22/01/2010
 
 
   
 
 
  زلزلہ: قدرتی یا مصنوعی
 

زلزلہ: قدرتی یا مصنوعی

ذیشان علی

رواں سال جنوری کے وسط میں ہیٹی میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ لاکھوں افراد کی امداد اور بحالی کے حوالے سے سرگرمیاں جاری تھیں کہ 27فروری کو لاطینی امریکا کے ملک چلی میں 8.8کی شدت کے زلزلے نے اس ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ زلزلے کا مرکز چلی کے دارالحکومت سین تیاگو سے کوئی 25 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں زمین کی سطح سے تقریباً انسٹھ کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے سین تیاگو اور دوسرے بڑے شہر کنسیپ سیوں میں دس سے تیس سیکنڈ تک محسوس ہوتے رہے۔اس زلزلے کی شدت اگرچہ شدید تھی لیکن اس کے مرکز کی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے جانی نقصان کم ہوا تاہم چلی کے دونوں بڑے شہروں میں ہزاروں عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ آخری اطلاعات کے مطابق زلزلے میں اب تک سات سو آٹھ افراد ہلاک جبکہ بیس لاکھ کے قریب بے گھر ہوئے ہیں۔ چلی کی صدر میچل بیچلے نے اگرچہ زلزلے میں بے پناہ تباہی کا دعویٰ کیا ہے تاہم انھوں نے زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کسی عالمی اپیل سے گریز کیا ہے اور ملکی وسائل ہی کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔

چلی میں آنے والے زلزلے کا مرکز سمندر کے نیچے تھا جس سے سمندر میں شدید تلاطم پیدا ہونے کا خدشہ تھا جس کی وجہ سے بحرالکاہل کے 53ممالک نے سونامی کی وارننگ جاری کر دی اور مختلف ممالک میں سمندر کے کنارے آباد شہروں کے لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ سونامی کی وجہ سے تقریباً چھ سے دس فٹ بلند سمندری لہریں پیدا ہوئیں اور جاپان سمیت مختلف ممالک کے ساحلوں سے ٹکرائیں تاہم کم شدت کی وجہ سے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔ چلی میں آخری اطلاعات تک غذائی اشیاء کی قلت کی وجہ سے دارالحکومت سین تیاگو کے بعد دوسرے بڑے شہر کنسیپ سیوں میں لوٹ مار کے واقعات کے بعد فوج طلب کر لی گئی اور شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تاہم شہر میں حالات قابو میں بتائے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے پہلے 22 مئی 1960ء میں چلی میں ہی 9.5کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 1655 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس زلزلے کی وجہ سے بھی سونامی کی لہریں پیدا ہوئی تھیں جو جاپان اور امریکی شہر ہوائی تک پہنچی تھیں۔

گزشتہ سات برس کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں پانچ بڑے شدید زلزلے آ چکے ہیں جن میں لاکھوں افراد ہلاک اور اس سے کئی گنا زیادہ بے گھر ہوئے۔ زلزلے کا آنا ایک قدرتی عمل سمجھا جاتا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے بین الاقوامی میڈیا پر آنے والی رپورٹس میں مفروضہ پیش کیا گیا ہے کہ زلزلہ صرف قدرتی عمل ہی کے ذریعے نہیں بلکہ مصنوعی طریقے سے بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔

ہیٹی میں رواں سال جنوری کے وسط میں آنے والا زلزلہ جس میں سرکاری اندازے کے مطابق دو لاکھ تیس ہزار ہلاکتیں ہوئیں اس کے بعد مصنوعی طریقے سے زلزلہ پیدا کرنے کے بارے میں خبریں نہ صرف دوبارہ بین الاقوامی میڈیا پر شائع ہوئیں بلکہ ہیٹی کے زلزلہ کا سبب بھی امریکی نیوی کی جانب سے زلزلہ پیدا کرنے کے تناظر میں کیے جانے والے ایک تجربے کو قرار دیا گیا۔ روس کی نیوی کے شمالی بیڑے کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کریبین کے سمندر میں 2008ءمیں امریکا کی شمالی کمانڈ کے بیڑے کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ روس کے وزیراعظم کو پیش کردہ اس رپورٹ کے مطابق کریبین کے سمندر میں امریکا نے ایران کے خلاف ایک زلزلہ پیدا کرنے والے ہتھیار کا تجزبہ کیا لیکن چند تکنیکی وجوہ کی بنا اس تجربے سے پیدا ہونے والے زلزلے کی لپیٹ میں ہیٹی آ گیا۔ روسی بحریہ کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق مصنوعی طریقے سے زلزلہ پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی کئی دہائیوں سے موجود ہے اور خود روس نے ستمبر 1978ء میں دس میگا ٹن طاقت کے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شاک ویویز( زیر زمین ارتعاش) کا رخ ایران کی جانب موڑ دیا تھا جس کی وجہ سے وہاں 7.4کی شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس وقت ایران میں امریکا نواز حکومت تھی اور وہاں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا امریکا کے بعد دنیا کا سب سے بڑا دفتر تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکا نے 1970ء سے مصنوعی زلزلہ پیدا کرنے والے ہتھیاروں پر کام شروع کیاہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ان میں مہارت حاصل کرتے ہوئے” ٹیلسا الیکٹرانک ایکڑومیگنٹ پیلس، پلازما اینڈ سونک ٹیکنالوجی“ سمیت شاک ویو ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ 2002ء میں افغانستان میں آنے والے 7.2شدت کے زلزلے کے حوالے سے روس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اوپر دی گئی صلاحیت کے ذریعے ہی مصنوعی زلزلہ پیدا کیا۔اس رپورٹ کے مطابق امریکا نے 1995ءمیں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے چھ اعشاریہ آٹھ شدت کا مصنوعی زلزلہ پیدا کیا تھا جس کی وجہ سے جاپان کا شہر کوبے شدید متاثر ہوا تھا۔ لیکن اس تجربے کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان میں ایک مسلک ’اوم شینکیو‘ کے بانی نے نو دن پہلے ہی اس تجربے کی پیش گوئی کر دی تھی لیکن زلزلے کے کچھ عرصے بعد جاپان میں نہ صرف ان کو پھانسی دے دی گئی بلکہ زیرزمین ریلوے سٹیشن پر مبینہ طور پر زہریلی گیس کے ایک واقعے میں ان کے گیارہ عقیدت مند بھی ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق اس مسلک کے بانی سے ملنے والی معلومات سے ظاہر ہوا کہ ان کے کچھ عقیدت مند امریکا کے اداروں سے مصنوعی زلزلہ اور اس تناظر میں تجویز کردہ تجربوں کے حوالے سے خفیہ معلومات چرانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ 1915ءسے 1935ءتک امریکا کی کالونی رہنے والے ملک ہیٹی میں رواں سال زلزلہ آنے کے بعد سب سے پہلے امریکی فوجی ہی پہنچے تھے اور وہاں ائیر پورٹ سے لیکر تقریباً تمام تر امدادی کاموں کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ ہیٹی میں زلزلے کے بعد غیر معمولی مداخلت پر فرانس سمیت چند دیگر اہم ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا نے ہیٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض اطلاعات کے مطابق ہیٹی میں امریکی فوج کی کمانڈ کرنے والے جنرل پی کے کیئن کو چند دن پہلے ہی علاقے میں موجود امریکی بحریہ کے بیڑے پر بھیجا گیا تھا۔

کیا مصنوعی زلزلہ پیدا کرنے کے صرف مفروضے ہیں یا ان میں واقعتاکچھ حقیقت بھی ہے اس تناظر میں محکمہ موسمیات کراچی میں نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض نے ہم شہری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں مصنوعی طریقے سے زلزلہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے کافی عرصے سے کام جاری تھا اور آج جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے تو بڑے سائنسدانوں کے لیے مصنوعی زلزلہ پیدا کرنا ممکن ہے تاہم انھوں نے ہیٹی کے زلزلے کے مصنوعی یا قدرتی ہونے کے حوالے سے کچھ بتانے سے گریز کیا۔محمد ریاض کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے اب بھی انتہائی کم شدت کے زلزلے پیدا ہوتے ہیں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی خاص ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی زلزلہ پیدا کرنا سائنسدانوں کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مصنوعی طریقے سے کتنی شدت کا زلزلہ پیدا کیا جا سکتا ہے اس کے بارے میں تاحال کچھ نہیں بتایا جا سکتا ہے۔تاہم زلزلے کی سائنس کے ایک اور ماہر اور پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر قیصر نے اس مفروضے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی طریقے سے زلزلہ پیدا کرنے کے لیے زمین کی سطح سے کوئی پچاس کلومیٹر گہرائی تک کھدائی کرنا پڑتی ہے جہاں زلزلے کا سبب بننے والی چٹانیں موجود ہوتی ہیں اور ابھی تک سائنس دانوں نے اتنی گہرائی تک کھدائی کرنے میں مہارت حاصل نہیں کی ہے۔ڈاکٹر قیصر کے مطابق گزشتہ چندبرس سے بڑے زلزلوں کی تعداد میں اضافہ ایک قدرتی عمل ہے کیونکہ جن خطوں میں زلزلے کا سبب بننے والی چٹانیں متحرک ہوتی ہیں وہاں ایک لمبے عرصے کے بعد لازمی ایک بڑا زلزلہ آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں زلزلے سے نمٹنے کے لیے مثر انتظامات کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے کیونکہ یہاں متعدد ایسے علاقے ہیں جہاں کسی وقت بھی بڑے زلزلے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں 2005ءمیں آنے والے زلزلے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا ہے لیکن ابھی تک اس ادارے کی افادیت صرف وفاقی دارالحکومت ہی میں نظر آتی ہے جہاں اس حوالے سے جدید آلات وغیرہ خریدے گئے ہیں لیکن دوسرے بڑے شہروں میں تقریباً صورتحال جوں کی توں ہی ہے۔ ڈاکٹر قیصر کے مطابق اس وقت کشمیر سمیت ملک کے بالائی علاقوں اور بلوچستان کو زلزلے کے حوالے سے انتہائی حساس درجے میں رکھا گیا ہے جہاں کسی بڑے زلزلے کے آنے کے امکانات موجود ہیں لیکن اگر صرف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی مثال لی جائے تو وہاں نہ صرف عمارتوں کے ڈیزائن ( بلڈنگ بائی لائز) کا خیال نہیں رکھا جا رہا بلکہ زلزلے کی وجہ سے آنے والی تباہی سے نمٹنے کے ضروری آلات تک موجود نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو دوسرے درجے کی درجہ بندی میں رکھا گیا ہے جہاں کسی بھی وقت درمیانے درجے کے زلزلے کا امکان موجود رہتا ہے لیکن وہاں بغیر کسی منصوبہ بندی کے بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے بلکہ ضروری حفاظتی انتظامات کا خیال بھی نہیں رکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر قیصر کے مطابق زلزلے کے بعد منہدم ہونے والی عمارتوں کی تعمیر کی زیادہ ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے جو پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی مشکل اور نا ممکن کام ہے۔ اس کی مثال 2005ء میں آنے والے زلزلے کی ہے جس کے بعد دوسرے ممالک سے امداد اور قرض لے کر متاثرہ آبادیوں کو دوبارہ بحال کیا گیا لیکن اگر کراچی جیسے بڑے شہر میں کوئی قدرتی تباہی رونما ہوتی ہے تو اس صورت میں حکومت کے لیے ایک انتہائی مشکل کام ہو گا۔ڈاکٹر قیصر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ تعمیرات کی مثر منصوبہ بندی کر سکے تو کم از کم نجی شعبے کو اتنی مراعات دے کہ اگر کوئی بلڈر کثیر منزلہ عمارت تعمیر کر رہا ہے تو اس کو ٹیکس وغیرہ میں چھوٹ دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ زلزلے سے محفوظ ایک مضبوط عمارت تعمیر کرے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں ضرورت اس بات کی ہے حکومت سنجیدگی کے ساتھ زلزلے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرے اور کم از کم ضلع کی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی جیسے ادارے کو منصوبے کے مطابق وسعت دے تاکہ کسی بھی سانحے کی صورت میں جانی نقصان کو کم رکھا جا سکے۔ڈاکٹر قیصر کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ایک لمبی مدت کا منصوبہ ہو سکتا ہے لیکن خاص طور پر پاکستان بھر میں ان شہروں میں ہنگامی طور پر تعمیرات کے مطلوبہ معیار پر سختی سے عمل کروایا جا سکتا ہے جہاں بڑے زلزلوں کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔

گزشتہ سات برسوںکے دوران آنے والے چند بڑے زلزلوں کی تفصیلات

2003ء میں ایران کے شہر بام میں آنے والے زلزلے میں کم از کم چالیس ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

دسمبر 2004ء میں انڈونیشیا کے علاقے سماٹرا میں نو 9.3شدت کے شدید زلزلے اور بعد میں آنے والے سونامی میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ چھیاسی ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ سونامی کی وجہ سے انڈونشیا، تھائی لینڈ، ملائشیا سمیت چودہ ممالک متاثر ہوئے لیکن سب سے زیادہ جانی نقصان سماٹرا، بھارت اور سری لنکا میں ہوا۔ اس زلزلے کی وجہ سے تاحال چالیس ہزار افراد لاپتہ اور ہزاروں بے گھر ہیں۔

آٹھ اکتوبر 2005ء کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں آنے والے زلزلے میں حکومت کے مطابق چھیاسی ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ اس زلزلے کی وجہ سے تقریباً تیس ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں تمام ضروری ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا۔ متاثرہ علاقوں میں ابھی تک بحالی کا کام جاری ہے اور وقفے وقفے سے اس زلزلے میں لاپتہ ہونے والے ہزاروں افراد میں سے بعض کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ستائیس مئی 2006ءکو انڈونیشیا کے جزیرے مرکزی جاوا کے جنوبی ساحل پر 6.2 شدت کے زلزلے میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک اور انتیس سو افراد شدید زخمی جبکہ تقریباً دو لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔

مئی دو ہزار آٹھ میں چین کے صوبے سیچوان میں آنے والے زلزلے میں انہتر ہزار افراد ہلاک اور اٹھارہ ہزار لاپتہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ زلزلے کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔ اس سال اکتوبر میں پاکستان کے صوبے بلوچستان میں 6.2 شدت کے زلزلے میں اڑھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے لیکن ایک وسیع علاقے میں تباہی پھیلی اور ہزاروں گھر منہدم ہو گئے۔

جنوری 2010ءہیٹی میں ریکٹر سکیل پر سات کی شدت سے آنے والے زلزلے سے غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق دو لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک اور پندرہ لاکھ کے قریب گھر بار چھوڑے پر مجبور ہوئے۔ ہیٹی میں ابھی تک امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبہ ہٹاکر وہاں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔

27فروری 2007ءمیں لاطینی امریکا کے ملک چلی میں 8.8 شدت سے آنے والے زلزلے میں کم از کم سات سو افراد ہلاک اور بیس لاکھ بے گھر ہو گئے ہیں۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری رپورٹ
انٹرنیشنل شخصیت
نقطہ نظر سروے
آرٹ سپورٹس
فیشن خواتین کارنر
ھالی ووڈ بالی ووڈ
انفوسائنس فلم ریویو
کارٹون ہفتہ رفتہ
ان باکس اشتہار
اداریہ اشتہار 1
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive