|
انسانی
سمگلروں کا نیا طریقہ
طالب
علموں کوتعلیمی ویزہ اور وظائف دلوانے
کے بہانے لاکھوں روپے لوٹ لیے
منصور
مہدی
بہتر
مستقبل کی تلاش کے لیے بیرون ملک جانے کی
خواہش میں نوجوانوں کی بڑی تعداد انسانی
سمگلروں کے جال میں پھنس کر قیمتی جانوں
اور دولت سے محروم ہو چکی ہے۔ پاکستان میں
انسانی سمگلنگ کے غیر قانونی کاروبار کا
حجم کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔انسانی
سمگلر بیرون ملک جانے کے خواہش مند نوجوانوں
کو غیر قانونی طریقوں سے پر خطر زمینی اور
فضائی راستوں سے منزل تک پہنچاتے ہیں۔
قیدو بند، بھوک پیاس ، حبس بے جا اور ہر
موڑ پر ایجنٹوں کی بلیک میلنگ اس سفر کے
راہیوں کا مقدر ہوتی ہے جبکہ موت کے سائے
بھی ان پر منڈلاتے رہتے ہیں۔یہ غیر قانونی
کاروبار ملک کی بدنامی کا بھی سبب بن رہا
ہے۔ گوجرانوالہ انسانی سمگلنگ کا گڑھ ہے۔
وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف
ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے 80
فیصد
افراد کا تعلق اسی ڈویژن کے چھ اضلاع سے
ہے جبکہ ریڈ بک میں شامل 70
فیصد
انسانی سمگلر بھی گوجرانوالہ ڈویژن کے
ہیں۔ سرکاری محکمے بھی اس بااثر مافیا کے
خلاف بے بس ہو گئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا کہ
بے روزگاری، خراب معاشی حالات اور امن و
امان کی صورتحال انسانی سمگلنگ کا سبب
ہے۔
کچھ
دہائیاں پہلے تک جب ملک میں زیادہ مہنگائی
نہیں تھی تب صرف گھر کاسربراہ کام کرتا
تھا اور تمام گھر والے اس آمدن میں گزارا
کرتے تھے تواس وقت کوئی پاکستانی بیرون
ملک جانے کا نہیں سوچتا تھا کیونکہ اکثریت
کی سوچ یہ ہوا کرتی تھی کہ اپنے گھر میں
رہ کر آدھی روٹی اچھی ہے بجائے اس کے کہ
پردیس میں جاکر پوری روٹی کھائی جائے۔
مگر 1973ء
میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی
بھٹو کی دلچسپی سے جب عرب اور یورپی ممالک
میں پاکستانیوں کے جانے کے لیے راہ ہموار
ہوئی تو اکثریت نے ادھر کا رخ کیا جس وجہ
سے ان خاندانوں اور بتدریج ملک میں خوشحالی
آنے لگی تو دیگرلوگوں میں بھی بیرون ملک
جانے کی خواہش بڑھنے لگی مگر اس وقت حالات
مختلف تھے اور بیرون ملک جانے والوں کی
جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔
جب
روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں اور
افغان مہاجرین ایک سیلاب کی طرح پاکستان
کے کونوں کھدروں میں پہنچنا شروع ہوئے
اور ان کی ایک کثیر تعداد نے جعلسازی اور
رشوت سے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرلیا تو
پوری دنیا میں پاکستانیوں کی شامت آگئی
کیونکہ افغان علاقوں میں پوست کی کاشت اس
وقت عروج پر تھی اور ہیروئن کی فیکٹریاں
بھی،پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے جب ہیروئن
کی ترسیل دوسرے ملکوں میں شروع ہوئی
توپاکستانی عوام پر آہستہ آہستہ دوسرے
ملکوں میں جانے کے حوالے سے سختیاں شروع
ہوگئیں۔ چنانچہ وہ نوجوان جو تعلیم یافتہ
ہونے کے باوجود یہاں کے ماحول میں کام
نہیں کرسکتے تھے یا نہیں کرنا چاہتے تھے
یا وہ لوگ جو باہر سے آنے والوں کی امارت
اور دولت کی چکاچوند سے زیادہ متاثر ہوتے
انہوں نے غیرقانونی طریقوں سے باہر جانے
کی کوششیں شروع کر دیں۔ یہیں سے انسانی
سمگلنگ کرنے والوں کا گھناﺅنا کردار شروع
ہوتا ہے۔
انسانی
سمگلروں پرجب قانون کا عملدرآمد سخت ہونے
لگا تو ان میں سے بعض نے لوگوں کو لوٹنے
کا ایک اور محفوظ طریقہ استعمال کرنا شروع
کر دیا کیونکہ عرب ممالک اور یورپ میں
محنت اور مزدوری کے حوالے سے ملازمتیں کم
ہونی شروع ہو گئیں تو ان سمگلروں نے طالب
علموں کوبیرون ملک تعلیم دلوانے والے
ادارے بنا لیے اور بیرون ملک تعلیمی کالجوں
میں داخلہ کرانے اور وظائف دلوانے کا
جھانسہ دیکرمتعدد طالب علموں کو لوٹنا
شروع کر دیا۔ اب نہ صرف لاہور بلکہ پورے
ملک میں ایسے اداروں کا جال پھیل چکا ہے
جو طالب علموں کو دنیا کے مختلف ممالک
خصوصاً امریکا، کینیڈا، جرمنی، آئر لینڈ،
سکاٹ لینڈ، آسٹریلیا، آسٹریا، ملائشیا،
یونان، چین، یوکرائن، روس اور دیگر یورپی
اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں قائم کالجوں،
سکولوں اور دیگر فنی اور غیر فنی اداروں
میں داخلے دلوانے کی سہولت فراہم کر نے
کا کام کرتے ہیں۔ ان میں سے متعدد ادارے
وظائف دلوانے اور تعلیمی ویزا دلوانے کا
بھی کام کرتے ہیں۔ ان اداروں کے مالکان
خود کو ان غیر ملکی اداروں کا نمائندہ
ظاہر کر کے مختلف کورسز جیسے اے لیول، بی
اے آنرز، اکاﺅنٹنگ، بزنس ایڈمنسٹریشن،
قانون کی ڈگری،ماسٹر ڈگری، ڈاکٹریٹ،
انگلش زبان کے کورسز، کمپیوٹر اور انفارمیشن
ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات میں داخلے
کے ساتھ وہاں کا ویزا دلوانے کی گارنٹی
بھی دیتے ہیں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں
سے مستقبل کی تلاش میں سرکرداں نو آموز
طالب علموں کو اپنے جال میں پھانس لیتے
ہیں اور مشاورت کے نام پر ان سے ہزاروں
روپے وصول کر کے مختلف نوعیت کے فارموں
اور کاغذوں پر دستخط کروا لیتے ہیں اور
جب ویزا نہیں لگتا اور داخلہ نہیں ملتا
تو یہ رقم طالب علموں کو واپس کرنے کی
بجائے مشورہ فیس کہہ کر ہضم کر جاتے ہیں۔
ایسے ہی ایک شخص نے جیکب اینڈ ایسوسی ایٹس
کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا
صدردفترفلیٹ نمبر108/1اولڈ
کلفٹن کراچی میں کھولا اور ملک کے دیگر
شہروں میں سب آفس قائم کیے اور ایک اشتہار
کے ذریعے ہالینڈ میں حکومت کی طرف سے مختلف
شعبوں جیسے سوشل سٹڈی، رورل ڈویلپمنٹ
اینڈ فزیکل پلاننگ، ایڈوانس سٹڈی آف سائیل
اینڈ ریسورسز، ماسٹر آف ایڈ منسٹریشن
سائنس، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، اربن
ڈویلپمنٹ اینڈ انوائرمینٹل پلاننگ اور
نرسنگ اینڈ مڈ وائفری کورسز میں 240
پاکستانیوں
کے لیے وظائف، دیگر سہولتوں اور پر کشش
مراعات کا اعلان کیا اور پہلے آئیے
پہلے پائیے کی بنیاد پر
7روز
میں رابطہ کرنے کو کہا جس پر ملک بھر سے
ہزاروں طالب علموں نے دفتر مذکور اور اس
کی برانچوں سے رابطہ کیا۔ چنانچہ اس ادارے
نے صرف سات دن میں ہزاروں طالب علموں کو
ہالینڈ کے مختلف کالجوں اور اداروں کے
داخلے فارم، پراسپکٹس اور دیگر فارم فروخت
کیے اور مشاورت کے نام پر 30ہزار
روپے سے لیکر60ہزار
روپے تک وصول کیے۔ جب یہ وظائف لینے کے
خواہش مند طلبا ان کے فراہم کیے گئے کاغذات
کے ساتھ ہالینڈ کے سفارت خانے ویزا کی
درخواست جمع کروانے گئے تو وہاں پر انہیں
یہ معلوم ہوا کہ حکومت ہالینڈ یا اس ملک
کے کسی ادارے نے پاکستانیوں کے لیے کسی
بھی قسم کے وظائف کا کوئی اعلان نہیں کیا
اور جیکب اینڈ ایسوسی ایٹس کی طرف سے کیے
گئے اعلان سے لاعلمی ظاہر کی۔اس طرح روشن
مستقبل کی امیدیں رکھنے والے طالب علم جب
اس ادارے کے دفتر گئے تو انہوں نے دیکھا
کہ دفتر کو تالے لگے ہوئے ہیں اور تمام
لوگ روپوش ہو چکے ہیں۔ جس پر متعدد طالب
علموں نے ایف آئی اے میں ان لوگوں کے خلاف
درخواستیں دیں جس پر ایف آئی اے نے انکوائری
کی تو پتہ چلا کہ یہ سب فراڈ تھا۔
لاہور
پیپلز لائرز فورم اور لیگل ایڈ کمیٹی کے
صدر شاہد حسن ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کا کہنا
ہے کہ اصل میں یہ لوگ انٹر نیٹ سے مختلف
ممالک میں قائم کالجوں کی تفصیل اور داخلے
کا طریقہ کار معلوم کر تے ہیں اور نیٹ کی
مدد سے ان ممالک کی ویزا پالیسی معلوم کر
تے ہیں اور پھر خود ماہر تعلیم اور ماہر
ویزا جات بن کر لوگوں کو ٹھگتے ہیں۔ یہ
ادارے کسی بھی سرکاری محکمے سے منظور شدہ
نہیں ہوتے البتہ کچھ ادارے بطور فرم کے
رجسٹر ہوتے ہیں اور کچھ کمپنی کے طور پر
اپنی رجسٹریشن کرواتے ہیں جبکہ چند ایک
ادارے اپنے نام کا ٹریڈ مارک اور کاپی
رائیٹ لے کرخود کو حکومت پاکستان کا منظور
شدہ لکھ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ انہوں
نے کہا کہ ایسے اداروں کو بند کیا جانا
ضروری ہے اور اس بارے میں قانون سازی کی
بھی ضرورت ہے تاکہ سرکاری محکموں کا چیک
قائم ہو سکے۔ انھوں نے بتایا کہ جیکب اینڈ
ایسوسی ایٹس کے متاثرین کا کیس ابھی حل
نہیں ہو سکا حالانکہ بعض متاثرین نے جیکب
اینڈ ایسوسی ایٹ کے لاہور آفس کے سیکرٹری
کی گرفتاری کی درخواست بھی دی ہوئی ہے مگر
متعلقہ ادارے اسے گرفتار نہیں کر رہے۔
انھوں نے بتایا کہ انسانی سمگلروں میں اب
عام لوگوں کے علاوہ بڑے لوگ بھی شامل ہو
گئے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بہبود آبادی کی
وفاقی وزیر پر ایسا ہی الزام لگا جبکہ ایک
وزیر مملکت کو اسی جرم میں گرفتار بھی کیا
گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بیرون ملک سختی
زیادہ ہوگئی تو ان ایجنٹوں کا ریٹ بھی
آسمان کو چھونے لگا۔ان کا کہنا ہے کہ اب
پچھلے کچھ عرصے سے ایک نیا طریقہ ایجاد
کیا گیا ہے کہ ان تارکین وطن کوکنٹینرز
میں بھر لیا جاتا ہے۔ وہ کنٹینرز جو سامان
لے جانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جن میں
نہ تو روشنی ہوتی ہے نہ ہوا اور نہ ہی رفع
حاجت کا کوئی انتظام حتیٰ کہ ان کنٹینرز
کے اسیران کو دوران سفر بولنے کی بھی اجازت
نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل میں ایف
آئی اے حکام کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی
چاہیے کیونکہ انسانی سمگلروں کی ایک بڑی
تعداد اسی محکمے کے بعض ملازمین کی ملی
بھگت سے یہ دھندہ کر رہی ہے۔ وزارت داخلہ
کو ایف آئی اے کے کردار کو بہتر بنانے کے
لیے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انھوں
نے بتایا کہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر
میں 8لاکھ
افراد ہر سال بیرون ملک سمگل کیے جاتے ہیں
جب کہ ان میں سے 2لاکھ
25ہزار
کا تعلق پاکستان، نیپال، بھارت، افغانستان
اور سری لنکا سے ہوتا ہے جبکہ 1999ء
سے 2009ء
تک 313153
پاکستانیوں
کو مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا۔
اسلام
پورہ لاہور کے رہائشی محمد کلیم احمد نے
بتایا کہ میرے دو بیٹے جنہوں نے ایف ایس
سی اور بی اے کا امتحان پاس کیا تھا انھوں
نے مجھے بتایا کہ حکومت ہالینڈ نے پاکستانی
طالب علموں کے لیے وظائف کا اعلان کیا ہے
اور جس ادارے کی معرفت یہ طالب علموں کا
انتخاب کریں گے ان کی فیس 30ہزار
روپے ہے چنانچہ میں نے دونوں بیٹوں کے
مستقبل کی خاطر60ہزار
روپے انھیں دے دیے مگر جب میرے بیٹے اسلام
آباد سے آئے اور بتایا کہ ہمارے ساتھ فراڈ
ہو گیا ہے تو بہت مایوسی ہوئی۔انھوں نے
کہا کہ حکومت کو ایسے اداروں کے خلاف سخت
کارروائی کرنی چاہیے تاکہ مزید عوام ان
کے ہاتھوں لٹنے سے بچ جائے۔
وفاقی
تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جیکب اینڈ
ایسوسی ایٹس نے بڑے منظم انداز میں صرف
7یوم
میں سیکڑوں طالب علموں کو لاکھوں روپے سے
محروم کر دیا تھاجبکہ دوران انکوائری
حکومت ہالینڈ نے اس ادارے سے لا علمی کا
اظہار کر دیا۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت
لاہور میں ایسے بیسیوں ادارے قائم ہو چکے
ہیں جو طلبا کو بیرون ملک تعلیمی کالجوں
اور سکولوں میں داخلے کرواتے ہیں اور
مشاورت کے نام پر لاکھوں روپے وصول کر کے
ہضم کر لیتے ہیں جبکہ یہ افراد لوگوں کو
ویزے دلوانے کا بھی کام کرتے ہیں انھوں
نے کہا کہ ایسے اداروں کے خلاف انکوائریاں
شروع کی ہوئیں ہیں اور جلد ہی ان کے خلاف
قانونی کاروائی کی جائے گی اور جن اداروں
کے خلاف باضابطہ درخواستیں مل چکی ہیں
انھیں جلد ہی گرفت میں لے لیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ دراصل یہ لوگ انسانی سمگلر
ہیں جنہوں نے اب لوگوں کو لوٹنے کا یہ
طریقہ اختیار کر لیا ہے۔وفاقی تحقیقاتی
ادارے کے حکام کے مطابق پاکستان سے2008ء
میں سب سے زیادہ لوگوں نے غیر قانونی طور
پر دوسرے ممالک کی سرحدیں عبور کی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں انسانی
سمگلنگ سے سالانہ دس ملین ڈالر کی رقم
حاصل کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں
کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے لیے
نئے نئے راستے دریافت کیے جاتے ہیں۔ انھوں
نے بتایا کہ بیشتر لوگ ایران کے راستے ہی
خلیجی اور یورپی ممالک جاتے ہیں اور گزشتہ
سال سب سے زیادہ پاکستانی مسقط سے واپس
بھیجے گئے ہیں۔ جبکہ ایران جانے کے لیے
بلوچستان میں تفتان اور مند کے راستے
استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایران کے جنوب میں
واقع بندرگاہ سے لانچ کے ذریعے مسقط کے
راستے خلیجی ممالک جاتے ہیں۔جبکہ یورپ
جانے کے لیے سمگلر ترکی میں مرمرہ پورٹ
استعمال کرتے ہیں اور یہاں سے سپیڈ بوٹ
کے ذریعے یورپ جاتے ہیں یا ترکی اور یونان
کی سرحد کو پیدل چل کر عبور کرتے ہیں۔ اور
اب ملائیشیا اور انڈونیشا کے راستے
آسٹریلیا جانے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق حکومت پاکستان اپنے تمام
پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر غیرقانونی
مائیگریشن کو روکنے کے لیے ایک حکمت عملی
طے کی ہے کیونکہ اس وقت دنیا کے امیر ممالک
میں حصول روز گار کے لیے جانیوالوں کی بڑی
تعداد کا تعلق پاکستان ،انڈیا اور بنگلہ
دیش سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک سے ہے جبکہ
حکومت نے دنیا کے 50
ممالک
سے معاہدے کر رکھے ہیں جو انسانی سمگلنگ
اور غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام کے
حوالے سے ہیں اور پاکستان نے انتہائی
مطلوب 66
انسانی
سمگلروں کی فہرست ایران، ترکی اور یونان
کے حوالے کی ہے جبکہ یہ ملک اپنے اپنے
مجرموں کی فہرست پاکستان کو فراہم کریں
گے۔ جبکہ ہمسایہ ممالک کی سرحدوں پر انسانی
سمگلنگ کی روک تھام کی غرض سے نیا طریقہ
کار وضع کرنے کے لیے وزارت داخلہ تمام
متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی
ہے اور سرحد پر الیکٹرانک سسٹم لگانے کا
فیصلہ کیا گیا ہے ۔
|