|
عہد
ساز فن کار کی یاد میں
شاکر
علی کی 85ویں
سالگرہ کے موقع پر تقریب
چشمانِ
ربیع
شاکرعلی
میوزیم کے باغیچے میں درختوں کے سائے تلے
مرحوم شاکر صاحب کی 85ویں
سالگرہ کے موقع پر پاکستان نیشنل
کونسل آف آرٹس نے اس عہد ساز آرٹسٹ کو
خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے
تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیرِ تعلیم
سردار آصف احمد نے تقریبِ سالگرہ کا کیک
کاٹا اور پاکستانی آرٹ میں اُن کی گرانقدر
خدمات کو سراہا۔ قیام ِ پاکستان کے بعد
شاکر صاحب نے 1954ء
میں میو اسکول آف آرٹ کو بطورِ لیکچرر
جوائن کیا، بعد ازاں جب 1958ء
میں میو اسکول کو نیشنل کالج آف آرٹ کا
درجہ دیا گیا تو 1962ء
میں شاکر صاحب کو اس کالج کا پہلا پرنسپل
بنا دیا گیا۔ شاکر صاحب پاکستان میں جدید
آرٹ کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے
اپنی اعلٰی تعلیم یورپ سے مکمل کی، وہ آرٹ
تھیوریز میں کیوب ازم سے انسپائر تھے لیکن
پاکستانی آرٹ میں مغربیت کے عنصر کو بہت
حد تک محدود رکھا کہ وہ پاکستانی روایت
اور علاقائی شناخت پر حاوی نظر نہیں آتی
تھی۔ پاکستان میں اُن کے شاگردوں کے علاوہ
بہت زیادہ تعداد میں آرٹ طلبا اور آرٹ کا
ذوق رکھنے والے لوگ اُن کی تخلیقی صلاحیتوں
کے پرستارہیں۔ ان کے فن پارے آج بھی جدید
آرٹ کے مقابلوں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔
ڈائریکٹر
پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹ توقیر ناصر
نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ شاکر صاحب
نے دنیا میں پاکستانی آرٹ کی الگ پہچان
کو متعارف کروایا اور اپنے شاگردوں کے
ذریعے پاکستانی آرٹ میں مستقل طور پر
تخلیقی اور جدیدیت کے عنصر کو پروان چڑھایا
تاکہ آنیوالی نسلیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں
کی بدولت پاکستانی آرٹ کی نئی بنیادیں
رکھ سکیں۔ کچھ دن قبل اس گھر میں، جو شاکر
صاحب اپنی زندگی میں آرٹ کی خدمت کے لیے
مخصوص کر گئے تھے۔ خاموشی کے پہرے تھے ایک
اُداسی تھی۔ اُن کے جانے کے بعد اب یہ
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یہاں روشنیاں کر
کے ان در و دیوار کی اُداسیوں کو ختم کر
دیں اور اُن کی روح کو بتا دیں کہ ان کے
پرستار آج بھی انہیں یاد رکھے ہوئے ہیں۔
آرٹ اور آرٹسٹ اپنی زندگی میں ہی نہیں
بلکہ جانے کے بعد بھی ملک و قوم کے لیے
سرمایہ ہوتے ہیں۔ انکی زندگی میں جب انکی
تعریف کی جاتی ہے تو ہم انکی خوشی کو انکے
چہرے کے تاثرات سے واضح طور پر دیکھ سکتے
ہیں۔ لیکن جب وہ ہماری دنیا سے چلے جاتے
ہیں تو ہمیں ان کی خدمات کو اسی طرح سراہنا
چاہیے تا کہ ان کی روح بھی خوش ہو سکے۔
لیکن آرٹسٹوں کی خوشی دیکھتے رہنے کے لیے
ہمیں ان کی زندگی ہی میں ان کی قدر اور
احترام کرنا چاہیے۔ آرٹسٹ کسی بھی ملک و
قوم کے روایات اور ثقافت کو دنیا میں
متعارف کروانے اور ملک کی الگ پہچان بنانے
میں تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے
آرٹسٹ اپنے ملک و قوم لیے اہم شخصیت ہوتا
ہے۔ اس قوم اور حکومت کو اس بیش قدر خزانے
کی قدر کرنی چاہیے۔ “
آصف
احمد نے شاکر صاحب کو خراجِ تحسین پیش
کرتے ہوئے کہا کہ ”شاکر علی عہد ساز آرٹسٹ
تھے۔ وہ ہر ایک شخص کو اسکی لیاقت کے مطابق
ملتے، اور انکے بولنے کا انداز نہایت
مﺅدبانہ اور اچھا تھا۔ یہی خصوصیات انہیں
باقی آرٹسٹوں سے الگ کرتی تھیں۔ ’مجھے
انکی پینٹنگ اور تخیلاتی اسٹائل بہت پسند
تھا۔ میں سیاسی حثیت رکھنے کے علاوہ شعر
گوئی، نظمیں لکھنے کا شوق بھی رکھتا ہوں۔
انکی پینٹنگز مجھے ہمیشہ شاعری کے لیے
انسپائر کرتی تھی۔ شاکر علی جیسے جدید
آرٹسٹوں کی بدولت پاکستان صرف ایک ملک
نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام بن چُکا ہے۔
اس لیے ہمیں اس تہذیب و
ثقافت کے امینوں کو بھی سراہنا ہوگا۔ “
آرٹسٹ،
اُستاد اور آرٹ تجزیہ نگار قدوس مرزا نے
شاکر صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ
ساتھ اندازِ زندگی اور انکی شخصیت کے
حوالے سے اظہارِخیال کیا۔ قدوس مرزا نے
کہا کہ شاکر صاحب آزادی انسان کے بہت قائل
تھے۔ ان کا آرٹ یا بنایا ہوا فن پارہ دیکھنے
والے کو آرٹ کی گہرائیوں سے روشناس کرواتا
تھا۔ انکے تھیم، تخیلاتی فن پارے، اسٹائل
اور عنوانات آج بھی تازہ ہیں۔ یہی وجہ ہے
کہ ان کے آرٹ کو جدید کہا جاتا ہے کیونکہ
وہ کسی بھی دور میں پرانے نہیں ہوتے۔ قدوس
مرزا نے کہا کہ بہت سی کتابوں میں انکے
کام کے حوالے سے ان کے جذبے کا ذکر کیا گیا
ہے کہ وہ اپنے فن پارے یا تخلیق میں کھو
جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کلچرل روایات و
اقدار کی حدود میں رہتے ہوئے تجریدی آرٹ
میں ایک خاص مقام اور پہچان بنائی۔ شاکر
صاحب نے مغربیت اور مشرقیت کے ملے جُلے
رحجانات کی حدود میں ایک نیا اسٹائل اجاگر
کیا ،جس نے انٹرنیشنل وژیول اسٹائل کی
بنیاد رکھی۔ وہ حدود و قیود کی اس پابند
دنیا میں ایک انوکھی دنیا کے فرد کی حیثیت
رکھتے تھے۔ انکے خیال اور تخیلات ہمیشہ
زمانہ حاضر کی موجودہ تخلیقات سے آگے ہوا
کرتے تھے۔ شاکر صاحب گھسی پٹی روایات کو
توڑنے اور بہتر روایات کی بنیاد ڈالنے
والے لوگوںاور پاکستانی آرٹ کے معماروں
میں شامل تھے۔“
آرٹسٹ
اور ٹیچرراحت نوید نے شاکر صاحب کے آرٹسٹک
وژن ، صلاحیت، فصاحت اور تخیلاتی پرواز
کی خوبیوں کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ
”شاکر صاحب نے اپنے عہد کے نوجوانوں کو
کلچرل شناخت دی۔ آزادی وطن کے بعد اس وقت
آرٹ اساتذہ اور شاگرد بھی وائی ایم سی اے
اور پاک ٹی ہاﺅس میں اکٹھے ہوا کرتے تھے
اور مل بیٹھ کر پاکستانی آرٹ اور ادب کی
انفرادی شناخت کے لیے ادبی
بیٹھکوں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ
روز نئے موضوع اور زاویے کو
زیرِ بحث لاتے تاکہ پاکستان کی انفرادی
اور اسلامی تہذیب جس کو انگریزوں نے بہت
حد تک مسخ اور مجروح کر دیا تھا۔ اسے دوبارہ
بہترین اور عہد ساز روایت کے مقابل
ممتازحیثیت دلوائی جائے۔ اس خاص کوشش میں
اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ پاکستانی
آرٹ میں مغربیت کے عنصر کو غلبہ کی حیثیت
نہیں حاصل ہونی چاہیے۔
شاکر صاحب نے خطاطی میں نیا انداز متعارف
کروایا، تجریدی آرٹ اور آرٹ کی دوسری
اصناف میں نئے پیرائے اور انداز و تکنیکس
متعارف کروائیں۔ انکے متعارف کروائے گئے
اصولوں اور ضوابط کی اہم بات یہ تھی کہ وہ
فن پارے، آرٹ تخلیقات اور اصناف ہر لحاظ
سے الگ مملکت کی تہذیب و تمّدن، ثقافت اور
معاشرتی اقدار کی عکاسی کرتے تھے۔ شاکر
صاحب نے مختلف اسکول آف تھاٹ (نظریہ
یا سوچ)
کے
لوگوں کے درمیان اپنا مقام بنائے رکھا
اور تخلیقی صلاحیتوں کو آزادانہ پروان
چڑھانے کے لیے کوشش کرتے رہے۔ انکی ملازمت
کے آخری ادوار میں نیشنل کالج آف آرٹ
میںسیاست بازی شروع ہو چکی تھی مگر وہ ان
تمام دفتر ی سیا ستوں سے بے نیاز اپنے کام
میں مصروف رہتے تھے۔ “
آرٹسٹ
اورپروفیسر اعجاز الحسن نے شاکر صاحب کے
پڑھانے کے انداز کی تعریف کی۔ اعجاز نے
کہا کہ شاکر علی صاحب نے قرآن کی’ سورہ
الرحمن‘ کو جس خوبصورتی سے کیلی گراف اور
پینٹ کر دیا ہے اسکے بعد اس آرٹ میں مزید
ایجاد سے قبل وہ ایک سٹینڈرڈ کی حد بن چُکی
ہے۔“
آرکیٹیکچر
نیّر علی دادا نے کہا کہ شاکر صاحب ہمیشہ
اپنی تخلیقی صلاحیت کی بنا پر کام کیا
کرتے تھے۔ ان میں قدرتی صلاحیت تھی کہ وہ
اپنے تخیل کو بآسانی اور کمال مہارت سے
کینوس پر اُتار لیتے تھے۔ ان کا تناظر بہت
مضبوط اور وسیع تھا۔ شاکر صاحب کے کام کی
اصل تعریف پاکستانی آرٹ کا جائزہ ’آرٹ
سین شاکر علی سے قبل اور بعد میں‘ کا عنوان
ہے، تب ہی ہم شاکر علی کے کام، تخیلاتی
عروج، مہارت ، آرٹ سین میں انکی اختراعات
اور پاکستانی آرٹ کےلیے
ان کی خدمات کو سمجھ پائیں گے۔ انگریزوں
نے بّرِصغیر میں آرٹ اسکول کے نام پر صرف
کرافٹ اور دستکاری کے اسکول کھول رکھے
تھے، تاکہ یہاں کے لوگوں کے ہنر اور مہارت
کو استعمال کرکے تاجِ برطانیہ کو فائدہ
پہنچایا جاسکے۔ میو اسکول اسوقت کسی خاص
نظریے کی بنیاد پر نہ تھا۔
شاکر علی نے نوجوانوں کو ایک نظریہ سے
روشناس کروایا جسکا مقصد اپنے ملک اور
تہذیب کی علیحدہ پہچان بنانا تھا۔ اسوقت
شاکر صاحب پرنسپل ہونے کے باوجود ہر شاگرد
کے کام اور اوقاتِ کار کا دھیان رکھتے اور
شاگرد کی اسکی صلاحیت کے مطابق رہنمائی
کیا کرتے تھے۔ شاکر صاحب کی مستقل مزاجی
اور آرٹ سے لگاﺅ اور محبت کا ذکر کرتے
ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ گھر جو شاکر
صاحب نے بہت ذوق و شوق سے تعمیر کروایا
تھا ۔یہ عمارت بیس سال میں مکمل ہوئی
کیونکہ جب شاکر صاحب کے پاس پیسے ختم ہو
جاتے تو اس پر کام بھی بند کر دیا جاتاتھا۔
لیکن ڈیزائن پر کمپرومائز کرنا برداشت
نہیں تھا۔ شاکر صاحب نے اپنا یہ گھر بھی
آرٹ کی تخلیق کے طور پر پاکستانی عوام اور
آرٹ کےلیے مختص کر دیا تھا۔
شاکر صاحب اپنے شاگردوں کو نا صرف ڈرائینگ
سکھاتے بلکہ کام بھی لے کر دیا کرتے تاکہ
ان کی تخیلاتی صلاحیتیں کبھی معاشی فکر
سے دب نہ جائیں۔
پرائڈ
آف پرفارمنس آرٹسٹ، ٹیچر
سعید اختر نے شاکر صاحب کو خراجِ تحسین
پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”انہوں نے کبھی شاکر
صاحب کو اپنے سے بعد آتے نہیں دیکھا۔ لیکن
اب نیشنل کالج آف آرٹ میں جب استاد ہی وقت
پر نہیں آتے تو شاگرد کیسے وقت پر آنے کو
ترجیح دیگا۔ شاکر صاحب حد درجہ نفیس اور
اُصول پسند انسان تھے۔ ہمارے وقت میں
استاد کا ڈر بھی تھا اور احترام بھی مگر
آجکل آرٹ سے زیادہ استاد اپنی پروموشن پر
دھیان دے رہا ہے۔ جبکہ شاکر علی نے ذاتی
ترقی کی بجائے اپنے شاگردوں کی ترقی کے
لیے کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج انکے شاگرد
انکے کام، نام اور انکی خدمات کا اعتراف
کرنے کے لیے یہاں اکٹھے
ہوئے ہیں۔“
آرٹسٹ
اور منتظمِ اعلٰی کو پرا آرٹ گیلری جاوید
اختر نے شاکر صاحب کے کام، تخیلاتی ورائٹی
اور مختلف آرٹ اصناف میں مہارت کی تعریف
کی۔ انہوں نے کہا کہ شاکر صاحب آرٹ کی
تاریخ میں عہد ساز ممتاز ہستیوں میں سے
ایک ہیں۔
خاص
پرفارمنسThe
Team of Plush, creative enterprises کی
ٹیم نے سالگرہ کے موقع پر شاکر علی کو
خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے
’lady
in Veil‘کے
عنوان سے کلاسیکل ڈانس پیش کیا۔ ڈائریکٹر
فیصل سلیم نے شاکر صاحب کی پینٹنگز کو
مّدِنظر رکھتے ہوئے اس ڈانس کے لیے خصوصی
میوزک منتخب کیا جو بیک وقت پینٹنگ، ’راگ
امبری‘ اور کلاسیکل ڈانس کے امتزاج کے
ساتھ آرٹسٹ کے جدید نظریات کی یاد تازہ
کرسکے۔ اس تقریب میں آرٹسٹ ، ادیبوں اور
باذوق حلقوں نے شرکت کر کے شاکر صاحب کی
آرٹسٹک خدمات کا اعتراف کیا۔
|