|
یونیورسٹی
آف گجرات کے سکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں
پہلی
مقالہ نمائش2010ء
شیخ
عبدالرشید
علم
و ادب اور فنون لطیفہ کی آبیاری کے حوالے
سے سوہنی کے شہر گجرات کو سر سید احمد خان
نے ”خطہءیونان“ کا لقب دیا تھا ۔ اس زرخیز
خطے میں یونیورسٹی آف گجرات کا قیام حقیقی
معنوں میں ایک ایسا انقلابی قدم تھا جس
نے اس علاقے میں تعلیم ، تحقیق اور تخلیق
کے حوالے سے نشاة ثانیہ کی تحریک کا کردار
ادا کرنا شروع کر دیا ہے گذشتہ دنوں اسی
جامعہ گجرات کے سکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن
سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ و طالبات
کے کام کی ”پہلی مقالہ نمائش 2010ء“
منعقد ہوئی جس میں سکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن
اور پاکستان پراڈکٹ ڈیزائن سنٹر کے سربراہ
فواد خواجہ کی راہنمائی میں شعبہ فائن
آرٹ ، سرامکس، پراڈکٹ ڈیزائن ، گرافک
کمیونیکیشن، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور ملٹی
میڈیا کے شعبوں کے طالبعلموں کے فن پارے
نمائش میں رکھے گئے ۔ اس سکول کے اساتذہ
فواد خواجہ ، غفار محی الدین، ہویدا مرزا،
مہوش جبیں اور جنید نے طلباء سے ملکر اس
نمائش انتظام اور اہتمام کیا۔ اس خطہءمیں
منعقد ہونے والی یہ پہلی نمائش تھی، لہذا
منتظمین کا جوش و جذ بہ بھی دیدنی تھا ۔
ہائر ایجو کیشن کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر
جاوید لغاری اور شیخ الجامعہ پروفیسر
ڈاکٹر محمد نظام الدین نے اس نمائش کا
افتتاح کیا ۔ نمائش ایک ہفتہ جاری رہی ۔
نمائش دیکھنے والوں کی خصوصی توجہ شعبہ
فائن آرٹ نے حاصل کی جس میں بارہ طالبات
کے فن پارے رکھے گئے تھے۔ ہونہار طالبات
کے یہ فن پارے اپنے موضوعات، تکنیک ، انداز
اور مہارت کی وجہ سے نمائش دیکھنے کے لئے
آنے والوں کی توجہ کا خاص مرکز بنے رہے۔
گجرات جیسے شہر میں لڑکیوں کا اس کام میں
دلچسپی لینا اور پھر پہلی کاوش سے ہی ذہانت
و مہارت کا لوہا منوانا آنے والوں کے لئے
خوشگوار حیرت سے کم نہ تھا ۔ ہماری سماجی
و معاشرتی قدروں کے پس منظر سے سے اس نمائش
کو دیکھا جائے تو بلا شبہ چودھویں صدی کے
اطالوی شاعر بو کا چیو یاد آتے ہیں جنہوں
نے ”زمانہ قدیم کی مشہور خواتین“ نامی
کتاب میں رومن مورخ پلینی کے حوالے سے تین
یونانی مصور خواتین، آئرین، مارسیا اورتھا
موریس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ
یونان قدیم کی غیر معمولی صلاحیتوں کی
مالک اساطیری خواتین تھیں ۔ گجرات کی ان
بارہ طالبات کے کام کو دیکھ کر بھی ناظرین
انہیں خطہ رومان کی اساطیری طالبات ہی
کہہ رہے تھے کہ ان کا کام دیکھ کر ان کے
شہر والوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان ہی
کی بیٹیاں ذہانت و فطانت اور فن و مہارت
کے ایسے حسین امتزاج کی حامل ہیں۔ ہونہار
اور مستقبل کی ان فنکاروں نے تخلیق ، محنت
اور ریاضت سے خیال اور برش کی عبادت کی،
تبھی تو امتحانی مقالہ کی ضرورتوں کے
دائرے میں رہ کر بھی اپنے فن کو جدت اور
حساس و لطیف قدروں کے ساتھ منفرد انداز
میں جاذب ِنظر اظہار کا مظاہرہ کیا ہے اور
ممتحنوںکے علاوہ شائقین اور دیدہءبینا
رکھنے والوں سے بھی پذیرائی حاصل کی ہے ۔
سمیعہ جاوید نے عہد حاضر میں نسل ِ نو میں
صنفی اختلاط کے جدید موضوع کو رنگوں کا
روپ دیا ہے ۔ اس کی تصویریں معاشرے کی دم
توڑتی اقدار اور نئی نسل کی بڑھتی ہوئی
آرزؤں اور خواہشوں کے مابین
نئے مظاہر کے ظہور اور ایسی صورتحال سے
جنم لینے والے معاشی اور معاشرتی تضادات
کی عکاس ہیں۔ اجتماعی معاشرتی روابط میں
تراشے ہوئے فسردہ مناظر کے اندر رجائیت
کے عنصر کی تلاش اسکے تخلیقی مزاج کا حصہ
معلوم ہوتی ہے۔ سونیا جمیل نے راجھستانی
اور سندھی ثقافتوں کی مماثلت کو کینوس پر
منتقل کیا ہے۔ اس نے تہذیبی جھلک جس انداز
میں دکھائی ہے۔ اسے دیکھ کر Giotto
di Bondone کی
یہ بات یاد آجاتی ہے ۔ "Every
Painting is a voyage into a sacred harbour"
رضوانہ
احمد نے علامہ اقبال کے تصور خودی کو خیال
و رنگ کا پیکر دیا ہے ۔ خودی کے تصور کو
پینٹ کرتے ہوئے رضوانہ احمد کے رنگ اور
اسکی دھاریاں، اس کے مؤقلم
کے شوشے اور شکنیں بیباکی کے ساتھ تصور
ِخودی کے حوالے سے اس کا ما فی الضمیر عیاں
کرتے ہیں۔ عفیرہ رسول کے احساسات لینڈ
سکیپ کی طرح ہیں ۔ وہ پہلے تصویر کو خواب
بناتی ہیں اور پھر خواب کو پینٹ کرتی ہیں۔
عفیرہ کا کہنا ہے کہ اس کے لئے پینٹنگ ہی
زندگی کی تکمیل ہے۔ عائشہ بلال کو Pauel
Cezanne کا
یہ کہنا بہت پسند ہے کہ "
In painting you must give the idea of the true by means of the false"
۔
اس نے رومان اور عشق کے حوالے سے امر ہونے
والی ”ہی‘‘ کو اپنی تخلیقات کا موضوع
بنایا ہے۔ عائشہ نے تخلیق کے شدائد اور
احساسات کے دباﺅ کے ساتھ زندگی کی روز
مرہ سطح پر اپنے عمل کا اظہار کیا ہے۔ وجیہ
نیر نے تاریخی نرگسیت کے ساتھ گجرات کی
مٹی کا قرض ادا کرنے کی ٹھانی ہے اور اس
شہر کی گلیوں اور بازاروں کو لکیروں کے
ذریعے تصویر کیا ہے۔ Peter
Shaffer نے
کہا تھا کہ "
If London is a watercolor, New York is an Oil
Painting"
اسی
لحاظ سے وجیہہ نیر نے گجرات کی تصویری عکس
بندی کے لئے آئل پینٹنگ کی ہے۔
ان
تصاویر میں زمانے کے نشیب و فراز ایک دوسرے
میں مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور رنگوں
کے بیچوں بیچ "شہر
خواب “ کی فصیلوں کے کنگورے اور برجیاں
توانا علامت کے طور پر اپنی جھلک دکھاتی
ہیں۔ سُندس ریاض نے دستخطوں کے ذریعے
شناخت تلاش کی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ
کائنات بھی خدا کے دستخط ہی ہیں۔ اس نے
خیال کو نقش کرتے وقت Tea
Washes کا
استعمال کیا ہے۔ اس کے فن پاروں کا نمایاں
رنگ سرخ و سفید ہے۔ سفید رنگ پاکیزگی کا
مظہر جبکہ سرخ رنگ ہیجانی ہے۔ جبکہ سرخ و
سیاہ لکیریں تکرار ِحیات کی علامت ہیں ۔
نیلم باجوہ کا خیال ہے کہ ہم میں سے ہر
کوئی آئینہ کائنات ہے، جس میں سے کائنات
دکھائی دیتی ہے۔ اس نے پینٹ کر کے دوسروں
کو دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ نیلم
باجوہ کی تصویریں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ
ہیئت کے تشبیہاتی اور استعاراتی استعمال
سے خاموش کہانیوں کو ان کہے اور ان سنے
مدو جذر کو اُجاگر کرنے کی صلاحیتوں سے
بہر ہ ور ہے۔ عائشہ ایوب نے زمان و مکاں
اور رنگ و روشنی سے منسلک یادوں کو تصویر
بنایا ہے۔ کینوس پر بکھیرے اس کے رنگوں
کی لہریں انسانی احساسات اور خاص مواقع
سے جڑی یادوں کے جوش و کرب کا نمایاں بیان
ہیں۔ مدیحہ کھوکھر نے مؤرخ
اور نقاد پر مصورہ کا لبادہ ڈال کر زندگی
کی حقیقتوں اور افسانوں کو دیکھنے کی سعی
کی ہے ۔ نیز پاکستان کے ظاہری حالات اور
پوشیدہ حقائق دکھائے ہیں۔ رابعہ سجاد نے
اپنے معاشرے کی عام عورت کے مسائل اور
حقائق کو رنگوں کی زبان دی ہے۔ حقوق نسواں
کے بنیادی معاشرتی مسائل اور آزادی اظہار
کے ضمن میں رابعہ سجاد کے استعارے واضح
اور مختلف الجہات ہیں۔ سلمیٰ مظفر نے خدا،
ممتا اور فطرت کی شفقت کو دلکش، معنی خیز
اور رنگین پیکر دیا ہے بلکہ یہ کہنا بھی
غلط نہیں کہ سلمیٰ مظفر نے پیکر تراشی کے
منفرد اسلوب کے ذریعے ممتا کی بصری زبان
مرتب کی ہے جو بصیرت اور بصارت دونوں کو
متاثر کرتی ہے۔
جامعہ
گجرات میں منعقدہ اس تھیسس نمائش نے اس
پسماندہ خطے کی لڑکیوں کے ٹیلنٹ کو بھرپور
اظہار کے مواقع فراہم کئے ہیں ۔ وائس
چانسلر ڈاکٹر نظام الدین کا کہنا ہے کہ
انہوں نے اس نمائش کی کامیابی کو دیکھ کر
”گجرات آرٹس کونسل“ کے قیام کا فیصلہ
کیا۔ اور دو کامیاب طالبات کو جامعہ میں
ہی بطور فیکلٹی ممبر مواقع فراہم کئے ہیں۔
تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ پاکستان کی
نسل ِنو میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے بس انہیں
قدر دانوں کی ضرورت ہے ۔ یونیورسٹی آف
گجرات فنون ِلطیفہ اور فنکاروں کی بے پناہ
قدر کرتی ہے اور انہیں ہر ممکن راہنمائی
اور معاونت فراہم کرے گی۔ بلاشبہ ڈاکٹر
نظام الدین جیسے ذوق ِسلیم کے حامل منتظمین
ہی کی کاوشیں فن کے فروغ کا ذریعہ بنیں
گی۔ یونیورسٹی آف گجرات کی پہلی مقالہ
نمائش دیکھ کر احساس پختہ ہوجاتا ہے کہ
معیاری تدریس و تحقیق کا ماحول ہی ہے جس
نے ان طالبات کو فن کی باریکیوں اور لطافتوں
سے آگاہی بخشی ہے۔ اگر ان کو مزید راہنمائی
اور پذیرائی ملے تو یہ تجریدی، اقلیدسی
اور میکانکی تصورات کے ادراک کے ساتھ
اعلیٰ تصویر کشی پر قدرت حاصل کرنے کی
منزل کی طرف رواں دواں رہیں گی بلکہ میکانیت
کے شعور، ارتکاز اور ریاضیاتی سچائیوں
کے ساتھ بصری علامت گر ی کی علمبردار بھی
بنیں گی۔ بصورت دیگر یہ اس سماج میں گم ہو
جائیں گی۔ ہم سب کا فرض ہے کہ اس ٹیلنٹ کی
قدر کریں تاکہ گجرات کا یہ سرمایہ آنے
والوں دنوں میں قومی سرمایہ بن سکے۔
|