|
ٹل
پارہ چنار روڈ
پانچ
لاکھ آبادی کی شہ رگ دہشت گردوں کے نرغے
میں
عون
علی
ضلع
ہنگو کی تحصیل ٹل کے قریب ایک خود کش حملے
میں جاں بحق ہونے والی چھ خواتین اور چار
مردوں کو ہفتہ چھ مارچ کے روز کرم ایجنسی
کے ہیڈ کوارٹر پارہ چنار میں سپرد خاک کر
دیا گیا۔ پشاور سے قبائلی علاقے کرم ایجنسی
جانے والے ان مسافروں کی گاڑیوں کو جمعہ
پانچ مارچ کے روز ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل کے
قریب ایک خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا
تھا۔ اس حملے میں مقامی سکول کے بیس کے
قریب بچے بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ بتایا
جاتا ہے کہ قریب ایک ہفتے سے ٹرک ٹل میں
کھڑے تھے جبکہ مسافر گاڑیاں کوہاٹ، ہنگو،
ابراہیم زئی اور کچا پکا میں تھیں۔ یہ سب
لوگ دن 12
بجے
ٹل میں جمع ہو گئے اور کوئی پندرہ منٹ کے
سفر کے بعد ٹل شہر سے باہر یہ حادثہ پیش
آیا۔ اس سے قبل 26
فروری
کے روز ٹل اور علی زئی کے درمیان توت کس
کے علاقے میں ایک مسافر گاڑی پر فائرنگ
کی گئی جس سے تین مسافر جاں بحق ہو گئے۔
ان میں سے دو بحرین سے چھٹی پر اپنے گھر
پارہ چنار جا رہے تھے جبکہ ایک مقتول رجب
علی کا ایم ایس سی کیمسٹری کے بعد پی ایچ
ڈی کے لیے داخلہ ہو چکا تھا۔ توت کس کے اسی
علاقے میں کرم ایجنسی کی مسافر گاڑیوں پر
حالیہ دنوں اس طرح کے حملوں کے کم از کم
چار واقعات پیش آ چکے ہیں۔ گذشتہ برس
پولیٹیکل ایجنٹ ارشد مجید کی گاڑی پر بھی
اسی جگہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ خود زخمی
ہوئے اور ان کا ایک محافظ مارا گیا۔ کچھ
عرصہ قبل اسی علاقے سے دہشت گردوں نے ایک
مسافر گاڑی پر راکٹوں سے حملے کے بعد بارہ
مسافروں کو اغوا کر لیا جن میں سے سات کو
قتل کر دیا گیا جبکہ پانچ مغوی مسافروں
کو 70
لاکھ
روپے تاوان ادا کر کے شمالی وزیرستان میں
دتہ خیل کے علاقے سے رہا کروایا گیا۔
ٹل
سے علی زئی کے درمیان قریب چالیس کلومیٹر
کا علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے اور پارہ
چنار کے لوگوں پر زیادہ تر حملے اسی علاقے
میں ہوتے رہے ہیں۔ ٹل سے توت کس تک کا علاقہ
سنسان اور حکومتی عملداری سے مکمل طور پر
باہر ہے۔ یہ ضلع ہنگو اور کرم ایجنسی کا
درمیانی علاقہ ہے تاہم ایجنسی اور ضلع
ہنگو کی انتظامیہ میں سے کوئی بھی اس علاقے
کو اپنے دائرہ اختیار میں لینے کو تیار
نہیں۔ اس علاقے میں افغان پناہ گزینوں کے
لیے قائم کیا جانے والا شاشو کیمپ 2008ء
سے طالبان کے قبضے میں ہے جہاں فضل سعید
نامی ایک انتہا پسند کمانڈر نے تربیتی
مرکز قائم کر رکھا ہے۔
پارہ
چنار کے ایک رہائشی صابر حسین کا کہنا ہے
کہ ٹل -
پارہ
چنار روڈ تو گذشتہ تین برس سے بند ہے صرف
سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں ہفتے میں
ایک بار قافلے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا
کہ پولیٹیکل انتظامیہ نے گذشتہ سال کے
آخر میں پارہ چنار کے لوگوں کو اعتماد میں
لیا تھا کہ اس روڈ پر کوئی نقصان نہیں ہو
گا تاہم گذشتہ دو تین ماہ کے دوران توت کس
اور طورغر کے علاقے میں مسافر گاڑیوں پر
حملوں اور ٹرکوں سے لوٹ مار کے دس سے زائد
واقعات ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ
سکیورٹی خطرات کے سبب اب عوام نے اس راستے
کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،
چنانچہ انہیں مجبوراً افغانستان کے راستے
کو اختیار کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ براستہ
ٹل پارہ چنار روڈ اپر کرم کے علاقے سے
پشاور ساڑھے چار سے پانچ گھنٹے کی مسافت
ہے تاہم کابل اور جلال آباد کے راستے پارہ
چنار سے پشاور پہنچنے میں کم از کم 24
گھنٹے
لگ جاتے ہیں۔ افغانستان سے ہو کر پشاور
آنے کے لیے جو راستہ کرم ایجنسی کے عوام
گذشتہ تین برسوں سے استعمال کرتے آ رہے
ہیں اس کے حوالے سے کرم ایجنسی کے بالائی
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت
اگرچہ ان کو مدد فراہم کرتی ہے تاہم اس
راستے پر بھی قافلوں پر متعدد حملے ہو چکے
ہیں جن میں بیس کے قریب مسافروں کو قتل
کیا جا چکا ہے۔ اس راستے پر کابل سے براستہ
گردیز جلال آباد تک کانوائے جاتا ہے۔ جلال
آباد میں ایک رات گزار کر یہ قافلے صبح
طورخم بارڈر جاتے ہیں اور وہاں سے پشاور
تک پھر کانوائے میں سفر ہوتا ہے۔
پارہ
چنار کے ایک رہائشی آغا نواز کا کہنا تھا
کہ قافلے کی سکیورٹی کے ذمہ داروں نے چھوٹے
قافلے لے جانے کے بجائے ٹرکوں اور گاڑیوں
کو ایک ہفتہ روکے رکھا اور جب دو سو کے
قریب گاڑیاں اکٹھی ہو گئیں تو قافلہ ٹل
سے روانہ ہوا، تاہم اتنے بڑے قافلے کی
سکیورٹی کو یقینی بنانا ممکن ہی نہیں تھا۔
آغا نواز کا کہنا تھا کہ کرم ایجنسی میں
ہر جگہ کانوائے کے لیے کرفیو لگایا جاتا
ہے مگر ٹل اور آگے کے علاقوں میں کرفیو
نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹل سے صدہ
کے درمیان خطرناک علاقوں میں کانوائے کے
سفر کے دوران اگر کرفیو نافذ کر دیا جائے
تو دہشت گردی کے ان واقعات سے تحفظ ممکن
ہے۔ آغا نواز کا کہنا تھا کہ ٹل میں سکیورٹی
کی پوزیشن ناقص تھی، اب تک حکومت نے اس
علاقے میں سکیورٹی کے لیے کوئی مضبوط
اقدام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ توت کس
اور طور غر کے علاقوں میں دہشت گردوں کے
متعدد ٹھکانے ہیں تاہم ان علاقوں میں
سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات نہیں کیے
گئے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں سفر غیر
محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں
غذائی اجناس کی بہت مہنگائی ہے، خاص طور
پر ادویات کی عدم دستیابی تشویش ناک ہے۔
آغا نواز کے بقول جب تک ٹل پارہ چنار کی
سڑک کھلی تھی خوراک اور ضرورت کی دیگر
اشیا کی فراہمی کچھ آسان تھی تاہم قافلوں
پر حملوں کا جو سلسلہ اب شروع ہو چکا ہے
اس سے لگتا ہے کہ بالائی کرم کے عوام کے
مسائل میں تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
کرم
ایجنسی کا پارہ چنار ائیر پورٹ، جسے گذشتہ
نومبر سے ”محترمہ بے نظیر بھٹو ائیر پورٹ“
کا نام دیا گیا ہے، قبائلی علاقہ جات کا
واحد ایئر پورٹ ہے جو اب تک کارآمد حالت
میں ہے۔ اس علاقے کا واحد زمینی راستہ بند
ہونے کی وجہ سے یہاں کے عوام کے لیے ہوائی
سروس کی فراہمی اگرچہ غیر معمولی سہولت
ثابت ہو سکتی ہے تاہم یہاں پی آئی اے کی
فوکر فلائٹ 1994ء
سے بند ہے۔ پشاور فلائنگ کلب اگرچہ کوئی
ایک برس سے پارہ چنار کے لیے چھوٹے سیسنا
ہوائی جہازوں کے ذریعے سروس فراہم کر رہا
ہے تاہم اس میں صرف تین سے پانچ مسافر ہی
جا سکتے۔ اس طرح اگر روزانہ پشاور سے پارہ
چنار کے لیے پانچ پروازیں بھی چلیں تو
زیادہ سے زیادہ بیس، پچیس مسافر ہی اس
سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ اس
کا یک طرفہ کرایہ 7
سے
10
ہزار
روپے کے قریب ہے اور اس میں جگہ حاصل کرنا
ایک الگ مسئلہ ہے۔ حکومت کی طرف سے کرم
ایجنسی کے عوام کو گذشتہ ایک برس سے اگرچہ
یقین دہانی کروائی جا رہی ہے کہ پارہ چنار
کے ائیر پورٹ کی توسیع اور مرمت کا کام
جلد مکمل کروایا جائے گا تاکہ قومی فضائی
کمپنی یہاں سروس شروع کر سکے تاہم ابھی
تک یہ منصوبہ محض حکومتی دعوؤں
اور بیانات کی حد تک ہے۔
لوئر
کرم کے علاقے میں ایک مارٹر گولے کے حملے
کے دوران زخمی ہونے والے پارہ چنار کے
رہائشی لائق حسین کا کہنا تھا کہ پارہ
چنار میں علاج کی ضروری سہولیات نہ ہونے
کی وجہ سے بیشتر مریضوں کو پشاور جانا
پڑتا ہے تاہم راستے کے خطرات کی وجہ سے اس
سٹرک پر سفر جان جوکھوں کا کام ہے۔ لائق
حسین کا کہنا تھا کہ ایک حملے کے دوران ان
کی ایک آنکھ پر شدید زخم آیا جس کے علاج
کے لیے انہیں مہینے میں دو بار پارہ چنار
سے بذریعہ جہاز پشاور جانا پڑتا ہے جس کے
یک طرفہ ٹکٹ کی قیمت کم از کم سات ہزار
روپے ہے۔ لائق حسین اپنی بینائی کی بحالی
کی کوشش میں ماہانہ تیس ہزار سے زائد رقم
صرف ہوائی سفر کی مد میں خرچ رہے ہیں تاہم
ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر نشست حاصل کرنا
خاصا دشوار ہے اور بعض اوقات اس کے لیے
تین سے چار ہفتے انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کرم
ایجنسی کی سرحد ”۸“ کی صورت میں افغانستان
کے تین صوبوں ننگر ہار، پکتیا اور خوست
کے ساتھ ملتی ہے اور یہاں سے کابل کا فاصلہ
سو کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔ اس علاقے کی
سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر 80ء
کی دہائی میں افغانستان پر سوویت حملے کے
بعد افغانستان کے ساتھ ملنے والی کرم
ایجنسی کی سرحد کو اس کی مخصوص بناوٹ اور
تزویراتی اہمیت کے پیش نظر Parrot's
Beak یا
”طوطے کی چونچ“ کا نام دیا گیا۔ سوویت
فوجوں کے خلاف لڑائی کے دوران اس راستے
سے مجاہدین کو افغانستان میں اُتارنا کئی
لحاظ سے مؤثر سمجھا جاتا
رہا مثلاً یہاں سے مداخلت کرنے والے دستے
دائیں طرف کابل سے جلال آباد اور بائیں
طرف کابل سے غزنی اور قندھار کی طرف پیش
قدمی کرنے والے روسی دستوں کا راستہ کاٹ
سکتے تھے جبکہ بالکل سیدھے کابل میں مزاحمت
کرنے والے دستوں کو بھی اسی راستے سے کمک
فراہم کی جا سکتی تھی۔ تاہم قبائلی علاقوں
میں صرف کرم ایجنسی وہ واحد علاقہ تھا جو
افغان جنگ میں حصہ لینے والے جنگجوؤں
کو راہداری فراہم کرنے پر آمادہ نہیں تھا
اور اس کی سزا اس علاقے کو اگلے برسوں میں
فرقہ وارانہ تشدد کی صورت میں ملی۔
کرم
ایجنسی میں فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے
پارہ چنار ڈگری کالج کے ایک پروفیسر کا
کہنا ہے کہ کرم ایجنسی کے طوری اور بنگش
قبائل میں جنگلات، پہاڑوں اور زرعی اراضی
کی ملکیت پر جھگڑے تو انیسویں صدی کے وسط
سے ہوتے رہے ہیں تاہم یہاں مسلکی بنیادوں
پر تشدد کا پہلا واقعہ غالباً 1936ء
میں پیش آیا تھا۔ اس کے بعد 1961ء
میں لوئر کرم کے شہر صدہ میں ایک گھر پر
فائرنگ کے بعد کرم ایجنسی میں فسادات شروع
ہو گئے جن میں 21
افراد
ہلاک ہوئے تاہم اس واقعے کے بعد فریقین
کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا جو کہ
دس برس تک برقرار رہا۔ 71ء
اور 73ء
میں بھی یہاں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوتی
رہی ہیں تاہم 1979ء
میں پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ
فسادات ہوئے۔ 1987ء
میں ایک مرتبہ پھر صدہ میں ایک مذہبی جلوس
پر فائرنگ کے بعد شدید نوعیت کے فسادات
پھوٹ پڑے جن میں 97
کے
قریب افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد ایک امن
معاہدہ ہوا جو قریب نو برس تک برقرار رہا۔
تاہم
1996ء
سے افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے
اثر و رسوخ کی وجہ سے کرم ایجنسی میں امن
و امان کی صورتحال میں شدید بگاڑ پیدا
ہوتا چلا گیا۔ اس لڑائی میں اندازاً 132
افراد
مارے گئے تاہم متحارب قبائل کے درمیان
ایک امن معاہدہ (معاہدہ
کوہاٹ)
طے
پانے کے بعد لڑائی تھم گئی۔ معاہدہ¿
کوہاٹ
اب تک کے امن معاہدوں میں سب سے مؤثر
مانا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں خلاف ورزی
کرنے والے قبائل کے لیے بھاری جرمانہ اور
دیگر سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ 1996ء
میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات
کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ
اس لڑائی کا مقصد افغانستان میں برسرپیکار
طالبان کو کمک فراہم کرنے کے لیے بڑی تعداد
میں مجاہدین کو کرم ایجنسی کے راستے
افغانستان میں داخل کرنا تھا۔ اکتوبر
2001ء
میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد
افغانستان کے کوہِ سفید میں تورا بورا سے
فرار ہو کر آنے والے القاعدہ اور طالبان
عناصر کو اس علاقے سے گزر گاہ یا پناہ نہ
مل سکنے کی وجہ سے کرم ایجنسی میں فرقہ
وارانہ فسادات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ
ہوا۔ افغانستان اور پاکستان کے علاقوں
میں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث انتہا پسند
گروہوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے
2003ء
تک کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی
سمیت متعدد انتہا پسند گروہوں سے وابستہ
عناصر کی بڑی تعداد قبائلی علاقہ جات میں
روپوش ہو گئی جس کی وجہ سے قبائلی علاقہ
جات میں فرقہ وارانہ انتہا پسند گروہوں
کا مضبوط نیٹ ورک بن گیا۔ اپریل 2007ء
میں ایک مذہبی جلوس میں مخالف فرقے کے
خلاف نعرہ بازی سے کرم ایجنسی میں بدترین
نوعیت کے فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔
یہ فسادات یکم اپریل سے شروع ہوئے تھے جو
کہ جلد ہی ایجنسی کے بڑے حصے میں پھیل گئے۔
اس
دوران بیت اللہ محسود کی سربراہی میں
پاکستانی طالبان گروہ کا قیام اور حکیم
اللہ محسود کا اورکزئی ایجنسی میں بطور
کمانڈر تقرر کوہاٹ، اورکزئی اور کرم
ایجنسی میں فرقہ وارانہ تشدد میں تشویشناک
اضافے کا باعث بنا۔ نومبر 2007ء
میں پارہ چنار، پیواڑ، تری مینگل، علی
زئی، صدہ، بالش خیل، شلوزان، چار دیوار
اور پاڑہ چمکنی کے علاقوں میں جاری فرقہ
وارانہ فسادات میں 150
کے
قریب ہلاکتیں ہوئیں۔ اس دوران مختلف
قبائلی علاقوں سے انتہا پسند جتھوں نے
ہنگو، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے علاقوں
میں آبادیوں پر منظم حملوں کا سلسلہ شروع
کر دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق جنوری 2008ء
میں شمالی وزیرستان اور ہنگو کے نواحی
علاقوں سے انتہا پسندوں نے مینگک اور
تینگئی کے دیہاتوں پر حملے کیے۔ متحارب
دھڑوں کے مقامی عمائدین پر مشتمل جرگے کی
کوششوں سے فائر بندی کے بعد ایجنسی کے کئی
علاقوں میں حالات میں قدرے بہتری کی صورت
پیدا ہوئی، تاہم کئی علاقوں میں جھڑپوں
کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ان فسادات کے بعد
کرم ایجنسی کے حالات بے حد کشیدہ ہو گئے
اور مقامی لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف
نقل مکانی شروع کر دی۔
گذشتہ
پانچ، سات برس کی خوفناک فرقہ وارانہ
منافرت، ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ملانے
والے واحد زمینی راستے کی کم از کم تین
برس سے بندش، مسافروں کے اغوا، قتل، اشیائے
ضرورت کی کمیابی اور اس شکایت کے باوجود
کہ حکومتی دستے کرم ایجنسی کے عوام کو
دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے
بروقت مداخلت میں تاخیر کرتے رہے ہیں،
اپر کرم کے علاقے کے عوام کا یہ اطمینان
کہ کرم ایجنسی کے عوام نے دہشت گردی کا
مقابلہ کر کے ملکی مفادات کی حفاظت کی ہے،
بلاشبہ ان بہادر اور محب وطن شہریوں کے
مضبوط عزم کی علامت ہے۔
ٹل
پارہ چنار روڈ پر دہشت گردی ۔۔ ایک جائزہ
5
مارچ
2010ء:
ضلع
ہنگو کی تحصیل ٹل میں تقریباً 50
مسافر
گاڑیوں اور ڈیڑھ سو کے قریب ٹرکوں کے ایک
قافلے میں ایک مسافر گاڑی کے قریب ایک خود
کش حملہ سے 12
مسافر
جاں بحق اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے۔
26فروری
2010ء:
توت
کس کے علاقے میں ایک گاڑی پر فائرنگ کی
گئی جس سے تین مسافر جاں بحق ہو گئے۔
10
اگست
2009ء:
لوئر
کرم سے اپر کرم کی طرف جاتے ہوئے دہشت
گردوں کے ایک گروہ نے سکیورٹی فورسز کے
ایک کانوائے پر حملہ کیا اور سامان لوٹ
لے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کانوائے جب
صدہ کے علاقے میں پہنچا تو دہشت گردوں نے
کانوائے پر گولی چلا دی اور قریب 80
لاکھ
مالیت کا سامان اور ادویات لوٹ لے گئے۔
سکیورٹی فورسز کے قافلوں پر پیر قیوم اور
کھوار کلے کے علاقوں میں اس سے قبل بھی
متعدد حملے ہو چکے تھے۔
9
اپریل
2009ء:
توت
کس کے علاقے میں پارہ چنار کے پولیٹیکل
ایجنٹ ارشد مجید کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی
جس سے ایک نائب صوبیدار جاں بحق اور
پولیٹیکل ایجنٹ زخمی ہو گئے۔
23
فروری
2009ء:
پارہ
چنار سے پشاور جانے والی ایک مسافر گاڑی
پر توت کس کے علاقے میں (ٹل
اور علی زئی کے درمیان)
فائرنگ
کر کے گاڑی کے ٹائر برسٹ کیے گئے اور گاڑی
میں سوار 15
میں
سے 12
مسافروں
کو اغوا کر لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اغوا
کاروں نے سات کو قتل کر دیا جبکہ پانچ کو
ستر لاکھ روپے تاوان ادا کر کے شمالی
وزیرستان کے علاقے دتہ خیل سے رہا کروایا
گیا۔
3
نومبر
2008ء:
پشاور
سے پارہ چنارہ جاتے ہوئے طوری قبیلے کے
چار افراد کو توت کس کے قریب اغوا کر لیا
گیا۔
19
جون
2008ء:
سکیورٹی
دستوں اور پولیٹیکل انتظامیہ کی نگرانی
میں پارہ چنار جانے والے 22
ٹرکوں
کے ایک کانوائے کو لوئر کرم میں صدہ کے
قریب پیر قیوم کے مقام پر روکا گیا، ٹرکوں
کو نذر آتش کر دیا گیا جبکہ 12
ڈرائیوروں
کو اغوا کر لیا گیا جن کو بعدازاں قتل کر
دیا گیا۔
27
مارچ
2008ء:
ٹل
کے قریب طور غر کے علاقے میں پارہ چنار
ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی ایک ایمبولینس پر
راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس میں ایمبولینس
میں سوار پارہ چنار ہسپتال عملے کے چار
افراد جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔
6دسمبر
2007ء:
پارہ
چنار جانے والی ایک مسافر گاڑی پر لوئر
کرم میں صدہ کے قریب فائرنگ کی گئی جس سے
گاڑی کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا جبکہ گاڑی
میں سوار سات افراد کو یرغمال بنا لیا
گیا۔
26
فروری
2008ء:
پارہ
چنار سے صدہ آتے ہوئے صدہ کے قریب سیدنوالہ
میلہ کے مقام پر قومی اسمبلی کے امیدوار
ریاض حسین شاہ کی گاڑی بارودی سرنگ سے
ٹکرا گئی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اس
سے قبل 16
فروری
2008ء
کو ریاض حسین شاہ کے ایک انتخابی دفتر کے
باہر خود کش دھماکہ ہوا جس میں کم از کم
پچاس افراد جاں بحق ہو گئے۔
|