|
نئے
سیاروں کی تلاش
امریکی
خلائی ادارے ناسا کے مشن کے حوالے سے رپورٹ
سدرہ
کاظمی
ستاروں
سے آگے جہاں اور بھی ہیں، صرف ایک شاعرانہ
خیال نہیں بہت ممکن ہے کہ آئندہ مستقبل
قریب میں ہم اپنی دنیا سے باہر کئی دُنیائیں
دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور یہ
بھی ممکن ہے کہ ہم بطور انسان اپنے سیارے
سے باہر دوسرے سیاروں میں ممکنہ زندہ
مخلوقات سے رابطے کی کوئی سبیل کرلیں کہ
کائنات میں بنی نوع انسان اپنے ارتقائی
سفر کے ایسے مرحلے میں داخل ہو جائے کہ
زندگی ایک بار پھر تبدیل ہو اور ہم یا
ہماری اگلی نسلیں اس تبدیلی کو وقوع پذیر
ہوتا دیکھ سکیں۔
امریکی
خلائی ادارے ناسا کی کیپلرKepler
نامی
دوربین نے نظامِ شمسی سے باہر پانچ نئے
سیاروں کو دریافت کر کے انسانی نظر کی
استعداد میں اضافے کی ایک نئی تاریخ رقم
کی ہے۔ مارچ 2009ء
میں ناسا کی طرف سے نظامِ شمسی سے باہر
زمین جیسے سیاروں کی تلاش میں کیپلر کو
لانچ کیا گیاتھا۔ کیپلر مشن کی روانگی سے
قبل تحقیق کا ایک رُخ یہ بھی تھا کہ ممکنہ
طور پر ہماری آنکھوں سے اوجھل سیارے اِتنے
گرم ہو سکتے ہیں کہ ان پر” زندگی“ ناممکن
ہوگی۔ پانچ سیاروں کی دریافت کے بعد یہ
سوال اور بھی اہمیت اخیتار کرگیا ہے کہ
ان سیاروں کا درجہ حرارت زندگی کا معاون
ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نظامِ شمسی سے
باہر دریافت ہونے والے سیاروں کو اکثریت
ہاٹ چوپیٹرزHot
Jupitors بھی
کہتی ہے جس کی وجہ ان کا درجہ حرارت ہے
۔تحقیق کے مطابق ان سیاروں پر1200
سے
1650
ڈگری
سنٹی گریڈ درجہ حرارت موجود ہے جو کہ پگھلے
ہوئے لاوے سے بھی زیادہ گرم ہے۔ ناسا کے
مطابق یہ سیارے اپنے اپنے سورج کے گرد تین
سے پانچ دن میں چکر مکمل کرلیتے ہیں ۔جس
کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے سورج یا ستارے
سے بہت کم فاصلے پر مدار میں چکر لگا رہے
ہیں اور عام رائے یہ ہے کہ ان دریافت ہونے
والے سیاروں کے سورج یا ستارے ہمارے سورج
سے حجم کے اعتبار سے کئی گنا بڑے اور گرم
بھی ہیں۔
ہمارے
نظامِ شمسی میں حجم کے اعتبار سے جوپیٹر
یا مشتری سب سے بڑا سیارہ ہے۔ نظامِ شمسی
سے باہر دریافت ہونے والے پانچ سیاروں
میں سے سب سے چھوٹا سیارہ اپنے سائز میں
ہمارے نظامِ شمسیNeptune
کے
برابر ہے۔ جبکہ دریافت ہونے والے سیاروں
میں سے سب سے بڑا سیارہ ہمارے نظامِ شمسی
کے مشتری کے برابر حجم رکھتا ہے۔
کیپلرمشن
کے پرنسپل سائنس انویسٹی
گیٹرWilliam
Baruki کے
مطابق نظامِ شمسی سے باہر پانچ سیاروں کی
دریافت صرف چھ ماہ کے قلیل عرصے میں ممکن
ہوئی ہے۔ بارو کی کہتے ہیں کہ” یہ نئی
دریافت سیاروں کے وجود میں آنے کے عمل اور
خلائی دُھند کے بارے میں ہمارے علم میں
اضافے کا سبب بنی ہے۔ یہ تمام سیارے اِتنے
شدید گرم ہیں کہ ہماری قیاس آرائی کے مطابق
ان پر زندگی کا وجود ناممکن ہے“۔
کیپلرمشن
کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کیپلر ٹیلی سکوپ
کسی بھی ستارے کی روشنی میں آنے والی
تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے اور حساب رکھنے
کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ خاص طور پر یہ
دور بین ستاروں کی روشنی میں آنے والی اس
تبدیلی پر نظر رکھتی ہے جس کی وجہ سے اُن
ستاروں کے قریب سے گزرنے والے سیارے ہوتے
ہوں۔ اس نقطہ نظر سے روشنی کی تبدیلی کا
مشاہدہ دراصل قریب سے گزرنے والے سیارے
کے حجم کے انداز لینے میں مدد کرتا ہے۔
یعنی کسی بھی سیارے کا سائز ستارے کی روشنی
میں آنے والی کمی کی مقدار سے ناپا جاتا
ہے، جتنی ستارے کی روشنی میں کمی آئے گی
اس کے گرد اس خاص وقت میں گھومنے والا
سیارہ اتنا ہی بڑا ہوگا۔ جبکہ ان سیاروں
کے درجہ حرارت کا اندازہ اُس سورج یا ستارے
(
جس
کے گرد چکر لگایا جارہا ہو)
کے
خواص، سیارے کے مدار اور سیارے کی اپنے
سورج یا ستارے سے دوری اور چکر مکمل کرنے
کے وقت سے لگایا جاتا ہے۔
کیپلرمشن
کے چیف ولیم باروکی کہتے ہیں” کیپلرزمین
کے حجم کے برابر ایسے سیاروں کی تلاش میں
ہے جو اپنے سورج سے ایسے فاصلے پر گردش
میں ہوں کہ ان پر پانی کی موجودگی کا امکان
ہوسکے....
کیپلر
سے حاصل ہونے والی معلومات سے ہم یہ جاننے
کی کوشش کرسکیں گے کہ ہمارے نظامِ شمسی
سے باہر ایسے کتنے ستارے موجود ہیں کہ جن
کے گرد گھومنے والے سیاروں پر زندگی ممکن
ہوسکتی ہے....
یا
کہ پھر ہم کائنات میں اکیلے ہیں“۔
ناسا
کی تحقیقات کی روشنی میں ہمارے نظامِ شمسی
سے باہر ایسے سیارے جن پر پانی ممکن ہوسکتا
ہے وہ سورج جیسے ستاروں کے گرد ایک برس
میں ایک چکر مکمل کرتے ہوں گے، ایک برس
میں ایک سے زائد چکر لگانے والے سیاروں
پر پانی کی دریافت صرف ایک معجزہ ہی ہوسکتی
ہے۔
سیاروں
کی دریافت کے مشن پر ہمارے نظامِ شمسی سے
باہر موجود کیپلر دور بین کسی بھی سیارے
کی دریافت پر یقین کرنے کے لیے کم ازکم
تین مرتبہ کسی بھی ستارے کی گردش کا مطالعہ
کرتی ہے۔ کیپلر مشن کے مطابق زمین جیسے
کسی سیارے کی حتمی دریافت میں کم ازکم تین
برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
ناسا
کے ایسٹرو فزکس ڈویژن کے سربراہJon
Morse کہتے
ہیں” ہم توقع کر رہے ہیں کہ زمین جیسے
سیاروں کی دریافت سے قبل ہماری دوربین
ایسے سیارے دریافت کرتی رہے گی جو نہ صرف
اپنے حجم میں زمین سے بڑے ہونگے بلکہ اپنے
اپنے سورج کے گرد انتہائی کم فاصلے پر
گردش کررہے ہوں گے“۔
کیپلرٹیلی
سکوپ زمین جیسے ایکسو پلانیٹس کی تلاش
میں خلا میں بھیجا جانے والا ناسا کا پہلا
مشن ہے، جس میں85
میگا
پکسل کی سلسلہ وار تصاویر بنانے والا ناسا
کی تاریخ کا سب سے بڑا کیمرہ لگایا گیا
ہے۔ ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری
کیپلر دریافت ہونے والے مزید سیاروں سے
متعلق معلومات کم ازکم نومبر2012
تک
زمینی مرکز کو ارسال کرنے کی صلاحیت رکھتی
ہے۔ کیپلر اپنی کارکردگی میں اس قدر حیران
کن ثابت ہوئی ہے کہ اس نے اپنی پہلی دریافت
یعنی ہاٹ جوپیٹر کو ممکن بنانے کے لیے صرف
دس دن کا مختصر وقت صرف کیا اور چھ ماہ میں
پانچ سیاروں سے متعلق تصاویر ارسال کردیں۔
سائنس دان کیپلرمشن کی اس تیزی پر حیران
ہیں۔ کیپلر کی پہلی دریافتHot
Jupits زمین
سے ایک ہزار نوری برس کے فاصلے پر اپنے
سورج کے گرد چکر لگارہا ہے۔ ایک نوری
برس9460
کلو
میٹر کے برابر ہوتا ہے۔ کیپلرمشن کی ان
حیران کن دریافتوں کے بارے میں دستیاب
معلومات کو دنیا کے لیے ناسا کی آفیشل ویب
سائٹ پر اپ لوڈ کیا جاچکا ہے۔
|