|
ناسا
کے خلائی شٹل اینڈیور کی مشن پر روانگی
امریکی
خلائی ادارے نا سا کے خلائی شٹل اینڈیور
کو سات فروری کی صبح مشن پر بھیجا جا ئے
گا۔ ناسا نے یہ پروگرام گزشتہ دنوں ترتیب
دیا ہے، جس میں انہوں نے اعلا ن کیا ہے کہ
خلائی شٹل کو سورج نکلنے سے قبل لانچ کر
دیا جا ئے گا۔ یہ شٹل 13
دنوں
کے خلائی مشن پر روانہ ہو رہا ہے، جس کامقصد
بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی کچھ مرمت
اوردیگر امو ر کی انجا م دہی ہے۔ یہ مشن
اپنے ہمراہ امریکی سٹیشن کے فائنل موڈیول
کا ایک بڑا حصہ بھی لے جائے گا، جسے بین
الاقوامی خلائی سٹیشن کے ساتھ نصب کیا
جائے گا۔ اس فائنل موڈیول کے ذریعے بین
الاقوامی خلا ئی سٹیشن میں خلابازوں کے
لیے زیادہ کمرے اور سہولیات متعارف کروانا
ہے۔ اس حصے کو روبوٹک طریقے سے کنڑول کرنے
کا نظام موجود ہو گا۔ اس نئے حصے کو
ٹرینکوئلٹی کا نام دیا گیا ہے جس سے بین
الاقوامی خلائی سٹیشن کو 90فیصد
تک مکمل کیا جا سکے گا۔اس مشن کے دوران
تین خلائی چہل قدمیاں متوقع ہیں اور ان
چہل قدمیوں میں خلائی سٹیشن کی مرمت اور
نئے حصے کو نصب اور فٹ کر نے کا کا م انجا
م دیا جائے گا۔ خلا باز اس مشن کو تیرہ
دنوں میں مکمل کر یں گے اور بعد ازاں ان
کی زمین پر واپسی ہو گی۔ کیا
چاند زمین پر دھماکے کا نتیجہ ہے ؟
'چاند
کو زمین کی سیاہ راتوں کو چاندنی بخشنے
کا اہم ذریعہ تصور کیا جا تا ہے لیکن ماہرین
کا نظریہ ہے کہ یہ سیارہ زمین پر ہو نے
والے ایک دھماکے سے وجود میں آیا۔ کائنات
کا ارتقا اور زمین کا وجود تو اب تک ایک
بڑے دھماکے یا بگ بینگ کا نتیجہ سمجھا ہی
جا تا تھا لیکن اب چاند کے بارے میں بھی
یہی نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ زمین پر
ہو نے والے ایک دھما کے کی بدولت وجود میں
آیا ہے۔ سائنسد ان اب تک اس حقیقت کے بارے
میں کافی شش وپنج میں مبتلا تھے اور ان کے
شب وروز اس تحقیق میں گزرتے تھے کہ یہ
سیارہ زمین کے مدار میں کیسے ہے اور یہ
یہاں کیسے آیا۔ اس سلسلے میں پہلے عام
نظریہ تھا کہ جب نظام شمسی وجود میں آیا
تو ایک شے زمین سے ٹکرائی اور یوں اس کا
ایک حصہ یا چٹان الگ ہو کر اس کے مدار میں
گھومنے لگی۔ لیکن اب دو سائنسدا نوں نے
اس سلسلے میں نئی توجیہ پیش کی ہے، ان کا
کہنا ہے کہ یہ خلا میں ہو نے والے دھما کے
اور کسی شے کے زمین سے ٹکرا نے کا نتیجہ
نہیں بلکہ چا ند کا وجو دزمین کے اندر ہی
ہو نے والے اس کے اپنے نیوکلیئر دھما کے
کا نتیجہ ہے ۔یہ نظریہ فیوژن تھیوری کے
نتیجے میں پیش کیا گیا ہے، یہ تھیوری سب
سے پہلے 19ویں
صدی میں با قاعدہ طو رپر سامنے آئی تھی۔
فیوژن تھیور ی کے مطابق زمین اور چاند ایک
ہی پگھلی اور دھنی ہوئی چٹان سے بنے ہیں،
یہ زمین کا ہی ایک حصہ ہے جو بعد میں الگ
ہو ا اور چاند کی صورت زمین کے مدار میں
گھو منے لگا۔تاہم سائنسد ان یہ تفصیل
بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ دھما کہ کس طرح
ہوا او ر اس کی وجوہات کیا تھیں۔ یونیورسٹی
آف ویسٹرن کیپ سے تعلق رکھنے والے راب ڈی
میجر اور ایمسٹرڈیم کی ایک یو نیورسٹی کے
ویم وین نے یہ نیا نظریہ پیش کیا ہے جس میں
چا ند کو زمین کا ہی ایک ٹکڑا سمجھا گیا
ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ایک سیارہ تھے
لیکن کسی وجہ سے ایک بڑا نیوکلیئر دھماکہ
ہوا جس سے زمین کا ایک ٹکڑا الگ ہو کر خلا
میں چلا گیا۔ زمین کے مدار میں گھو منے
والی زمین کا حصہ ہی چٹان بعدا زاں چاند
کہلائی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نظریے کو جا
نچنے کے لیے اگر چاند کو کسی بیرونی دباؤ
کے تحت زمین سے دور کر دیا جا ئے تو ہما رے
اس نظریے کی سچائی سامنے آسکتی ہے۔ وہ
کہتے ہیں کہ اگر چاند سے حاصل کیے جا نے
والی چٹانوں یا سطح کے نمو نوں پر ریسرچ
کی جا ئے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ زمین اور
چا ند کے بناوٹی عناصر ایک ہی ہیں۔ وہ کہتے
ہیں کہ زمین پر سینٹری فیوژن کا عمل یہاں
موجود بے تحاشا یورینیئم اور تھوریئم
عناصر کی وجہ سے ہو ا ہو گا جس سے چھوٹے
چھوٹے دھماکوں کا سلسلہ اور پھر بڑے دھماکے
سے یہ ایک حصہ زمین سے الگ ہو کر اس کے مدار
میں جا ٹھہرا ہو گا۔الگ ہوئی یہی چٹان
چاند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک مشکل تھیوری
ٹیسٹ ہے او ر اس پر کا م کافی مشکل ہے مگر
ہمیں یقین ہے کہ اس نظریے کی حقیقت کو
جاننے کے لیے مزید تحقیقات ہوں گی اور ہم
آخر حقیقت تک پہنچنے میں کا میاب ہو جا
ئیں گے۔
سیاروں
پر ایلین لائف کاوجود ایک معمہ
ممکنات
کی دنیا بہت وسیع ہے جہاں نت نئے مفروضے
جنم لیتے ہیں۔ہماراتخیل اور سوچ ممکنات
کی دنیا کااحاطہ کر نے کی کوشش اور جستجومیں
لگی رہتی ہے لیکن وہیں سے لوٹ آتی ہے جہاں
تک ہماری سوچ کا سفر ختم ہو تا ہے۔ حالا
نکہ یہ دنیا اتنی بے کراں ہے کہ کائنات کے
وجود کے آخری دن تک کی گئی کوششیں بھی
ممکنات کی حقیقت اور وسعت کو نہ پا سکیں۔
ایسی ہی ایک کوشش کائنات کے دوسرے سیاروں
کے بارے میں ہے اور قرین قیاس ہے کہ ان
سیاروں پر کہیں نہ کہیں زندگی کا وجود ہے۔
اگرچہ یہ زندگی ہم سے کہیں مختلف ہو لیکن
وہ اپنے سیارے کی آب وہو اور رہن سہن کے
مطابق ضرور وجود رکھتی ہو گی۔ ایلین لائف
کے بارے میں بھی سائنسدا نوں کی ریسرچ ایک
زما نے سے جا ری ہے کیونکہ سائنسد انوں کا
قرین قیاس ہے کہ کا ئنات میں زمین کے علا
وہ بھی زندگی کے پائے جا نے کے کئی شواہد
ہمارے گرد و نواح میں موجود ہیں۔ ماہرین
کا کہنا ہے کہ ایک دن ایسا ہو گا جب ہم
خلائی سٹیشنوں کے ذریعے دوسرے سیاروں پر
بسنے والی مخلوق کا سراغ لگا لیں گے اور
یہ ہمارے لیے حیرانی ہو گی وہ کتنی منظم
زندگی گزار رہے ہیں۔ ایلین لائف کے بارے
میں غور فکر اور نظریات کا تبادلہ لندن
میں ہو نے والی ایک کانفرنس میں ہو ا جس
کا موضوع ایلین لائف کاسراغ اور یہ جا ننا
تھا کہ اگر کا ئنا ت کے دیگر سیاروں پر
ایلین لائف پائی جا تی ہے تو کیا وہاں بھی
سمندر ،پانی یا دیگر بنیادی عناصر موجود
ہوں گے۔ رائل سوسائٹی اینڈ ایسٹرونومر
رائل کے صدر لارڈ ریس کا کہنا تھا کہ میرا
خیال ہے کہ وہاں زندگی موجود ہے لیکن وہ
جس شکل میں ہے اسے ہم سمجھ نہیں سکتے۔ آج
جب ٹیکنالوجی بے حد ترقی کر چکی ہے اور اب
پہلی بار ہم اصل میں کئی سیاروں کے موجود
ہونے کی امید کر سکتے ہیں، یہ سیارے زمین
جتنے بڑے ہو سکتے ہیں۔ ہم یہ بھی جا ن پائیں
گے کہ وہاں کی فضا کیسی ہے اور وہ کسی مخلوق
کے لیے سازگار ہے کہ نہیں۔فلا ڈلفیا سے
تعلق رکھنے والے آسٹروبیالوجسٹ بروچ بلوم
برگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی یہ کنفرم
نہیں کہ کائنات میں کہیں بھی ایسی کسی بھی
زندگی کا وجود ہے مگر کچھ شواہد ہمیں اس
کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور
کر تے ہیں۔ اس کانفرنس میں شامل سینٹ
ایندریو نیورسٹی سکاٹ لینڈ کے ماہر فلکیا
ت مارٹن ڈومینک کہتے ہیں کہ یہ میری نہایت
واضح پیشین گوئی ہے کہ آئندہ آنے والی
نسلیں ایلین لائف کا سراغ لگا نے میں کا
میابی حاصل کرلیں گی اور یہ دن دو ر نہیں
ہے۔ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے ایوارڈ
یافتہ پروفیسر پال ڈیویز نے کہا ہے کہ ایک
عرصے سے سائنسدان خلا میں ایلین لائف کے
آثار ڈھونڈ رہے ہیں، حالانکہ انہیں یہ
آثار چھوٹے چھوٹے مائکروبز کی صورت میں
ان کے قریب ہی کہیں مل سکتے ہیں۔ لندن کی
رائل سوسائٹی جو برطانیہ میں تحقیق کے
شعبے سے متعلق ہے، سے خطاب کرتے ہوئے انہوں
نے کہا کہ ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تمام
زندگی ایک ہی وجود سے پیدا ہوئی ہے۔
ایکسٹراٹیرسٹریل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر
جل ٹارٹر کہتی ہیں کہ پروفیسر پال آج سے
چار سال پہلے ایک آرٹیکل لکھ چکے ہیں جس
کا عنوان "کیا
ایلین ہمارے درمیان تو نہیں ہیں"
تھا۔
اس تحقیق کوایلین لائف کی تلاش میں لگے
دوسرے سائنسدانوں نے بے حد پسند کیا تھا۔
جارج واشنگٹن یو نیورسٹی کی آسٹروکیمسٹ
پاسک لکہتی ہیں کہ اگر زمین پر کا
ربن،مالیکیول ،گردو غبار موجود ہے تو یہ
سیاروں کے درمیان خلا میں بھی پایا جا تا
ہے۔ یہ زندگی کے ابتدائی عناصر سمجھے جاتے
ہیں اور زمین پر تو پہچانے جاتے ہیں لیکن
خلا یا دیگر سیاروں پر ان کے بارے میں خاطر
خواہ تحقیق نہیں کی جا سکی۔ لائف بلا ک
ہماری کہکشاں اور ملکی وے کے علاوہ سیاریاتی
سسٹم میں بھی پایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا
خیال تھا کہ نئی فلکیاتی ٹولزجن میں طاقت
ور رصد گاہی ٹیلی سکوپ شامل ہیں، سے نظام
شمسی کے باہر کی دنیا کا سراغ بھی لگایا
جا رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان سیاروں
پر پائی جا نے والی زندگی بھی سامنے آجائے۔
دنیا
کا پہلاماحول دوست کمپیوٹر تیار
ماحولیاتی
آلودگی کم کر نے کے لیے یوں تو سائنسدا ن
بہت سی ایسی ٹیکنالوجیز متعارف کروا نے
کی کوشش میں ہیں جو ماحول دوست ہوں اور اس
سے فائدہ حاصل کر نے کے ساتھ ساتھ اسے
ماحول کی مطابقت سے بنایا جا ئے ۔تاہم اب
پہلی بار ایک آئی ٹی کمپنی نے ایسا کمپیوٹر
متعارف کروایا ہے جو ماحول دوست ہے۔ اسے
دنیا کا پہلا ماحول دوست اور ٹاکسن فری
کمپیوٹر کا نام دیا گیا ہے۔ اس کمپیوٹر
کو وائپرو انفو ٹیک نامی ایک کمپنی نے
متعارف کروایا ہے، جو آئی ٹی اور بزنس
ٹرانسفارمیشن سروس میں سرکردہ اہلیت
رکھتی ہے۔ اس کمپنی کے ایجاد کر دہ کمپیوٹر
مکمل طور پر ماحول دوست ہیں اور انہیں
ایسے میٹریل سے بنایا گیا ہے جو مضر کیمیکل
سے پاک ہوں گے۔ اس کمپیوٹر کی تیار ی میں
پولی ونل کلوائڈ اور برموینیٹڈ ریٹارڈنٹ
جیسے مضر کیمیکل بالکل نہیں پائے جاتے۔
یہ کمپیوٹر انٹل کور 2
کے
ڈو پروسیسر پر مبنی ہے۔ اس ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر
کو گرین ویئر کمپیوٹر کا
نام دیا گیا ہے، جس میں کارسینوجینک میٹریل
نہیں ہوں گے۔ اس کمپیوٹر کو وائپرو انفوٹیک
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو انوراگ بہار نے
متعار ف کروایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں
زہریلے مادے بالکل نہیں پا ئے جاتے اور
اہم بات یہ ہے کہ الیکٹرونکس مصنوعات کو
ری سائیکل کرنے کا عمل انہیں زیادہ فائدہ
مند اور محفوظ بناتا ہے۔ اس کمپیوٹر کی
تیاری کا مقصد کلین پروڈکشن اور ری سائیکلنگ
پالیسی کو فروغ دینا ہے۔ وہ کہتے ہے کہ یہ
نہایت مشکل مراحل ہیں جن کا کوئی متبادل
طریقہ بھی نہیں۔ وائپرو نے 37
بین
الاقوامی سپلائرز کے ساتھ کا م کیا ہے
تاکہ آنے والے برسوں میں مکمل طورپرٹاکسن
فری پراڈکٹ سامنے لائی جا سکے اور ہم اس
میں کا میاب ہو چکے ہیں۔ان ماحول دوست
ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کی کامیابی کے بعد بہت
جلد گرین وےئر لیپ ٹاپ بھی منظر عام پر
لائے جائیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کمپیوٹرز
ای ویسٹ یعنی بے کار اشیا سے تیار کیے گئے
ہیں اور اس مد میں وائپرو نے انڈیا بھر
میں 17
ای
ویسٹ کو لیکشن سینٹر قائم کیے تھے۔ جہاں
ان استعمال شدہ اور بے کار پروڈکٹس کو جمع
او ری سائیکل کیا جا تا تھا۔
|