|
لاہور
پریس کلب کے زیر اہتمام ” مائی نیم از
خان“ کا خصوصی شو
عامر
سہیل
لاہور
پریس کلب کی طرف سے معروف بالی وڈ فلم”
مائی نیم از خان“ کا خصوصی شو پلازہ سینما
میں منعقد کیا گیا۔ اس شو کی خاص بات یہ
ہے کہ اسے دیکھنے والوں میں صحافیوں اور
ان کی فیملیز کے دیگر افراد شامل تھے۔
لاہور کے صحافی حلقوں میں اس فلم کی نمائش
پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔
پریس کلب لاہور کے صدر سرمد بشیر کا کہنا
تھا کہ اس فلم کے ذریعے جس طرح مجموعی طور
پر دہشت گردی، اس کے محرکات اور اس سے
متاثر ہونے والے طبقات کی عکاسی کی گئی
ہے۔ اس سے 9/11
کے
بعد مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی
جو ایک روش موجود تھی اسے تبدیل کرنے میں
مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم کو
دیکھنے کے بعد خوشی بھی ہوئی کچھ دکھ بھی
ہوا۔ خوشی اس بات کی کہ جہاں ہر طرف مسلمانوں
کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے وہاں ایک
ہندوستانی فلم سٹار شاہ رخ نے اپنی فلم
میں یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی مذہب اور خاص
طور پر اسلام دہشت گردی کی حمایت نہیں
کرتا۔ بلکہ اسلام سمیت مختلف مذاہب میں
موجود وہ افراد دہشت گرد ہیں جو کسی بھی
نادیدہ طاقتوں کے سیاسی اور معاشی مقاصد
حل کرنے کے لیے ان کاآلہ کار بن جاتے ہیں۔
جہاں تک دکھ کی بات تو وہ یہ ہے کہ ایسے
موضوعات پر ہمارے ہاں فلمیں نہیں بنائی
جاتی۔ جبکہ لاہور پریس کلب کے سابق ممبر
گورننگ باڈی اور ”دی نیشن“ کے میگزین
ایڈیٹرسرفراز عمانویل کا کہنا ہے کہ فلم
کا موضوع تو دہشت گردی کے حوالے سے ہے مگر
” مائی نیم از خان“ میں اس موضوع کو الگ
انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔اس سے پہلے بھی
اس موضوع پر کئی فلمیں بنی ہیں جن میں
پاکستانی فلم ”خدا کے لیے ہے“ اسی طرح
انڈین فلم ”قربان“ اور” نیو یارک “ہیں۔
لیکن اس فلم میں تمام طبقات کو شامل کیا
گیا ہے اور اس فلم کا مرکزی خیال احترام
آدمیت اور وقار انسانیت کی مجسم دلیل بن
کر سامنے آتا ہے۔ اس فلم میں یہ ثابت کیا
گیا ہے کہ دنیا بھر میں پائی جانے والی بد
امنی اور دہشت گردی کا تعلق کسی خاص مذہب
یا فرقے سے نہیں ہے۔ پریس کلب کی موجودہ
گورننگ باڈی کے رکن عامر ریاض نے کہا کہ
شہر میں اور بھی فلمیں موجود تھیں مگر ہم
نے صحافیوں اور ان کی فیملیز کے لیے اس
فلم کا انتخاب اس لیے کیا کہ تفریح کے ساتھ
ساتھ ان تک ایسی معلومات فراہم ہو جس سے
ان کی سوچ اور رویے میں مثبت تبدیلی آئے
اور یہی وجہ ہے کہ فلم دیکھنے کے بعد لوگوں
نے پریس کلب کی اس کاوش کی تعریف کی اور
امید کی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز
کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا کیونکہ جہاں
یہ ایک تفریح ہے وہاں میل ملاقات سے ایک
دوسرے کو سمجھنے کا بھی موقع ملتا ہے۔
پریس کلب کی طرف سے اس موقع پر معروف گلو
کار جواد احمد اور رفاقت علی خان کو خصوصی
طور پر مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے فلم کو
موجودہ حالات میں دہشت گردی کے تناظر میں
ایک اچھی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا
کہ یہ فلم جہاںکہانی کے اعتبار سے ایک
اچھی فلم ہے وہاں اس فلم کی موسیقی بھی
سراہے جانے کے قابل ہے۔ پاکستان میں بھی
اس طرح کے فلم پراجیکٹس کے لیے ضروری ہے
کہ فلم انڈسٹری کے مسائل کو مد نظر رکھتے
ہوئے سرکاری سطح پر فلم پروڈیوسرز کو
معاشی اور فنی سہولیات فراہم کی جائیں۔
خاص طور پر سینما کلچر کو پروان چڑھانے
کے لیے ضروری ہے کہ فلم کی ٹکٹس پر تفریحی
ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے تا کہ فلم
بین معاشی دباﺅ سے یکسر آزاد رہ کر اپنے
شوق کے لیے سینماﺅں کا رخ کر سکیں۔ اگر
ایسا نہیں ہو گا تو امکان غالب ہے کہ
پاکستان فلم کے شعبے میں پروڈکشن کی بجائے
صرف فلمی نمائش کی ایک منڈی بن کر رہ جائے
گا اور اگر فلم انڈسٹری عملاً ختم ہو جائے
گی تو موسیقی بھی لازمی طور پر اپنے وجود
کو پاکستان میں برقرار نہیں رکھ سکے گی۔
مائی نیم از خان کے خصوصی شو کے موقع پر
پاکستان فلم ایگزی بیٹرز ایسوسی ایشن
سرحد اور پنجاب کے سیکرٹری میاں محمد شکیل
کا کہنا تھا ہر فلم اپنے موضوع کے اعتبار
سے کوئی نئی فلم نہیں ہے اس سے پہلے پاکستان
میں ایسے ہی موضوع پر فلم ” خدا کے لیے“
بنائی گئی جسے بے حد سراہا گیا۔ پاکستان
اپنی فلم انڈسٹری کی وسعت کے اعتبار سے
اگرچہ چھوٹا ملک ہے لیکن اگر وسائل دستیاب
ہوں تو یہاں بھی عالمی معیار کی فلمیں
بنائی جا سکتی ہے۔ بھارت کی فلم انڈسٹری
کے تمام بڑے ناموں کے مقابلے میں ہمارے
ہاں کم معیار کے اداکار نہیں ہیں۔ اگر
ہمارے اداکاروں کو بڑی پروڈکیشن میں کام
کرنے کا موقع ملے تو اداکار شان جیسے
نوجوان اداکار کسی بھی بھارتی فلم کے
اداکار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان
میں بھارتی فلموں کی نمائش سے کم از کم یہ
تو ضرور ممکن ہوا ہے کہ پاکستان میں فلمی
نمائش کی مارکیٹ پھر سے زندہ ہو گئی ہے۔
اور امکان ہے کہ ایسی ہی سرگرمیوں سے فلم
انڈسٹری کو بھی بالآخر فائدہ پہنچے گا۔
اس شو کے موقع پر آنے والے مہمانوں کی
اکثریت کا یہ کہنا تھا کہ شاہ رخ کی فلم
جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی سیاسی، سماجی
اور اخلاقی حمایت کے طور پر دیکھی جا رہی
ہے۔
|