22/01/2010
 
 
   
 
 
  ”پاکستانی ہدایتکار فلمی زوال کے ذمہ دار ہیں“
 

پاکستانی ہدایتکار فلمی زوال کے ذمہ دار ہیں“

ماڈل و اداکارہ جیاعلی سے انٹرویو

علی نقوی

جیا علی کو انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے دس برس کا عرصہ بیت گیا ہے۔1998ء میں انہوں نے پی ٹی وی کے لیے ایک ٹی وی سیریل سے اپنے فن کارانہ سفر کا آغاز کیا جبکہ فلموں میں اداکاری کا آغاز ایک بلاک بسٹر فلم ”دیوانے تیرے پیارے کے“ میں معمر رانا کے مقابل مرکزی کردار ادا کر کے کیا تھا۔ جیا نے اب تک صرف دو فلمیں کی ہیں ان کی دوسری فلم کا نام ”دل دیوانہ ہے“ تھا۔ بعد ازاں جیا نے فیشن انڈسٹری کا رخ کر لیا۔ میوزک ویڈیوز، کمرشلز فیشن شوز میں آئیڈ واک، لکس اسٹائل ایوارڈز ہیں۔ برانڈز کی مشہوری کی مہم ہو یا ٹی وی سیریلز میں اداکاری ہر جگہ جیا علی نے خود کو ایک کامیاب مشہور اور فنکارانہ صلاحیتوں سے مالا مال ماڈل اور ایکٹریس کے طور پر منوایا ہے۔ آج کل جیا ایکٹنگ اور ماڈلنگ میں بے حد مصروف ہیں۔ ٹی وی چینل پر ان کا ایک ڈرامہ ’قصہ الفت کا ‘جاری و ساری ہے۔

س: آپ کا پچپن کیسا تھا؟

ج: نہایت شاندار! میں بتا نہیں سکتی کہ میں نے کیسا بچپن گزارا ہے، میں اور میرے بھائی ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں بچپن میں”ٹام بوائے“ ہوا کرتی تھی میں نے بچپن میں کوئی لڑکیوں والا کام نہیں کیا کیونکہ میرا بچپن لڑکوں کے درمیان گزرا۔

س: آپ کے نزدیک زندگی کا مفہوم کیا ہے؟

ج:میرے نزدیک! زندگی موج مستی کا نام ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ”جیو اور جینے دو“ جب میں کوئی کام اپنی مرضی سے کر رہی ہوں اور مجھے وہ کرنا اچھا لگ رہا ہے تو میں اپنے والدین کی مداخلت بھی برداشت نہیں کرتی۔ میں اپنے والدین کی شکر گزار ہوں کہ وہ مجھے دنیا میں لائے، البتہ میں نے اِن کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میری زندگی کے فیصلوں کا حق صرف اور صرف مجھے ہے۔ مجھے آج تک اپنی والدہ کے آخری الفاظ یاد ہیں جو انہوں نے آخری وقت میں مجھے کہے تھے کہ ”بیٹا ہمیشہ خوش رہو“ سو زندگی ہنسی خوشی سے جینے کا نام ہے اور زندگی میں فیصلے اپنے ہونے چاہیں تاکہ آپ کسی اور کو اپنی ناکامی کا دوش نہ دے سکیں اور یہ نہ کہیں کہ کاش یہ کام میں نے کسی کے کہنے پر نہ کیا ہوتا۔

س: فلم انڈسٹری کے بارے میں کیا کہیں گی؟

ج: ہماری فلم انڈسٹری میں بجھے ہوئے اور کند ذہن لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایک مخصوص طبقہ فلم پر پیسہ لگاتا ہے جس کا مقصد چند گنی چنی ہیروئنز کو پرومو ٹ کرنا ہوتا ہے۔ ان کا مقصد اچھا اور کوالٹی کاکام نہیں ہے بلکہ کچھ اور ہے۔ اس رویہ نے انڈسٹری کو تباہی سے ہمکنار کردیا ہے۔

س: ہماری فلم بزنس کیوںنہیں کرتیں؟

ج: کیسے بزنس کرسکتی ہیں۔ اس وقت تک تو بزنس نہیں آئے گا جب تک ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز پروفیشنل ہوکر کام کرنا نہیں سیکھیں گے۔ جہاں پر جو لوگ ایک مدت سے کام کر رہے ہیں۔ میں آپ کو سچ بتاﺅں کہ انہیں ابھی یہ ضرورت ہے کہ وہ کہیں جا کر فلم میکنگ کے کورسس کریں اور سیکھیں۔ دیکھیں سیکھنا ایک عمل ہے کہ جو ساری زندگی پورا نہیں ہو پاتا، یہ لوگ یہ کیوں نہیں مان لیتے کہ ان کو کام نہیں آتا، انہیں سیکھنا چاہیے۔ فلم بزنس کیسے کرے کہ جس میں ایک45 سال کی ہیروئن کھیتوں میں ایک رومانوی گانے پر ڈانس کر رہی ہو اور اس کو آپ نے کالج گرل کا رول دیا ہو۔معذرت کے ساتھ اس کو فلم میکنگ نہیں کہتے ہیں۔ ہمارے ڈائریکٹرز کو جانبدارانہ رویہ ترک کرتے میرٹ پر فیصلے کرنا ہونگے اور ٹیلنٹ کو روکنے کے لیے جو اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں بند کرنا پڑیں گے۔

س: آپ کا فلم میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟

ج: پہلی فلم میں نے سجاد گل صاحب کی وجہ سے کی تھی۔ وہ تجربہ بہت اچھا تھا، دوسری فلم میں میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ۔میرا ایک سولو پرفارمنس والا گانا کاٹ دیا گیا اور وجہ نہایت بھونڈی گھڑی گئی کہ فلم کا دورانیہ مختصر کرنے کے لیے ایسا کیا گیا ہے، لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ صرف میرا گانا ہی کیوں کاٹا گیا۔ یہ ڈائریکٹر کی زیادتی تھی۔

س: آپ جیسے لوگ فلم انڈسٹری میں تبدیلی لانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟

ج: تبدیلی لانے کے لیے مجھے پہلے خود کو فلم میں کاسٹ کرنا پڑے گا، جو میں نہیں کرسکتی۔ میں ان ہیروئنز کی طرح نہیں ہوں کہ میں فلم میکرز کی خوشامد کرتی رہوں اور ان کی آشیرباد حاصل کرنے کی جستجو میں اپنا وقت صرف کروں۔ مثال کے طور پر میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ میں صرف اس امید میں کہ ایک دن کوئی نہ کوئی مجھے رول آفر کردے گا انویسٹرز کے دفتروں کے چکر لگاتی رہوں۔ میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایجنٹ کے ذریعے کیا تھا آڈیشن دیا، سکرین ٹیسٹ ہوا تھا۔ کوئی چور راستہ نہیں اپنایا تھا جب تک انڈسٹری میں سے چور بازاری کا خاتمہ نہیں ہوگا انڈسٹری کبھی نہیں بہتر ہوسکتی۔

س: پاکستانی اداکاروں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: آرٹسٹ تو کام کررہا ہے۔ آپ ریما خان کو دیکھ لیں۔ انتہائی خوبصورت اور ذہین اداکارہ ہے۔ ”کوئی تجھ سا کہاں“ کی کامیابی نے یہ بتا دیا ہے کہ وہ ایک باکمال ہدایتکارہ بھی ہے۔ میں یہ کہوں گی کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ہے کہ جو واقعی پروفیشنل سطح پر کام کرنا جانتے ہیں۔ اسی طرح اداکار تو اپنا کام کر رہے ہیں۔ اب انویسٹ کرنے والے اور میکرز کیا سوچتے ہیں یہ میں نہیں جانتی۔

ہم شہری: شادی کا کب ارادہ ہے؟

ج: ابھی سوچنے کا وقت بھی نہیں ہے ،نہ ہی میں نے اس بارے میں سوچا ہے۔ شادی میرا ٹارگٹ نہیں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ کسی نہ کسی روز یہ ہو جانی ہے لیکن آپ مجھ سے تاریخ اور وقت پوچھیں تو میں کچھ نہیں بتا پاﺅں گی۔

س: کیا آپ کسی تعلق میں ہیں؟

ج: میرا ہمیشہ کسی نہ کسی سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ لیکن عارضی طور پر صرف کچھ وقت کے لیے مستقل تعلق مشکل ہو جاتے ہیں۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو تعلق کو دو یا تین سال ساتھ لے کر چلتے ہیں اور پھر خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔

س: کیا ایسا رویہ ہمارے معاشرے کے مطابق کچھ عجیب سا نہیں ہے؟

ج: کیوں اس میں کیا عجیب ہے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ محبت بار بار نہیں ہو سکتی اور میں ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو اپنے تعلق کو چھپاتے ہیں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کیوں لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے ہرکسی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ہے تو چھپانا کیسا؟ مان لیں کہ یہ ایک حقیقت ہے۔

س: کیا آپ فیشن انڈسٹری کی سمت سے خوش ہیں؟

ج: آپ ہماری فیشن انڈسٹری کو کسی بھی دنیا کی فیشن انڈسٹری کے برابر قرار دے سکتے ہیں۔ بہترین ہیئر اسٹائلسٹ میک اپ آرٹسٹ، فوٹو گرافرز اور سب سے بڑھ کر ہماری فیشن ماڈلز۔ فیشن انڈسٹری کی سمت کا تعین ہوچکا ہے۔ یہاں اب زیادہ ابہام نہیں ہے۔

س: آپ کا پسندہ میک اپ آرٹسٹ؟

ج: مریم ابرو، اطہر شہزاد اور طارق امین

س: آپ کا پسندیدہ گلوکار؟

ج: نصرت فتح علی خان اور شازیہ منظور

س: اپنی شخصیت میں کچھ تبدیلی کرنا چاہتی ہیں؟

ج: میں لوگوں سے اپنے ملنے جلنے کے طریقے کو بہتر بنانا چاہتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے جلدی غصہ آجاتا ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔

س: کسی چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے؟

ج: ہاں میری والدہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ گذشتہ برس ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ سوائے ان کے مجھے کوئی کمی نہیں ہے۔

س: کوئی لمحہ کہ جس کا افسوس ہوا ہو؟

ج: ابھی تک تو نہیں۔ اللہ بہت مہربان ہے مجھ پر کہ میری زندگی میں کوئی لمحہ افسوس کا نہیں ہے۔ میں اللہ کی شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے اتنی اچھی زندگی دی ہے۔

س: اگر دوبارہ پیدا ہونے کا موقع ملے تو کیا بننا چاہیں گی؟

ج:جو آج ہوں۔ یہی بنوں گی۔ اسی فیملی میں پیدا ہونا پسند کروں گی۔ یہی کام کرنا چاہوں گی۔ مجھے کوئی گلہ ہے ہی نہیں زندگی سے تو میں کیوں کچھ اور بننے کی خواہش کروں میں خود کو دنیا کے خوش نصیب ترین انسانوں میں شمار کرتی ہوںکہ جو چاہا مجھے ملا۔

س: انڈین فلم کرنے کا کوئی ارادہ ہے؟

ج: بالکل ہے! لیکن میں نے کبھی انڈین ڈایریکٹرز کا تعاقب نہیں کیا جیسا کہ ہماری بیشتر ہیروئنز نے کیا۔ میں انڈیا جا کر ایکٹنگ میں کچھ ڈپلومے کرنا چاہتی ہوں اور میں یہ سوچ بھی رہی ہوں کہ وہاں داخلہ لے لوں اس کے بعد میں انڈین فلموں میں کام کے بارے میں سوچوں گی۔ جلد ہی میں انڈیا جانے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ کچھ شارٹ کورسس کے لیے۔ اس ے بعد یہ دیکھیں گے کہ وہاں سے آفرز کس قسم کی آتی ہیں کیونکہ کسی بھی بی یا سی گریڈ کے رول کے لیے ہاں نہیں کرسکتی۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری رپورٹ
انٹرنیشنل شخصیت
نقطہ نظر سروے
آرٹ سپورٹس
فیشن خواتین کارنر
ھالی ووڈ بالی ووڈ
انفوسائنس فلم ریویو
کارٹون ہفتہ رفتہ
ان باکس اشتہار
اداریہ اشتہار 1
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive