03/09/2010
 
 
   
 
 
  رنگ، لکیریں اشکال اور جاوداں کردار
 

رنگ، لکیریں اشکال اور جاوداں کردار

لاہور میں منعقد ہ آرٹ نمائشوں کے بارے رپورٹ

چشمان ربیع

الحمرا میں جاری نمائش کے آرٹسٹ اُسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے اپنی تاریخ اور اپنی خوبصورت ثقافت کی طرف رُخ کیا ہے۔ ہماری ثقافت جسے مغل بادشاہوں نے عروج دیا ۔ اُن کی بنائی ہوئی عمارات فن عمارت سازی کے اعلیٰ ترین نمونے ہیں علاوہ ازیں انہوں نے فن مصوری میں بھی بیش بہا خزانہ چھوڑا جو آج دنیا کی بہترین گیلریوں کی زینت ہے۔ ظہیر الدین بابر اور حورین نے بھی اِس پس منظر کو اپنے فن پاروں کے ذریعے اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ ہفتے میں الحمرا آرٹ گیلری میں convergence کے نام سے اِن دونوںفن کاروں نے اپنے فن کی نمائش آویزاں کی۔ اِن کی تخلیقی صلاحیتوں کی یکساں کوشش کو convergence کا نام دیا گیاہے۔ یہ نمائش پاکستانی آرٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی نمائش ہے کیونکہ اس میں عظیم الشان عمارتی ورثہ کو میورل، پینٹنگ، سرامک کے ساتھ ساتھ اُسی ڈرائننگ کو فیبرک پینٹ آن ویونگ، آبی اور روغنی رنگوں کی پینٹنگ، سگرافیتو، پین اینڈ واش، اسکرین پینٹنگ، باتیک، پیپر کولاج (بلیک اینڈ وائٹ) مارکر پینٹنگ، روغنی رنگوں سے مانوکروم پینٹنگ، سٹینڈ گلاس، پین اینڈ اِنک، ٹیراکوٹا، روغنی رنگوں کا استعمال چاقو تھاپی کی تکنیک کے ذریعے، ایکریلک، سینڈ بلاسٹنگ، لینڈ پینسل، سلگ پینٹنگ، کراس اسٹیج، فریسکو، ووڈکٹ پرنٹ، پیپر میشے، لیچ، ڈرائی پیسٹل، آبی اور روغنی رنگوں کی پینٹنگ، چارکول، ریلیف، کاسٹنگ، مِکسڈ میڈیا، لینولیئم کِٹ، رنگین پیپر کولاج، پوسٹر پینٹنگ، موزیک، میناتوری، روغنی پیسٹل، گرافک پینٹنگ، کلر پنسل، پلاسٹر کا رونگ، لیدر کرافٹ، اور ٹیمپیرا (Tempera) سمیت 45 تکنیکس کا استعمال کیا گیا ہے۔ ایک آرٹسٹ (حورین) نے انہیں سرامک میں جبکہ دوسرے آرٹسٹ (بابر) نے انہیں آرٹ کے 45 اصناف اور تکنیک کے ذریعے باتصویر کیا ہے۔ اور یہی اس نمائش کی انفرادیت ہے۔ ظہیر الدین بابر نے ہم شہری کو بتایا کہ ”میں اپنے آپ کو نامکمل سمجھتا تھا، لیکن میرا خیال ہے کہ اس نمائش سے یہ بات واضح ہو گئی کہ میں نے اپنے حصے کی کاوش بھرپور طریقے سے مکمل کر لی ہے۔ حورین کی مدد سے میں اپنی بڑی نمائش کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوا۔ میرا اکیلا دماغ اس کو کینوس پر نہیں اُتار سکتا تھا۔ اس دفعہ میں نے خود کو کسی ایک تکنیک تک محدود نہیں رکھا بلکہ ڈرائننگ کے ذریعے لاتعداد اصناف کو تقابلی یا مقابلے کی خوبصورت لائین میں کھڑا کیا ہے۔ میں لینڈ اسکیپ آرٹسٹ ہوں۔ میری پینٹنگ میں خاص perspective ہوتا ہے۔ اُسی لینڈ اسکیپ کو حورین احمد نے اپنے انداز سے سرامک میں بنایا۔ اس نمائش کو ہم نے مل کرHB Artific کا نام دیا ہے“۔ حورین احمد نے ”ہم شہری“ کو اپنے خیالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ”حال ہی میں مجھے ایک ہم عصر آرٹسٹ ظہیر الدین بابر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ جسے میں نے سرامک کی تکنیک میں اپنی صلاحیت کو ثابت کرنے کے لیے چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ مٹی کا استعمال کرتے ہوئے میں نے پینٹنگ میں خاص perspective کو مدنظر رکھا ہے۔ چونکہ مٹی ایک سہ اطرافی (3-dimensional) میڈیم ہے۔ اسی لیے میں نے میورال بناتے وقت ڈیزائن کے دو عناصر کا خیال رکھا ہے۔ ایک ’لائن‘ اور دوسرا ‘رنگ‘، ایک میورال میں لائین میرے لیے محض ایک لائین نہیں ہے جو کہ کھڑی یا ترچھی ہے۔ بلکہ میں نے اس لائن کو اپنے ہی انداز میں بیان کیا ہے جو کہ مجھے میری منزل کی طرف لے جاتی دکھائی دیتی ہے اور اسی لائین کو استعمال کرتے ہوئے مختلف اشکال بھی تخلیق کی گئی ہیں۔ رنگ ہمیشہ اشکال اور فارم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور سطحی خدوخال کو نمایاں کرتے ہیں اور میرے میورال اِس بات کا ثبوت ہیں کہ سرامک ایک ہمیشہ قائم رہنے والی خوبصورتی ہے۔ بالآخر ’convergence‘ میرے لیے اِس نمائش کا مرکزی خیال ہی نہیں بلکہ یہ دو ذہنوں کے تخیل کا ملاپ ہے“۔ حورین نے 2006ء میں ہوم اکنامکس کالج سے آرٹ اینڈ ڈیزائن میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اب تک 3 سولو اور مختلف گروپ نمائشوں میں اپنے فن پاروں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر چکی ہیں۔ ظہیر الدین بابر ان آرٹسٹوں میں سے ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے۔ ظہیر نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے ایف اے فائن آرٹ اور پنجاب یونیورسٹی سے B.F.A کیا۔ ان کی بنیادی اسپیشیلٹی آبی رنگوں کی لینڈ اسکیپ ہیں، مگر آرٹسٹ آرٹ کے 45 اصناف و تکنیک میں مہارت رکھتا ہے۔ آرٹسٹ نے اندرون اور بیرونِ ممالک میں منعقدہ نمائشوں میں امتیازی حیثیت کے انعام اور ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔

اعجاز گیلری میں مشہور آرٹسٹ اقبال حسین کی 77 پینٹنگز اور پرنٹس کی نمائش آویزاں کی گئی ، علاوہ ازیں اقبال حسین کی شخصیت، فن کارانہ زندگی اور سفر کے حوالے سے کتاب شائع کی گئی۔ اقبال نے 1974ء میں نیشنل کالج آف آرٹ سے گریجوایٹ کیا۔ ان کی انسپائریشن اُن کے استاد خالد اقبال تھے، جنہوں نے انہیں وہ وژن دیا جس کی وجہ سے اُنہوں نے ایسے موضوع کو ہائی لائٹ کیا جس پر لوگ بات کرنا بھی بُرا جانتے تھے۔ اقبال حسین نے اُستاد کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں اپنے اِردگرد کے ماحول کو پینٹ کیا۔ انہوں نے شہر کے رسوائے زمانہ ریڈ لائٹ ایریا جیسی جگہ کے مختلف ادوار و انداز کو مسلسل پینٹ کیا اور اپنی تصاویر کے ذریعے اُس محدود جگہ میں پوشیدہ غمگین زندگی کو دنیا کے سامنے اُجاگر کیا۔ وہ بچپن سے ہی مایوس اور نااُمیدی کے ورثے کو غور سے مشاہدہ کر رہا تھا ،جس کی عمومی دنیا میں قبولیت کے امکانات ناپید تھے۔ ان پینٹنگز کے ذریعے آرٹسٹ نے جذبات سے عاری خاموش دنیا کو اپنی تخلیقی لائنز کے توسط سے کچھ اس انداز سے پیش کیا ہے کہ مصور کی گئی یہ کریہہ حقیقت دیکھنے والوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ حقیقی دنیا کے پہلو بہ پہلو، اندھیرے میں پوشیدہ غمگین حقیقتوں کے پس پردہ الم کو محسوس کرسکیں۔

گزشتہ دنوں الحمرا آرٹ گیلری میں جاپانی کیلنڈر کی نمائش کی گئی۔ یہ کیلنڈر ری ۔سائیکل پراسس کے ذریعے بنائے گئے پیپر پر پرنٹ کیے گئے ہیں۔یہ نمائش دنیا کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیے آگاہی مہم کا حصہ ہے۔ اس نمائش میں 110 کیلنڈرز پر ماحول اور قدرتی مناظر کو بڑی خوبصورتی سے اُتارا گیا ہے۔ ان میں باغات، لائف سٹائل، تاریخی عمارات، لوگ، روایت، آرٹ، فوٹو گرافی، آٹو موبائلز، جنگلی حیات اور جاپان سے متعلقہ تصاویر کو کیلنڈر کا حصہ بنایا گیا ہے۔



 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive