03/09/2010
 
 
   
 
 
  آئی بیگز سے نجات مشکل مگر غیر ممکن نہیں
 

آئی بیگز سے نجات مشکل مگر غیر ممکن نہیں

منتہی احمد

آنکھیں چہرے کے خدوخال میں سب سے نمایاں کشش اور اہمیت کی حامل خیال کی جا تی ہیں۔ اگر آنکھیں پرکشش ہوں تو چہرے کی دلکشی دو چند ہو جا تی ہے اور سانولا سلونا چہرہ بھی کسی بھی شخص کی توجہ حاصل کرتا ہے ۔اسی لیے اگر سنگھار کی بات کی جا ئے تو بھی لب و رخسار سنورا نے سے پہلے آنکھوں کو سجایا جا تا ہے۔ جس طرح کجلائی اورسنوری ہوئی غزال آنکھیں شخصیت کو مسحور کن بناتی ہیں اسی طرح اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جا ئے تو یہ یہ چہرے کی رونق کو ماند بھی کر دیتی ہیں۔ آپ جتنا بھی اچھا میک اپ کیوں نہ کر لیں اور گھنٹوں رعنا ئی دینے کے لیے صرف کیوں نہ کر لیں اگر آنکھیں تھکی ہو ئی اور بے رونق ہوں گی تو سارا سنگھار گہنا جا ئے گا۔ یہ آنکھیں ہی ہوتی ہیں جو اس اداسی، پریشانی یا خراب صحت کا راز افشا کر دیتی ہیں اور آپ جتنا بھی چھپا نا چاہیں نگاہوں سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ آنکھوں کی دلکشی کو سب سے زیادہ ماند آنکھوں کے نیچے پڑنے والے حلقے اورآئی بیگز کرتے ہیں۔ حلقوں کا علاج تو کسی طور کرہی لیا جا تا ہے کیو نکہ یہ وقتی ثابت ہو تے ہیں لیکن اصل مشکل تب ہو تی ہے جب آنکھوں کے نیچے آئی بیگز یا سوجی ہوئی تھیلیاں بننا شروع ہوجا تی ہیں اور اگر بن جا ئیں تو ان سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ آنکھوں کے نیچے تھیلیاں بننے کا عمل خواتین کو اس لیے بھی زیادہ درپیش ہو تا ہے کیونکہ انہیں بیک وقت بہت سے امو ر اور مسائل سے نبرد آزما ہو نا پڑتا ہے۔ مسلسل ذہنی دباوٴ اور نیند پوری نہ ہو نے کی وجہ سے یہ مسئلہ شروع ہو تا ہے تو اس پر شروع میں دھیان نہیں دیا جا تا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ تھیلیاں بڑھتی جا تی ہیں اور پھر ان کا سرجری کے علاوہ کوئی علاج نہیں بچتا۔ذہنی دباؤ کے علاوہ اس مسئلے کی وجوہات میں جینز کا عمل دخل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر آپ کی فیملی میں وراثتی طو ر پر یہ مسئلہ پایا جا تا ہے تو بھی آپ کو احتیاط کی ضرورت ہو تی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آئی بیگز آپ کے جینز میں شامل ہیں تو آپ اپنے لائف سٹائل میں تبدیلی سے ان سے دور رہ سکتی ہیں۔آنکھوں کے نیچے تھیلیاں بننے کا عمل اعصابی تناؤ، زیادہ نمک والی غذا کھانے، پولونٹس کھانے، سگریٹ نوشی اور الکوحل استعمال کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کو لگے کہ آپ کی آنکھوں کے نیچے جلد پھولنے لگی ہے تو آپ کو فوری طور پر اپنے لائف سٹائل میں تبدیلی کر لینا چاہیے کیونکہ اس سے چہرے کی رعنائی متاثر ہو تی ہے اور عمر زیادہ نہ ہو تو بھی ینگ لک نہیں رہتی ۔اگر تو آنکھوں کے نیچے تھلیاں بہت زیادہ اور واضح ہیں تو اس کا بہترین حل کسی کا سمیٹک سرجن سے رجوع کرنا ہے تاکہ ان تھیلیوں سے نجات کے لیے بلیفارو پلاسٹی سرجری کروا لی جا ئے۔سرجن آنکھوں کے نیچے موجود پھولی ہوئی جلد کو ہٹا دیتے ہیں اور یوں آنکھیں پھر سے شاداب اور پرشبا ب لگتی ہیں۔ نمایاں آئی بیگز سے چھٹکا را پا نے کے لیے تو سرجری ہی بہترین علاج ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کچھ طریقے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے آنکھوں کے نیچے بنی تھیلیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ ان میں سے سب سے مفید گھریلو ٹوٹکے ہیں اور ان ٹوٹکوں کا استعمال تب ہی زیادہ اثر رکھتا ہے جب آپ کے آئی بیگز ابتدائی مراحل میں ہوں اور زیادہ نمایاں نہ ہو چکے ہوں۔ اگر ان نسخوں کو شروع میں ہی باقاعدگی سے آزمانا شروع کر دیا جا ئے آئی بیگز زیادہ نہیں ہو تے اورمعمولی ہوں تو ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کا تدارک آغاز میں کیا جانا ہی بہترین ہوتا ہے کیونکہ زیادہ ہو جا ئیں تو مکمل چھٹکارا مشکل ہوتا ہے اور سرجری کافی مہنگا علاج ہے جو ہر ایک کی پہنچ میں نہیں۔ آئی بیگز کو ابتدائی سطح پر ہی ختم کر نے کا آسان ترین حل یہ ہے کہ جب آپ کو لگے کہ آنکھوں کے نیچے کی جلد سوج رہی ہے تو ایلوویرا جیل یعنی کوا ر گندل کا جیل آنکھوں کے نیچے لگایا جا ئے۔ آئی بیگز کو ختم کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے اور اس کے علاوہ یہ جلد کے لیے بھی بہت اچھا ہو تا ہے اور اس سے آنکھوں کے گرد پڑے سیاہ حلقے بھی ختم ہو جا تے ہیں۔ جبکہ کمپیوٹرا ستعمال کر نے والے افراد روزانہ اگر استعمال شدہ ٹی بیگ کچھ دیر آنکھوں پر رکھ کر سکون سے آنکھیں موند لیں تو آنکھوں کے نیچے تھیلیاں نہیں ابھرتیں۔ علاوہ ازیں کھیرے کارس بھی آئی بیگز سے چھٹکارے کے لیے بہترین خیال کیا جا تا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچلے ہو ئے آلو کا رس بھی آئی بیگز مدہم کر دینے کے لیے مجرب ہے۔ روزانہ رات کو سونے سے پہلے آلو کے باریک قتلے کا ٹ لیں اور انہیں آنکھوں پر دس سے پندرہ منٹ کے لیے رکھا رہنے دیں آپ دیکھیں گے کہ روٹین سے ایسا کر نے کا عمل آنکھوں کو فریش کردیتا ہے اور تھیلیوں کے علاوہ سیا ہ حلقے بھی غائب ہو جا ئیں گے۔ آئی بیگز سے نجات کے لیے بنیادی عمل یہ ہے کہ نیند ضرور پوری کی جائے۔ اگر آپ رات کو سکون کی نیند سولیتی ہیں تو آئی بیگز بننے کا چانس بہت کم بنتا ہے۔ مزید براں غذا پر بھی خاطر خواہ توجہ دینا ضروری ہوتا ہے۔کوشش کی جائے کہ کسی بھی پریشانی یا ذہنی تناؤ کو سر پر سوار نہ کیا جا ئے کیونکہ اس سے نہ صرف آنکھوں میں وحشت ابھر آتی ہے بلکہ یہ بے رونق بھی ہو جاتی ہیں۔ ان تمام باتوں پر عمل کرنے سے آپ آئی بیگز سے نجات پا سکتی ہیں۔

شاداب اور کومل جلد کے لیے موئسچرائزر ضروری

جلد یوں تو ہمیشہ توجہ مانگتی ہے کیونکہ بیرونی عوامل کاسب سے زیادہ سامنا اسی کو کرنا پڑتا ہے لیکن موسم کی شدت میں اسکی حفاظت اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب خشک اور سرد ہوائیں رخساروں پر چٹکی بھرتی ہوئی گزرتی ہیں اور گرم کمروں سے باہر نکلتے ہوئے یک دم یخ بستہ فضا کا تھپیڑہ پڑتا ہے تو جلد کی ساری نمی زائل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اچھی بھلی کھلتی ہو ئی جلد بھی خشک ہو کر نمی اور لچک کھو دیتی ہے۔ ایسے حالات میں جلد کو شدت سے ضرورت ہوتی ہے کسی موئسچرائزر کی، جس سے اس کی نمی برقرار رہے اور جلد پر خشکی کے دھبے نہ ابھریں۔ آپ کی جلد چاہے کسی ٹائپ کی ہو لیکن آپ کو موئسچرائز ر ضرور استعمال کر نا چاہیے۔ سردیوں میں جلد کو خشک ہو کر جھریاں پڑنے سے بچانے کے لیے سب سے ضروری یہ ہوتا ہے کہ جلد کی روزانہ کلینزنگ، ٹوننگ کی جائے اور اسے ہمہ وقت موئسچرائزر سے نم رکھا جائے تاکہ آپ کی جلد سردیوں میں بھی اپنی چمک دمک برقرار رکھے۔ موئسچرائزر استعمال کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو اپنی جلد کے بارے میں پتہ ہو نا چاہیے کہ یہ خشک ہے یا پھر آئلی اور پھر اس کے حساب سے ہی موئسچرائزر کا استعمال کر نا چاہیے۔ ایسی خواتین جنہیں چہرے پر کیل مہاسوں کا مسئلہ ہو انہیں ایسا موئسچرائزر استعمال کرنا چاہیے جو ایکنی کو ختم کر نے والا ہو کیونکہ ہر طرح کا موئسچرائزر اس طرح کی جلد کے لیے بہتر نہیں ہو تا۔ گھریلو خواتین جب بھی کا م کاج کے بعد منہ دھوئیں انہیں کوئی نہ کوئی موئسچرائزنگ لوشن لگا نا چاہیے اور چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ سردیوں میں جلد ویسے ہی بہت خشک ہو تی ہے لیکن برتن اور کپڑے وغیرہ دھو نے سے ان کی ساری نمی جا تی رہتی ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کر نے کے بعد لوشن لگا نے کی عادت بنا لینا چاہیے۔ جلد کو نم رکھنے کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ جب آپ رات کو سو نے لگیں توہلکے نیم گرم پانی سے شاور لیں اور پورے جسم پر موئسچرائزنگ لوشن لگائیں۔ اس کے بعد چونکہ آپ کو ٹھنڈی ہوا میں نہیں نکلنا ہو تا، اس لیے موئسچرائز جلد کو زیادہ نرم اور ملائم بناتا ہے۔علاوہ ازیں آپ جب بھی نہائیں تب موئسچرائز ر ضرور لگائیں، اس سے جلد لاک ہو جا تی ہے اور خشک نہیں رہتی ۔اگر آپ کی جلد نا رمل ہے تو آپ کو چاہیے کہ پانی ملا یا آئل فری موئسچرائزر لگائیں۔ بہت سی آئلی جلد کی حامل خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ انہیں موئسچرائزر کی ضرورت نہیں ہوتی حالانکہ انہیں بھی موئسچرائز رکی اتنی ہی ضرورت ہو تی ہے جتنا کہ خشک سکن کو۔ آئلی جلد والی خواتین کو صرف یہ خیال رکھنا ہوتا ہے کہ وہ ایسا موئسچرائزر استعمال کر یں جس میں آئل نہ ہو بلکہ وہ سادہ موئسچرائزر ہو۔ آئل والے موئسچرائزر کی ضرورت اس جلد کو ہوتی ہے جو بہت زیادہ خشک ہو اور سردیوں میں اس پر سفید دھبے پڑنا شروع ہو جا ئیں۔ موئسچرائز کے استعمال میں ایک اور خاص بات یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ جلد پر موئسچرائزر بہت زیادہ تھوپنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے مسام بند ہو نا شروع ہو جا تے ہیں۔ اگر آپ کی جلد آئلی ہے اور آپ سکن کو بہترین طور سے موئسچرائز کرنا چاہتے ہیں کہ تو کسی بھی موئسچرائزر یا قدرتی تیل میں لیموں شامل کر لیں۔ اس سے بہترین موئسچرائز رآپ کو کسی بھی کاسمیٹکس شاپ میں نہیں ملے گا۔ زیتون کے تیل یا ناریل کے تیل میں لیموں کا عرق اور تھوڑی سی گلیسرین ملا لیں۔ لیجیے آپ کے لیے بہترین سکن موئسچرائز ر پیش ہے۔ اس سے جلد لچک دار اور ملائم بھی رہے گی اور چہرے کی رنگت نکھر بھی جا ئے گی۔ روزانہ رات کو سونے سے قبل یہ موئسچرائزر ضرور استعمال کریں۔ فرق آپ خود دیکھیں گی۔ اس موئسچرائزر کے علاوہ ہم آپ کو ایک اور موئسچرائزر کے بارے میں بھی بتاتے ہیں جو جلد کے لیے نہایت آزمودہ ہے۔ تین قطرے لیموں کا رس، تین قطرے لیونڈر آئل اور تین قطرے ہی گلیسرین لے کر اسے ایک کپ میں ڈالے گئے تھوڑے سے مقطر یعنی صاف پا نی میں شامل کر دیں۔ بعد ازاں اس محلو ل کو اچھی طرح ہلا لیں اور کسی ایئر ٹائٹ بوتل میں ڈال کر ریفریجریٹر میں رکھ لیں۔ جب بھی اس لوشن کو استعمال کریں تو بوتل کو اچھی طرح ہلا لیں، اس لوشن کے جلد پر بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔ اس مرکب میں آپ سنگترے کا بلوسم رس اور گرینیئم آئل بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ سردیوں میں جلد کو خشکی سے بچا نے کے لیے یہ نہایت اچھا موئسچرائزر ہے۔

