|
کاٹن
دھاگے کا بر آمدی کوٹہ کم کر دیا گیا
عالمی
منڈی میں طلب بڑھ گئی، مقامی گارمنٹس
انڈسٹری بحران کا شکار
وقاص
عظیم
وزارت
ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ہدایات کے مطابق
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی
ڈی اے پی)
نے
مقامی گارمنٹس صنعت کو خام مال کی فراہمی
یقینی بنانے کے لیے جنوری سے جون تک کاٹن
کے دھاگے کے مقررہ برآمدی کوٹہ 50000
ٹن
ماہانہ میں سے 15000
ہزار
ٹن کمی کر دی ہے۔ کاٹن کے دھاگے سے ہوزری،
فیبرکس اور دیگر گارمنٹس تیار کرنے والے
مل مالکان کے مطابق عالمی منڈی میں کاٹن
دھاگے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مقامی
مل مالکان نے بھی اس کی قیمتوں میں اضافہ
کر دیا اور اس کی عدم دستیابی بھی پیدا کر
دی گئی۔ پاکستانی دھاگہ سازوں نے حکومت
کے اس فیصلے کو سپننگ سیکٹر کی معاشی تباہی
کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے
کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے بجلی
اور گیس کے لوڈشیڈنگ کے بحران میں اپنے
پاﺅں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرنے والا
سپننگ سیکٹر ایک مرتبہ پھر مفلوج ہو جائے
گا۔ علاوہ ازیں اس فیصلے سے حکومت کو ہر
ماہ ہونے والے کروڑوں روپے کے برآمدی
زرمبادلہ میں کمی ہو گی۔
وزارت
ٹیکسٹائل کی کابینہ کمیٹی نے جنوری میں
مقامی مارکیٹ میں کاٹن کے دھاگے کی صورت
حال کا جائزہ لیا اور کاٹن کے دھاگے کی
برآمد اور اس کے رجحانات کو مدنظر رکھتے
ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ رواں سیزن کے دوران
کاٹن کے دھاگے کے لیے ”پہلے آئیے، پہلے
پائیے“ کی بنیاد پر ماہانہ کوٹہ مقرر کیا
جائے۔ دھاگے کا برآمدی کوٹہ 50000
ٹن
ماہانہ مقرر کیا گیا تھا تاہم یکم مارچ
سے اس کوٹے کو کم کر کے 35000
ٹن
کر دیا گیا ہے۔ کابینہ کمیٹی نے یہ بھی
فیصلہ کیا تھا کہ کاٹن دھاگے کی برآمد کو
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے مقرر
کردہ رجسٹریشن مراکز پر رجسٹرڈ کرایا
جائے گا۔ ٹی ڈی اے پی نے اس ضمن میں ملک
بھر میں 10
رجسٹریشن
مراکز قائم کر رکھے ہیں۔
خیال
رہے کہ سپننگ انڈسٹری پاکستان کی ٹیکسٹائل
انڈسٹری میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے
کیونکہ یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تمام ذیلی
شعبوں مثلاً ہوزری، بنیان، تولیے، ریڈی
میڈ گارمنٹس، فیبرکس اور دیگر گارمنٹس
کی تیاری کے لیے کاٹن کا دھاگہ خام مال کی
صورت میں فراہم کرتی ہے، جس سے یہ سیکٹر
اپنی ملبوسات کو تیار شدہ حالت میں مارکیٹ
تک پہنچاتا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران
عالمی منڈی میں کاٹن کے دھاگے کی قیمتوں
میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے
دھاگہ سازوں نے اسے ملک میں بیچنے کے بجائے
عالمی منڈی میں فروخت کردیا لیکن جب مقامی
صنعت میں اس کے بڑے پیمانے پر کمی کی خبریں
آئیں تو مختلف سیکٹرز نے سپننگ سیکٹر کے
اس طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے
اس کی برآمد پر پابندی عائد کرنے اور کوٹہ
مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
صوبہ
پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن
(اپٹما)
نے
حکومت کی طرف سے کاٹن کے دھاگے کی برآمد
کے لیے مقرر کردہ کوٹے میں کمی کے فیصلے
کو عدالت میں چیلنج اور اس کے خلاف بھرپور
احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپٹما پنجاب
کے چیئرمین اعجاز گوہر نے دھاگے کی برآمد
پر لگائی جانے والی حکومتی پابندی کی مذمت
کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ٹیکسٹائل
انڈسٹری کو مزید نقصان پہنچے گا۔ ان کے
مطابق حکومت کی اس پابندی کی وجہ سے70
سپننگ
ملیں بند ہوچکی ہیں جبکہ 100
مزید
ملوں کو اپریل کے مہینے میں بند کردیا
جائے گا۔
اعجاز
گوہر نے ملک میں ماہ اپریل سے جون کے دوران
کاٹن کے دھاگے کے بحران کا امکان ظاہر
کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تین
ملین کپاس کی گانٹھوں کی کمی ہے۔ عالمی
مارکیٹ میں خام مال کی قیمتیں ریکارڈ سطح
پر پہنچ چکی ہیں، اس وجہ سے کوئی بھی مل
مالک اتنے مہنگے داموں کاٹن کا خام مال
درآمد کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ اعجاز
گوہر کے بقول وزارت ٹیکسٹائل نے یہ فیصلہ
برآمدی اعداد و شمار کا تجزیہ کیے بغیر
جلدی میں کیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ
ٹیکسٹائل سیکٹر کے تمام شعبوں میں گذشتہ
عرصے کے دوران ماہانہ بنیادوں پر اضافہ
ہوا ہے۔ اس عرصے کے دوران خام کاٹن کی
برآمد میں 31.27
فیصد
اور کاٹن کے دھاگے کی برآمد میں 19.18
فیصد
اضافہ ہوا ہے۔ کاٹن دھاگے کے علاوہ دیگر
دھاگوں کی برآمد میں 17.08
فیصد
اضافہ ہوا ہے۔ کاٹن کے کپڑوں کی برآمد میں
8.50،
بنیانوں کی برآمد میں 13.56،
بستر کی چادروں کی برآمد میں 10.66،
تولیے کی برآمد میں 61.63
اور
ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدمیں 25.25
فیصد
اضافہ ہوا ہے۔
کراچی
میں بھی سپنرز نے حکومت کے اس فیصلے کو
مسترد کردیا ہے۔ چیرمین اپٹما سندھ،
بلوچستان زون نے ایک پریس کانفرنس میں
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف
رضا گیلانی سے اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں
پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا
کہ وہ قومی اہمیت کے اس مسئلے کو وفاقی
کابینہ کے سامنے پیش کریں گے۔ ان کے مطابق
یہ مطالبہ گارمنٹس، ہوزری اور فیبرکس
مینوفیکچرز کا تھا جس کے بعد کاٹن کے دھاگے
کی برآمد کے لیے رجسٹریشن مراکز کھولے
گئے۔ مزید بر آں اسے لیٹر آف کریڈٹس کو
کھولنے سے منسلک کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے
کہ مارچ کے مہینہ کے لیے100
فیصد
برآمدی کوٹہ کی بکنگ کی جاچکی ہے جبکہ
چھوٹے برآمد کنندگان کو موقع ہی نہیں دیا
جا رہا۔
ٹریڈ
ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار بھی اس
امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ چھوٹے برآمد
کنندگان کو کاٹن کا دھاگہ برآمد کرنے کے
لیے مقررہ کوٹہ میں سے رجسٹریشن کا موقع
ہی نہیں مل رہا۔ ٹی ڈی اے پی کے اعداد و
شمار کے مطابق جون کے مہینے تک دھاگے کی
برآمد کا کوٹہ 50,000
ٹن
ماہانہ مقرر کیا گیا تھا تاہم اس کی
رجسٹریشن پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد
پر جاری ہے۔ حکومت نے اب مارچ سے کاٹن کے
دھاگے کی برآمد کا کوٹہ 50
کے
بجائے 35
ہزار
ٹن ماہانہ کر دیا ہے۔ مارچ کے کوٹے میں سے
صرف 1000
ٹن
کوٹہ باقی بچ چکا ہے جبکہ اپریل کا 20329
ٹن،
مئی کا 48102
اور
جون کے لیے 48754
برآمدی
کوٹہ باقی بچ رہا ہے۔ ٹی ڈی اے پی کے مطابق
بڑے بڑے برآمد کنندگان نے پہلے ہی بکنگ
شروع کرا رکھی ہے۔
چیئرمین
اپٹما انوار احمد ٹاٹا کے مطابق حکومت
کاٹن کے دھاگے کی پیداوار کے حوالے سے غلط
اعداد و شمار کی بنیاد پر برآمدی کوٹے کا
تقرر کر رہی ہے۔ ملک میں کاٹن کے دھاگے کی
کمی نہیں ہے کیونکہ گذشتہ تین چار مہینوں
کے دوران اس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے
اور اب اس کی ماہانہ پیداوار 245000
ٹن
تک جا پہنچی ہے جبکہ ملکی کھپت 110,000
ٹن
کے قریب ہے۔ ویونگ سیکٹر کی ضرورت 60000
ٹن
ماہانہ ہے۔ 50000
ٹن
برآمدی کوٹے کو نکال کر بھی 25000
ٹن
کاٹن کا دھاگہ اضافی ہے۔ اپٹما کے انوار
احمد کے مطابق کاٹن کے دھاگے کی برآمد کے
لیے کوٹہ مقرر کرنے اور اس پر پابندیاں
عائد کرنے کی وجہ سے سپنرز خام کاٹن درآمد
نہیں کر پائیں گے اور اس بات کا خدشہ ہے
کہ ملک میں اپریل کے بعد خام کاٹن اور
دھاگے کا بحران پیدا ہو جائے گا کیونکہ
ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پاس اس وقت صرف مارچ
کے مہینے کے لیے کپاس کا سٹاک باقی رہ گیا
ہے۔ انوار احمد ٹاٹا کا کہنا ہے کہ حکومت
ٹیکسٹائل انڈسٹری کے دیگر شعبوں ہوزری،
ریڈی میڈ گارمنٹس اور مختلف فیبرکس پر
ایک سے تین فیصد تک رعایت فراہم کر رہی ہے
جبکہ ان کی برآمد پر 7.5
فیصد
تک مارک اپ ریٹ کو کم کرنے کی سہولت بھی
فراہم کی جا رہی ہے لیکن سپننگ انڈسٹری
کو نہ تو نقصان کی صورت میں کسی قسم کی
رعایت دی جاتی ہے اور نہ ہی برآمد کی صورت
میں ان کے مارک اپ ریٹ کو کم کیا جاتا ہے۔
سپننگ
سیکٹر کے ذرائع گارمنٹس سیکٹر کی سابقہ
برآمدات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے
کہتے ہیں کہ وہ گذشتہ دس برس کے دوران
عالمی منڈی میں دیگر ممالک کی ملبوسات کا
مقابلہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ گذشتہ دس
برس کے دوران پاکستان سے ملبوسات کی برآمد
105
بلین
ڈالر سے بڑھ کر 3.5
بلین
ڈالر تک ہوئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں
ملبوسات کی برآمد میں پاکستان کا مقابلہ
کرنے والے بنگلہ دیش نے گذشتہ دس برس کے
دوران اپنی ملبوسات کی برآمد کو 1.5
بلین
ڈالر سے بڑھا کر 12.5
بلین
ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔
سابق
چیئرمین اپٹما پنجاب اکبر شیخ کا کہنا ہے
کہ دراصل گارمنٹس ہوزری اور فیبرکس سیکٹر
سپنرز پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا
ہے کیونکہ ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ
سپنرز نے اپنا دھاگہ اپنی مرضی سے باہر
بیچنا شروع کیا ہے، جو انہیں ہضم نہیں ہو
پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 50
فیصد
مقامی گارمنٹس انڈسٹری کی برآمدات اپٹما
کی ملوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور اپٹما
کاٹن کے دھاگے کی برآمد پر عائد کی جانے
والی پابندی کی بھرپور مخالفت کرتی ہے۔
اکبر شیخ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں دھاگے
کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے اس
کی درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی اس لیے ہوزری،
فیبرکس اور ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر کہیں
سے بھی دھاگے کو درآمد کر سکتا ہے۔
ریڈی
میڈ گارمنٹس ایسوسی ایشن کے رکن نصیر ملک
نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں کاٹن کے
دھاگے کی قیمتوں سے زیادہ اس کی دستیابی
کا مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ
میں اس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت نے شروع میں کاٹن کے دھاگے کی برآمد
پر پابندی نہیں لگائی جس کی وجہ سے اس کی
بڑی مقدار عالمی منڈی میں فروخت ہو گئی،
اب پابندی لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں بھی سو
پاؤنڈ کے تھیلے کی قیمت
11,000
ہزار
روپے ہے جبکہ پاکستان میں بھی اِسی نرخ
پر فروخت کیا جا رہا ہے لیکن اب پاکستان
میں اس کا ملنا مشکل ہو چکا ہے۔ نصیر ملک
کے مطابق اگر دھاگے کی برآمد سے پاکستان
کو زیادہ زرمبادلہ مل رہا ہے تو ہمیں یہ
بھی دیکھنا ہو گا کہ اِس سے نقصان کتنے
شعبوں کا ہوتا ہے۔ اُن کے مطابق سپننگ
سیکٹر سے صرف 10
فیصد
لوگوں کا روزگار وابستہ ہے لیکن اگر
ٹیکسٹائل انڈسٹری کے دیگر شعبوں کو کاٹن
کے دھاگے کی فراہمی روک دی جائے تو 90
فیصد
لوگوں کا روزگار بند ہو جائے گا اور مکمل
ٹیکسٹائل انڈسٹری مفلوج ہو کر رہ جائے
گی۔ انہوں نے بتایا کہ کاٹن کے دھاگے کی
کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت پاکستان
نے بھارت سے درآمد کرنے کا آرڈر دیا ہوا
ہے اور اس سلسلے میں دو بڑی کنسائنمنٹس
بہت جلد پاکستان پہنچ جائیں گی۔
پاکستان
ہوزری مینو فیکچرز ایسوسی ایشن کے سابق
صدر شہزاد اعظم خان کا کہنا ہے کہ کاٹن کے
دھاگے کا برآمدی کوٹہ 50
ملین
کلو گرام ماہانہ کرنے سے مقامی انڈسٹری
میں دھاگے کا بحران پیدا ہو چکا تھا اور
100
پاؤنڈز
تھیلے کی قیمت 6700
روپے
سے بڑھ کر 8700
روپے
تک پہنچ چکی تھی۔ علاوہ ازیں دھاگے کی
دستیابی بھی مشکل ہو چکی تھی۔ دھاگے کی
عدم دستیابی کی وجہ سے ہوزری انڈسٹری سے
وابستہ پانچ لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے
کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ حکومت ملکی ضروریات
کو پورا کرنے کے لیے مقامی صنعت کو کاٹن
کا دھاگہ فراہم کرنے کی کوشش کرے۔ کاٹن
کے دھاگے سے دیگر ملبوسات تیار کرنے والے
مالکان ملک میں خام مال کی عدم دستیابی
سے خاصی مشکلات کا شکار ہیں۔ ہوزری، فیبرکس
اور ریڈی میڈ گارمنٹس سمیت دیگر قیمتی
ملبوسات تیار کرنے والے افراد نے حکومت
سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اس نے دھاگے کی
فراہمی ان کی مقامی ضروریات کے مطابق
یقینی نہ بنائی تو وہ اپنی انڈسٹری غیر
ممالک منتقل کر دیں گے۔
معروف
معاشی ماہر مرز اختیار بیگ نے کہا کہ کاٹن
کے دھاگے کا برآمدی کوٹہ قومی ضروریات کو
پورا کرنے کے لیے کم کیا گیا ہے کیونکہ
اِس دفعہ سپنرز 20
فیصد
سے زیادہ کاٹن کے دھاگے کو برآمد کر چکے
ہیں جو کہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دفعہ کاٹن کی پیداوار
ملکی ضروریات سے کم ہوئی ہے اس لیے یہ
بحران سامنے آیا ہے لہٰذا جب تک کپاس کی
نئی فصل مارکیٹ میں نہیں آتی اسی طرح کے
حالات رہیں گے۔
|