|
چلی
میں زلزلے اور سونامی کی تباہ کاریاں
ریاض
حسین بحرالکاہل
کے ساحل پر واقع لاطینی امریکا کے ملک چلی
کے وسطی اور جنوبی علاقے شدید زلزلے اور
سونامی کی زد میں آئے ہیں۔ اس قدرتی آفت
کے نتیجے میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں
کی تعداد تادم تحریر 723
بتائی
گئی ہے جن میں اضافے کا خدشہ ہے۔ زلزلے کے
بعد اب تک 90
آفٹر
شاکس ریکارڈ کیے گئےہیں۔ بحرالکاہل کے53
ممالک
نے سونامی کی وارننگ جاری کی جو بعدازاں
واپس لے لی گئی۔
یہ
زلزلہ 27
فروری
صبح 6
بج
کر 34
منٹ
پر آیا جس کی شدّت ریکٹر سکیل پر 8.8
تھی۔
اس کا مرکز چلی کے کنسیپ سیوں نامی شہر سے
90
کلو
میٹر جبکہ دارالحکومت سین تیاگو سے 325
کلو
میٹر دور جنوب مغرب میں سطح زمین میں 69
میل
گہرا تھا۔ زلزلے سے 5لاکھ
گھر تباہ ہو گئے جبکہ 20
لاکھ
افرد اس زلزلے اور سونامی سے براہ راست
متاثر ہوئے۔ تباہ ہونے والی زیادہ تر
عمارتیں قدیم طرز کی بتائی جاتی ہیں۔
زلزلے سے کئی علاقوں میں پُل اور سڑکیں
ٹوٹ گئیں۔ سین تیاگو اورکنسیپ سیوں میں
مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا اور
بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ جیل کے منہدم
ہو جانے سے قیدیوں کے فرار ہوجانے کی
اطلاعات بھی ہیں۔ یاد رہے چلی میں 1960ء
میں بھی9.5
کی
شدت کا زلزلہ آچکا ہے۔
اگر
ہم اپنے نقطہ نظر سے دیکھیں توچلی میں آنے
والے زلزلے کی شدت کے مقابلے میں نقصان
بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر8
اکتوبر
2005ءکو
مظفر آباد اور پاکستان کے شمالی علاقوں
میں آنے والا زلزلہ 7.6
ریکٹر
سکیل کی شدت سے آیا تھا اور اس میں70
ہزار
سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ چلی میں کم
نقصان کی وجہ بلڈنگ کوڈزیا بلڈنگ کنٹرول
پر عمل کے علاوہ چلی کا قدرتی آفات سے
نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہے۔ بلڈنگ کوڈ
ماہرین تعمیرات اور انجینئر کا لاگو کردہ
اصول وضوابط کا ایسا مجموعہ ہے جس کا اطلاق
عمارتوں اور غیر عمارتی ڈھانچوں پر کیا
جاتا ہے تاکہ صحت عامہ یا مفادعامہ کو
یقینی بنایا جاسکے۔
زلزلے
سے پیدا ہونے والی سونامی سے ساحلی دیہات
اور قصبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ماہی گیروں
کی درجنوں کشتیاں زور دار سمندری لہروں
سے ساحل پر ریت تلے دب گئیں یا قریبی دیہات
کی گلیوں میں آکر اٹک گئیں۔ سرکاری ٹی وی
کے مطابق زلزلے اور سونامی سے ہلاک ہونے
والے350
افراد
کی لاشیں ساحل کے قریب واقع کانسٹی ٹیوسیوں
نامی محض ایک گاؤں سے ملی
ہیں۔ چلی کے وزیردفاع کا کہنا ہے کہ نیوی
نے بروقت سونامی انتباہ جاری نہ کر کے
غلطی کی ہے۔ اگر زلزلے سے فوری بعد اطلاع
مل جاتی تو ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو
جلد کسی بلند جگہ پر پہنچایا جا سکتا تھا۔
ماہرین
کے مطابق چلی بحرالکاہل کے اس مقام پر
واقع ہے جسے ’آگ کا دائرہ‘ کہا جاتا ہے۔
اس لیے اسے ہمیشہ زلزلے کا خطرہ رہتا ہے
کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں بحرالکاہل اور
جنوبی امریکا کی پلیٹیں ملتی ہیں۔
کنسیپ
سیوں میں جہاں ذرائع مواصلات درہم برہم
ہوئے، پانی کی سپلائی کٹ گئی اور اشیائے
خورد و نوش کی قلت پیدا ہوگئی وہیں امن
وامان کی صورت حال بھی انتہائی ناقص دکھائی
دی۔ چنانچہ چلی کی صدر میچل بیچلے نے اس
خطے میں 13
ہزار
فوجی اہلکار روانہ کیے ہیں۔ انہوں نے دو
صوبوں میں کرفیو بھی نافذ کردیا۔ فوج
بھیجنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ متاثرہ
علاقوں میں سُپر سٹوروں پر لوٹ مار کے
واقعات ہونا شروع ہوگئے تھے۔ لوٹ مار کرنے
والے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا
جاچکا ہے۔
صدر
میچل بیچلے نے 2
مارچ
کی صبح نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ لٹیروں
کی لوٹ مار برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں
نے ایسے لوگوں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ
قانون کو حرکت میں لانے کے عزم کا اظہار
کیا ہے۔ ان کے یہ ریمارکس فوجی اہلکاروں
کی موجودگی میں سٹوروں پر لوٹ مار کے
واقعات کی خبروں کے بعد آئے ہیں۔ انہوں
نے مزید بتایا ہے کہ حکومت نے ملک کی بڑی
سپر مارکیٹوں کے مالکان سے ایک معاہدہ
کیا ہے جس کے تحت وہ زلزلے سے متاثرہ لوگوں
کو مارکیٹوں میں موجود بنیادی اشیائے
خورد و نوش فراہم کریں گے۔
چلی
کے اس زلزلے میں ہونے والے نقصان کا
تخمینہ25
سے30
بلین
امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ ازسر نو تعمیرات
اور بحالی نوکے لیے چلی کی صدر نے عالمی
امداد کی اپیل کی ہے۔ امداد طلب کرنے کا
فیصلہ انہوں نے اپنے مشیروں سے طویل اجلاس
کے بعد کیا ورنہ زلزلے کے اگلے روز انہوں
نے بیان دیا تھا کہ ”ہم عام طور پر امداد
کی استدعا نہیں کرتے“۔ ان کی اپیل پر
یورپی یونین نے4
ملین
ڈالر ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔ جاپان
نے کہا ہے کہ وہ 3
ملین
ڈالر کی امداد کے علاوہ خیمے، جنریٹر،
واٹرکلینرز ودیگر ضروری سامان بھیجے گا۔
اس طرح چین نے 1
ملین
ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ امریکا نے
بڑے امدادی پیکیج کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی
وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے سین تیاگو کا
مختصر دورہ کیا ہے اور ساتھ ہی ابتدائی
طور پر 25
سیٹلائٹ
فونز کی امداد دی ہے جو کہ مذکورہ امدادی
پیکیج کا حصہ ہے۔ان کے علاوہ قریبی ملک
ارجنٹائن نے فیلڈ ہسپتال سے لیس6
ائیرکرافٹ،55
ڈاکٹر
اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بھیجنے کا اعلان
کر دیا ہے۔ برازیل ایک فیلڈ ہسپتال اور
ریسکیو ٹیمیں بھیج رہا ہے۔
اس
قدر تباہی کے باوجود یکم مارچ کو رات گئے
تک سین تیاگو شہر کے 90
فیصد
علاقے کو بجلی اور پانی کی فراہمی بحال
کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور بہت سے شہری
اپنے موبائل فون اور دوسرے مواصلاتی
رابطوں کو استعمال کرنے کے قابل ہو چکے
ہیں۔ شہر کے 90
فیصد
سٹور بھی دوبارہ کھل چکے ہیں۔ملک کے نامزد
صدر سباسچین پنیرا جو 11
مارچ
کو صدارت کا حلف اٹھارہے ہیں، بھی امدادی
کاموں میں حکومت سے تعاون کررہے ہیں۔
اُنہوں نے ’اَپ وِد چلی‘ کے نام سے بحالی
نو کے لیے ایک منصوبے کا اعلان بھی کیا
ہے۔
چلی۔
مختصر تعارف
جمہوریہ
چلی تقریباً چھ ہزار کلومیٹر طویل تنگ
ساحلی پٹی پر مشتمل لاطینی امریکا کا ملک
ہے۔ اس کے مشرق میں ارجنٹائن، مغرب میں
بحر الکاہل اور شمال میں پیرو واقع ہے
جبکہ شمال مشرق میں اس کی سرحد بولیویا
سے ملتی ہے۔ چلی کا مشرقی خطہ پہاڑیوں کے
سلسلے پر مشتمل ہے، شمالی علاقہ خشک ترین
صحرا ہے جہاں معدنی دولت خاص طور پر تانبے
کے ذخائر ہیں، چلی کا وسطی علاقہ زیادہ
گنجان آباد ہے، جہاں زمین زرخیز ہے اور
کاشتکاری بھی ہوتی ہے۔ یہ علاقہ چلی کی
ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی
ہے۔ جنوبی چلی میں جنگلات، چراگاہیں، آتش
فشاں پہاڑ اور جھیلیں واقع ہیں۔ چلی کی
85
فیصد
آبادی شہروں میں بستی ہے۔
چلی
کا دارالحکومت سین تیاگو ہے۔ ملک کی کل
آبادی کا 90
فیصد
’گریٹر سین تیاگو‘ میں رہائش پذیر ہے۔
سرکاری زبان ہسپانوی ہے مگر جرمن، انگریزی
اور بعض خطوں میں مقامی بولیاں بھی بولی
جاتی ہیں۔ چلی نے 1918ءمیں
سپین سے آزادی حاصل کی جبکہ اسے 25
اپریل
1944ء
کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ اس وقت اس
کی آبادی 1
کروڑ
70
لاکھ
سے زائد بتائی جاتی ہے۔ چلی کی 30
فیصد
آبادی سفید فاموں پر مشتمل ہے اور یہ
ہسپانوی کولونیل دور میں ہسپانوی آباد
کاروں کی وجہ سے ہے۔ اکثریت عیسائیت کی
پیروکار ہے۔
چلی
کو جنوبی امریکا کی نہایت مستحکم اور
خوشحال قوموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ
جنوبی امریکا کا پہلا ملک ہے جسے دسمبر
2009ء
میں تنظیم برائے معاشی تعاون و ترقی (او
ای سی ڈی)
میں
شمولیت کی باضابطہ دعوت دی گئی۔ چلی اقوام
متحدہ اور یونین آف جنوبی امریکی اقوام
کے بانیوں میں سے ہے اور معاشی اعتبار سے
ترقی پذیر ہے۔ جاندار معاشی پالیسیوں کی
وجہ سے 80ءکے
عشرے سے اب تک غربت کی شرح میں نمایاں کمی
ہوئی ہے۔ چلی نے یورپی یونین، جنوبی کوریا،
نیوزی لینڈ، سنگا پور، برونائی، چین اور
جاپان سے آزاد تجارت کے معاہدے کر رکھے
ہیں۔
چلی
ادیبوں اور شاعروں کے لیے بھی نہایت زرخیز
زمین ہے۔ چلی کے باشندے خود اپنے ملک کو
’شاعروں کا ملک‘ قرار دیتے ہیں۔ 1945ء
میں گیبریلا مسترال جبکہ 1971ءمیں
پابلو نروادا کو ادب کا نوبل انعام مل چکا
ہے۔
دنیا
کے بڑے زلزلے جو سونامی کا باعث بنے
٭2004ء:
26 دسمبر
2004ء
کو بحر ہند کی تہہ میں 9.2
ریکٹر
سکیل کا زلزلہ آیا جو شدید سونامی پر منتج
ہوا۔ سمندر سے اُٹھنے والی لہروں نے چند
ہی گھنٹوں میں انڈونیشیا، بھارت، سری
لنکا، تھائی لینڈ اور کئی دوسرے ممالک کے
ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
بعض جگہوں پر سمندری لہریں 49
فٹ
بلند تھیں۔ اس سونامی سے 3
لاکھ
10
ہزار
سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جس میں ایک تہائی
تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔
٭1960ء:
22 مئی
1960ء
کو چلی کے جنوب وسطی علاقے میں ریکٹر سکیل
پر 9.5
شدت
کا زلزلہ آیا۔ اس کے بعد 30
فٹ
بلند سونامی آئی۔ کہا جاتا ہے کہ زلزلہ
سے علاقے میں ہر تیسرا گھر تباہ ہو گیا
جبکہ تین ہزار سے زائد انسانی جانوں کا
زیاںہوا۔ یہ سونامی جاپان تک پہنچی اور
122
جاپانیوں
کی ہلاکت ہوئی۔ اس واقعہ میں زلزلہ کی
نسبت سونامی سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
٭1908ء:
28 دسمبر
1908ء
کو اٹلی کے شہر میسینا میں 7.2
کی
شدت کا زلزلہ آیا۔ 30
سیکنڈ
تک جاری رہنے والے اس زلزلے نے متعدد
عمارتوں کو ملیا میٹ کر دیا۔ کچھ ہی دیر
بعد سونامی آئی۔ اس میں ڈیڑھ لاکھ کی آبادی
والے شہر میسینا کے علاوہ قریبی شہر ریگیو
دی کیلیبریا مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
بتایا جاتا ہے کہ زلزلے اور سونامی دونوں
آفات میں تقریباً 1
لاکھ
افراد ہلاک ہوئے۔
٭1883ء:
27 اگست
1883ء
کو انڈونیشیا میں آنے والی یہ سونامی لاوا
پھٹنے کی وجہ سے سات مربع کلومیٹر کے ایک
جزیرے کے تباہ ہونے کے بعد پیدا ہوئی ۔ اس
سونامی نے انڈونیشیا کے سماٹرا اور جاوا
کی ساحلی پٹیوں کو شدید متاثر کیا۔ کچھ
لہریں 140
فٹ
تک بلند تھیں۔ اس میں 165
دیہات
تباہ ہو گئے جبکہ 36,000
سے
زائد اموات ہوئیں۔
٭1755ء:
یکم
نومبر کو پرتگال کے شہر لزبن میں ریکٹر
سکیل کے مطابق 9
شدت
کا زلزلہ آیا۔ اس کا مرکز کیپ سینٹ ونسٹ
کے جنوب مغرب میں بحراوقیانوس میں تھا۔
زلزلے کے تین جھٹکے محسوس کیے گئے جن کا
مجموعی دورانیہ دس منٹ تھا۔ اس سے بعض
جگہوں سے زمین میں 16
فٹ
تک چوڑے شگاف پڑ گئے۔ زلزلے کے 30
منٹ
بعد آنے والی تباہ کن سونامی پُرتگال کے
ساحل سے ٹکرا گئی۔ اس کے بعد دو مزید سونامی
آئے۔ بعض جگہوں پر سمندری لہروں کی بلندی
98
فٹ
تک تھی۔ لزبن میں 85
فیصد
عمارات تباہ ہو گئیں جبکہ ایک لاکھ سے
زائد افراد لقمۂ اجل بن
گئے۔
|