|
بس
ہوا سے دوستی رکھی
ظہور
احمد کے اولین شعری مجموعے کے حوالے سے
ایک تاثر
ریاض
حسین
یہ
کتاب چھپنے سے کافی مہینے پہلے کی بات ہے
کہ پہلی بار ظہور احمد کے دفتر گیا تھا۔
کام تو جو ہوا سو ہوا، البتہ ایک دوسرے سے
رابطے میں رہنے کی ایک صورت نکل آئی۔ وجہ
ہم دونوں میں چار باتوں کا مشترک ہونا
تھا۔ جن میں سب سے مضبوط حوالہ گورنمنٹ
کالج لاہور ہے جس سے ہم دونوں کو محبت ہے۔
(مگر
ظہور صاحب کو ایک کے بجائے دو محبتیں نصیب
ہوئی ہیں یعنی ان کو کالج ہی سے نہیں کالج
کو بھی ان سے محبت ہے۔)
دوسرے
نمبر پر شعبہ فلسفہ اور چند اشخاص ہیں۔
تیسری اور چوتھی وجہ اشتراک کا ذکر آخر
میں آئے گا۔
اُن
دنوں ظہور صاحب سے کئی ملاقاتیں اور باتیں
ہوئیں۔ سیاست، عدلیہ، دفتری امور،اکتساب
تجربات، تذکرہ اولیا اور طب کی باتوں کے
ساتھ ساتھ ایک آدھ بار ان سے شاعری بھی
سننے کوملی۔ ہوا یوں کہ ایک روز اپنی کتاب
کے مسودے کی کاپیاں کروانا چاہ رہے تھے۔
بات ہی کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ کہنے لگے
”چلو، ایک کاپی آپ کو بھی دے دیتے ہیں۔“
اور جب مسودہ پڑھتے پڑھتے لگا کہ آخر ہمارے
بھی کچھ دل کے سلسلے تھے اور ایک طور سے
اب بھی ہیں اور مسودہ پڑھتے وقت چڑیا میرے
بھی کندھے پر آبیٹھی تو تھوڑی سی ناپختہ
،کچھ پختہ، سادہ اور خالص چند باتیں لکھنے
کی ٹھان لی۔
میں
نے کتاب کا پورا مسودہ پڑھ ڈالا۔ کہیں
جلدی میں اور کہیں رک رک کر۔ پڑھ چکنے کے
بعد میں کچھ حیران سا ہوا اور سوچا کہ عجیب
بات ہے ظہور کو مذہبی و تہذیبی حوالے سے
فارس اور عرب سے نسبت ہے مگر مفرّس اور
معرّب تراکیب والفاظ کا استعمال ممنوع
سمجھتا ہے۔ وہ اردو شاعری کا سنجیدہ طالب
علم رہا ہے مگر شاعرانہ استعاروں اور
کنایوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔ فلسفے
میں ایم اے کررکھا ہے مگر عمق و گہرائی
میں اترنے سے احتراز کرتا ہے۔ وہ عشق و
رومان کی روایت وریت کا امین اور پاسدار
ہے مگر معشق الفاظ سے گریز کرتا ہے۔ اگر
یہ تمام باتیں سچ ہیں، اور یہ سچ ہیں تو
کیا وجہ ہے کہ پھر بھی اس کی شاعری انتہائی
دلگداز، نشاط انگیز اور رومان پرور ہے۔
دماغ میںمعطر شگوفے پھوٹتے ہیں اورشعر
دل کے تاروں کو چھوتے ہیں۔
جناب، اس کا سیدھا سادہ جو اب یہ ہے کہ بات
اُس کے دل سے نکلی ہے، اُس نے اپنے اندر
موجود سچ کونظم کیا ہے۔ واقعات و تجربات
خواہ بادی النظر میں عام ہی کیوں نہ ہوں
مگر وہ محسوسات کے راستے سے ہوتے ہوئے
ظہور کے قلب تک پہنچے ہیں جہاں تخلیق کا
کیمیائی عمل مکمل ہونے کے بعد نظم برآمد
ہوئی ہے، شعر تخلیق ہوا ہے۔ ظہور عام فہم،
سادہ اور سجل زبان سے اثر پذیری پیدا کرنے
کے فن سے خوب واقف ہے۔ نظم” دفتر اور کالج
کے درمیاں کہیں اک یاد ہے“ کی آخری سطریں
دیکھئے:
مگر
زندگی یوں گذر تو رہی ہے
خدا
کا بڑا شکر ہے کہ
بڑے
چین میں ہوں میں
جیسا
کہ تم نے لکھا ہے
کہ
سکھ میں ہو تم بھی
تو
کیا فائدہ
یاد
کرنے کا
اور
جاگنے کا
کہ
دفتر میں پہنچوں اگر دیر سے میں
تو
گذرے دنوں کی کوئی یاد بھی ایسا اچھا بہانہ
نہیں ہے۔
ظہور
احمد موجودہ صورتحال میں ایک ’مس فٹ‘
انسان ہے مگر بعض مجبوریوں کے سبب اس نے
سمجھوتہ کررکھا ہے۔ وہ ایک روادار اور
شائستہ انسان ہے اور رواداری اور شائستگی
کا سہارا لے کر اپنی شاعری پر مصلحت کوشی
کا پردہ چڑھا رکھا ہے، جس نے یادوں کے مارے
ہوئے ظہور کو چھپالیا ہے۔ مگر ایسا بھی
نہیں....
ظہور
احمد پھر بھی ظاہر ہوگیا ہے....
ظہور
ظاہر بھلا کیسے نہ ہوتا، اس کا پیرایہ
اظہار ہی ایسا ہے۔
سبھی
جوڑوں نے مڑ مڑ کر یہ دیکھا
ظہور
احمد اکیلا جا رہا تھا
محبت
چھوڑی سب یار بھی ناراض کرڈالے
وہاں
سے واپسی پر بس ہوا سے دوستی رکھی
اسی
طرح نظم” اس جزیرے پہ کچھ روز ٹھہرے تھے
ہم“ ظہور احمد کے اندر کے دکھ اور اندر
کی اداسی کا پردہ چاک کردیتی ہے۔
ظہور
احمد یادوں میں نہیں بستا بلکہ یادیں خود
اس کے اندر بستی ہیں۔ پہلی صورت میں فنکار
موضوعی داخلیت پسندی کا سہارا لیتے ہوئے
اپنی ہی ایک دنیا تخلیق کرلیتا ہے جبکہ
دوسری صورت میں اسے لمحہ موجود کی خارجی
دنیا کے ساتھ ہی مطابقت و مفاہمت پیدا
کرنا پڑتی ہے جو کہ انتہائی مشکل امر ہے۔
نظم ”زندگی اس طرح بھی گذاری جا سکتی ہے“
میں ظہور احمد ہمیں یقین دہانی کرارہا ہے
کہ اس نے حالات جیسے تیسے بھی ہوں اُن سے
سمجھوتہ کرتے ہوئے زندگی گذارنے کا ڈھنگ
سیکھ لیا ہے اور اب وہ مطمئن ہے۔ مگر ایسا
ہرگز نہیں۔ ظہور احمد تخلیق کار ہے۔ محبتوں
کا مارا ہوا تخلیق کار کبھی مطمئن نہیں
رہ سکتا۔ اس نظم کی چند سطریں ملاخطہ
کیجئے:
ایک
زندگی مشکل ہے
ایک
یاد آتی ہے
اور
ایک کی آرزو ہے
ایک
زندگی میں گزار چکا ہوں
ایک
میں گذار نہیں سکتا
اور
ایک میں گزار رہا ہوں
زندگی
کے اسdilemma
کا
شکار ظہور جب محبت اور یاد سے نپٹنے ، شام
اور ہوا کو ٹالنے کی بات کرتا ہے تو ہمیں
اُس کے اِس دعوے پر یقین نہیں آتا:
یاد
ٹھنڈی ہوا کے ساتھ آئی
نیند
ٹھنڈی ہوا کے ساتھ گئی
”نکے
ہوندیاں دی یاد“ انتہائی سیدھے سادے
بیانیہ انداز میں لکھی ہوئی ایک پنجابی
نظم ہے جو بظاہر کسیcontent
اور
کسی موضوع سے خالی ہے مگر اس کی ایک ایک
سطر اداس یادوں سے بھیگی ہوئی ہے۔ نظم
قاری کو دور ماضی میں جا پھینکتی ہے جہاں
کا نیچرل ماحول، بچپنا اور سجل دیہاتی
زندگی مل جل کر قاری پر مجموعی تاثر
سوگوارچھوڑتے ہیں۔ چونکہ شاعر کی اس ماضی
سے خارجی سطح پر ربط کی ڈور ٹوٹی ہوئی
محسوس ہوتی ہے، جس کا براہِ راست نتیجہ
ناستیلجیا کی صورت میں نکلا ہے اور یہی
ناستیلجیا شاعر کی داخلی زندگی کا ایک
مستقل جزوبن کررہ گیا ہے۔
معروضیت
اور موضوعیت کی بحث بڑی پرانی ہے۔دنیا کی
بڑی شاعری موضوعی شاعری ہے۔ ظہور احمد
موضوعی تجربات اور محسوسات میں ہمیں پوری
طرح اپنے ساتھ لےکر چلتا ہے۔ ”یہ دل کے
سلسلے“ کے دوران مطالعہ ہمارے اپنے وجود
سے اداسی کی مرتعش لہریں نکلنے کاکوئی
عمل شروع ہوجاتا ہے۔ یہ لہریں اندر کی
جانب رُخ کرتی ہوئی ہمارے نہاں خانہ دل
سے جاٹکراتی ہیں اور وہاں جو کپکپاہٹ پیدا
ہوتی ہے اس کی کیفیت کچھ یوں ہے کہ اگر فرض
محال قاری رات کے پچھلے پہر اکیلا کمرے
میں یہ کتاب پڑھ رہا ہو تو عین ممکن ہے کہ
وہ صورت حال کا سامنانہ کرسکے، گھبرا کر
اٹھ بیٹھے اور صحن میں آجائے یا باہر گلی
میں نکل آئے۔
میں
نہیں سمجھتا کہ میں نے ظہور احمد کی شاعری
پر کوئی مضمون باندھا ہے۔ میری کیا مجال
کہ شاعری کے موضوعات، اس کے مختلف پہلووؤں
اور فنی محاسن پر کوئی بات کرسکوں۔ یہ کام
نقاد یاپختہ قاری کا ہے۔ میں نے تو اس کی
شاعری سے صرف ’اداس یادوں‘ کو چنا ہے اور
یہی وہ تیسری بات ہے جو ظہور احمد میں(بطور
شاعر)
اور
مجھ میں(
بطور
غیر شاعر)
مشترک
ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ چوتھی بات کون سی
ہے؟ بات زیادہ لمبی ہوجائے گی۔ اس کاذکر
ظہور احمد کی شاعری کی دوسری کتاب کی اشاعت
تک موقوف کردیتے ہیں!!
نام
کتاب : یہ
دل کے سلسلے
شاعر: ظہور
احمد
قیمت: 150
روپے
پبلشر: سانجھ
پبلیکیشنز، دوسری منزل،
مفتی
بلڈنگ، 17/31
ٹیمپل
روڈ، لاہور
ای
میل: sanjhpks@gmail.com
غزل
غزل
کہنی بہت سوں کے لیے جنجال کے جیسی
ظہور
احمد کے ہاں لیکن یہ حسب حال کے جیسی
بھلانے
کا نیا نسخہ اکارت ہی گیا آخر
طبیعت
ہو گئی پھر سے گذشتہ سال کے جیسی
بہار
آئی ہے باغوں میں کئی رنگوں کے پھول آئے
نہیں
ہے پنکھڑی کوئی مگر اُس گال کے جیسی
بہت
سج دھج کے پھرتے ہیں حسیناں اُس گلی لیکن
نہیں
اُس یار سی قامت، نہیں اُس چال کے جیسی
گلی
کے پار بیری پہ کوئی دھجی نظر آئے
کبھی
اک شال کے جیسی، کبھی رومال کے جیسی
خبر
آتی رہی پہلے کہ فصلیں خوب ہیں اب کے
ہوئی
حالت مگر بازار میں پھر کال کے جیسی
نئی
حرکت بھی حاکم کی گذشتہ کا تسلسل ہے
بظاہر
مختلف لیکن پرانی چال کے جیسی
چلو
احوال تو لکھا ہے، دل کی بات ہی کہہ لی
غزل
گرچہ نہ لکھ پائے ظفر اقبال کے جیسی
٭٭٭
غزل
سوال
اِس بار اُس کے آگے وفا کا بھی تو نہیں ہے
رکھنا
کہ
ہم نے اِلزام اُس کے اوپر ذرا سا بھی تو
نہیں ہے رکھنا
گزارہ
اُس بِن ہے خاصا مشکل مگر بہر طور کرنا ہو
گا
انا
یہ کہتی ہے اب کرم کا تقاضا بھی تو نہیں
ہے رکھنا
گریز
کرنا ہے ایک انساں سے، اِس طرح کہ نباہ
کرنا
تمام
دنیا سے، اور سب کو شناسا بھی تو نہیں ہے
رکھنا
شکست
اب کے بہت بڑی ہے، بجا ہے، لیکن ظہور صاحب
جہاں
کے آگے بنا کے خود کو تماشا بھی تو نہیں
ہے رکھنا
٭٭٭
اس
جزیرے پہ کچھ روز ٹھہرے تھے ہم
ہوا،
چاندنی، بارشیں اور خوشبو
لڑکپن
کی یادیں
محبت
کی نظمیں
نئی
آشنائی کی حیرت
تعلق
نبھانے کی قسمیں
جہاں
خوبصورت بنانے کی دُھن
وہ
سبھی کچھ کہ جو بس جوانی میں ہوتا ہے
میں
نے فقط اِس جزیرے پہ دیکھا
یہاں
میں نے پودوں سے
پھولوں
سے
ٹاور
پہ بیٹھے پرندوں سے
تنہائی
کی رات میں چاندنی سے
ہوا
سے
وہ
باتیں کہی تھیں
کہ
جو آج تک میں عبورِ بیانِ مسائل کے باوصف
اپنے
کسی ہمدمِ خاص کو بھی بتانے سے قاصر رہا
تھا
٭٭٭
زندگی
اس طرح بھی گزاری جا سکتی ہے
میں
سیاست پر گفتگو کرتا ہوں
اور
سازش پر
جو
میں کر رہا ہوں
اور
جو میرے خلاف ہو رہی ہے
میں
باتھ روم میں بیٹھ کر دیر تک اخبار پڑھتا
ہوں
اور
آنکھیں کھلنے پر دفتر چلا جاتا ہوں
کرسی
پر بیٹھ کر اونگھنے سے بہتر ہے
کہ
بہت زیادہ کام کیا جائے
اور
اوپر نیچے کی خوشامدوں کے مداوے کے لیے
اکیلے
بیٹھ کر شام گزار دی جائے
ایسے
میں کوئی کیا جھوٹ بولے گا
اور
وہ بھی اپنے ساتھ
تب
میں یاد کرتا ہوں، وہ کچھ
جسے
میں بُرا سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں
اور
بھول نہیں پاتا
سب
سے زیادہ یاد مجھے بچپن کی آتی ہے
پھر
کالج کی
اور
ساتھ ہی اُس کی
اور
آنے والے دنوں کی
جس
طرح کہ ہم نے اُنہیں سوچا تھا
(صبح
اُٹھیں اور سیر کو جائیں
یا
سوئے رہیں اور جلدی میں تیار ہوں
دفتر
سے واپسی پر اُسے پیار کرتے ہوئے سو جائیں
یا
نہ بھی سو سکیں تو کوئی بات نہیں
ایک
آدھ فلم
کسی
اچھے آدمی سے ملاقات
یا
اپنے پسندیدہ ساز پر کچھ دُھنیں
شام
لمبی ہو جائے تو کیا ہے
اچھی
ہونی چاہیے
اور
سال میں دو تین بار مکمل چُھٹی
کہ
جس میں پہاڑوں کی سیر ہو
اور
کھیتوں کی
اور
اپنے گاؤں کی نہر کی
اپنے
آبائی مکان میں سکون کے سات دن،
بغیر
کسی کام کے
اور
سرکاری ملاقات کے
اور
اخبار کے بغیر)
ایک
زندگی مشکل ہے
ایک
یاد آتی ہے
اور
ایک کی آرزو ہے
میں
جذباتی آدمی نہیں ہوں
میں
ایک ذمہ دار اور کامیاب افسر ہوں
جو
روزانہ وقت پر دفتر جاتا ہے
دِن
بھر کام کرتا ہے
اور
کسی کو یاد نہیں کرتا
میں
بارش میں کمرے سے باہر نہیں نکلتا
اور
مضافات کی سیر کو نہیں جاتا
اور
درختوں پر نہیں چڑھتا
اور
شام کو اور ہوا کو ٹال دیتا ہوں
ایک
زندگی میں گذار چکا ہوں
ایک
میں گذار نہیں سکتا
اور
ایک میں گذار رہا ہوں
٭٭٭
نکے
ہوندیاں دی یاد
پرلے
حاطے وڈّھا سارا نِم دا بُوٹا
وڈّھی
جئی اِک ٹاہلی
ساڈھے
حاطے اِک لہسوڑا
چھوٹا
پِپّل
نکی
جئی اِک ٹاہلی
ٹالی
اُتوں چڑھدی لہندی، آندی جاندی گالہڑ
چیتے
رنگے، گالہڑ ورگے، ڈب کھڑبّے چُوچے
بالاں
ہتھوں روٹی کھوندے کاں کاں کردے کاں
مٹی،
دھدل، ریتا بھریاں گلیاں
گلیاں
اگّے کھالہ
اوس
توں اگّے
دور
دور تک فصلاں
|