|
سلور
سکرین کے میڈیا پرسن
میڈیا
کے حوالے سے تیار ہونے والی بالی وڈ کی
فلمیں
فیصل
سعید
میڈیا
جدید عہد کا ایسا ستون ہے جس کے سہارے طاقت
کے کئی مراکز اپنا اثرو رسوخ قائم رکھتے
ہیں۔ یہ لوگوں کے دلوں دماغ پر حکومت کرتا
ہے۔ وہ جو چاہے تو سچ کو موم کی ناک کی طرح
موڑ کر لوگوں کو اس پر یقین کرنے پر مجبور
کردے اور کبھی جھوٹ کو دنیا کا سب سے بڑا
سچ بنادے۔ بالی وڈ اپنے متنوع موضوعات کے
باعث اپنی فلموں میں نت نئے انداز کے ساتھ
زندگی کے حقائق آشکار کرتا ہے۔ بلاشبہ
میڈیا بھی ان موضوعات کا اہم حصہ رہا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا کی آنکھ اور اخبارا ت کا
قلم بالی وڈ کے لیے ایک سنسنی خیز کہانی
بنانے میں بے حد معاون ثابت ہوا ہے۔ اگر
ہم میڈیا کے حوالے سے ماضی کی فلموں پر
نگاہ دوڑائیں تو وہ ایک خاص ذہنیت کے ساتھ
موضوع کا احاطہ کرتی نظر آتی ہیں۔
با
لی و ڈ کی فلموں میں میڈیا کے بارے میں ایک
عام اور پختہ رائے یہ ہے کہ میڈیا سنسنی
کا دلداہ اور اپنے مفادارت کے حصول کے لیے
کچھ بھی کرنے کا شائق ہے۔ اس رائے پر تیار
کی گئی فلموں میں رام گوپال ورما کی نئی
فلم ’رن‘ میڈیا کے طاقتور کردار کو بے
نقاب کرتی ہے۔ اس فلم میں امیتابھ بچن نے
نیوز کاسٹر کا کردار نبھایا ہے ۔ فلم کا
پلاٹ الیکٹرانک میڈیا کا احاطہ کرتا ہے
جس میں مالکان اپنے مفادات کے حصول کے لیے
ہر طرح کا مبالغہ اور پروپیگنڈا پھیلاتے
ہیں۔ اسی طرح سنسنی خیزی اور من پسند
واقعات کو نئے ڈھنگ میں پیش کرنے کے فن کو
بھی اس فلم میں اجاگر کیا گیا ہے۔ گذشتہ
برس ریلیز ہونے والی مقبول فلم ”پاء“
میں بھی الیکٹرانک میڈیا کی طاقت اور اس
کے ذریعے لائی جانے نئی سوچ کا ذکرشامل
تھا۔ ابھیشیک بچن ٹی وی کے ذریعے ہی جرنلسٹس
کی درگت بناتا ہوا نظر آیا ۔ فلم میں
پرائیوٹ چینلز کو سرکاری ٹی وی کے ذریعے
لتارنے کی کوشش کی گئی تھی جس میں یہ الزام
عائد کیا جارہا تھا کہ وہ سنسنی خیزی کو
جنم دیتے ہیں۔ لیکن ایک حلقے کا اعتراض
یہ بھی ہے کہ بالی وڈ کی ہر فلم ہی صحافیوں
کو سنسنی خیزی کے لیے بھاگتے ہوئے دکھاتی
ہے۔ جس کی حقیقت سے کوئی مطابقت نہیں ہے۔
شاہ رخ خان اور جوہی چاولہ کی فلم ”پھر
بھی دل ہے ہندوستانی“ میڈیا کی طاقت اور
آزادی کے موضوع پر بنائی گئی تھی جس میں
یہ سبق دیا گیا تھا کہ جو نکتہ مثبت ہو اس
کو منفی انداز سے بھی استعمال کیا جاسکتا
ہے جبکہ یہ بات بھی بتانے کی کوشش کی گئی
تھی کہ ہر پیشے میں اچھے یا برے افراد ہونا
ایک قدرتی امر ہے اور تمام صحافیوں کو ایک
ہی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
بالی
وڈ فلموں میں میڈیا مالکان کو بھی ہمیشہ
لالچ اور شہرت کے پیچھے بھاگتے دکھایا
جاتا ہے۔ اس کی مثال فلم ”دل ہے کہ مانتا
نہیں“ ہے، جس میں عامر خان نے ایک صحافی
کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کا باس اس سے کسی
بھی صورت کوئی سنسنی خیز خبر لینا چاہتا
ہے جو عامر خان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ گھر
سے بھاگی ہوئی ایک امیرلڑکی کی نجی زندگی
کے بارے میں کوئی گرما گرم خبر دے تا کہ
اخبار اپنا بزنس بڑھا سکے۔ 1981ء
میں کندن شاہ کی فلم ”جانے بھی دو یارو“
بھی میڈیا کے کردار کے حوالے سے تھی، جس
میں اخبارات کے مثبت اور منفی دونوں پہلوﺅں
کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اس
میں تصاویر کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل
کرنے کے واقعات کی جانب خصوصی تو جہ دلوائی
گئی تھی۔ 1989ء
میں ریلیز ہوئی فلم ”میں آزاد ہوں“ بھی
ایک دلچسپ میڈیا فلم تھی جس میں اخبار کا
مالک ایک کالمسٹ شبانہ اعظمی کی جانب سے
ایک جعلی خط چھپواتا ہے جس کے کے ذریعے
اخبار کی فروخت بڑھانے کی کوشش کی جا تی
ہے۔ فلم میں مرکزی کردار امیتابھ بچن نے
آزاد کے نام سے کیا تھا جو آخر میں صرف
اخبار کی سچائی ثابت کرتا اور غریبوں کے
ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرتا ہوئے
ایک عمارت کی تیسویں منزل سے چھلانگ لگا
دیتا ہے۔
بالی
وڈکی فلموں یہ رجحان عام ہے کہ وہ تمام
خواتین صحافیوں کو حد سے زیادہ ایمان دار،
نڈر اور پروفیشنل دکھاتے ہیں جن کے سامنے
سچائی کا کوئی متبادل نہیں۔ اس کی پہلی
مثال تو ” مسٹر انڈیا“ میں سری دیوی کا
کردار تھا ، کہانی کے مطابق وہ ایک سچی
اور اصولوں کی پابند جرنلسٹ ہے جو کسی کو
بھی خاطر میں نہیں لاتی۔ اس تناظر میں ایک
اور فلم ”پارٹنر“ کو بھی دیکھا جاسکتا
ہے جس میں لارا دتہ نے ایک ایماندار رپورٹر
کا کردار نبھایا جو سماجی خدمت کا بیڑہ
اٹھاتی ہے اور بدمعاشوں کو آڑے ہاتھوں
لیتی ہے۔ اسی طرح فلم ”لکشیا“ میں بھی
پریتی زنٹا ایک وار جرنلسٹ کے روپ میں
سامنے آئی جو جنگ کی کوریج کے لیے کارگل
جا پہنچتی ہے اور اپنی پیشہ وارانہ خدمات
کو بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے۔ 2003ء
میں ریلیز ہونے والی فلم ”پیچ تھری“
ایک دلچسپ اور منفرد فلم تھی جس میں کو
نکنا سین نے ایک ذمہ دار شوبز جرنلسٹ کا
کردار نبھایا تھا۔ اس فلم نے فیشن اور
میڈیا کے اندرونی حالات کو نہایت تفصیل
کے ساتھ بیان کیا جس میں سکینڈلز کے ساتھ
ساتھ میڈیا سے وابستہ افراد کے مختلف
رویوں کا بھی احاطہ بھی کیا گیا تھا۔ فلم
میں اخباری مالکان اپنے ملازمین کو سچ
چھپانے پر مجبور کرتے ہیں ،لیکن اس فلم
نے یہ تاثر عام کیا کہ میڈیا سے منسلک ہر
کردار ہی برا اور ناقابل اعتماد نہیں
ہوتا۔
بالی
وڈ کی کچھ فلمیں ایسی بھی پیش کی جاچکی
ہیںجن میں جرنلسٹس کو ایمان داری کی مشعل
اٹھائے دنیا بھر سے ٹکراتے اور اپنے قلم
کے زور سے بد ترین نظام بدلنے کی کاوش کرتے
ہوئے دکھایا گیا۔ اس سلسلے کی پہلی فلم
”مشعل“ تھی جس کو یش چوپڑہ نے پروڈیوس
کیا تھا۔ 1984ء
میں ریلیز ہونے والی اس فلم کا مرکزی کردار
دلیپ کمار اور انیل کپور نے نبھایا تھا۔
دلیپ کمار کو نہایت ہی ایماندار صحافی کے
طور پر پیش کیا گیا تھا جو اپنے آرٹیکلز
کے ذریعے معاشرے کے ناسوروں کو بے نقاب
کرتا ہے اور امراء کی کما ئی کو غریبوں کے
خون سے سینچی گئی آمدنی قرار دیتا ہے۔ یہ
بات فیکٹری مالکان کو ہضم نہیں ہوتی اور
وہ اخبار کے مالک پر دباﺅ ڈال کر اس کو
نوکری سے فارغ کروادیتے ہیں۔
رامیش
شرما نے 1985ء
میں ایک فلم ”نیو دہلی ٹائمز“ کے نام سے
ریلیز کی جس میں ششی کپور اور شرمیلا ٹیگور
نے مرکزی کردار اداکیا تھا۔ یہ فلم بھی
ایک اخبار کی کہانی کے گرد گھومتی ہے جس
کا ایڈیٹر ششی کپو اپنے قلم کے ذریعے کرپشن
کا مقابلہ کرتا ہے۔ ایک چھوٹے سے شہر سے
دہلی پہنچ کر اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز
کرنے والا یہ کردار صحافت کو ایک مشن کے
طور پر اختیار کرتا ہے اور اس کی بھرپور
کوشش ہوتی ہے کہ سیاستدانوں اور امراءکے
طبقوں کے درمیان روابط کو عیاں کرکے یہ
حقیقت بیان کی جا ئے کہ وہ تمام باہم یکساں
ہیں۔یہ دونوں فلمیں بے حد مقبول ہوئیں
کیو نکہ یہ ذمہ دارانہ صحافت کی ترجمانی
کرتی تھیں۔
میڈیا
موجودہ زمانے میں سب سے بڑا اور موثر ہ
تھیار ہے جس کے مثبت اور منفی اثرات مرتب
ہوتے نظر آتے ہیں لیکن فلمو ں میں ان کو
زیادہ تر ایک افواہ ساز فیکٹری اور سنسنی
پھیلانے کے حوالے سے ہی پیش کیا جاتا
رہاہے۔ میڈیا کا موضوع لوگوں کے لیے بے
حد دلچسپی کا باعث ہے کیو نکہ یہ ان کی
زندگی کا اہم ترین حصہ بن چکا ہے۔ اس موضوع
کو جس قدر متنوع جہات اور حقیقت کے قریب
رہ کر پیش کیا جائے گا یہ اتنا ہی بااثر
اور سبق آموز بنے گا۔
|