03/09/2010
 
 
   
 
 
  ”میرا مقابلہ میرے اپنے ساتھ ہے“
 

میرا مقابلہ میرے اپنے ساتھ ہے“

ماڈل و اداکارہ زاراشیخ سے بات چیت

علی نقوی

زارا شیخ بلا شبہ ہماری فلم انڈسٹری کا درخشاں ستارہ ہے اور گذشتہ کچھ برسوںسے وہ فلم انڈسٹری میں اہم مقام حاصل کر چکی ہیں۔ Jazz کے اشتہار سے لے کر یاسر اختر کے ہٹ گانے ’او صنم‘ کی ویڈیو میں کام کرنے کے علاوہ زارا ماڈلنگ کے ساتھ اب گلوکارہ کے طور پر بھی اپنی پہچان بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ ان دنوںعلی حیدر کے ساتھ مل کر اپنے البم کی تیاری میں مصروف ہے۔”ہم شہری“ کے ساتھ بات چیت کے دوران زارا شیخ نے اپنے فن کارانہ سفر کے حوالے سے بتایا۔

س:۔ زیادہ تر کیا سوچتی رہتی ہیں؟

ج:۔ یہی کہ مجھے شاپنگ کے لیے جانا ہے فون کالز کرنا ہیں، اپنے ڈیزائنر سے ملنا ہے، شوٹنگ کے لیے جانا ہے۔ آہ، یہ سب بہت تھکا دینے والا کام ہے۔

س:۔ اگر آپ کو کسی سے معافی مانگنی پڑے تو کس سے؟

ج:۔ اپنی والدہ سے کیونکہ میں اپنے مصروف شیڈول کی وجہ سے انہیں ٹائم نہیں دے پاتی۔

س:۔ وہ جگہ جہاں آپ جانا پسند کرتی ہیں؟

ج:۔ گھر

س:۔ کس چیز سے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے؟

ج:۔ بُری قسمت سے

س:۔کون سی بات آپ کو مثبت رویہ اپنانے پر مجبور کرتی ہے؟

ج:۔ میری مضبوط قوت ارادی

س:۔ اپنی کوئی اور خوبی بتائیں

ج:۔ یہی کہ اگر میں ناکام ہو جاتی ہوں تو میں گا سکتی ہوں۔

س:۔ اگر آپ کو خود میں کوئی تبدیلی کرنا پڑے تو کیا ہو گی؟

ج:۔ یہی کہ میں لوگوں کو سمجھا نہیں پاتی۔

س:۔ اگر آپ کو دو خط لکھنے ہوں تو کس کولکھیںگی؟

ج:۔ ایک تو تمام میگزین کے ایڈیٹرز کو کہ مہربانی کر کے انڈین ثقافت کو پروموٹ کرنا بند کریں اور اپنے ٹیلنٹ کی مدد کریں اور دوسرے خاور ریاض کو ” کہ میں اتنی بُری نہیں جتنا آپ سوچتے ہیں“ مجھے آپ کی حقیقتاً پرواہ ہے۔

س:۔ مشہور ہونے کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟

ج:۔ لوگ آپ سے بادشاہوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

ہم شہری:۔ آج تک سب سے اچھی رائے جو آپ کے بارے میں تھی؟

ج:۔ کہ تم ہماری فلم انڈسٹری میں تازہ ہوا کا جھونکا ہو۔

س:۔ آپ کی زندگی میں اہم ترین لوگ؟

ج:۔ میری فیملی اور آپ جانتے ہیں کہ دوسرا کون۔

س:۔ دنیا کا خوبصورت ترین مرد کون لگتا ہے؟

ج:۔کولن فیرل

س:۔ اگر ایکٹر نہ ہوتی تو کیا ہوتی؟

ج:۔ تب میں گلو کارہ ہوتی۔

س:۔ آپ کا قیمتی اثاثہ؟

ج:۔ میرا وژن (Vision)

س:۔ آپ کی صحت مند عادت ؟

ج:۔ میں پانی بہت پیتی ہوں۔

س:۔ سب سے بہترین دن کونسا لگتا ہے؟

ج:۔ جب میں مصروف نہیں ہوتی۔

س:۔ کیسے مرنا پسند کریں گی ؟

ج:۔ جس سے درد بہت کم ہو۔

س:۔ تین لوگ جنہیں تم بہت پسند کرتی ہو؟

ج:۔ خاور ریاض، شہزاد گل اور میکال۔

س:۔ ہماری تمام اداکاراﺅں میں مقابلے کی دوڑ لگی ہوتی ہے۔ ہر کوئی اپنے آپ کو نمبرون کہتی ہے اس تمام صورت حال میں خود کو کہاں دیکھتی ہیں؟

ج:۔ میں نے ان سب کوصرف ایک دوسرے کے لیے گندی زبان استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے بلکہ یہ سب معمولی باتوں پر ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ میں بار بار اس بات کا انکار کر کے تنگ آ چکی ہوں کہ میں حقیقتاً ان نمبرز کی دوڑ پر یقین نہیں رکھتی۔ میں اپنی پوزیشن اپنی جاندار پرفارمنس کے ذریعے بنانا چاہتی ہوں ۔ میرا مقابلہ میرے اپنے ساتھ ہے۔ میں نے ان تمام فلموں کو ٹھکرایا ہے جن میں ہیروئن کا مقصد گلیمر پیدا کرنا اور جسم کی نمائش ہوتاہے۔ چاہے مجھے کتنی بھی رقم آفر کی جائے۔

س:۔ آپ نے اب تک جتنے رول کیے ہیں ۔سب ایک دوسرے سے منسوب ہیں۔ لیکن سب سے مشکل کردار کونسا لگا؟

ج:۔ اگرچہ ” لاج“ میں میرا کردار بہت مشکل تھا اور فلم بھی بہت عمدہ موضوع پر بنائی گئی تھی لیکن جو کردار مجھے کر کے مزہ آیا ہے، وہ فلم ” چلو عشق لڑائیں“ کا تھا ۔ اس کے دو انتہائی الگ حصے تھے۔ فلم کے پہلے حصے میں میں نے ایک سیدھی سادھی لڑکی کا کردار نبھایا ہے جبکہ دوسرے حصے میں یہ سیدھی سادھی لڑکی ایک مغربی گلیمرس گرل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

س:۔ ٹیلی ویژن کے لیے آپ بہت کم کام کیا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

ج:۔ چاہے فیشن ہو، ماڈلنگ ہو یا ٹی وی لیکن جو شہرت اور مزہ فلم کرنے میں آتا ہے، وہ کسی طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔ فیشن انڈسٹری میں کامیابی حاصل کرنے کے بعدجتنا میں کر سکتی تھی میں فلم انڈسٹری کا حصہ بن گئی اور مجھے یہ بتانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ آج بھی جو فلم بنتی ہے سب سے پہلے مجھے آفر کی جاتی ہے لیکن میری خوش قسمتی ہے کہ میں ان کرداروں کو قبول کرتی ہوں جن میں ا پرفارمنس کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ میرے Fans کی بھی فتح ہے جو مجھے سپورٹ کرتے ہیں۔ لیکن ٹی وی پر کم کام کرنے کی بھی کوئی ایسی خاص وجہ نہیں۔ حال ہی میں ایک ٹیلی فلم مکمل کی ہے۔ لیکن بڑی سکرین ہمیشہ سے میری پہلی ترجیح رہی ہے۔

س:۔ ہماری انڈسٹری کی موجود حالت بہت سے سوالوں کو جنم دیتی ہے آپ کے خیال میں کون اس سب کا ذمہ دار ہے؟

ج:۔ میں خود انڈسٹری سے تعلق رکھتی ہوں اور آج جو کچھ بھی ہوں انڈسٹری کی وجہ سے ہوں۔ میں یہ دیکھ کر بہت برا محسوس کرتی ہوں کہ انڈسٹری کو وہ مقام نہیں دیا جا رہا جو اس کو ملنا چاہیے۔ ہر کوئی ہمارے فلم سٹارز پر ہنسنا پسند کرتا ہے، بتائیے کیوں۔ کچھ بھی اچھا کرنے کی بجائے لوگ انڈسٹری کے بارے میں بکواس کرتے ہیں اگر انڈسٹری کو کسی چیز نے تباہ کیا ہے تو اس میں مجموعی طور پر اقربا پروری، گروپ بندی، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا اور غیر حقیقی تنقید ہے۔ ان سب نے مل کر انڈسٹری کو تباہ کر دیا ہے۔ بد قسمتی سے جو میں کرتی ہوں اور جو رویہ رکھتی ہوں دوسری اداکارائیں اس پر یقین نہیں رکھتی۔

ہم شہری:۔ لیکن آج لگتا ہے کہ زارا شیخ کہیں نہیں ہے کیا یہ آپ کے محدود کام کرنے کا نتیجہ تو نہیں کہ جس نے آ پ کو سب سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔

س:۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ مشترکہ پروڈکشن میں فلمیںبننا چاہئیں؟

ج:۔ میں اس بات کے حق میں ہوں لیکن ہمارے فنکاروں کو برابری کی بنیاد پر کام کرنا چاہیے۔ ماضی میں کئی مثالیں ہیں کہ جن میں ہمارے فنکاروں کوہندوستان میں دھوکا دیا گیا ہے۔ حال ہی میں معمر رانا کی مثال لے لیں وہ ہماری فلم انڈسٹری کا بڑا اداکار ہے مگر وہاں اس کے رول کو صرف ایک گانے اور ایک سین تک محدود کر دیا گیا۔ بد قسمتی سے ہمارے لوگ اس صورت حال سے نا واقف ہیں اور کسی رول کو بغیر دیکھے اور جانے قبول کر لیتے ہیں۔

س:۔ کچھ ہمیں اپنے نئے پراجیکٹس کے بارے میں بتائے جس سے آپ کی امیدیں وابستہ ہیں؟

ج:۔ حال ہی میں ایک ٹیلی فلم کی ریکارڈنگ مکمل کی ہے جسے اقبال کشمیری صاحب نے ڈائریکٹ کیا ہے، میں اس میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہوں جو کہ دیکھنے کے قابل ہو گا۔ اس کے علاوہ شہزاد رفیق کی نئی پنجابی فلم میں مجھے ہیروئن کا کردار آفر کیا گیا تھا۔ لیکن میں پنجابی کے ساتھ ذرا Confertable محسوس نہیں کرتی اور نہ ہی میں لاچا کرتا پہن کر بارش والے گانے کر سکتی ہوں اور ذہنی طور پر میرے Fans اس کو قبول نہیں کر سکتے ، سو میں نے انکار کر دیا ہے۔ اس کے بعد جاوید رضا کی ” کبھی پیار نہ کرنا“ میں معمررانا کے ساتھ کام کر رہی ہوں یہ ایک لوسٹوری ہے۔

س:۔ اگر آپ کو مہیش بھٹ کی طرف سے نظر 2 میں کام کرنے کی پیش کش ہو تو کیا آپ قبول کریں گی؟

ج:۔ وہ ایک اچھے ڈائریکٹر ہیں لیکن اگر مجھے اچھا کردار دیا جاتا ہے جیسا کہ رانی مکھرجی نے فلم ”ویر زارا “میں کیا تھا ، وہاں کام کرنے کے لیے بھی میری شرائط وہی ہیں جو میں یہاں پر رکھتی ہوں۔

س:۔ آپ نے گانے بھی گائے ہیں تو کیا اپنی البم ریلیز کرنے کا ارادہ ہے؟

ج:۔ مجھے گانے سے محبت ہے موسیقی سے محبت ہے اور لوگوں نے مجھے گانے کا جو میں نے ” چلوعشق لڑائیں“ میں گایا بہت اچھا رسپانس دیا ہے میں اپنے البم پر کام کر رہی ہوں لیکن ہمارے چینلز کو دیکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اس طرح ہمارے میوزک کو بھی اب مشکل کا سامنا ہے۔ ناظرین یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ انہیں کیا دیکھنا اور سننا ہے لیکن جب بھی میں البم ریلیز کروں گی تو وہ تجربہ منفرد اور خوشگوارہو گا۔

س:۔ ہم نے سنا ہے کہ آپ نے ” دیوداس“ میں کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اب ریما اور میرا اس کو کر رہی ہیں؟

ج:۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس فلم کو بنانے کی کوئی تک ہے۔ حالیہ Remke ایک بہت بڑی کامیابی تھا اور اس پر ہندوستان میں پیسہ بھی بہت خرچ ہوا اتنے چھوٹے بجٹ اور مارکیٹ کے ساتھ میرا نہیں خیال کہ یہ فلم کامیاب ہو پائے گی۔ اس لیے میں نے ” پارو“ کا کردار کرنے سے انکار کر دیا۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive