03/09/2010
 
 
   
 
 
  اقتصادی مشکلات اور عوام
 

اقتصادی مشکلات اور عوام

درپیش حالات میں حکمرانوں کے لیے بہترین راہ عمل کون سی ہے؟

شیخ حق نواز

موجودہ حکمرانوں کو ان کے قابل اعتماد مشیران گرامی نے مشورہ دیا ہے کہ وہ حریف مقتدر و غیر مقتدر قوتوں کے اصل عزائم کو پوری طرح سمجھیں اور ان کے حقیقی مقاصد کا بھرپور ادراک کرتے ہوئے اس سیاسی کشمکش سے نکلیں جس سے وہ انہیں بُری طرح اُلجھا کر ان کی حکمرانہ کارکردگی کو متاثر کرنے کی ایک پیہم مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس طرح عوام الناس کو یہ بالواسطہ تاثر دینے میں مگن ہیں کہ فی الواقعی حکمران محض ایک سیاسی جنگ میں مصروف ہیں جس سے عوام الناس کو کسی بھی درجہ کے ریلیف کی فراہمی کا کوئی امکان نہیں بلکہ اس کے برعکس ان کو درپیش مسائل و مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جس سے ان میں حکمرانوں کے خلاف شدید ترین منفی ردعمل جنم لے رہا ہے جو کسی بھی وقت ایک لاوے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جسے درد مند سیاسی حلقے گاہے گاہے زبان دیتے رہتے اور اس طرح حکمرانوں کو آنے والے حالات کی امکانی ناموافقت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں، مگر اب شاید حکمران اس پیشگی آگاہی کی اہمیت کا اعتراف کر بیٹھے ہیں اور اس ذیل میں اپنی سابقہ روش کو ترک کر کے ایک نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے کا عندیہ دینے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں بعض ایسے اجلاس منعقد ہوئے ہیں جن میں حکمرانوں نے اپنی طرز کا ازسر نو جائزہ لیا اور یہ طے کیا کہ وہ اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں عوام الناس کو درپیش مسائل و مشکلات کے فوری حل پر صرف کریں گے اور حریف قوتوں کے چائے کی پیالی میں اٹھائے گئے سیاسی طوفانوں سے صرفِ نظر کریںگے۔ بلاشبہ یہ وہ سوچ ہے جس کی روبہ عملی اس وقت اہل وطن کو ناگزیر طور پر مطلوب ہے اور وہ اس عنوان سے اپنے مصائب و آلام کے خاتمہ کی امید باندھے ہوئے ہیں۔

اس میں کوئی کلام ہی نہیں کہ جب سے قومی مفاہمتی آرڈیننس عدالت میں چیلنج ہوا اور پھر سماعت کے مختلف مراحل سے ہوتا ہوا اپنے عدالتی انجام کو پہنچا اس وقت سے ملک و قوم کو درپیش سنگین ترین مسائل و مشکلات پس منظر میں چلے گئے اور یوں دکھائی دینا شروع ہو گیا کہ دراصل ملک و قوم کا اصل مسئلہ فقط یہی اک آرڈیننس ہی بن کر رہ گیا ہے اور بس! یعنی اس کے سوا کوئی اور مسئلہ ہی موجود نہیں جس کا حل مطلوب ہو۔ حکمرانوں اور حزب اختلاف ہر دو نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ شاید عوام الناس نے انہیں مینڈیٹ ہی فقط اس آرڈیننس کے خاتمے یا برقراری کے لیے دیا تھا نہ کہ اپنے معاشی، سیاسی یا معاشرتی مسائل و مشکلات کے حل کے لیے، حالانکہ عوام الناس اپنے مخصوص ردعمل کے ذریعے یہ پیغام دیتے رہتے ہیں کہ وہ جن سنگین مشکلات سے دوچار ہیں ان کے خاتمہ کا تقاضا اس آرڈیننس کے خاتمہ کا اہتمام ہی نہیں بلکہ ان اقدامات کی اختیاری کا ہے جو اس باب میں انہیں بہرحال و بہر نوع مطلوب ہیں۔ سچی بات درحقیقت یہی ہے کہ اگر حکمران مذکورہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے حوالہ سے بعض غیر معمولی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوتے تو وہ اب تک عوام الناس کی بھلائی و بہتری کے لیے اتنا کچھ ضرور کر چکے ہوتے جس کی بنیاد پر وہ انہیں یہ یقین دلانے میں طمانیت محسوس کرتے کہ انہوں نے دستیاب حالات میں جو کچھ بن پڑا وہ کر دکھایا اور مزید کچھ کر دکھانے کے لیے مصروف کار ہیں، مگر ایسا چونکہ پوری طرح نہ ہو سکا چنانچہ فطری طور پر یہ تاثر از خود ہی اُبھرنے لگا کہ حکمران عوامی توقعات کی کامل تکمیل میں تساہل سے کام لے رہے ہیں اور یوں حالات و واقعات کی سنگینی کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے کسی قدر عاری دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جسے حریف سیاسی قوتوں نے پوری شدت اور اہتمام سے آگے بڑھایا اور اپنی سیاسی پیش قدمی کو امکانی حد تک ممکن بنایا۔ اگرچہ حکمرانوں نے اول روز ہی سے اپنے دعوؤں کی بنیاد عام آدمی کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل ہی پر رکھی اور اس ذیل میں بعض عملی اقدامات بھی اُٹھائے مگر اس کے باوجود وہ یہ تاثر پھیلانے میں کچھ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے کہ فی الواقعی ان کی مقتدرانہ تعمیری سرگرمیاں درپیش مشکلات و مسائل کے فوری حل اور ان کے بنیادی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو حکمرانوں کی حقیقی عوامی سیاسی پذیرائی کی راہ میں کسی حد تک مانع ہے اور جس کی فوری دوری خود حکمرانوں کے اپنے وسیع تر سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ازبس ضروری ہے۔

لاشک زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ عام آدمی معاشی طور پر بُری طرح پس کے رہ گیا ہے اور اس کے لیے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا سخت دوبھر ہو گیا ہے۔ زندگی کی آسائشوں کے حصول کا تصور تو کیا اس کے لیے روزمرہ کی ناگزیر ضروریات کی تکمیل بھی ایک امر محال بن کر رہ گیا ہے۔ لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور مہنگائی نے اس کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے اور اس کے نتیجہ میں اب خود سوزیاں بھی ہونے لگی ہیں۔ بے روزگاری سے تنگ نوجوان جرائم کی راہ اختیار کرنے لگے ہیں۔ تنگ دستی نے مہذب گھرانوں میں بھی ناگفتی رجحانات نے راہ پانا شروع کر دی ہے۔ معاشی دباؤ نے سماجی اور تہذیبی قدروں کو یکسر بے معنی بنا کر رکھ دیا ہے۔ معاشرتی و معاشی تضادات اور ان کے پھیلے ہوئے دائروں نے نفسیاتی امراض کو نہایت برق رفتاری سے پھیلانا شروع کر دیا ہے۔ زندگی کی عمومی رونقیں اور دلچسپیاں کھونے لگی ہیں اور ملک میں اقتصادی بدحالی کے سبب خونی انقلاب کی برپائی کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں اور یہ صدائیں اب بعض مقتدرین کی جانب سے بھی بلند ہونے لگی ہیں جو ہماری قومی سیاسی زندگی کا ایک عظیم ترین المیہ ہے۔ آٹا، گھی، کھاد اور چینی کے بحرانوں نے زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔ حالات کی یہی وہ تصویر ہے جو حکمرانوں کی کارکردگی کو بُری طرح ہدف تنقید بنائے رکھنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ حکمرانوں کی سیاسی اہمیت اور ان کا سیاسی اعتبار خواہ کتنا ہی محکم اور ہر طرح کی حرف گیری سے کتنا ہی مبرا کیوں نہ ہو مگر ملکی معاشی مسائل کے حل کے حوالہ سے ان کی کارکردگی کچھ زیادہ قابل رشک ہرگز قرار نہیں دی جا سکتی۔ بے لگام مہنگائی کے بڑھتے ہوئے اثرات و نتائج نے سارے سماجی نظام ہی کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے اور عام آدمی کی سوچ ہی کو ایک نیا رُخ دے دیا ہے۔ پہلے وہ جس عمل و کردار کو معتبر و افضل خیال کرتا تھا اب وہ اسے بالکل ہی نئے تناظر میں پرکھنے لگا ہے۔ سوچ کی یہی وہ تبدیلی ہے جو اجتماعی صورت اختیار کر کے معاشرہ میں کسی بھی وقت کوئی سا بھی گُل کھلا سکتی ہے۔ عوام الناس اس امر پر سخت حیرت زدہ ہیں کہ حکمران ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مطلوبہ مؤثر ترین اقدامات کی اختیاری سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس عذاب دہ مہنگائی کے سبب عوام الناس کو جن معاشی اذیتوں سے گزرنا پڑ رہا ہے وہ انہیں حکمرانوں سے سخت برگشتہ کرنے کا موجب بن رہا ہے اور جس کے مربوط اظہار کا امکان قطعاً رد نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں ایک ماہر معاشیات پروفیسر علی جعفری کا یہ تبصرہ برمحل دکھائی دیتا ہے ”موجودہ حکمرانوں سے اقتدار میں آتے ہی ایک ایسی سنگین غلطی سرزد ہو گئی جس کا خمیازہ عوام الناس آج تک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے ہی روز گندم کے نرخ میں سینکڑوں روپے فی من کا اضافہ کر کے یہ تاثر دیا کہ انہیں کاشتکاروں کے ساتھ دلی ہمدردی اور وہ ان کی معاشی خوشحالی میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں مگر اس کے نتیجہ میں صرف بڑے زمینداروں ہی کو فائدہ ہوااور انہی کی تجوریوں کا حجم بڑھا ہے اور غریب، محنت کش اور متوسط طبقہ کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی کھاد، آٹے، گھی اور چینی کی قیمتیں بڑھتی چلی گئیں اور بحیثیت مجموعی عام آدمی ایک غیر معمولی معاشی دباؤ کی زد میں آ گیا اور اس پر جلتی کا کام بدترین لوڈشیڈنگ نے کیا جس کے سبب بے روزگاری کا گراف یکدم بڑھ گیا اور لوگوں میں شدید ترین ردعمل پیدا ہوا جس کا اظہار ملک کے مختلف شہروں میں بھرپور احتجاج کی صورت میں سامنے آیا۔ حکمران خواہ کچھ ہی کیوں نہ کہیں یہ ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ عوام الناس اپنی معاشی بدحالی کے باعث حکمرانوں سے سخت نالاں ہیں۔ انہیں آئے روز نئے سے نئے معاشی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور طرح طرح کی مشکلات جھیلنا پڑتی ہیں۔ یہ وہ احوال پریشان ہیں جو کسی بھی نوع کے کسی بھی لمحے اپنے منطقی اثرات و نتائج برآمد کر سکتے ہیں جو کسی بھی طور حکمرانوں کے لیے نیک شگون ثابت نہ ہوں گے۔ لہٰذا اس صورت حال کے پیش نظر حکمرانوں کو معاشی و اقتصادی دائروں میں ایسے فوری اصلاحی اقدامات اٹھانا چاہئیں جن سے عام آدمی کو کسی بھی درجہ کا ریلیف مل سکے اور یوں اس کی برہمی اور ذہنی ابتری میں کمی آ سکے۔ یہ اک زمینی حقیقت ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بدترین مہنگائی پر حکمرانوں کا کوئی کنٹرول دکھائی نہیں دیتا، جس کا جتنا جی چاہتا ہے وہ اس شرح سے کسی بھی چیز کا نرخ بڑھا لیتا ہے اور اس کے جوازمیں محض ایک ہی دلیل دیتا ہے کہ نرخ میں اضافہ کا سبب حکمرانوں سے معلوم کرو، یہی ایک جملہ عوام کو حکمرانوں سے برگشتہ کرتا چلا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر حکمران مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کاغذی دعوؤں کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائیں تو ہر آن بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہو رہا۔ اس ذیل میں فقط یہی ایک احساس ابھرتا ہے کہ شاید ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز سِرے سے ہے ہی نہیں اور قانون نامی کسی گرفت کا وجود ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا بے لگام گھوڑا سرپٹ دوڑے چلا جا رہا ہے اور غریبوں کو اپنے پاؤں تلے کچلتا جا رہا ہے۔

حکمرانوں کو شاید اس بات کا احساس ہی نہیں کہ قیامت خیز مہنگائی خواہ اس کی جڑیں عالمی معیشت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ابتری ہی نہیں کیوں نہ ہوں وہ زخمی سانپ ہے جو کسی بھی انتخابی آزمائش میں حکمرانوں کو کاٹ کھائے گا۔ حکمران اگر اپنی مقتدرانہ سیاسی بقا کے خواہاں ہیں تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے مہنگائی کو کنٹرول کریں اوراس کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات پوری قوت اور شدت سے اُٹھائیں اور اس ذیل میں کسی چھوٹے بڑے یا کسی کی سیاسی وابستگی کو ذرا خاطر میں نہ لائیں۔ یہی وہ واحد امکانی حربہ ہے جسے حکمران کام میں لا کر عوام الناس کو کسی قدر مطمئن کر سکتے ہیں“۔

باشعور سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ اب حکمرانوں کو اپنی تمام تر توجہ صرف اور فقط ملک و قوم کو درپیش معاشی مسائل و مشکلات کے حل ہی پر مرکوز رکھنی چاہیے اور اس باب میں ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں جن کے فوری اثرات عام آدمی تک پہنچیں اور یوں اسے محسوس ہو کہ حکمران ان کے مسائل کے حل میں پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ملک کا معاشی مستقبل کچھ زیادہ اطمینان بخش دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے معاشی پالیسی ساز جس طرح کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں وہ کسی بھی پہلو سے حوصلہ افزا نہیں بلکہ یوں لگتا ہے کہ عوام الناس کو ابھی مزید ناقابل برداشت معاشی دباؤ جھیلنا پڑے گا اور اس شکنجہ میں جکڑے جانے پر مجبور ہونا پڑے گا جس کا انہیں فی الحال تصور ہی نہیں۔ ان کی بدبختی یہ ہے کہ انہیں سابقہ حکمرانوں کی بداعمالیوں کی بھی سزا بھگتنا پڑے گی۔ بے شک ملک آج جن معاشی و اقتصادی مشکلات و مسائل کا شکار ہے وہ فقط آج کے عہد کی پیداوار نہیں بلکہ یہ گذشتہ کئی عشروں پر محیط مختلف حکومتوں کی غیر حکیمانہ معاشی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہیں۔ ان حکومتوں نے صرف ’ڈنگ ٹپاؤ‘ طرز کار اپناتے ہوئے ٹھوس زمینی حقائق کو دانستہ نظر انداز کیا اور یوں اپنے بعد آنے والی حکومتوں کو ورثہ میں بدترین معاشی انحطاط دیا۔ اقتصادی منصوبہ بندی، پیداوار میں اضافہ، آبادی پر کنٹرول، توانائی کے ذرائع میں اضافہ کے ذیل میں ان حکومتوں نے مجرمانہ حد تک عملی غفلت کا ثبوت دیا اور صرف مصنوعی دعوؤں ہی کے اعادہ پر انحصار کیا جن کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آج عوام الناس اپنی قومی زندگی کے بدترین معاشی و اقتصادی بحران کی گرفت میں جکڑے جا چکے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی انہیں اس گرفت سے رہائی کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے رواں مالی سال کے لیے چوتھی مانیٹرنگ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے جن معاشی و اقتصادی حقائق کا انکشاف کیا ہے وہ یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ ہماری ملکی معیشت کن نشیب و فراز سے دوچار اور ان کے بنیادی اسباب و عمل کیا ہیں اور ان کی دوری یا خاتمہ کے امکانات کیا ہیں۔ گورنر موصوف نے صاف کہا ہے کہ عالمی منڈی میں اضافے کی وجہ سے ملکی زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔ بجٹ خسارہ کے سبب حکومت کو بینکوں سے اور زیادہ قرضے لینا پڑیں گے جس کے باعث مارکیٹ دباؤ کا شکار رہے گی۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ میں بھی کمی لانا پڑے گی اور اس سارے عمل کے نتیجہ میں عوام الناس کو مزید معاشی مشکلات سے گزرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنر موصوف نے اس نئی مالی مانیٹرنگ پالیسی کی روبہ عملی سے بعض خوش کن توقعات بھی وابستہ کی ہیں جن کے مطابق گذشتہ برس کے برعکس مہنگائی کی شرح نمو فقط 12 فیصد تک ہی محدود رہے گی مگر بعض ماہرین اقتصادیات نے اس مانیٹرنگ پالیسی کو بعض جہتوں سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک میں قرضوں کا حصول ہمیشہ افراطِ زر کی شرح میں اضافہ کا موجب ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں گرانی کی ایک شدید ترین لہر اُٹھتی ہے جس پر عوام چیخ اُٹھتے ہیں، پھر یہ کہ صنعتی اور زرعی پیداوار میں کمی آبادی میں بے ہنگم اضافہ، برآمدات میں کمی، تجارتی عدم توازن، بڑھتے ہوئے خسارے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ پر منتج ہو گا جس کے موجب غریب اور درمیانہ طبقہ کی قوت خرید بُری طرح متاثر ہو گی اور یوں غربت و افلاس کے سائے مزید گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ گیس اور لوڈشیڈنگ کے سبب پہلے ہی ہزاروں صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ پیداواری لاگت میں اضافہ کے موجب برآمدات میں کمی ہو چکی ہے اور یوں پورا معاشی ڈھانچہ ہی متزلزل ہو چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ سے صنعتوں کو سالانہ 219 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور 4 لاکھ مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ملکی برآمدات میں سو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ چنانچہ سامنے کے یہ وہ ناقابلِ تردید حقائق ہیں جو حکمرانوں سے اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت اور ماہرین معاشیات کی باہمی مشاورت سے فوری طور پر کوئی ایسی حکمت عملی وضع کریں جس سے عوام الناس کو درپیش معاشی مشکلات سے نجات مل سکے اور انہیں سُکھ کا سانس آئے، بصورت دیگر نوشتہ دیوار جو کچھ عیاں کر رہا ہے وہ کسی بھی طور اطمینان بخش نہیں۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive