|
فلم
ریویو(Craz
y on the Outside)
ہالی
وڈ کی نئی ریلیز ہونے والی فلم طنزو مزاح
سے بھرپور اور منفرد کہانی رکھتی ہے ۔ فلم
کو نئے ہدایتکار ٹم ایلن نے ڈائریکٹ کیا
ہے ، فلم کا مرکزی کردار بھی انہوں نے ہی
ادا کیا۔ فلم کی کہانی کے مطابق ٹامی (
ایلن)
کو
ویڈیو پائسریسی کرنے کے جر م میں تین برس
کی قید سنا دی جاتی ہے۔ جب وہ رہا ہو کر
واپس آتا ہے تو اس کو معلوم پڑتا ہے کہ اس
کی جھوٹ بولنے کی عادی بہن وکی نے اپنی
دادی کو یہ بتا رکھا ہے کہ پچھلے تمام عرصے
ٹامی فرانس میں تھا۔ جب وہ گھر واپس لوٹتا
ہے تو ایک پریشان کن صورتحال اس کے سامنے
ہوتی ہے۔ ان تمام مسائل کو مزاحیہ انداز
میں دکھایا گیا ہے۔ ٹامی پیسے کمانے کے
لیے ایک ریسٹورنٹ میں نوکری شروع کرتا ہے
تاکہ بعد میں کو ئی کاروبار شروع کرے جب
اچانک اس کے سامنے اس کی محبوبہ کرسٹی (
جولی
باون)
آ
جاتی ہے جس کے بارے میں اس کی بہن نے بتایا
تھا کہ وہ مر چکی ہے۔ ٹامی ابھی اس صدمے
سے دوچار ہوتا ہے کہ اس کا پرانا دوست گرے
بھی اس کو ڈھونڈتا ہواوہاں نکل آتا ہے ۔
اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ٹامی اس کو دوبارہ
جرائم کی دنیا میں کام کرنے کے لیے تعاون
کرے۔
اس
فلم کو ایک سٹ کام کے انداز میں بنایا گیا
ہے جس میں سین کو طوالت نہیں دی گئی۔
ڈائیلاگ مختصر اور مزاحیہ ہیں۔ فلم کے
تمام اداکاروں کی ایک دوسرے کے ساتھ
کیمسٹری اچھی ہے، جس کے باعث فلم مزید
دلچسپ لگتی ہے۔ فلم کا سکرین پلے لاجواب
ہے جس کے لیے ہدایتکار کی محنت کو سراہا
جا سکتا ہے۔ ٹم ایلن نے ہدایتکار اور مرکزی
اداکار کے طور پر نہایت اچھا کام کیا ہے۔
فلم میں ڈرامہ کا عنصر نہایت خوبصورتی کے
ساتھ شامل کیا گیا ہے جو مزاح کے باوجود
فلم کو ایک سنجیدہ تصور دینے میں کامیاب
ہے۔
اگر
ہم کہانی کے پر نگاہ دوڑائیں تو ایک اچھا
پلاٹ ہونے کے باوجود ا س میں کچھ خامیاں
نظر آتی ہیں۔ اس کے باعث فلم میں کچھ
کمزوریاں رہ گئی ہیں ۔ فلم کو ہدایتکار
کی تخلیقی صلاحیتیوں کے تناظر میں دیکھا
جائے تو اس میں بہتری کی گنجائش کئی جگہ
پر نظر آ تی ہے لیکن پہلی کاوش کے طور پر
ٹم ایلن کا کام بہت بہتر ہے۔ فلم کی سنیماٹو
گرافی ،بہترین سیٹ اور بڑی سکرین کی فلم
کو اچھوتا انداز دیتے ہیں۔ جس کے باعث فلم
دیکھنے کا لطف دوبالا ہوجاتاہے ۔ مجموعی
طور پر اس کو اچھی فلم کہا جاسکتا ہے جس
کا طنزو مزاح مختلف نوعیت کا ہے اور لوگوں
کے لیے ایک اچھی تفریح کا باعث ہے۔
فلم
ریویو( عشقیہ)
ہدایتکار
ابھیشیک چوبے نے اپنی اولین فلم ”عشقیہ“
کے ساتھ بالی وڈ میں قدم رکھا ہے۔ حقیقتاً
یہ ایک منفرد انداز کی فلم ہے جس کا پلاٹ،
کہانی، اداکاری، موسیقی اور ہدایتکاری
فارمولا فلموں سے الگ ہے۔ اس فلم کو موجودہ
برس کی پہلی لاجواب فلم کہا جاسکتا ہے۔
فلم کی کہانی کے مطابق دو بدمعاش خالو جان
( نصیر
الدین شاہ)
اور
ببن (ارشد
وارثی) ایک
خوبصورت بیوہ کرشنا (ودیا
بالن) کے
دروازے پر جا پہنچتے ہیں۔ وہ اپنا تعارف
کرشنا کے مرحوم شوہر کے دوست کے طور پر
کرواتے ہیں اور یوں ان کو وہاں پناہ مل
جاتی ہے۔ درحقیقت یہ دونوں اپنے ایک عزیز
مشتاق (پاکستا
نی اداکار سلمان شاہد)
کے
ساتھ پیسوں کا فراڈ کرکے بھاگتے ہیں اور
اب اپنی جان پچانے کے لیے کرشنا کے گھر آ
دھمکتے ہیں لیکن مشتاق کو ان کی خبر مل
جاتی ہے، وہ ان کو پندرہ روز کے اندر پیسے
واپس کرنے کا حکم دیتا ہے وگرنہ ان کو قتل
کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔ اب کرشنا کے
کہنے پر وہ ایک مل کے مالک کو اغوا کرنے
کا منصوبہ بناتے ہیں تا کہ اس سے تاوان کی
رقم وصول کرکے مشتاق سے اپنی جان چھڑوائی
جا سکے۔ اسی دوران کرشنا ان دونوں سے فلرٹ
شروع کر دیتی ہے ، وہ دونوں اس کے پیار میں
دیوانے ہوتے چلے جاتے ہیں، یہ محسوس لیے
بغیر کہ کرشنا کا مقصد کچھ اور ہی ہے۔ جب
ان کو حقیقت کا پتہ چلتا ہے تو وہ دم بخود
رہ جاتے ہیں۔
فلم
کی کہانی میں سسپنس کا عنصر اس کی سب سے
بڑی خوبی ہے۔ ہدایتکار ابھیشیک چوبے کا
کہانی بیان کرنے کا انداز بہت شاندار ہے
اور وہ کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ ان
کی پہلی فلم ہے۔ فلم ” عشقیہ “ میں ودیا
بالن کا کردار بہت عرصے تک یاد رکھا جائے
کیونکہ یہ بہت منفرد اور مشکل کردار تھا
جس کو انہوں نے بہت ہنر اور سلیقے سے نبھایا
ہے۔ نصیر الدین شاہ نے فلموں میں اپنا کم
بیک دھما کے دار انداز سے کیاہے۔ انہوں
نے ایک دفعہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک
اعلٰی پائے کے اداکا ر ہےں ۔خالوجی کے
کردار میں ان کے علاوہ کسی اور اداکار کا
تصور بھی محال ہے۔ ارشد وارثی کی اداکاری
بھی قابل ستائش ہے اور فلم میں ان کے کردار
کو ایک ستون قرار دیا جاسکتا ہے۔ مشتاق
کا کردار پاکستانی اداکار سلمان شاہد نے
کیا ہے۔ انہوں نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ
فلم میں اپنے رول کے ساتھ انصاف کیا ہے۔
فلم
کی موسیقی کہانی سے مطابقت رکھتی ہے۔
کمپوزر وشال بھردواج، شاعر گلزار اور
گلوکار راحت فتح علی خان کا بنایا گیا
گانا ”دل تو بچہ ہے“ نہایت سریلا اور
بہترین ہے۔ اس گانے کو سپرہٹ قرار دیا جا
چکا ہے جوآج کل ہر جگہ سنائی دے رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اچھی اور موجودہ وقت کی
بہت منفرد فلم ہے۔
|