|
ناصرکاظمی
کی شاعری
کھٹکا
ہے جدائی کا نہ ملنے کی تمنا
دل
کو ہیں مرے وہم و گماں اور طرح کے
مرتا
نہیں اب کوئی کسی کے لیے ناصر
تھے
اپنے زمانے کے جواں اور طرح کے
٭٭٭٭
نہ
پوچھو کس خرابے میں پڑے ہیں
تہہِ
ابرِ رواں پیاسے کھڑے ہیں
ذرا
گھر سے نکل کر دیکھ ناصر
چمن
میں کس قدر پتے جھڑے ہیں
٭٭٭٭
یاد
آتا ہے روز و شب کوئی
ہم
سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
لبِ
جُو چھاﺅں میں درختوں کی
وہ
ملاقات تھی عجب کوئی
جب
تجھے پہلی بار دیکھا تھا
وہ
بھی تھا موسمِ طرب کوئی
کچھ
خبر لے کہ تیری محفل سے
دور
بیٹھا ہے جاں بہ لب کوئی
نہ
غمِ زندگی نہ دردِ فراق
دل
میں یونہی سی ہے طلب کوئی
یاد
آتی ہیں دور کی باتیں
پیار
سے دیکھتا ہے جب کوئی
چوٹ
کھائی ہے بارہا، لیکن
آج
تو درد ہے عجب کوئی
جن
کو مٹنا تھا مٹ چکے ناصر
ان
کو رسوا کرے نہ اب کوئی
٭٭٭٭
انتخاب
از برگِ نے
ہوتی
ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم
ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے
دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب
ملتی
ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کھبی
تیرے
کرم سے اے الم حُسن آفریں
دل
بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوشِ
جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
اشکوں
میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی
تیرے
قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری
ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
کچھ
اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا
یوں
بھی گزر گئی شبِ فرقت کبھی کبھی
اے
دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس
کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
٭٭٭٭
وہ
ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے؟
وہ
کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے؟
وہ
صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو
قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے؟
میں
ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ
روشنی دکھانے والے کیا ہوئے؟
یہ
کون لوگ ہیں مرے اِدھر اُدھر
وہ
دوستی نبھانے والے کیا ہوئے؟
وہ
دل میں کھُبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں؟
وہ
ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے؟
عمارتیں
تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں
بنانے والے کیا ہوئے؟
اکیلے
گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا
دیا جلانے والے کیا ہوئے؟
یہ
آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں
کا بوجھ اُٹھانے والے کیا ہوئے؟
٭٭٭٭
وہ
دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا
علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ
رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
مرے
لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
ترے
جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
مرے
مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی
کبھی جو ترے کُرب میں گزارے ہیں
اب
ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں
گزر
رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
سحر
کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
مجھے
یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
بہت
دنوں سے طبیعت مری اُداس نہیں
٭٭٭٭
ناصر
کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دیوانہ
ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
کل
جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا
روکھی
سوکھی جو مل جائے، شکر کرو تو بہتر ہے
کل
یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو جائے گا
لہو
نام
خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے
کیا
جانے کیا رُت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک
نہیں
اب
کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر
ہے
کپڑے
بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے
رات
بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے
|