|
مزدور
دشمن قانون کا خاتمہ
جبری
برطرفی کے خلاف اب مزدوروں کا عدالتوں سے
رجوع کرنے کا حق مل گیا
ضیاء
الرحمن
صدر
آصف علی زرداری نے گذشتہ دنوں پارلیمنٹ
کے دونوں ایوانوں سے منظور شدہ سروسز
ٹربیونل (ترمیمی)
بل
2010ء
پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ملازمت سے
برطرفی (خصوصی
اختیارات)
آرڈیننس
2000ء
اور سروسز ٹربیونل ایکٹ 1973ء
کی دفعہ 2-A
جیسے
مزدور دشمن قوانین کا خاتمہ کر دیا گیا
ہے۔ وزیراعلیٰ ہاﺅس کراچی میں اس بل پر
دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب میں صدر آصف
علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کے محنت
کشوں کے روزگار کو تحفظ دینے کے لیے مزدور
دشمن سیاہ قانون کو ختم کیا گیا ہے، جس سے
محنت کشوں کے غضب شدہ حقوق بحال ہوں گے
جبکہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ چھ ہزار
روپے کرتے ہوئے آمدنی میں ورکر شیئر کو
بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سروسز
ٹربیونل ایکٹ 1973ء
کی دفعہ 2-A
مزدوروں
کو اپنے تنازعات لیبر کورٹس، لیبر اپلیٹ
ٹریبونل اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز
کمیشن (این
آئی آر سی)
کے
پاس لے جانے سے روک رہی تھی جس کا خاتمہ
کر کے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا
ہے۔ مزدوروں کو صنعت کاروں اور ہاریوں کو
زمینداروں کا نوکر بنانے کے بجائے پارٹنر
بنایا جا رہا ہے اور اسی بنیاد پر حکومت
نے تمام انڈسٹری میں مزدوروں کا شیئر مقرر
کیا ہے۔ خطاب میں صنعت کاروں اور زمینداروں
پر واضح کیا گیا کہ ان قوانین کا مقصد صنعت
کاروں اور مزودورں کے مابین کسی قسم کا
اختلاف یا تضاد پیدا کرنا نہیں بلکہ ان
کے درمیان پارٹنر شپ کے جذبہ اور تعلق کو
مضبوط کرنا ہے۔
صدر
آصف علی زرداری کی جانب سے پرویز مشرف دور
میں بنائے گئے ان مزدور دشمن قوانین کے
خاتمہ کے اعلان کا پاکستان بھر کی مزدور
تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے خیر
مقدم کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں
ایوانوں سے منظور شدہ سروسز ٹریبونل
(ترمیمی)
بل
2010ء
کے تحت ملازمت سے برطرفی کے (خصوصی
اختیارات)
آرڈیننس
2000ء
کو منسوخ کیا جائے گا جس کی رُو سے مختلف
زمروں میں آنے والے مزدوروں کو کسی بھی
عمل کے بغیر نوکری سے برخاست کیا جا سکتا
تھا۔ اس سے سرکاری ملازمین اور وفاقی
حکومت کے مختلف اداروں مثلاً پاکستان
ریلوے اور واپڈا کے ملازمین شدید متاثر
ہو رہے تھے۔ اس سیاہ قانون کے خاتمہ سے
مزدوروں کی ایک بڑی تعداد کو غلط طریقے
سے نوکریوں سے برطرف کیے جانے سے تحفظ
حاصل ہوا ہے۔ اس بل کے تحت سروسز ٹربیونل
ایکٹ 1973ء
کی دفعہA-2
کو
منسوخ کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف زمروں
میں آنے والے مزدوروں کو اپنے حقوق کے
حصول کے لیے لیبر کورٹس جانے کے بنیادی
حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ عدلیہ کی جانب
سے مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے قانون
سازی میں پائے جانے والے اس خلا کی جانب
حکومت کی توجہ مبذول کرانے پر یہ بل منظور
کیا گیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کی مزدور
تنظیموں کی جانب سے بھی لیبر کورٹس، لیبر
اپلیٹ ٹربیونل اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز
کمیشن (این
آئی آر سی)
کے
حوالے سے پائی جانے والی مشکلات کے سلسلہ
میں حکومت کو کافی سفارشات بھیجی گئی
تھیں۔ مزدور تنظیموں کے ذرائع کے مطابق
پارلیمنٹ سے مزدوروں کے حقوق سے وابستہ
اس بل کی منظوری میں سب سے اہم کردار
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور
سینیٹر میاں رضا ربانی نے ادا کیا ہے جنہوں
نے یہ بل گذشتہ سال 10
اپریل
کو سینیٹ میں جمع کرایا تھا جسے سینیٹ سے
رواں سال 26
جنوری
کو منظور کیا گیا تھا جس کے بعد قومی اسمبلی
کی جانب سے ان بلوں کے خاتمہ کی منظوری دے
دی گئی تھی، مگر ان بلوں پر صدر آصف علی
زرداری کے دستخط کرنے کی تقریب میں حکومت
کی جانب سے میاں رضا ربانی کو دعوت تک نہیں
دی گئی ہے جس کے سبب کافی سوالات جنم لے
رہے ہیں۔ مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ
مزدوروں کے حوالے سے قانون سازی میں سست
روی کے باوجود حکومت نے حالیہ بل منظور
کر کے مزدوروں کے دل جیت لیے ہیں۔ پاکستان
ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری
اطلاعات ایوب قریشی نے ”ہم شہری“ کو
بتایا کہ پاکستان کی ٹریڈ یونین تنظیموں
کی جدوجہد کے نتیجہ میں موجودہ حکومت نے
پرویز مشرف دور میں بنائے گئے مزدور دشمن
قوانین کا خاتمہ کیا جس کا مزدور تنظیمیں
خیر مقدم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند
روز قبل اسلام آباد میں ہونے والے ورکرز
ایمپلائرز بائی لیٹرل کونسل آف پاکستان
(Webcop)
کا
اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان بھر
سے ٹریڈ یونین رہنماﺅں اور صنعت کاروں
کے نمائندوں نے شرکت کی تھی جبکہ یہ قومی
مشاورتی اجلاس انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ
(IRA)
2008 کے
اپریل 2010ء
میں خاتمہ اور نئے قانون کی تدوین کے حوالے
سے چاروں صوبوں میں گذشتہ مہینوں سے کی
جانے والی مشاورت کا آخری حصہ تھا۔ ایوب
قریشی نے مطالبہ کیا کہ حکومت ویب کوپ کی
جانب سے مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے دی
گئی تجاویز پر عمل کرے۔ انہوں نے پیپلز
پارٹی کی موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے
کہ وہ فوری طور پر ایم او ڈی کے تحت پاکستان
ریلوے میں اوپن لائن میں عائد یونین سازی
پر عائد پابندی ختم کرے اور وہاں ریفرنڈم
کرایا جائے۔ متحدہ لیبر فیڈریشن کے مرکزی
صدر گل رحمٰن نے ”ہم شہری“ سے بات چیت
میں مزدور دشمن قوانین کے خاتمہ کا خیر
مقدم کرتے ہوئے اسے جمہوری حکومت کا
کارنامہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے
دلیرانہ فیصلے کے تحت مزدوروں کے سر پر
آمر پرویز مشرف کی لٹکتی ہوئی تلوار توڑ
دی ہے اور مزدور کش قوانین کا خاتمہ کر کے
مزدوروں کو تحفظ کا احساس فراہم کیا ہے۔
وطن دوست مزدور فیڈریشن کے مرکزی صدر شفیق
قریشی ایڈوکیٹ نے حکومت کی جانب سے مزدور
دشمن قوانین کے خاتمہ اور ترمیمی بل 2010ء
کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے
حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ این آئی آر
سی کے دفاتر میں اضافہ کرتے ہوئے کراچی
اور لاہور میں بھی ان کے دفاتر کھولے تاکہ
مزدور اپنے صنعتی تنازعات کے حل کے لیے
اسلام آباد جانے کی مشکلات سے بچ سکیں۔
ملک
بھر کی مزدور فیڈریشنوں اور تنظیموں سے
وابستہ سینئر مزدور رہنماﺅں حبیب الدین
جنیدی، ملک شیر احمد، لطیف مغل، فرید
اعوان، سعید غنی، منظور رضی، شفیق غوری،
شوکت علی، الحاج نور محمد، لیاقت ساہی،
غلام محبوب اور دیگر نے مشترکہ اعلامیے
میں جبری برطرفی کے سپیشل پاور صدارتی
آرڈیننس 2000ء
اور سول سروسز ٹربیونل ایکٹ کی مزدور دشمن
شق 2-A
کے
خاتمہ پر کراچی میں صدر مملکت اور پیپلز
پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی
طرف سے دستخط کیے جانے کے بعد حتمی منظوری
پر پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کو خراج
تحسین پیش کیا ہے۔
|