کے ساتھ تھا جو گزشتہ ماہ منعقد ہونے والے بافٹا ایوارڈز میں بہترین اداکارہ قرارد پائی تھیں۔

ہالی وڈ کے بہترین اداکار کا ایوارڈجیف برجز کو فلم ”کریزی ہارٹ“ کے لیے دیا گیا۔ ساٹھ سالہ اداکار نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک موسیقار کے طور پر کیا تھا جبکہ قسمت ان کو فلموں میں لے آئی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جیف نے اس فلم میں بھی ایک موسیقار کا ہی کردار اداکیا تھا، وہ پہلے موسیقار بھی ہیں جن کو اکیڈ می ایوارڈ ان کی اداکارانہ صلاحیتیوں پر دیا گیا۔ بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ کرسٹو فر والٹز کو فلم ”انگلوریس با سٹرڈز“ پر دیا گیا۔ کرنل ہانس لانڈا کے طور پر نبھایا ان کا کردار قابل ستائش ٹھہرا جس میں وہ بیک وقت سنگ دل اور رحم دل انسان کے طور پر نظر آئے۔ بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ بہت دلچسپ رہا جو کہ ایک سیاہ فام اداکارہ مونیکیو کو دیا گیا۔ یہ ایوارڈ ان کو فلم ”Precious“ پر ملا۔ بھاری بھر کم مونیکو اپنے آپ کو سر عام بھدا کہتی ہیں لیکن ان کی اداکاری لاجواب ہے۔ ان کے مدمقابل کئی نوجوان اور خوبصورت اداکارئیں میدان میں تھیں لیکن اس کے باوجود صورت کے اوپر فنکارانہ صلاحیتوں کو ترجیح دی گئی۔ مونیکو جب اپنا ایوارڈ لینے سٹیج پر آئیں تو تقریب میں موجود لوگوں نے کھڑے ہوکر دیر تک تالیاں بجا کر ان کی بھرپور پذیرائی کرتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔

آسکر ز میں ایک اور اہم شعبہ جو ہمیشہ سے قابل تو جہ رہا ہے وہ ”بہترین غیر ملکی فلم“ کا ہے۔ اس دفعہ یہ میدان ارجنٹینا کی فلم ”ایل سیکرٹو“ کو ملا، فلم کے پروڈیوسر جیوان کمپیلنا نے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔ فلم ”ہرٹ لاکر“ کو ایک اور بہترین ایوارڈ ”بہترین اوریجنل سکرین پلے“ پر ملا جس کے حقدار مارک بوائل کہلائے۔ جبکہ اس فلم کو تکنیکی شعبوں میں تین ایوارڈز دےے گئے جن میں بہترین ساﺅنڈ ایڈیٹنگ، ساﺅ نڈ مکسنگ اور بہترین فلم ایڈیٹنگ کے شعبے شامل ہیں۔ ایڈیٹنگ کے شعبے میں یہ ایوارڈ جیتنے والے کرس اننس اور باب موراسکی میاں بیوی ہیں۔ فلم ”اواتار“ کے حصے میں بہترین آرٹ ڈائریکشن کا ایوارڈ رک کارٹر نے جیتا اور بہترین سنیماٹو گرافی کا ایوارڈ مارو فیور نے حاصل کیا۔ بہترین ”Visual effects“ ایوارڈ بھی اسی فلم نے حاصل کیا۔ ” بیسٹ اویجنل سکور “ کا ایوارڈ مائیکل گیاچھینو جبکہ ”بیسٹ اوریجنل سانگ“ ریان بنگھم کے نام رہا۔ جہاں تک ڈاکیومنٹری شعبے کا سوال رہا تو یہ ایوارڈ ”دی کوو“ کی ٹیم نے باآسانی جیت لیا۔

آسکر ایوارڈز کو ہالی وڈ میں ایک اثاثہ قرار دیا جاتا ہے جس کی مدد سے بہترین کام کا انتخاب کر کے سینما کی تاریخ مرتب کی جا رہی ہے۔ پھر آنے والے وقتوں میں کوشش کی جاتی ہے کہ اس سے بھی مزید بہتر فلمیں بنائی جائیں۔ ہالی وڈ کا یہی رویہ ان کو بر س ہا برس سے نت نئے تجربات اور بہترین فلموں کی جانب مائل رکھے ہوئے ہے جس سے دنیا بھر کا سینما استفادہ حاصل کرتا ہے۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
رپورٹ انٹرنیشنل
نقطہ نظر معیشت
آرٹ فیشن
ھالی ووڈ بالی ووڈ
ادب انٹرویو
انفوسائنس شخصیت
خواتین کارنر فلم ریویو
کارٹون ہفتہ رفتہ
ان باکس اداریہ
اشتہار اشتہار 1
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive