|
موجِ
سیراب
سعادت
حسن منٹو کے بارے لکھے گئے سوانحی ناول
سے اقتباسات
افسانہ
منٹو ہے....
منٹو
افسانہ ہے۔ افسانہ منٹو کے لیے وجود میں
آیا اور منٹو افسانے لکھتے لکھتے خود
افسانہ بن گیا۔ کسی فنکار کی اپنے فن کے
ساتھ اس سے بڑی کمٹ منٹ کیا ہو سکتی ہے کہ
اس نے جو کچھ تخلیق کیا، ویسا جی کر بھی
دیکھا....
منٹو
اس کی مثال ہے۔ موذیل، ہتک، کھول دو، ٹھنڈا
گوشت، دھواں، کالی شلوار، ممی، بابو گوپی
ناتھ، بلاؤز، پھدنے اور
سڑک کے کنارے جیسے لازوال افسانے لکھنے
والا افسانہ نگار سعادت حسن منٹو ”شرفا“
کو اس لیے پسند نہیں ہے کہ وہ ”شرفا“ کی
ریاکارانہ اخلاقیات کا پردہ چاک کرتا ہے
اور ان پر زبردست چوٹ کرتا ہے....
منٹو
آج بھی نصاب سے خارج اور میڈیا کے لیے بین
ہے کیونکہ وہ مروجہ سسٹم کی بربریت کے پس
پردہ چہروں سے نقاب اٹھاتا ہے۔ منٹو کا
موضوع فلم ایکٹر، ایکسٹرا، مزدور، کلرک،
سفید پوش، طوائف اور دلال ہیں۔ وہ ٹھکرائے
ہوئے لوگوں کی کہانیاں لکھتا رہا۔ ٹھیس
لگے ہوئے نازک آبگینوں کی صدائیں سنتا
اور انہیں اپنے افسانوں میں بیان کرتا
ہے۔ منٹو سب سے بڑا باغی ہے۔ اس کی بغاوت
محکوم اور محروم لوگوں کی آواز ہے۔ جنس
اور انسانی نفسیات کی تہہ در تہہ پرتوں
کو ایک مشاق فنکار کی طرح کھولنے والے
منٹو کا فن حسن کی تلاش ہے اور اس کا افسانہ
حسن کا بیان ہے ۔منٹو کے یارِ غار نصیر
انور نے منٹو کے بارے میں ایک سوانحی ناول
لکھنا شروع کیا تھا ،لیکن شاید وہ پایہ
تکمیل تک نہ پہنچ چکا ، تاہم یہ نادر تحریر
منٹو کے فن اور شخصیت کے حوالے سے معتبر
حیثیت رکھتی ہے ،زیرنظر اقتباس اسی ادھورے
ناول سے لیے گئے ہیںاور منٹو کی برسی کے
حوالے سے شائع کئے جارہے ہیں
طاہر
اصغر
عجیب
مصیبت تھی۔
دن
کو چین نہ رات کو آرام، متواتر آٹھ دن سے
یہی حال تھا۔ میرا بایاں بازو سوج کے ٹائر
بن چکا تھا۔ ایک ایسا ٹائر جوکئی جگہ سے
پھٹ چکا تھا اور پھر بھی پہیے پر چڑھا تھا۔
جی میں آئی کہ اس ٹائر کو اپنے کندھے سے
اتار پھینکوں۔ دل میں جو بقراط تھا۔ چپکے
سے یوں کہنے لگا”۔ اور تم بھی بائیں بازو
کے دشمن ہو!“
میں
آپ ہی مسکرا دیا۔
اتنے
میں دروازہ کھلا۔ ہوٹل کا بیرا دستک دیے
بغیر کمرے میں داخل ہوا۔ ایک دھکا دیا۔
تڑاخ سے دروازہ بند کیا اورچلتا بنا۔ آمد
و رفت کی یہ ادا مجھے ہرگزپسند نہ تھی۔ جب
کبھی وہ آتا، میں اندر ہی اندر کڑھتا اور
یہ سوچ کر خاموش ہوجاتا کہ شاید یہاں کا
یہی دستور ہے لیکن یہ دستور میرے لیے ایسی
ذہنی کوفت کا باعث تھا جو جسمانی تکلیف
سے کہیں زیادہ اذیت دہ تھی۔
میں
نے لفافہ چاک کیا اور خط پڑھنے لگا، لکھا
تھا۔
لکشمی
مینشن
لاہور
پیارے
نصیر
پرسوں
کمرشل بلڈنگ گیا۔ شیخ صاحب سے ملاقات
ہوئی، اتوار کو انہیں کھانے پر بلایا۔
اتفاق سے ڈاکٹر منیر بھی آ گئے۔ بہت دیگر
تک محفل جمی رہی۔ آخر میں تمہارا ذکر خیر
آیا۔ میں اٹھا تو دیکھا کہ تمہارا خط ڈاکیہ
پھینک رہا ہے۔ ”۔Think
of the Devil“
یہ
کیا قصہ ہے بھئی۔ یہ آپریشن کیا باقی رہ
گیا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ تم حسب
عادت مذاق کر رہے ہو مگر دوبارہ خط پڑھا
تو سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ ڈیرے کے پٹھان
نے تمہارے جسم میں مزید جراحت کی ضرورت
محسوس کی ہے اور اپنا دیسی ساخت کا پستول
داغ دیا ہو۔ کہیں یہ مرد مجاہد چاند ماری
کی مشق تو نہیں کر رہا تھا۔
تم
نے خط لکھا مگر نہایت ہی مختصر اور وہ بھی
شاعرانہ انداز میں، میری جان گولی کھانا
تو بے قافیہ شاعری بھی نہیں ہو سکتا، از
راہ کرم فوراً تفصیلات سے آگاہ کرو۔ تمہارے
خط سے صرف اتنا معلوم ہوا ہے اور وہ بھی
کئی دو اور دو جوڑ کر چار بنانے سے کہ تم
ڈیرے سے چند میل دور خدا معلوم کس مار
پرسیر وتفریح فرما رہے تھے کہ کسی پٹھان
نے اپنی سابقہ روایات کے تحت تمہارے گولی
مار دی۔ تمہاری جیبوں کا بوجھ ہلکا کیا
اور چلتا بنا۔ زخمی حالت میں تم شاید بنوں
پہنچے۔ وہاں وحید کے ہاں تم نے دو راتیں
بسر کیں (دن
کو شاید تم کہیں اور تھے)
اس
کے بعد تم راولپنڈی پہنچے۔ جہاں ملٹری
ہسپتال میں تمہارے بازو کے زخمی حصے جدا
کر دیے گئے۔
میری
جان، تمہارے جسم کا کون سا حصہ ہے جوزخمی
نہیں ہے....
بہتر
تھا کہ سب کا سب کٹوا دیتے۔
ڈاکٹر
منیر کو میں نے خط دکھایا اور اپنی تشویش
کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے مجھے تسلی دی کہ
خاص بات کچھ نہیں۔ سوائے اس کے کہ گولی
لگی ہے۔ انشاء اللہ چند
روز میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اُن کا یہ کہنا
ہے کہ دوست ڈاکٹروں کو بھول جانے کا انجام
یہی ہوتا ہے۔
شیخ
پرویز صاحب اس حادثے کو پاکستان کی جنگی
تیاریوں پر محمول کرتے ہیں۔
مجھے
اُمید ہے کہ تم فوراً ہی مجھے اپنے تازہ
ترین حالات سے ضرور مطلع کرو گے۔
ججی
تمہیں اکثر یادکرتی ہے۔ شیام والی تصویر
مل گئی تھی۔ شکریہ۔ اچھے ہو ہوا کر کر تم
فوراً میرے ساتھ ایک فوٹو کھینچوا لو۔
مجھے تمہارا کوئی بھروسہ نہیں۔ معلوم
نہیں، کب توپ دم ہو جاؤ اور
مجھے بغیر فوٹو کے ”آفاق“ میں تمہارے
اوپر مضمون لکھنا پڑے۔
صفیہ
اور اقبال تمہارا حال دریافت کرتی ہیں۔
تمہیں
یہ سن کر افسوس ہو گا کہ شیخ سلیم کا چند
روز ہوئے میو ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔
تمہارا
سعادت
6اگست
1951ء
خط
کی آخری سطر میرے دل و دماغ پر دھند بن کر
چھا گئی۔ آنکھوں کے سامنے کئی دھندلی
تصویریںگھومنے لگیں، یہاں تک کہ ایک تصویر
اس دھند کو چیر کر میری نگاہوں کا مرکز بن
گئی۔ مڑے تڑے ہاتھ، ٹیڑھی میڑھی اُنگلیاں،
زرد چہرہ، بجھی بجھی آنکھیں، زبان میں
لکنت، چال میں لغزش، جسم میں جھول۔
منٹو
نے اسی تصویر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا
اور پھر مجھ سے مخاطب ہوا ”خواجہ، شیخ
سلیم سے ملو!“
شیخ
سلیم نے مڑا ہوا ہاتھ آستین میں چھپاتے
ہوئے کہا ”خواجہ، میں آپ سے مل چکا ہوں۔
منٹو دی گریٹ نے صورت دکھانے سے پہلے
ملاقات کرا دی تھی۔ اب آئیے، ایک ساتھ
چلیں“۔
”کہاں؟“
”جہاں
سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی“۔
اس
پر منٹو نے مسکراتے ہوئے کہا ”خواجہ....
آ
جا!“
ہم
تینوں ٹانگے پر سوار ہو گئے، منٹو حسب
معمول کوچوان کے ساتھ ٹک گیا۔ شیخ سلیم
اورمیں پچھلی سیٹ پر۔ تانگہ چلا تو شیخ
سلیم نے کہا ”منٹو دی گریٹ، پہلے آب حیات
کا بندوبست ہو جائے“۔
منٹو
نے پرزور لہجے میں جواب دیا ”ہو گا اور
ضرور ہو گا“۔ پھر مجھ سے کہنے لگا ”خواجہ
یہ وہ آب حیات ہے جو خواجہ خضر کو بھی نصیب
نہ ہوا“۔
شیخ
سلیم اسٹیج پر نمودار ہو گیا ”نصیب ہوا،
نہ ہو گا“۔
منٹو
لکھنؤ پہنچ گیا ”حضت واللہ،
کیا خوب ادائیگی ہے۔ سبحان اللہ!!“
شیخ
سلیم آداب بجا لایا ”حضور کی ذرہ نوازی
ہے!“
یکایک
قہقہے پھوٹ پڑے۔
کوچوان
نے بھی اپنے پیلے دانت باہر نکالے۔ راہگیروں
نے پلٹ کر دیکھا، دیکھتے گئے۔
راستے
میں ایک دکان کے قریب تانگہ رُکا تو منٹو
نے شیخ سلیم سے کہا ”اماں حضور، وہ رہا
چشمہ آب حیات....
ذری
چھاگل عنایت کیجیے“۔
شیخ
سلیم نے چمڑے کا ایک بیگ منٹو کے حوالے
کیا۔ وہ تانگے سے نیچے اُترا۔ چشمے تک
پہنچا اور تھوڑی ہی دیر میں آب حیات چھاگل
میںبھر لایا۔ وہی آب حیات جس کا ہر قطرہ
منٹو اور سلیم کے خون ے زیادہ سرخ، زیادہ
حرارت آمیز اور زیادہ جاندار تھا۔
تانگہ
مختلف سڑکوں پر سے گزرتا ہوا نکلسن روڈپر
’زرتاج ہوٹل‘ کے سامے رُک گیا۔
’زرتاج
ہوٹل‘ میں شیخ سلیم کی دوسری بیوی رہتی
تھی۔ دن کو وہ ہوٹل میں رہتا اور رات اپنے
ہاں گزارتا۔ جب ہم اوپر پہنچے تو منٹو اور
میں علیحدہ کمرے میں بیٹھے۔ سلیم گرتا
پڑتا اپنی بیوی کے پاس پہنچا۔ تھوڑی ہی
دیر میں واپس آ گیا اور صحرا میں بھٹکے
کوئے پیاسے کی طرح زور سے چلایا ”پانی!“
میں
نے جان بوجھ کر جگ کی طرف ہاتھ بڑھایا جو
پانی سے بھرا تھا۔
”نہیں،
یہ پانی نہیں....
آب
حیات چاہیے آب حیات!“
’آب
حیات‘ کا دور شروع ہوا۔ شیخ سلیم نے گلاس
میری طرف بڑھایا تو میں نے اپنی معذوری
کا اظہار کیا۔ معدے میں گڑبڑ تھی۔ اس پر
سلیم نے کہا ”محفل کا رنگ پھیکا پڑ جائے
گا!“
منٹو
نے کہا ”پھیکا نہیں، بلکہ رنگ میں
بھنگ....!“
”یار،
کہہ جو دیا معدے میں گڑبڑ ہے!“
شیخ
سلیم کو اور سوجھی ”اچھا تو معدے میں جانے
والی شے نہیں دیں گے....!“
منٹو
نے پوچھا ”کیا دیں گے؟“
شیخ
سلیم نے مجمع گیر کی آواز نکالی ”وہی دیں
گے، اپنے مرشد کا عطیہ خاص، جوہر جماتات!“
یہ
کہتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اُٹھا۔ دوسرے
کمرے میں گیا اور فوراً ہی چلا آیا۔ اُس
نے پان کی گلوری پیش کرتے ہوئے کہا ”خواجہ
صاحب، شوق فرمائیے لیکن احتیاط رہے، پیک
حلق سے اُترنے نہ پائے!“
میں
نے پان شوق فرمانا شروع کیا۔ ہدایت کے
مطابق پیک حلق سے اُترنے نہیں دی۔ یکایک
میرے ہونٹ، تالو اور زبان سن ہو گئی۔ میں
نے پوچھا ”بھئی کیا ہے اُس میں؟“
”کوکین!“
”کوکین؟“
”ہاں....
ذرا
دیر بعد پان تھوک دیجیے اور پھر جلوہ
دیکھیے“۔
ذرا
دیر بعد میں نے پان تھوک دیا۔ سلیم نے سوڈے
سے غرارے کرنے کو کہا۔ میں نے غرارے کیے
تو یخ بستگی اور بڑھ گئی۔ سرد تمتماہٹ کا
احساس ہوا اور پھر ہر چیز برف میں لگی ہوئی
معلوم ہوئی۔ نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا
تو یوں لگا جیسے کسی اور کا ہونٹ میرے
دانتوں تلے آ گیا ہے۔ رفتہ رفتہ میں گلیشیر
کی زد میں آ گیا۔ ساکت و جامد منٹو اور
سلیم کو ٹکٹکی لگائے دیکھتا رہا۔ وہ دونوں
پگھلی ہوئی آگ اپنے اندر اُنڈیل رہے تھے۔
یکایک
شیخ سلیم کے مڑے تڑے ہاتھ خود بخود کھل
گئے۔ منٹو کہنے لگا ”دیکھ خواجہ، کیا
کرشمہ ہے۔ چار پیگ پینے کے بعد شیخ سلیم
کے ہاتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور پھر آدمی
نظر آتا ہے آدمی“۔
شیخ
سلیم نے جھوم کر کہا ”ورنہ بندر نظر آتا
ہے“۔
اس
پر وہ خود ہی زور سے قہقہے لگانے لگا۔ میں
انہی قہقہوں کی گونج میں منٹو اور سلیم
کے بارے میں کچھ سوچنے لگا۔ کچھ بھی نہ
سوچ سکا۔ میں نے اپنے دماغ پر زور ڈالا
لیکن میں گلیشیر کی گہرائی میں دھنستا
چلا گیا۔منٹو اور سلیم نے جو الاﺅ بھڑکایا
تھا ، وہ بھی مجھے اس زمہریر میں گرمی نہ
پہنچا سکا۔ میرے تمام خیالات اندر ہی اندر
منجمد ہوتے چلے گئے۔ شیخ سلیم سے یہ میری
پہلی ملاقات تھی۔
جب
’ٹھنڈے گوشت‘ نے ’جاوید‘ کو ٹھنڈا کر
دیا تو میں نے وائی۔ ایم۔ سی۔ اے بلڈنگ کے
تھڑے پر ’لٹریری کورنر‘ کے نام سے ایک
بک سٹال کھولا۔ دائیں بائیں دو شوکیس۔
پشت پر قد آدم شیشے کی ایک الماری۔ درمیان
میں کاؤنٹر۔ یہ تھا ’لٹریری
کارنر‘۔ ’جاوید‘ ابھی قانون کی گرفت
میں تھا اور اُس پر مقدمہ جاری تھا۔
بک
سٹال پر بیٹھا تھا کہ منٹو آ گیا ”چلو
خواجہ ایک ضروری کام ہے“۔
”کہاں
چلیں گے؟“
”میں
نے پٹیالہ گراؤنڈ کے قریب
شیخ سلیم کو دیکھا ہے۔ اُسے پکڑنا ہے“۔
”پکڑنا
ہے؟“
”ہاں
یار!“
”وہ
تو جا بھی چکا ہو گا“۔
”تم
اپنی بحث چھوڑو۔ اُٹھو جلدی سے“۔
ہم
دونوں پٹیالہ گراؤنڈ تک
پہنچے۔ منٹو نے کہا ”دیکھ لے، شیر ابھی
تک ڈٹا ہے“۔
شیخ
سلیم اپنی گاڑی میں چھاگل سے منہ لگائے
بیٹھا تھا۔ اُس کے دونوں ہاتھ سیدھے تھے۔
دیکھتے ہی گاڑی سے باہر نکل آیا۔ ایسے
بغلگیر ہوا جیسے میں بڑی مدت کے بعد کسی
دور دراز ملک سے واپس آیا ہوں۔ اس قدر زور
سے بھینچا کہ میری ہڈیاں تک چٹخ گئیں۔
منٹو نے چلا کر کہا ”چھوڑ، یہ کیا فراڈ
لگا رہا۔ چل، اب گھر چلیں“۔
سلیم
مسکرا دیا ”تانگہ لاؤ“۔
”یہ
گاڑی جو ہے!“
”چلتی
کو گاڑی کہیں مگر گاڑی کو چلتی نہیں کہہ
سکتے“۔
منٹو
نے چڑ کر کہا ”کیا بکواس ہے“۔
”بکواس
نہیں، ارشاد عالیہ ہے کہ تانگہ لاؤ“۔
”یہ
گاڑی آگ لگانے کو رکھی ہے“۔
”یہ
گاڑی یہیں گڑ گئی ہے۔ اسے بھی نشہ ہو گیا
ہے لیکن ہاں، میں نشے میں نہیںہوں“۔
”ہاں
ہاں تم نشے میں نہیں ہو لیکن بات کیا ہے؟“
”بات
یہ ےہ کہ میں نشے میں نہیں ہوں۔ یہ گاڑی
نشے میں ہے“۔
”کیا
بکواس ہے!“
”بکواس
نہیں۔ سچ کہتا ہوں، میں نشے میں نہیں ہوں۔
یہ گاڑی....
یہ
گاڑی نشے میں ہے۔ کہو تو سمجھا دوں“۔
”کیا
ہے؟“
”اچھا
تو سنو، پٹرول ختم ہوا۔ چلتی گاڑی، گاڑی
بن کر رہ گئی....“
”اپنی
بکواس رہنے دے۔ سیدھی طرح بتا“۔
”سنو
سنو، ہاں تو چلتی گاڑی، گاڑی بن کر رہ گئی
تو میں نے اس کی ٹینکی میں وسکی ڈال دی۔
ڈرائیور نے موٹر سٹارٹ کی تو کچھ دیر انجن
پھڑپھڑایا۔ گاڑی ذرا سی لہرائی اور بھئی
جھوم کر چلنے بھی نہیں پائی تھی کہ پھر
یہیں گڑ گئی۔ میں نشے میں نہیں ہوں۔ یہ
گاڑی نشے میں ہے“۔
ہم
تینوں بے اختیار ہنسنے لگے۔
منٹو
نے کہا ”ڈرائیور کو پٹرول لینے بھیجو“۔
”پیسے
نہیں ہیں“۔
”چیک
لکھو اور کیش کرا لو“۔
”چیک
بک گھر میں پڑی ہے....
تانگہ
منگواؤ“۔
ایک
خالی تانگہ پاس سے گزرا۔ اُسے روکا۔
ڈرائیور کو وہیں چھوڑ ہم تینوں سوار ہو
گئے۔ منٹو نے سلیم سے پوچھا ”کہاں چلنا
ہے....
’زرتاج‘
یا گھر؟“
”میو
روڈ چلیں گے“۔
تھوڑی
ہی دیر میں ہم میو روڈ پہنچ گئے۔ ایک پرانی
سی کوٹھی میں داخل ہوئے جہاں شیخ سلیم کی
پہلی بیوی رہتی تھی۔ جس کمرے میں ہمیں
بٹھایا گیا، وہاں کی ہر چیز نشے میں دُھت
تھی۔ میز لڑھک کر صوفے پر پڑا تھا۔ دری
منٹل پر، گلدان آتشدان میں، دیوان پر خالی
بوتلیں، چھت پر جالوں کی بیل، دیوار پر
اُکھڑے ہوئے چونے نے آڑھی ترچھی لکیریں
پیدا کرکے کئی عجیب و غریب صورتیں بنا لی
تھیں جنہیں بار بار دیکھنے سے ہر بار نئی
نئی صورتیں آنکھوںکے سامنے آتی تھیں۔
دو
پیگ ٹیبل درمیان میں اُلٹے سیدھے پڑے تھے۔
منٹو اور میں انہی پربیھ گئے۔ شیخ سلیم
نے کونے میں دبکی ہوئی کرسی باہر گھسیٹی
اور اسی پر ٹک گیا۔ ہر چیز گرد و غبار سے
اٹی پڑی تھی۔ اس گھٹی ہوئی بساند میں منٹو
مجھ سے پہلے ہی گھبر ا گیا۔ وہ قریب قریب
چیخ اُٹھا ”یار جلدی چیک لکھو“۔
”ٹھہرو،
میں دوسرے کمرے سے چیک بُک لے آؤں“۔
اتنے
میں شیخ سلیم کا ملازم کمرے میں داخل ہوا۔
شیخ سلیم نے اُسے دیکھا تو بڑے غضب ناک
لہجے میں بولا ”حرام زادے، کام چور کہیں
گے۔ دیکھتا نہیں کمرے کا کیا حال ہے۔ روز
کہتا ہوں، صفائی کرو“۔
ملازم
نے تن کر جواب دیا ”روز تے نئیں ھنے آکھیا
جے“۔
”بک
نہ۔ دفعہ ہو جا، نٹھ کے چیک بک لیا“۔
وہ
کمرے سے باہر نکلا تو شیخ سلیم نے کہا ”یار
یہ نوکر بڑے کام چور ہوتے ہیں“۔
اس
پر منٹو نے کہا ”اوئے بچو، فراڈ لگاتے
ہو“۔
”وہ
کیسا فراڈ؟“
”میں
سب جانتا ہوں۔ تمہارے ہاں میں اکثر آیا
ہوں اور ہمیشہ اسی کانجی ہاؤس
میں بیٹھا ہوں۔ اب فراڈ لگاتے ہو بچو“۔
شیخ
سلیم نے فلسفی بن کر جواب دیا ”پترا، اسی
کانجی ہاؤس میں ساری دنیا
آباد ہے۔ اس گرد کی تہہ میں خلوص اور محبت
کی چمک ہے، ہاں....
میں
نشے میں نہیں ہوں جو تمہاری بات کا غصہ
کروں“۔
ملازم
کمرے میں آیا اور چیک بک شیخ سلیم کے حوالے
کر دی۔ سلیم نے قلم نکالا۔ چیک پر رقم
لکھی۔ دستخط کیے اور ملازم کو یہ کہتے
ہوےءدیا ”کیش کروانے کے بعد سیدھا پٹیالہ
گراؤنڈ تک پہنچنا۔ گاڑی
وہیں کھڑی ہے۔ پٹرول ڈلوانا اور باقی پیسے
لے کر یہاں پہنچ جاؤ، میں
یہیں رہوں گا“۔ پھر اُس نے سرگوشی میں
تاکیداً کہا ”اور ہاں“۔ ”زرتاج ہوٹل“
بھی جانا۔ پچاس وہیں دے آنا، سمجھے!“
ملازم
ہدایات پلے سے باندھ کر خاموشی سے باہر
نکل گیا۔
چیک
بک ابھی وہیں پڑی تھی۔ منٹو نے چیک بک کی
طرف اشارہ کرتے ہوئے شیخ سلیم سے کہا ”لکھو
بھئی دو سو روپیہ“۔
”یار،
میرے پاس سردست دو سو نہیں“۔
”جتنے
بھی ہیں لکھ دو اور جلدی لکھو یار، میرا
یہاں دم گھٹ رہا ہے“۔
”تم
تو اس کانجی ہاؤس میں اکثر
آتے ہو۔ اس وقت دم کیوں گھٹنے لگا“۔
منٹو
نے مسکراتے ہوئے اُس کے کندھے پر ہاتھ
مارا” چلو یاراب لکھو بھی، بنک بند ہو
جائے گا“۔
شیخ
سلیم نے صرف ساٹھ روپے کا چیک لکھ کر دیا
اور کہنے لگا ”لو بھئی، اس وقت یہی کچھ
حاضر ہے۔ بہت شرمندہ ہوں اور اسی لیے اب
تمہارے گھر بھی نہیں آتا۔ اللہ نے چا ہا
تو باقی بھی ادا کروں گا“۔
منٹو
نے چیک وصول کرتے ہوئے کہا ”تم چاہو تو
سب کچھ ادا ہو جائے گا“۔ پھر مجھ سے مخاطب
ہوا ”چل بھئی خواجہ....
اچھا
بھئی سلیم، چلتے ہیں“۔
ہم
دونوں باہر آ گئے۔ باہر آتے ہی مجھے پہلی
بار ہوا کی تازگی کا بڑا لطف آیا۔
آسٹریلیشیا
بینک کی سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے تو شیخ
سلیم کا ملازم نیچے اُترتا ہوا دکھائی
دیا۔ منٹو نے اس سے پوچھا ”کیوں بھئی پیسے
مل گئے“۔
”آھو
جی!“
ہم
اوپر گئے۔ منٹو نے چیک کی پشت پر دستخط
کیے۔ چیک بینک والوں کے حوالے کیا اور
ٹوکن لے کر میرے پاس آ گیا۔ ادھر اُدھر کی
باتیں ہوتی رہیں۔ مجھے پان کی طلب تھی۔
پان لینے وہاں سے باہر نکلا۔ واپس آیا تو
منٹو بڑا سیخ پا دکھائی دیا ”یار خواجہ
اُس فراڈ نے کباب کر دیا ہے“۔
”کیوں،
کیا ہوا؟“
”چیک
’ڈس اونر‘ ہو گیا ہے۔ دستخط نہیں ملتے۔
بڑا فراڈ ہے۔ اپنے چیک پر تو ٹھیک دستخط
کیاہے اور مجھے اوٹ پٹانگ دستخط پر ٹرخا
دیا“۔
”یہ
بھی اچھی رہی“۔
”اب
تمہیں مذاق کی سوجھے گی۔ کمبخت نے بیڑا
غرق کر دیا ہے۔ یہ رقم میری نہیں ورنہ میں
کبھی پروا نہ کرتا“۔
”کس
کی رقم ہے؟“
”اقبال
کی!“
”آپا
جان کی؟“
”ہاں
اُسی سے لے کر دیے تھے لیکن یہ فراڈ، دینے
کا نام تک نہیں لیتا“۔
اس
کے بعد منٹو نے بڑے افسوس ناک لہجے میں
شیخ سلیم کے فراڈ کا قصہ سنایا۔ بات یہ
تھی کہ ’ٹھنڈا گوشت‘ کے مقدمے کے دوران
میں منٹو اس قدر دل برداشتہ ہو گیا تھا کہ
اُس نے لکھنے پڑھنے سے دور رہنے کا فیصلہ
کر لیا۔ مجسٹریٹ کے توہین آمیز رویے نے
اُس کے دل میں شدید نفرت پیدا کر دی۔
”منٹو
تم اپنے تئیں سمندر سے موتی نکالتے ہو
لیکن تمہارے ہاتھ گندی موری میں ہوتے ہیں
جہاں سے تم محض غلیظ کنکر نکالتے ہو۔
تمہارے افسانے ادب پارے نہیں، غلیظ کنکروں
کا ڈھیر ہیں....“
یہ
تھے مجسٹریٹ کے وہ الفاظ جنہوں نے منٹو
کو اپنے ماحول سے بے گانہ کر دیا اور وہ
اُن لوگوں کو اپنانے لگا جنہیں علم و ادب
سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ آمدن کا
معقول ذریعہ پیدا کرنے کے لیے اُس نے شیخ
سلیم سے دوستی کی۔ شیخ سلیم لاہور ریلوے
اسٹیشن کا ایک ٹھیکیدار تھا۔ کام کاج منشی
اور دوسرے ملازموں کے سپرد تھا لیکن شیخ
سلیم مدھوشی کے عالم میں بھی ان سب کی
لگامیں اپنے ہاتھ میں رکھتا۔ منٹو نے اپنی
لگام بھی اُس کے ہاتھ میں تھما دی۔ دونوں
نے مل کر مشترکہ ٹھیکے کی تجویز پر کسی
اور دھندے کے لیے ٹینڈر بھر دیا۔ اور جب
دوسروں کے مقابلے میں یہ ٹینڈر منظور ہو
گیا تو اُس وقت شیخ سلیم نے ضرورت سے زیادہ
ہوش مندی کا ثبوت دیا۔ شیخ سلیم نے ٹھیکہ
اپنے نام منتقل کروا لیا تھا۔ٹینڈر کی
منظوری کا کاغذ سلیم کے ہاتھ میں تھا اور
منٹو کے ہاتھ میں فقط ایک جام۔
قصہ
سنانے کے بعد منٹو کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا
اور اُس نے مسکراتے ہوئے کہا ”دیکھ لے
پیارے، کیسا کیسا فراڈ یہاں پڑا ہے“۔
مجھے
بھی ہنسی آ گئی۔ شیخ سلیم اور منٹو کے بارے
میں میرا کچھ اور ہی خیال تھا۔ میں تو یہی
سمجھتا رہا کہ منٹو نے افسانے کی خاطر شیخ
سلیم سے یارانہ گانٹھا ہے اور جب وہ اس پر
افسانہ لکھ چکے گا تو یہ میل ملاپ خو د
بخود ختم ہو جائے گا لیکن یہاں معاملہ کچھ
اور تھا۔ میں ابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ
منٹو نے مجھ سے کہا ”یار، اب میں اقبال
سے کیا کہوں گا۔ میرے ہی کہنے پر اُس نے
پیسے دیے تھے۔ وہ کیا سوچے گی کہ....“
میں
نے بات کاٹتے ہوئے کہا ”یار، سوچنا کیا
ہے، آپا جان کو معلوم ہی ہے کہ یہ رقم شیخ
سلیم نے لی ہے“۔
”یہ
تو ٹھیک ہے لیکن اس کے باوجود وہ یہی سمجھے
گی کہ میں نے ہی یہ رقم خرد برد کی ہے۔ تم
نہیں جانتے، میں لڑکپن میں اقبال سے نت
نئے ہتھکنڈوں سے پیسے بٹورتا رہا ہوں....“
منٹو
لڑکپن میں کھو گیا۔ اُس کے چہرے پر شوخ
مسکراہٹ کھیلنے لگی ”لڑکپن کی بات ہے۔
ایک بار مجھے دو روپوں کی ضرورت تھی۔ میں
نے سوچا یہ دو روپے اقبال سے وصول کیے
جائیں۔ اتفاق سے اُس نے مجھے سینڈل لینے
کے لیے بازار بھیجا“۔
”تم
سینڈل کے روپے کھا گئے؟“
”سینڈل
کھایا نہ سینڈل کے روپے“۔
”تو
پھر زیادہ قیمت بتا کر دو روپے وصول کیے
ہوں گے؟“
”نہیں،
ایسی وصولی مجھے کبھی پسند نہ تھی۔ اچھا
تو سنو پورا قصہ....
ہاں،
تو جب میں گھر کے قریب پہنچا تو میں نے
ڈیوڑھی میں سینڈل پہن لیا اور ٹھپ ٹھپ
کرتا گھر میں داخل ہوا۔ اقبال کی نظر سینڈل
پر پڑی تو کہنے لگی ”سعادت، اسی طرح آئے
ہو بازار سے؟“ میں نے جواب دیا ”اور کیا!“
وہ
کہنے لگی ”چل ہٹ، میں نہیں مانتی!“
میں
نے کہا ”لو اگر میں یہی سینڈل پہنے برقع
اوڑھ کر آپا کے ہاں پہنچ جاؤں
تو مانو گی نا“۔ جواب ملا ”میں مان ہی
نہیں سکتی کہ تم ایسی حالت میں کہیں باہر
جا سکتے ہو؟“ موقع پاتے ہی میں نے فوراً
کہا ”لو آؤ پھر، میں دو
روپے کی شرط لگاتا ہوں“۔ اس نے شرط منظور
کر لی، اور میں نے یہ شرط جیت لی“۔
”تو
گویا تم برقع اوڑھ کر پہنچ ہی گئے؟“
”تو
اور کیا، دو روپے جو وصول کرنے تھے۔ لو
ایک بار کیا ہوا، میں نے اپنے ایک عزیز،
ظہیر کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ اسے زمین
پر لٹایا۔ اس پر کمبل ڈال دیا اور خود گاؤ
تکیے سے ٹیک لگا کر بڑے ٹھسے سے حقہ پینے
لگا۔ ایک کش لیا اور دھواں پھیلاتے ہوئے
میں نے سب سے کہا کہ تم میں سے کوئی بھی
اپنی انگلیاں کھڑے کر دے۔ بے شک یہ انگلیاں
چادر کی اوٹ میں ہوں، ظہیر تمہاری اُنگلیاں
گن کر بتا دے گا۔” لیکن ایک شرط ہے کہ تم
خود منہ سے ایک لفظ بھی نہ کہو۔ ہو سکتا
ہے تم اپنی بول چال میں انگلیوں کی تعداد
بتادو۔“ اقبال کی تائید سب نے کی۔ تائیدکرنے
والوں میں ایک نئی نویلی دلہن پیش پیش
تھی۔ میں نے اُس سے کہا ”اچھا جی، میں
ہرگز نہیں بولوں گا لیکن ایک شرط ہے۔ اگر
ظہیر نے انگلیوں کی تعداد ٹھیک ٹھیک بتا
دی تو انگوٹھی مجھے اُتار کر دینی ہو گی۔
یہ شرط منظور کر لی گئی....“
”....
اور
تم نے یہ شرط جیت لی؟“
”بالکل،
لیکن میں نے وہ انگوٹھی واپس کر دی اور
اُس کے عوض اقبال سے پیسے بٹور لیے“۔
یہ
کہتے ہوئے اُس نے ایک شریر لڑکے کی طرح
اپنا رعب جمانے کے لیے مجھ سے پوچھا ”بھلا
بتاؤ تو سہی، یہ شرط میں
نے کیسے جیت لی؟“
”بھئی
یہ ہیرا پھیری اپنے بس کا روگ نہیں“۔
”تو
گویا تم نے ہیرا پھیری کی ہی نہیں؟“
”کی
تو ہے لیکن ایسی نہیں اور اسی لیے میں نہیں
سمجھ سکا کہ شرط کیسے جیت لی“۔
”تم
بھی نرے بدھو ہو۔ سیدھی سی بات ہے۔ جتنی
اُنگلیاں ہوتی ہیں، میں حقے کے اُتنے ہی
کش لیتا تھا اور ظہیر حقے کی گڑگڑ سے
اُنگلیوں کی تعداد معلوم کر لیتا تھا....
کیوں
کیسی رہی؟“
”اچھی
رہی!“
”یار،
اسی طرح کے کئی اور قصے ہیں....“
یکایک
اُس کی نظر ہاتھ میں تھامے ہوئے، ڈس اونر‘
چیک پر پڑی۔ اُس کے چہرے کی شوخ مسکراہٹ
اُداس شکنوں میں بدل گئی۔ سعادت انہی
شکنوں میں کہیں کھو گیا۔ منٹو ابھر آیا
اور اُس نے بڑے افسوس ناک لہجے میں کہا
”اور اگر اب بھی اقبال یہی سمجھ لے کہ میں
نے ہی سارے پیسے خرد برد کیے ہیں تو وہ حق
بجانب ہے“۔
”آپا
جان ایسا سوچ ہی نہیں سکتیں۔ ابھی پچھلے
دنوںخود سلیم شیخ نے گھر آ کر فوری ادائیگی
کا وعدہ کیا تھا۔ آپا جان بھی تو وہیں
تھیں“۔
”تو
پھر وہ کیا سوچے گی کہ اس کے ملنے والے
کیسے ہیں۔ فراڈ در فراڈ۔ برے دُکھ کی بات
ہے۔ میں اس کا بھائی ہوں اور اُس کے کام
نہیں آ سکا۔ اُلٹا ہمیشہ وہی میری مدد
کرتی ہے....
اچھا
یار، چھوڑو ان باتوں کو، آؤ
کہیں اور چلیں!“
اس
کے بعد کئی بار شیخ سلیم کی صورت میری
آنکھوں کے سامنے آ جاتی۔ مڑے تڑے ہاتھ جو
اپنے لیے صحیح طور پر حرکت میں آ جاتے۔
بہکی بہکی آواز جس میں دوسروں کے لیے ایسے
الفاظ ہوتے جن کا کوئی مطلب نہ ہو اور اسی
بہکی آواز میں اپنے لیے ہر لفظ معنی خیز
ہوتا۔ یہی آواز کئی بار میرے کانوں میں
گونجتی۔
|