چکن منچورین

مرغی کا گوشت بغیر ہڈی ایک پاوٴ

کارن فلور آدھا لیٹر

اجینوموتو ڈیڑھ چائے کا چمچہ

چینی حسب ضرورت

نمک حسب ضرورت

لہسن ادرک پسا ہوا آدھا پاؤ

ٹماٹوکیچپ چھوٹی بوتل

سرکہ ایک چائے کا چمچ

فوڈ کلر سرخ ایک چائے کا چمچ

تیل 4/3کپ



ترکیب:

مرغی کا ایک پاؤ گوشت بغیر ہڈ ی کے لے کر بادام کی گر یوں کے سائیز کا کاٹ لیں، گوشت پر دو کھانے کے چمچ کارن فلور ایک کھانے کاچمچ تیل، ڈیڑھ چائے کا چمچ اجینو موتوایک چائے کا چمچ چینی اور آدھاچائے کا چمچ نمک لگا کر رکھ دیں۔تیل گرم کرکے مصالحہ لگے گوشت کو تل لیں، ایک دوسرے پین میں اسی تیل میں سے آدھا تیل لے کر احتیاط سے ڈالیں اور اس میں ایک کھانے کا چمچ باریک کٹا ہوا لہسن اور ادرک ڈال کر فرائی کریں۔خوشبوآنے لگے لال نہ ہونے پائے تو فرائی شدہ بوٹیاں ڈال دیں اور ساتھ ہی ایک سبز مرچ باریک کاٹ کر ڈال دیں پھر آدھا کپ یخنیڈال کر پکنے دیں، ایک پیالے میں ایک کپ یخنی مرغی کی ڈالیں، آدھا کپ ٹماٹو کیچپ ایک چائے کا چمچ سرخ مرچ پسی ہوئی اور دو چائے کے چمچ چینی، ایک چائے کاچمچ نمک، دو کھانے کے چمچ کارن فلور اور ایک چائے کا چمچ سرکہ ملائیں۔

پکتے ہوئے چکن پر یہ تمام اشیا ڈال کر انہیں پکائیں، جب مناسب گاڑھا ہوجائے تو تھوڑا سا سرخ فوڈ کلر ملا کر رنگت کو خوش نما بنالیں، لیجیے منچورین تیار ہے۔ آپ اسے سزلنگ پلیٹ میں ڈال کر دوسری لکڑی کی ڈش میں فٹ کر کے گرم گرم پیش کر سکتی ہیں۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive