|
چیختا
چلاتا شور اور ناکافی سماعتیں
شور
کی آلودگی کے حوالے سے رپورٹ
ربیعہ
ارشد
آواز
قدرت کی بہت خوبصورت اور معجزاتی نعمت ہے
شاعروں نے سریلی اور نقرئی آواز کے الفاظ
اپنی شاعری میں استعما ل کےے ہیں۔ قدرت
کا یہ انمول تحفہ ہمارے کانوں کو بھلی
لہروں سے محظوظ کرتاہیں اور ہم اپنے ماحول
سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہمارے کانوں کو”0
ڈیسیبل“
سے لے کر”Decibal10“
تک
کی آواز ہمیشہ بھلی معلوم ہوگی لیکن جب
یہ آواز حد سے بڑھ جائے تو شور کی تعریف
میں آجاتی ہے، ایسی آواز جو قدرتی عمل میں
رکاوٹ یا انسان کے سننے کی طاقت یا برداشت
سے باہر ہو تو شور کی آلودگی میں شمار ہوتی
ہے۔ شور کی آلودگی بھی ماحولیاتی آلودگی
کی ایک قسم ہے۔ جسے ہمارے ملک میں کسی بھی
طور پر اہمیت نہیں دی جارہی، حالانکہ یہ
ان دیکھی آلودگی ہماری زندگیوں، صحت
(جسمانی
اور ذہنی)
اور
ترقی پر براہِ راست اور بلاواسطہ بہت
زیادہ اثرات مرتب کررہی ہے۔ مثلاً شور کے
حد سے زیادہ بڑھنے سے یہ سننے کی حِس کو
بری طرح تباہ کردیتی ہے۔ اگر اس کا مقابلہ
گرمی اور روشنی کی آلودگی سے کیا جائے تو
شور کے آلودگی کے عناصر یا(Particles)
ہمیں
کہیں نہیں دکھائی دیں گے مگر آواز کی لہریں
قدرتی لہروں کی موجودگی میں خطرات کو
بڑھادیتی ہیں۔ شور کی آلودگی کی وجہ میں
بہت سی آوازیں شاملِ ہیں۔ جن کو ہم اپنی
عام زندگی میں بہت نارمل لیتے ہیں مگر
حقیقت میںیہ ہماری زندگی میں بہت بڑا خطرے
کا باعث ہوتی ہیں۔ شور کی آلودگی میں
جنریٹر، ریل،گاڑی، کار موٹر سائیکل،
رکشہ، جہاز، مشینیں (سلائی
مشین، واشنگ مشین، گراینڈر)
گھر
کے دروازے کی بیل وغیرہ کے
علاوہ،محلوں میں چیختے چلاتے چھابڑی فروش
اور ہمسائیوں کی مشکلات سے بے خبر بلند
آواز میں گلا پھاڑے ہوئے مکین،شامل ہیں۔
سائنسدانوں کی ریسرچ کے مطابق اگر کوئی
شخص مسلسل شور کے ماحول میں زندگی بسر
کرتا ہے تو اس کے سننے کی حِس بتدریج زائل
ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی شور
کی آلودگی جس میں ٹریفک کا شور شامل ہے۔
اس کی وجہ سے انسان ٹینشن، اعصابی تناﺅ،
بے چینی اور طبعیت میں چڑچڑے پن کا شکار
ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ جنریٹر یا مشینوں
کی آواز کی وجہ سے یا اچانک تیز دروازے کی
گھنٹی کی وجہ سے نیند ٹوٹ جاتی ہے یا س میں
خلل آجائے تو اس کی وجہ سے انسان کی طبعیت
میں مزید بے سکونی اور ٹینشن بڑھ جاتی ہے۔
جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور ذہنی صحت
پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ ساری دنیا میں حکومتیں
ماحولیاتی تحفظ کے لیے ادارے بناتی ہیں
تاکہ اپنے عوام کو بہترین زندگی کی سہولت
مہیا کرسکیں۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں
بھی شور کی آلودگی کے حوالے سے علیحدہ
قانون کے لیے علیحدہ ادارہ موجود نہیں۔
امریکہ میں1980ء
کی دہائی سے ہر اسٹیٹ میں شور کی آلودگی
کے حوالے سے علیحدہ قانون لاگو ہیں اور
ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی آلودگی
کے ڈیپارٹمنٹس تو بنائے گئے ہیں۔ مگر صرف
سرکاری عہدے ،مراعات اور فنڈز کو اپنی
ذاتی حیثیت میںخرچ کرنے کے علاوہ کوئی
قابلِ تحسین کام نہیں کرتے۔ شور کی آلودگی
کے صحت پر اثرات کے حوالے سے ”ہم شہری“
نے گنگارام ہسپتال کےENT
اسپیشلسٹ
عاصم اقبال سے گفتگو کی۔ عاصم نے بتایا
کہ شور کی وجہ سے”Noise
induced Trauma“ سننے
کی صلاحیت ختم ہونا اور مزاج میں تبدیلی
کا باعث بن سکتا ہے۔ ہماری روز مرہ زندگی
میں ایسے کئی معمولات ہیں جن کی وجہ سے ہم
شور کی آلودگی کو خود پرمسلط کرلیتے ہیں
جیسے F.M
سننے
کے لیے کانوں میں اسپیکرز لگالیتے ہیں۔
ہائی ٹون میں ریڈیو یا ٹیپ کو سننا۔ یا
جنریٹر کی آواز۔ مشین کی آواز کی وجہ سے
ہماری سننے کی حِس بُری طرح متاثر ہوتی
ہے۔ اس کے علاوہ اونچی آواز کی وجہ سے
ہمارے اندر بعض اوقات ایسا سٹر یس پیدا
ہوتا ہے جو ہمارے خون کی رگوں میں خون کی
رفتار کو بڑھادیتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر
کا سبب بنتا ہے اور بعض اوقات دماغ کی رگ
کے پھٹنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس کے
علاوہ مسلسل شور اور بے آرامی سے چڑچڑا
پن، بے صبری طبعیت کا خاصہ بن جاتے ہیں۔
ہمارے معمولاتِ زندگی جن
میں آفس ورک شامل ہے،بری طرح متاثر ہوتے
ہیں ۔ زیادہ آواز یا شور سے ہمارے سنسری
سیل(Sensory
Cell) بُری
طرحDamage
ہوتے
ہیں4khtz
یا4,000
ڈیسیبل
کی آواز کے بعد شور کی آواز بننا شروع
ہوجاتی ہے۔ خواتین کی آواز پتلی ہوتی ہے۔
مگر یہ شور کی کیفیت نہیں بنا سکتیں۔
خواتین کی آواز کی فریکوینسی مردوں کی
نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ انسانی سماعت جب شور
کی آواز سے Damage
ہونا
شروع ہوتی ہے تو اوائل مرحلے میں انسان
کو کانوں میں چڑیوں کی آواز یا سیٹیوں کی
آواز سنائی دیتی ہے حالانکہ انسان سناٹے
میں ہوتا ہے۔ شور کے آلودگی کے حوالے سے
گورنمنٹ کو چاہیے کہ ایسے لوگ جو فیکٹری
ایریا اور یا ٹریفک شور(ٹریفک
پولیس وارڈن)
میں
کام کرتے ہیں ان کی ڈیوٹی کے اوقات کم سے
کم کر کے چھ گھنٹے کردیں کیونکہ اگر وہ چھ
گھنٹے سے زیادہ اِسی شور والے ماحول میں
رہے گا تو اس کے سننے کی حِس کے علاوہ اس
کی طبعیت میں چڑچڑاپن، غصہ اور مزاج میںبری
تبدیلی آئے گی۔ ایسے لوگوں کاExposure
اور
اوقاتِ کار کم کر کے بھی ایسے لوگوں کو
ذہنی اور جسمانی معذوری سے بچایا جا سکتا
ہے۔
ذہنی
صحت پر کس طرح شور کی آلودگی اثرانداز
ہوتی ہے۔ نصرت حبیب (مینٹل
ہسپتال کی ڈائریکٹر)
کہتی
ہیں کہ شور کی آلودگی سے چڑچڑاپن، بے آرام،
بے سکونی اور نیند میں خلل واقع ہو جاتاہے۔
اونچی آواز، مائیک، لاؤڈرز،
گانے کی اونچی آواز، گاڑی سلنسر، لاؤڈ
اسپیکر یہ سب شور کی مثالیں ہیں، مگر ہم
لوگ کبھی یہ سوچتے ہی نہیں کہ اس آواز سے
مریض، بوڑھے یا بچوں کے آرام میں خلل پڑے
گا اوران کی ذہنی صحت متاثر ہوگی ۔ کیونکہ
بے آرامی اور بے سکونی کی وجہ سے نارمل
انسان اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود
صحیح طور سے پر فارم نہیں کرسکے گا۔ اور
اس کا دفتری کام متاثر ہوگا۔ کیونکہ انسان
کیBoichemistry
کا
موڈ کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اگر موڈ
اچھا ہوگا تو ہمارے نیورو ٹرانسمیٹر بھی
اچھی Vibes
پیدا
کریں گے جو ہمارے اندر مثبت سوچ کو پیدا
کرنے اور بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے
شور بلاواسطہ سائیکی ، یعنی ذہنی صحت کا
بھی مسئلہ ہے۔ نارمل انسان کی ٹینشن میں
خون کی شریانیں سُکڑجاتی ہیں جو خون کے
بہاؤ کو مزید تنگ کردیتی
ہیں۔ جس کی وجہ سے دل کے عوراض اور ذہنی
عوارض کی ابتدا ہوتی ہے۔ اسی طرح یہی ٹینشن
کی سچوایشن یا ماحول حاملہ عورت کے بچے
کی صحت پر بہت بُرا اثر ڈالتا ہے۔ کیونکہ
ایک خاص مدت کے بعد پیری میچور بچہ بھی
سننے کی صلاحیت ڈویلپ کرلیتا ہے۔ اس لیے
زیادہ تیز آواز اس بچے کے سننے کی حِس اور
ذہنی صلاحیت کو بہت حد تک متاثر کرسکتا
ہے۔ شور کی آلودگی سے بچنے کے لیے ہمیں
ٹریفک سگنل پر ہارن نہیں بجانے چاہیے۔
بلکہ حکومت کو بے جا ہارن بجانے پر بھی
چالان کرنا چاہیے۔ جس طرح فون سننے پر
چالان ہے۔ اسی طرح ہارن کے بے جا استعما
ل پر بھی ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ٹریفک،
روڈ بلڈنگ پلاننگ کے محکموں کی مدد سے شور
میں اضافے کی وجہ بننے والے عوامل کو کم
کرنے میں مدد لینا چاہیے۔ حکومت کو چاہیئے
کہ ٹاؤن پلاننگ کو سیاسی
معاملات سے بالکل علیحدہ کردیں۔ تاکہ
عمارتیں اور نہ ہی سڑکیں اس قدر ناکافی
یا غیر کشادہ ہو ں کہ شور کی کیفیت میں
اضافے کا باعث بنیں۔“
گنگا
رام ہسپتال سائیکا ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ شور
کی کیفیت سے نا صرف انسانی کارکردگی اور
صحت خراب ہوتی ہے بلکہ اس سے قدرتی عوامل،
عناصر اور جنگلی حیات یا پالتو جانور بھی
بہت زیادہ متاثرہوتے ہیں۔ ہوائی جہاز کی
آواز ، ریل گاڑی کے گزرنے سے جنگل، گاؤں
یا شہروں میں جانور اچانک سہم جاتے
ہیں اور اگر وہ چارہ کھا رہے ہیں تو فوری
اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ان کے اندر خوف
کی کیفیت کی وجہ سے فشارِ خون بھی بڑھ جاتا
ہے اور بعض سمندری جانور ڈالفن وغیر ہ
سمندرمیں بحری جہاز یا آبدوز کی تیز آواز
کی لہر کے خوف کی وجہ سے سمندر کنارے آجاتے
ہے اور بسا اوقات اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔“
ترقی
یافتہ ممالک میں شور کی آلودگی سے بچنے
کے لیے ہائی برڈ ٹرانسپورٹ (ایک
سے زیادہ انرجی ذرائع۔شمسی بجلی، قدرتی
گیس کی توانائی)
کے
ذریعے چلنے والی گاڑیاں۔ زمین دوز ریل
گاڑی، جیٹ ٹربائن انجن(
بجائے
تیز آواز والے انجن کے ہوائی جہاز)
اور
ساؤنڈ پروف بلڈنگ، فیکٹریوں
میں کم شور والی مشینوں یا ان مشینوں کے
ایریا (جگہ)
کو
ایکریلیک گلاس یا دوسرے سالڈ رکاوٹوں سے
شور کو قید کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں
ماحولیاتی تحفظ کے لیے قانون تو موجود ہے
لیکن اس پر عملدرآمد کے لیے کوئی خاص
میکانزم موجود نہیں کیونکہ فیڈرل سطح کے
علاوہ پنجاب یا صوبائی سطح پر ڈائریکٹر
اس کے بعد عملدرآمد کے لیے ڈپٹی بھی موجود
ہیں لیکن ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے
عوام میں آگاہی کی شرح صفر ہے حالانکہ آنے
والے وقتوں میں ماحولیاتی آلودگی ایک
عالمی مسئلے کے طور پر سامنے آنے والا ہے
مگر ہماری حکومت بہت سے بنیادی مسائل کی
طرح اس بڑے مسئلے پر بھی پُراثر پالیسی
بنانے میں یا کسی قسم کی پلاننگ کرنے میں
سردست ناکام ہے۔
|