|
زندگی
بخش ہوا موت بانٹنے لگی
شہروں
میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے حوالے سے
رپورٹ
بشیر
واثق
ہوا
زندگی کے لیے کتنی اہم ہے، اس کا اندازہ
اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی غیر
موجودگی سے صرف چند منٹوں میں انسان کی
موت واقع ہو جاتی ہے اور چلتا پھرتا انسان
بے جان ہو جاتا ہے۔ اگر ہم ہوا کی اہمیت
جاننے کے لیے اس کا موازنہ خوراک سے کریں،
جس کے حصول کے لیے انسان بہت تگ و دو کرتا
ہے، تو پتہ چلتا ہے کہ ہوا کو خوراک پر
فضیلت حاصل ہے کیونکہ اگر انسان کو خوراک
نہ ملے تو وہ چند دن تک زندہ رہ سکتا ہے
جبکہ ہوا نہ ملنے کی صورت میں چند منٹ میں
جان چلی جاتی ہے۔ اہمیت کا احساس اس لیے
کم ہوتا ہے کیونکہ ہوا بے مول ہے۔ بن مانگے،
بن چھینے مل رہی ہے اسی لیے انسان اس کی
اہمیت کے بارے میں کم ہی سوچتا ہے۔
لاہور
میں فضائی آلودگی کتنی بڑھ چکی ہے اس کا
اندازہ انہیں ضرور ہوتا ہے جو کسی پر فضا
مقام کی سیر کرنے کے بعد واپس اس شہر میں
لوٹتے ہیں اور جنہیں ایسا موقع میسر نہیں
آتا وہ بے چارے اس بوجھ کو برداشت کرنے پر
مجبور ہیں اور ان کا احساس تک مردہ ہو چکا
ہے، بالکل اس شخص کی طرح جو عرصہ دراز سے
کسی جوہڑ کے کنارے رہ رہا ہے اور اسے وہاں
کسی قسم کی گندگی کا احساس نہیں ہوتا،
البتہ جب وہ کبھی صاف ستھرے مقام سے گزرتا
ہے تو ضرور سوچتا ہے مگر واپس جوہڑ کنارے
پہنچ کر پھر سب بھول جاتا ہے۔ لاہور میں
فضائی آلودگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ رات کے
وقت آسمان پر ستارے بھی دھندلے دکھائی
دیتے ہیں۔ لاہور سدا سے ایسا نہ تھا۔
بزرگوں کے پاس بیٹھیں تو وہ بیتے زمانے
کی باتیں بتاتے ہیں۔ تب مال روڈ کو وہاں
لگے درختوں کی وجہ سے ’ ٹھنڈی سڑک ‘کے
نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ لاہورئیے شام
کو وہاں گھومنے نکلا کرتے تھے۔ اپنی وسعت
اور خوبصورتی کی وجہ سے مال روڈ کی مثالیں
دی جاتی تھیں۔ بہت سے منچلے وہاں بگھیاں
لے کر پہنچ جاتے اور یہ سلسلہ رات گئے تک
چلتا رہتا تھا۔ وہاں چلنے والے ٹھنڈی ہوا
کے جھونکے انسان کو مسرور کر دیتے تھے،
مگر اب یہ سب افسانوی باتیں لگتی ہیں۔ اب
مال روڈ کے کسی بھی چوراہے پر کھڑا شخص اس
دور کا تصور بھی نہیں کر سکتا کیونکہ دن
ہو یا رات۔ مال روڈ سے گزرنے والی ٹریفک
کم ہونے میں نہیں آتی۔ پھر ٹریفک کا شور
اور سائلنسروں سے نکلنے والا دھواں فضا
کو اتنا کثیف کر دیتا ہے کہ انسان کی طبیعت
چند منٹوں میں ہی بوجھل ہو جاتی ہے اور اس
کا دل چاہتا ہے کہ وہ وہاں سے جلد از جلد
کسی اور طرف نکل جائے۔ حالانکہ مال روڈ
پر انتہائی اہم سرکاری دفاتر ہونے کی وجہ
سے اس کی صفائی کے کافی موثر اقدامات کیے
جاتے ہیں مگر پھر بھی یہ صورت حال ہے۔ جب
مال روڈ کا یہ حال ہے تو ذرا اندازہ لگائیں
فیروز پور روڈ، ملتان روڈ، بند روڈ، راوی
روڈ، سرکلر روڈ اور شمالی لاہور کی تمام
سڑکوں کا کیا عالم ہو گا، جہاں سے بسیں،
ٹرک، تانگے، رکشے، کاریں، گدھا گاڑیاں
اور موٹر سائیکل غرض ہر قسم کی ٹریفک گزرتی
ہے۔ ان سڑکوں پر اگر کوئی بھی ایک چکر لگا
لے تو آنکھوں میں سوزش، ناک اور گلہ بند
اور اعصابی تھکن کا شکار ہو جانا عام سی
بات ہے اور اگر کوئی دیہاتی بے چارہ ان
سڑکوں پر پھنس جائے تو اس پر جو گزرتی ہے
،وہ اس واقعہ سے عیاں ہے۔ میرے ایک دوست
کے چچا کو کسی کام سے مجبوراً لاہور آنا
پڑا۔ لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام
اور گاڑیوں سے نکلتا ہوا دھواں دیکھ کر
وہ بری طرح گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ان
کا دم گھٹ رہا ہے، اس لیے انہیں واپس چھوڑا
جائے۔ ساتھ آنے والے پریشان ہو گئے کیونکہ
ان کے بنا وہ کام مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
انہوں نے بڑی مشکل سے انہیں سمجھا بجھا
کر روکا تاکہ اگلے دن کام مکمل ہو سکے۔
میرے دوست کا کہنا تھا کہ چچا نے ساری رات
جاگ کر بڑی بے چینی میں گزاری اور مسلسل
یہی کہہ رہے تھے کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے
اور اگلے دن کام ختم ہوتے ہی اسی وقت واپس
روانہ ہو گئے۔
اگر
کسی نے لاہور میں آلودگی سے پاک موسم کا
مزا لینا ہو تو اسے بارش کا انتظار کرنا
پڑے گا۔ وہ بھی رات گئے، یہی وہ واحد راستہ
ہے جس کے ذریعے یہ شہر چند گھنٹوں کے لیے
فضائی آلودگی سے پاک ہو جاتا ہے اور انسان
آسمان کو اس کے اصل رنگ اور رعنائی میں
دیکھ سکتا ہے۔ رات گئے فضا اس لیے زیادہ
دیر تک صاف ستھری رہتی ہے کیونکہ اس وقت
ٹریفک کم ہوتی ہے۔ دن کے وقت تو بارش بند
ہونے کے صرف ایک ڈیڑھ گھنٹہ بعد ہی صورت
حال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے کیونکہ بارش
کے بعد ٹریفک کا رش اور دھواں فضا کو مزید
آلودہ کر دیتے ہیں اور جو لوگ بارش کے بعد
موسم سے لطف اندوز ہونے نکلے ہوتے ہیں۔
ان کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن جاتے
ہیں۔
لاہور
میں فضائی آلودگی کی بڑی وجوہ بڑھتا ہوا
ٹریفک، کارخانوں اور فیکٹریوں سے نکلنے
والا دھواں، گندگی کو جلانا، گرد و غبار
اور گھریلو صنعتوں میں پلاسٹک کی ری
سائیکلنگ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ بڑی وجہ
جس سے ہر شہری متاثر ہوتا ہے وہ ٹریفک سے
پیدا ہونے والا دھواں ہے۔ بڑی بسیں، ٹو
سٹروک آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشا اور
مژدا گاڑیاں ڈیزل اور موبل آئل کے استعمال
کی وجہ سے زیادہ دھواں خارج کرتی ہیں۔
اربن ٹرانسپورٹ کی بعض بسوں کی تو یہ حالت
ہے کہ بدقسمتی سے اگر کوئی بے چارا ٹریفک
سگنل پر اس کے پیچھے پھنس جائے تو بس کے
سائلنسر سے نکلے والے کثیف دھوئیں کے
بھبھکوں سے اس کے لیے سانس لینا مشکل ہو
جاتا ہے اور اگر کوئی تنفس کو کنٹرول نہ
کرے تو کھانسی کا دورہ لازمی پڑتا ہے۔ مزے
کی بات یہ ہے کہ ان تمام بسوں کو فٹنس
سرٹیفکیٹ دیے گئے ہیں اور ہر بس کے باہر
کی طرف باقاعدہ فٹنس کا چھاپہ لگا ہوا ہے۔
کچھ یہی حال ٹو سٹروک، آٹو رکشا اور پٹرول
کے ساتھ موبل آئل استعمال کرنے والے موٹر
سائیکل رکشوں کا ہے۔ یوں سمجھیں کہ یہ تو
دھواں پیدا کرنے والی چلتی پھرتی فیکٹریاں
ہیں۔ شہری انتظامیہ بھی فضائی آلودگی کا
سب سے بڑا سبب انہیں ہی قرار دیتی ہے۔
گذشتہ چار پانچ برسوں سے ٹو سٹروک رکشا
ختم کر کے فور سٹروک سی این جی رکشا متعارف
کروانے کا سلسلہ جاری ہے مگر اس پر تا حال
مکمل عمل نہیں ہو سکا جس کی بڑی وجہ انتظامیہ
کی ناقص پالیسی ہے۔ آٹو رکشا مالکان سے
پہلے رکشے خریدے بغیر انہیں فور سٹروک
رکشا خریدنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔
اب ٹو سٹروک کو فورسٹروک میں تبدیل کرنے
کے اقدامات کے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف موٹر
سائیکل رکشا کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول
کرنے کے کوئی اقدامات کی عدم موجودگی لمحہ
فکریہ ہے۔ لاہور اگر ملک کا ثقافتی اور
تاریخی مرکز ہے تو اس کے ساتھ ساتھ صنعتی
شہر بھی ہے۔ کسی زمانے میں فیکٹریاں شہر
سے باہر ہوتی تھیں مگر آبادی اتنی تیزی
سے بڑھی کہ چند برسوں میں یہ فیکٹریاں
آبادی میں گھر گئیں حتیٰ کہ ضلع لاہور کی
حدود میں تمام کی تمام فیکٹریاں آبادی کے
اندر آ چکی ہیں، کہیں آبادی گنجان ہے اور
کہیں گھریلو صنعتیں اس کے علاوہ ہیں جو
گلی محلوں میں قائم کی گئی ہیں۔ صنعتوں
کی اہمیت سے کسی طرح بھی انکار نہیں کیا
جا سکتا ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی
میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں، مگر
بغیر منصوبہ بندی کے لگنے والی صنعتیں
ہمیشہ مسائل کا باعث بنتی ہیں۔ سو لاہور
کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے، شہر کے اندر
اور چاروں طرف لگنے والی فیکٹریوں کی وجہ
سے فضائی آلودگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
گھریلو صنعتیں ہوں یا بڑی انڈسٹری۔ وہاں
سے خارج ہونے والا دھواں ہوا میں شامل ہو
کر شہریوں میں موت بانٹ رہا ہے۔ وہی ہوا
جو زندگی بخشنے والی ہے شہریوں کو بیمار
کر رہی ہے ۔شہر میں سے گزرنے والا دریائے
راوی ان فیکٹریوں سے نکلنے والے کیمیکل
زدہ گندے پانی کی وجہ سے گندے نالے کی شکل
اختیار کر چکاہے۔ اس شہر کے باسیوں کی
کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ اللہ نے انہیں
ایک خوبصورت دریا دیا تھا جو انتظامیہ کی
بدانتظامی کی وجہ سے آج نالے کی صورت
دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں
میں سے گزرنے والے دریا اس کی خوبصورتی
بڑھاتے ہیں جبکہ لاہور کا دریائے راوی
شہر کے حسن پر دھبہ بن چکا ہے۔
لاہور
میں فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے
محکمہ ماحولیات پنجاب، پارکس اینڈ
ہارٹیکلچر اتھارٹی، محکمہ ماحولیات، سٹی
ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور محکمہ ایکسائز کا
وہیکل فٹنس ڈیپارٹمنٹ کام کر رہے ہیں۔
محکمہ ماحولیات کا کام ہے فضائی آلودگی
کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا جبکہ
وہیکل فٹنس ڈیپارٹمنٹ اور پی ایچ اے کا
کام ان کے ساتھ تعاون کرناہے۔ بدقسمتی سے
ان اداروں میں اجلاسوں کی حد تک تو تعاون
ہے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا جا رہا
ہے۔ لاہور میں درختوں میں اضافے کے بجائے
کمی اور فٹنس سر ٹیفکیٹ ہونے کے باوجود
دھوئیں کے بھبھا کے چھوڑتی گاڑیاں اس کا
منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پی ایچ اے اور سرٹیفکیٹ
گورنمنٹ کی غفلت تو یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ
پارکوں کے اندر اکھٹے ہونے والے کوڑے کو
آگ لگائی جاتی ہے حالانکہ یہ کوڑا پتوں
اور بے کار پودوں پر مشتمل ہوتا ہے جو کھاد
کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے مگر انہیں
کوئی پوچھنے والا نہیں اس لیے آئے روز
ایسا ہو رہا ہے۔ اسی طرح سٹی ڈسٹرکٹ
انتظامیہ کی طرف سے سڑک پر گندگی جمع کرنے
کے لیے رکھے گئے کنٹینرز میں بھی آگ لگائے
جانے کے مناظر گاہے گاہے دیکھنے کو ملتے
ہیں، حالانکہ کنٹینرز پر واضح الفاظ میں
لکھا گیا ہوتا ہے کہ گندگی جلانا جرم ہے
مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔
لاہور
میں فضائی آلودگی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن
کے مقررہ پیمانے سے تین گنا زیادہ ہے،
محمد یونس زاہد ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ماحولیات
سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کا کہنا ہے ”کسی
بھی ملک میں ماحولیاتی آلودگی کا اندازہ
لگانا ہو تو اس کے لیے وہاں کی ہوا کی
مانیٹرنگ سب سے بہترین پیمانہ ہے کیونکہ
تقریباً ہر قسم کی آلودگی کے عناصر کسی
نہ کسی صورت میں ہوا میں ضرور شامل ہوتے
ہیں۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ
لاہور میں فضائی آلودگی کی مقدار ورلڈ
ہیلتھ آرگنائزیشن کے مقررہ معیار سے تین
گنا زیادہ ہے جس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی
ٹریفک، انڈسٹری کا پھیلاﺅ اور صفائی کا
ناقص انتظام ہے۔ اس کے علاوہ انسان کی
بنائی ہوئی اشیائ، جنہیں انتھرو پوزنیک
کہتے ہیں، کے ساتھ ساتھ دھند اور آندھی
بھی فضائی آلودگی کا باعث ہیں۔ لاہور میں
مینار پاکستان، سمن آباد، چوبرجی، مزنگ
چونگی اور داتا دربار روڈ پر فضائی آلودگی
بہت زیادہ ہے جس کی وجہ ٹریفک ہے، خاص طور
پر بڑی بسیں اور آٹو رکشا بہت زیادہ آلودگی
پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ آٹو رکشا کی
تعداد 52
ہزار
کے قریب ہے جس میں سے 20
ہزار
رجسٹرڈ ہیں۔ ایک آٹو رکشا روزانہ پون سے
سوا لیٹر تک نقصان دہ عناصر فضا میں تحلیل
کرتا ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوا میں
اوزون کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ایسا بالخصوص
جولائی اور اگست میں ہوتا ہے جس سے گلے کی
خراش اور دمہ کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
فضائی آلودگی کا ایک عنصر شور بھی ہے۔
ہمارے یہاں شور 92
ڈی
بی اے ہے جبکہ یہ 65
سے
70
ڈی
بی اے ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس فضائی آلودگی
کی مانیٹرنگ کے لیے ایک موبائل لیبارٹری
ہے۔ اسی طرح آٹھ فیلڈ انسپکٹر ہیں یعنی
وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر ماسٹر
پلان پر مکمل طور پر عمل کیا جائے تو ایسے
مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ پی ایچ اے والے بڑے
درختوں کی جگہ چھوٹے درخت لگا رہے ہیں جو
کہ فضائی آلودگی کو ختم کرنے میں کوئی خاص
کردار ادا نہیں کرتے۔ ایکسائز والوں کے
پاس گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے
کے لیے صرف ایک انسپکٹر ہے۔ 30
لاکھ
گاڑیاں اور ایک انسپکٹر ۔خود اندازہ
لگائیں چیک اینڈ بیلنس کیسے قائم ہو گا۔
پروفیسر ڈاکٹر رضوان مسعود بٹ کے مطابق
فضائی آلودگی سے کینسر، الرجی، سر درد،
گلے اور آنکھوں کی بیماریاں لاحق ہوتی
ہیں۔ فضائی آلودگی میں چونکہ مختلف قسم
کے کیمیکل، دھواں، کاربن اور گردو وغبار
شامل ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی فضا میں دیر تک
سانس لینے سے میگرین، الرجی، آنکھوں کی
سوزش، سانس کی بیماریاں، بلغم اور ناک کی
بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ انڈسٹری کے بعض
خاص قسم کے دھواں سے کینسر ہو سکتا ہے اور
بعض افراد کے پھیپھڑے خراب ہو جاتے ہیں۔
پٹرول میں لیڈ کی مقدار زیادہ ہونے سے
حرام مغز متاثر ہوتا ہے۔ آلودہ فضا اور
دھند کے اکٹھے ہو جانے سے صورت حال مزید
گھمبیر ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں وائرس
انفیکشن بڑھ جاتی ہے جس سے مختلف قسم کی
بیماریاں پھیلنے لگتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے
کہ وہ مقررہ مقدار سے زائد دھواں دینے
والی گاڑیوں اور فیکٹریوں کو کنٹرول کرے۔
عوام کو چاہیے کہ جب وہ سڑکوں پر آئیں تو
اپنے ناک اور منہ کو ڈھانپ لیں تا کہ آلودہ
فضا سے پھیلنے والی بیماریوں سے کسی حد
تک بچے رہیں۔
ڈائریکٹر
پی یو آر سی طارق لطیف کے مطابق فضائی
آلودگی میں اضافے کی بڑی وجہ متعلقہ اداروں
کی غفلت اور بد انتظامی ہے۔
|