03/09/2010
 
 
   
 
 
  طاقت اور ذہانت کی علامت
 

طاقت اور ذہانت کی علامت

یوکرائن کی خاتون وزیر اعظم یولیاٹائیموشنکو

مدیحہ

یولیا ٹائیمو شِنکو، 2005ء میں یوکرائن کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ یولیا کو اگر ”سیاست کی دیوی“ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ٹائیمو شِنکو ہمت، جرأت، مستقل مزاجی، سیاسی، معاشی اور سماجی تعلقات کی گہری بصارت رکھتی ہے۔ وہ اکنامسٹ ہونے کے ساتھ الفاظ کی اکنامی اور طاقت کو بہترین سلیقے اور انداز سے بہترین موقع پر استعمال کرنے کا گُر جانتی ہے۔ ٹائیموشِنکو کو 1995-97ء کے دوران ”گیس پرنسس“ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ فوربز میگزین نے 3 مرتبہ ٹاٹیمو شِنکو کو دنیا کی بااثر اور طاقتور ترین خواتین کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ پہلی مرتبہ 2005ء میں وہ کونڈالیزا رائس اور ویویوئی کے بعد تیسرے نمبر کی پوزیشن رکھتی تھی۔ اس کے بعد 2008ء میں اِسے 17 ویں نمبر اور 2009ء میں 47 ویں نمبر کی پوزیشن حاصل تھی۔ یوکرائن میں ”اورنج تحریک “کے دوران بعض مغربی میڈیا کے اخبارات میں اِسے "Joan of Act of the Revolution" قرار دیا گیا ۔ ”ڈیلی میل“ اور ”20 منٹس“ نے 2009ء جبکہ ہاٹسٹ ہیڈز آف اسٹیٹ بلاگ نے 2010ء میں یولیا کو خوبصورت ترین خاتون کا خطاب دیا جو اب تک سیاست کے میدان میں موجود ہیں۔ یولیا نے 1996ء میں سیاست میں قدم رکھا اور 9 سال کی مسلسل محنت اور جدوجہد کے ثمر میں 2005ء میں پہلی بار خاتون وزیر اعظم کے طورسے یوکرائن میں حکومت بنائی۔ اس سے قبل وہ کامیاب بزنس ویمن کے طور پر جانی جاتی تھی۔

یولیا ٹائیمو شِنکو کا تعلق روسی زبان بولنے والے خاندان سے تھا۔ جب وہ تین برس کی تھی تو اِس کی ماں کو چھوڑ گیا تھا۔ یولیا نے گریجوایشن تک اپنی ماں کے سَرنیم سے تعلیم حاصل کی۔ 1979ء میں درمیانی سطح کے سوویت کمیونسٹ پارٹی بیورو کریٹ کے بیٹے اولیکسنڈر ٹائیمو شِنکو سے شادی کی اور ایک بیٹی یوجنیا ٹائیمو شِنکو 1980ء میں پیدا ہوئی۔ 1984ء میں ’دِنیپرو پیٹروسک اسٹیٹ یونیورسٹی‘ سے اکنامکس میں Honour کے ساتھ ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران یولیا نے 50 پیپرز بھی لکھے۔ اس سے قبل یولیا ’نیشنل مائننگ یونیورسٹی آف یوکرائن‘ کی طالبہ بھی رہ چکی تھی مگر اُس مضمون میں گریجوایشن نہ کر پائی۔ 1988ء تک ٹائیمو شِنکو نے بطور اکنامسٹ انجینئرز دنبپرو پیٹروسک کے مشین بنانے والے پلانٹ میں کام کیا۔ 1989ء میں پہلی بار اکنامک اور سیاسی ریفارم کے لیے سیاسی تحریک چلائی۔ یولیا نے ’کومسومل ویڈیو رینٹل چین‘ کی بنیاد رکھی جو بعدازاں کامیاب ہونے کے اُسے پرائیویٹائز کر دیا گیا۔ ٹائیمو شِنکو نے بطور جنرل ڈائریکٹر آف یوکرائن پٹرول کارپوریشن میں کام کیا۔ اِس کمپنی نے 1991-95ء تک دِنیپرو پیٹروسک کے زرعی انڈسٹری کو آئل پراڈکٹس فراہم کیں۔ 1995-97ء ٹائیموشِنکو نے ”یونائیٹڈ انرجی سسٹم آف یوکرائن“ کی صدر کی حیثیت سے کام کیا۔ یہ ایک درمیانے طبقے یا معیار کی کمپنی تھی جو 1996ء میں یوکرائن میں دوسری قدرتی گیس کی سب سے بڑی امپورٹر سپلائر بن گئی۔ اِسی دوران یولیا کو ”گیس پرنسس“ کا نِک نیم دیا گیا اور اُس پر الزام لگایا گیا کہ اُس نے بہت زیادہ مقدار میں چوری کی گئی قدرتی گیس سے رقم کمائی اور ٹیکس سے بچنے کے لیے اُسے ظاہر نہیں کیا گیا۔ اِس پر الزام ہے کہ اِسی دور میں یولیا نے اچھی خاصی دولت غلط ذرائع سے بنائی۔ ایک اور الزام کہ یولیا نے پاولوزارینکو کو بھاری رقم دی تاکہ وہ اپنی گیس کمپنی کی اجارہ داری مُلکی ایکسچینج میں قائم کر سکے۔ بزنس کے اِسی دور یا زمانہ میں یولیا کے بزنس تعلقات یوکرائن کی اہم شخصیات سے استوار ہوئے جن میں پاولو لازارینکو، ویکٹر پنچُک، آئی ہور کلوموسکائی، رینٹ اکھمی تُو، اور لیونڈ کوچما (اس وقت کے یوکرائنی صدر) شامل تھے۔ سوائے اکھمی تو کے باقی سب لوگوں کا تعلق دنیپروپیٹروسک (جو ٹائیمو شِنکو کا بھی آبائی علاقہ) سے ہے تعلق رکھتے تھے۔ ٹائیمو شِنکو کہتی ہے کہ اُس نے 1998ء تک اچھی خاصی رقم یا دولت اکٹھی کی۔ یہ دور پرائیویٹائزیشن کا تھا ،جسے تاریخ دان سب سے زیادہ کرپٹ اور غیر منظم دور کہتے ہیں۔ اِسی دور میں یولیا ایک طاقتور گروپ کی مالکہ کی حیثیت سے سامنے آئی۔ سیاسی کیرئیر کا آغاز 1996ء میں ہوا۔ یولیا اپنے حلقہ سے ریکارڈ ووٹ 92.3% لے کر یوکرائن کی پارلیمنٹ میں منتخب ہوئی اور ”کانسٹی ٹیوشنل سنٹر“ کو جوائن کیا۔ 1998ء میں ہروماڈہ پارٹی لسٹ میں 6 ویں نمبر پر دوبارہ منتخب ہوئی۔ ٹائیموشِنکو پارٹی میں لیڈنگ فِگر کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس لیے یوکرائن کی پارلیمنٹ میں بجٹ کی صدر بنی۔ ہروماڈہ کا پارٹی لیڈر ’پاولولازارینکو‘ 1999ء میں تفتیش کے عمل سے بچنے کے لیے امریکا بھاگ گیا۔ ٹائیموشِنکو نے پارٹی کے باقی ماندہ سیاسی ورکرز کے ساتھ مل کر ’آل یوکرائن یونین ”فادر لینڈ“ گروپ‘ بنایا۔ 1999-2001ء تک ٹائیموشِنکو نے بطور ڈپٹی پرائم منسٹر ایندھن اور انرجی سیکٹر کے لیے ویکٹرویو شینکو کی کیبنٹ میں کام کیا۔ ٹائیموشِنکو کو 2001ء میں صدر لیونِڈ کیوچمانے گیس انڈسٹری کے طاقتور گروپ سے تضاد کے نتیجے میں اس عہدے سے برطرف کر دیا۔ اپنی برطرفی کے بعد ٹائیموشِنکو نے ’نیشنل سالویشن کمیٹی‘ کی لیڈر شپ سنبھالی اور ’کیوچیما کے بغیر یوکرائن“ کے احتجاجی ریلیوں میں سرگرمی کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ فروری 2001ء میں ٹائیموشِنکوکو کسٹم دستاویز اور گیس (1995-97ء) اسمگلنگ کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے سیاسی حمایتی ورکرز نے بہت زیادہ احتجاجی جلوس نکالے۔ ٹائیموشِنکو کا کہنا تھا کہ یہ کیس کیوچیما دور میں اس کے خلاف اس لیے بنائے گئے کہ وہ کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑ دینے کے لیے مارکیٹ بیس فلاحی ادارے بنا رہی تھی۔ اس پر عائد الزامات ثابت نہ ہو سکے۔ اس دوران اس کے شوہر کو دو سال کے لیے چھپنا پڑا تاکہ سیاسی افتاد سے بچ سکے۔ الزامات سے بَری ہونے کے بعد ٹائیمو شِنکو اپنی پوزیشن پر بحالی ہوئی اور پہلی بار ایک فلاحی، انقلابی اور مستقل مزاج لیڈر کے طور پر سامنے آئی۔ ٹائیموشِنکو چاہتی تھی کہ ملکی سطح پر صدر کیوچیما کے خلاف ریفرنڈم کروایا جائے۔ 9 فروری 2001ء میں ٹائیموشِنکو نے ’یولیا ٹائیموشِنکو بلاک“ (جس میں نیشنل سالویشن کمیٹی شامل ہو گئی) بنایا جس نے 7.2 فیصد ووٹ 2002ء کے پارلیمانی الیکشن میں جیتے۔ اس کے ساتھ وہ 1999ء میں بنائی جانے والی فادر لینڈ سیاسی پارٹی کی صدر بھی تھی۔ 11 اگست 2001ء میں روسی شہری اور فوجی قانون دانوں نے اس کے خلاف ایک نیا کریمنل کیس رشوت کا بنایا۔ جسے 27 دسمبر 2005ء میں خارج کر دیا گیا۔ جنوری 2002ء میں ٹائیموشِنکو کی کار کو حادثہ پیش آیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گورنمنٹ کی قتل کرنے کی سازش تھی۔ 2002ء کے آخر میں ٹائیموشِنکو، سوشلسٹ پارٹی یوکرائن اورلیسکنڈر، کمیونسٹ پارٹی یوکرائن پیٹرو سائی مونیکو اور ’آور یوکرائن، ویکٹریوشینکو نے اجتماعی بیان جاری کیا کہ ”یوکرائن میں ریاستی انقلاب شروع ہو چکا ہے“۔ 2 جولائی 2004ء کو اور یوکرائن اور یولیا بلاک نے ”فورس آف دی پیپل“ کے نام سے تحریک شروع کی تاکہ لوگوں اور یوکرائن کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ اس میں ویکٹر (آور یوکرائن) نے وعدہ کیا کہ اگر وہ 2004ء کے صدارتی الیکشن جیت گیا تو ٹائیموشِنکو کو وزیر اعظم بنائے گا۔ 22 نومبر 2004ء سے احتجاج ہر شہر میں بڑے پیمانے پر شروع ہو گئے۔ سب سے زیادہ 5 لاکھ شہریوںکا کا احتجاج Kieve's Maiden میں ہوا۔ اس تحریک یا احتجاجی جلوسوں کو ”اورنج انقلاب“ کا نام دیا گیا۔ ان جلوسوں کے دوران ٹائیموشِنکو کی تقاریر نے شرکا کے جوش کو زندہ رکھا۔ اس کے نتیجے میں وِکٹر صدر منتخب ہو گیا۔ 24 جنوری 2005ء کو ٹائیموشِنکو یوکرائن میں پرائم منسٹرکے عہدے پر فائز ہوئی۔ 4 فروری 2005ء کو یولیا ٹائیموشِنکو 373 ووٹ حاصل کر کے یوکرائن پارلیمنٹ کی منتخب وزیر اعظم کا عہدہ حاصل کیا۔ حکومتی دور میں انقلاب کے دوران اور پہلے بننے والی جماعتوں کے تضاد اُبھر کر سامنے آنے لگے۔ 8 ستمبر 2005ء کو کئی سینئر عہدیداران نے استعفیٰ دے دیا جس کی وجہ سے صدر وکٹر نے یولیا کی گورنمنٹ کو برطرف کر دیا۔ بعد میں وہ اپنے مخالف سے دوبارہ جیت گئی لیکن اُس پر اکنامی کے حوالے سے الزامات لگاتے رہے۔ 2006ء میں اس کی گورنمنٹ ختم ہونے کے بعد اس نے اعلان کیا کہ وہ پورے یوکرائن کے دورے کے بعد دوبارہ وزیر اعظم بنیں گی۔ اس کا بلاک 129 سیٹیں الیکشن میں جیت سکا۔ بالآخر 21 جون 2006ء کو میڈیا نے خبر دی کہ یوکرائن اور پارٹی آف ریجن کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے۔ چونکہ پارٹی آف ریجن کے ممبرز زیادہ تھے انہوں نے 29 جون سے 6 جولائی تک پارلیمنٹ بلاک کر دی۔ اِسی دوران اورنج انقلابی گروپس ٹوٹ گئے۔ دوسری طرف سابقہ صدر وکرو نے پارٹی آف ریجن، سوشلسٹ، کمیونسٹ کے ساتھ مل کر وکٹر کو وزیر اعظم بنا دیا تو ٹائیمو نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا۔ 15 اکتوبر 2007ء میں اَور یوکرائن اور یولیا ٹائیمو بلاک نے اکثریت کے ساتھ ووٹ حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔ 18 دسمبر کو ٹائیمو دوبارہ وزیر اعظم بنی اور اُسے 226 ووٹ حاصل ہوئے۔ 2008ءمیں ٹائیمو بلاک Byut اور یوکرائن OU-PSD کے درمیان روس اور جارجیا کے سیاسی چپقلش کی وجہ سیاسی تضاد اُبھرنا شروع ہوئے۔ 8 اکتوبر 2008ءمیں سیاسی بحران شروع ہوا اور جلد الیکشن (Snap Election) کے لیے کہا گیا جس کو یولیا نے ملکی اکنامی پر شدید ضرب اور ملکی مفاد کے خلاف قرار دے کر غیر معینہ مدت کے لیے رکوا دیا۔ 16 دسمبر کو تین پارٹنر نے حکومت بنا لی اور عہد کیا گیا کہ یہ پارلیمنٹ 2012ء تک چلے گی۔ 12 ستمبر 2009ء کو ٹائیمو نے "With Ukrine in Heart" کے نام سے ملکی دورہ الیکشن کے لیے ترتیب دیا جس میں اُس نے یوکرائن کے صدر کی سیٹ کے لیے الیکشن مہم کا آغاز کیا۔ اس میں مشہور سنگرز اور برینڈ کے لوگ شامل ہوئے۔ اس کی الیکشن مہم پر تقریباً 100 سے 150 ڈالر ملین اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ٹائیموشِنکو چاہتی ہے کہ یوکرائن یورپی یونین کا حصہ بنے جبکہ وہ روس کی مخالفت بھی مول نہیں لینا چاہتی۔ یوکرائن کو نیٹو کو جوائن کر کے اپنے سکیورٹی کے لیے ریفرنڈم کروانا چاہیے۔ ٹائیمو چاہتی ہے کہ یوکرائن یورپی یونین ممالک کے ساتھ فری تجارت کرے اور پھراس کا مستقبل رکن بن جائے۔ وہ اندرون ملک میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف، روسی بیڑے کو مزید بلیک سمندر میں Lease دینے، روس کی زبان کو یوکرائن کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت دینے کی حمایت کرتی ہیں۔ گیس ٹرانسپورٹیشن کو پرائیویٹائز کرنے کے خلاف ہے۔ ٹائیمو کی حکومت نے 3,000 فرم کو دوبارہ نیشنلائز کرنے کے اقدامات کرنا چاہے تو اس کی کیبنٹ کو روک دیا گیا۔ یوکرائن کے سیاسی طبقہ کی نظر میں ٹائیمو اسٹیٹ سوشلسٹ ہے۔ ٹائیمو نے 2008-09ء کے دوران یوکرائن کی اکنامی کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کی دوسری اہم کامیابی اس کی حکومت نے 1.6 ملین رقم کوئلے کی کانوں کو جدید بنانے میں خرچ کیے تھے۔ اس نے انرجی سیکٹر میں کرپشن کو ختم کیا۔ یوکرائن کی بجلی کی صنعت سے کئی ہزار گنا ریونیو اکٹھا کیا ۔اُس کے فلاحی اقدامات کا مقصد تھا کہ حکومت کے پاس اتنی رقم ہونا چاہیے کہ وہ سرکاری ملازم کو اچھی تنخواہ دے سکے۔ اِس کے ووٹر کی نظر میں طاقتور گروپ کے طور پر فلاحی کام کرنے کی طرف راغب ہونا ہی اس کی ایک بڑی خوبی ہے۔ وہ غیر معمولی صلاحیت کے باعث یوکرائن کی بزنس صنعت میں کرپشن کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ 17 جنوری 2010ء کے پہلے صدارتی الیکشن کے راؤنڈ میں ٹائیمو نے 25% ووٹ کے ذریعے دوسری پوزیشن حاصل کی، یانوکووچ نے 35% کے ساتھ لیڈر کر رہا ہے۔ اس کا آخری مرحلہ 7 فروری 2010ء کو قرار پائے گا۔

اس کی مزید کامیابیوں میں ہسپتال اور ہیلتھ سیکٹر میں 2 سال میں کیے جانے والے فلاحی کام، زرعی کسانوں کے لیے ٹیکس ختم کیے جانا ہے، دیگر معاشی اصطلاحات میں سوویت دور کے لوگوں کے لیے رقوم، ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کے لیے پرائس کنٹرول، مہنگائی کو توڑا، غلط پرائیویٹائزیشن اور سماجی اخراجات پر نظرثانی کے لیے زور دینا، ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو ختم کرنا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کو ملک میں لانے پر ٹیکس ختم کر دینا چاہیئے۔ وہ یقین رکھتی ہے کہ یوکرائن مزید نیو کلیئر پاور اسٹیشن بنا کر اپنی انرجی کی ضروریات پر قابو پا سکتا ہے۔ وہ چا ہتی ہے کہ تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کے لیے تلاش اور انہیں نکالنے کا کام تیزی سے کرنا چاہیے تاکہ انرجی میں یوکرائن خود کفیل ہو سکے۔ کورٹ سسٹم فلاحی ہو جائے۔ ٹائیموشِنکو چاہتی ہے کہ ”یوکرائن قانون اور آئین کی آمریت میں زندہ رہے“ دسمبر 2009ء میں ٹائیمو کی حکومت نے یوکرائن اینٹی کرپشن بیورو بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ ٹائیموشِنکو کی سیاسی بصیرت کے علاوہ اس کی شخصیت اور اسٹائل کو بھی منفرد مقام حاصل ہے۔ اس کے بال بنانے کا اسٹائل خصوصی طور پر مشہور ہوا جو (ٹائیمو) کے مطابق اس نے خود ہی اپنایا ہے۔ 5 جنوری 2010ء میں ٹائیمو شنکو کی نصیحت کرنے والی ساتھی نے ایک اخبار کو بتایا کہ ٹائیموشِنکو یقین رکھتی ہے کہ اس میں Eva Person کی روح ہے۔ اس لیے وہ اس کے اسٹائل کو کاپی کرتی ہے۔

سیاست کی دیوی اور گیس کی ملکہ کے حوالے سے 2009ء کے اوائل میں کیے جانے والے عوامی رائے عامہ کے مطابق 59.1 فی لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ٹائیمو کی تمام سرگرمیاں صرف اس کے ذاتی مفادات کو بچانے کے لیے ہیں۔ 42% غیر ملکی مفادات، 23.9 فیصد کہ وہ ملکی مفاد کے لیے کام کر رہی ہے۔ 77.7 فی لوگ اس کی اکنامک پالیسی سے غیر مطمئن 71.18 فیصد یقین رکھتے ہیں کہ یہ حکومت ملک کو اکنامک بحران سے نہیں نکال سکتی جبکہ 18.1 فیصد یقین رکھتے ہیں کہ یہ حکومت ایسا کر سکتی ہے۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive