|
مسئلہ
افغانستان اور ’لندن کانفرنس‘
کیا
طالبان اور مغرب مذاکرات کی میز پر اکٹھے
ہو سکیں گے؟
عامر
حسینی
کفر
ٹوٹا خدا خدا کر کے، لندن کانفرنس میں 70
ممالک
کے نمائندوں نے مل کر اصولی طور پر اس بات
سے اتفاق کر لیا کہ افغانستان میں طالبان
سے بات چیت کرنی چاہیے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس
کی طرف دنیا بھر کے غیر جانبدار حلقے 9/11
کے
واقعے کے بعد مسلسل امریکاکی توجہ مبذول
کرا رہے تھے لیکن اس وقت امریکا میں برسر
اقتدار ری پبلکن پارٹی اور صدر بش نے اس
طرف توجہ مرکوز نہ کی اور القاعدہ کے خاتمے
کے نام پر افغانستان پر چڑھائی کر دی۔
افغانستان پر حملے کے دوران ہی پاکستان
کی طرف سے امریکا کو یہ درخواست کی گئی
تھی کہ وہ القاعدہ اور طالبان میں فرق
کرے۔ نیز افغانستان میں جس وقت اقوام
متحدہ کے بینر تلے نئی حکومت کے قیام کی
باتیں ہو رہی تھیںاور بون میں بڑا لویہ
جرگہ بلانے کی تیاری ہو رہی تھی تو پاکستان
نے ایک مرتبہ پھر امریکا سے کہا تھا کہ وہ
بڑے لویہ جرگے میں شمالی اتحاد کے ساتھ
ساتھ معتدل طالبان اور دیگر پشتون حلقوں
کی شمولیت کو بھی یقینی بنائے۔ لیکن افسوس
کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکا اور اس کے
دیگر مغربی اتحادیوں نے پاکستان کے ان
مشوروں پر کان نہ دھرے اور ایک ایسی حکومت
سامنے آئی جسے افغانستان کے اندر پشتون
عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہ تھی۔
افغانستان میں کرزئی حکومت کے لیے جو
تھوڑی بہت حمایت جو پائی جاتی تھی اس کا
خاتمہ گزشتہ 8
سالوں
میں نیٹو کی زمینی اور ہوائی کارروائیوں
میں عام افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر
ہلاکت، لوگوں کے مال و اسباب کی تباہی کی
وجہ سے ختم ہو گئی۔ خود کرزئی حکومت نے
بھی افغان شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے
کوئی کام نہ کیا۔ وہ شہریوں کو روز گار
دینے، انفراسٹرکچر کی تعمیر کرنے میں
ناکام ہو گئی۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں
نے طالبان کو جو متبادل دیا وہ وار لارڈز
کی حکومت تھی جس نے منشیات، اسلحے سمیت
غیر قانونی دھندوں کو فروغ دیا۔ خود حامد
کرزئی کے بھائی پر منشیات کی سمگلنگ میں
ملوث ہونے کا الزام لگا۔ وزرا اور سرکاری
افسروں کی بد عنوانیوں کے قصے عام ہو گئے۔
نئے انتخابات میں کرزئی کی مقبولیت کا
پول کھل کر سامنے آیا۔ مبینہ فراڈ الیکشن
اور مغرب کی بے جا حمایت سے کرزئی دوبارہ
برسر اقتدار آ گئے۔ اس نا اہلی کے سبب
تحریک طالبان کی طرف نوجوان پشتونوں کا
رجحان بڑھتا گیا اور آج وہ وقت ہے کہ تحریک
طالبان کا اثر تقریباً ہر جگہ محسوس کیا
جا رہا ہے۔ تحریک طالبان افغانستان نے
بڑے منظم طریقے سے نیٹو اور افغان فورسز
کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ تحریک طالبان
کی جہاد اور آزادی کی جنگ کے نعرے نے
افغانستان ہی میں نہیں بلکہ پڑوسی ملک
پاکستان کی نوجوان نسل میں بھی مقبولیت
حاصل کی۔
یہ
بات درست ہے کہ پاکستان اسٹیبلشمنٹ خاص
طور پر فوجی ہیئت مقتدرہ کے لیے کسی بھی
طرح سے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ افغان و
کشمیری عسکریت پسندوں سے اپنے رابطے 100
فی
صدی منقطع کر لیتی۔ اس کے لیے یہ بھی ممکن
نہیں تھا کہ وہ عالمی برادری و امریکا کے
ساتھ اس کی دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی
جنگ میں تعاون سے بالکل انکار کرتی۔ فوجی
ہیئت مقتدرہ نے تزویراتی گہرائی کی پالیسی
کو نئے حالات کے مطابق ایڈجسٹ کیا۔ وہ ان
عناصر سے نمٹنا بھی چاہتی تھی جو پاکستان
کو اپنی کارروائیوں کا ہدف بنا رہے تھے
جبکہ ان عناصر کو چھیڑنا نہیں چاہتی تھی
جن کا ہدف پاکستان نہیں بلکہ نیٹو و امریکی
افواج اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت
تھی۔ گزشتہ 10
سالوں
سے پاکستان کی تزویراتی پالیسی ان دو
قوتوں کے درمیان امتیاز پر زور دینے والی
پالیسی تھی۔ پاکستان کی فوجی ہیئت مقتدرہ
کی 9/11
کے
بعد بتدریج یہ کوشش رہی کہ وہ افغانستان
اور پاکستان میں قدامت پسند اور لبرل
پشتون حلقوں میں باعزت سمجھوتہ کرا دے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اندر عوامی نیشنل
پارٹی سمیت لبرل پشتون حلقوں کو افغانستان
کے لبرل پشتون حلقوں کے قریب لانے کے لیے
رابطے میں لایا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی
کے سربراہ اسفندیار ولی ایک بڑے وفد کے
ساتھ افغانستان گئے تھے اور انہوں نے
کرزئی حکومت سمیت کابل کے با اثر پشتون
حلقوں سے روابط قائم کیے۔ قدامت پرستوں
میں سے جی ایچ کیو اور خفیہ اداروں نے
جمعیت العلمائے اسلام (ف)
اور
جمعیت العلمائے اسلام (س)
کے
حلقوں کو بھی متحرک کیا۔ دیو بندی مدارس
دینیہ کی تنظیم وفاق المدارس کے ذمہ داران
سے بھی روابطہ کیے گئے۔ پاکستان نے سعودی
عرب کے ساتھ مل کر تحریک طالبان افغانستان
کے ذمہ داران سے بھی روابط قائم کیے۔
امریکا میں نئی حکومت کی تبدیلی کے ساتھ
ہی افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی
پر غور کرنے کا کام شروع ہو گیا تھا۔ امریکا
نے سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب
امارات سے درخواست کی تھی کہ وہ افغان
طالبان سے بیک ڈور چینل استعمال کر کے
مذاکرات کریں۔ بعض اطلاعات کے مطابق
پاکستان نے شمالی وزیرستان میں حافظ بہادر
گل، کمانڈر مولوی نذیر اور جنوبی وزیرستان
میں سراج حقانی نیٹ ورک سے بھی اس حوالے
سے مدد طلب کی تھی۔ گزشتہ دنوں پاکستانی
وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعتراف کیا تھا
کہ پاکستان ہر سطح پر افغان طالبان سے
مذاکرات اور رابطے کر رہا ہے۔ جبکہ لندن
کانفرنس سے کچھ روز قبل اقوام متحدہ کے
نمائندے سے طالبان کمانڈرز کی خفیہ ملاقات
کی خبریں بھی میڈیا میں نشر ہوئیں۔ حامد
کرزئی صدر افغانستان نے اقوام متحدہ اور
امریکا سے بلیک لسٹ کیے گئے افغان طالبان
کے رہنماﺅں پر عائد پابندیاں ختم کرنے
کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکا کے بارے میں
یہ بھی اطلاعات تھیں کہ وہ حزب اسلامی
افغانستان اور حکمت یار سے براہ راست
مذاکرات کر رہا ہے۔ ان ساری اطلاعات کو
مد نظر رکھا جائے تو اس بات کا اندازہ کرنے
میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ امریکا
سمیت تمام مغربی ملک اس بات کو تسلیم کر
رہے ہیں کہ تحریک طالبان افغانستان کو آن
دی بورڈ لیے بغیر افغانستان میں امن قائم
نہیں ہو گا۔ امریکا، سعودی عرب، پاکستان
اور ترکی پر زور دے رہا ہے کہ وہ تحریک
طالبان افغانستان کو اس بات پر آمادہ کریں
کہ وہ القاعدہ سے اپنے رشتے اور تعلقات
ختم کر دے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس
سعود الفیصل کا خیال یہ ہے کہ تحریک طالبان
سے مذاکرات تبھی کامیاب ہوں گے جب طالبان
اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے تعلقات ختم
کریں گے۔
لیکن
دوسری طرف تحریک طالبان افغانستان کی طرف
سے یہ کہا جا رہا ہے کہ نیٹو و امریکی فوجیں
افغانستان سے چلی جائیں یا انخلا کا فریم
ورک دیں تو بات چیت شروع ہو گی۔ تحریک
طالبان نوکریوں، ڈالرز کی لالچ کو مسترد
کرتے ہیں۔ یاد رہنا چاہیے کہ پاکستان نے
صدر اوبامہ کی نئی افپاک پالیسی پر اپنے
تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس
کی نظر میں افغانستان میں موجود امریکی
فوجوں کی تعداد میں اضافہ غلط ہے۔ آئی ایس
پی آر کے ترجمان نے امریکی سیکرٹری خارجہ
رابرٹ گیٹس کی آمد کے موقع پر 6
ماہ
سے ایک سال تک نیا بڑا فوجی محاذ کھولنے
سے انکار کیا تھا۔
افغانستان
پر لندن کانفرنس کے ساتھ ساتھ ہمیں صدر
باراک اوبامہ کا پہلا سٹیٹ آف یونین خطاب
بھی سننے کو ملا۔ اس خطاب میں صدر باراک
اوبامہ نے ایک مرتبہ پھر امریکی عوام سے
وعدہ کیا کہ 2011ء
میں امریکی فوجیں افغانستان سے واپس آ
جائیں گی اور افغانستان کی سکیورٹی افغان
عوام کے حوالے کر دی جائے گی۔ لیکن سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہو گا
جیسا اوبامہ کہہ رہے ہیں کیونکہ افغانستان
حکومت بہت کمزور ہے۔ مغرب کی اتحادی افواج
نہ ہوں تو ایک دن بھی کرزئی برسر اقتدار
نہیں رہ سکتے اور افغانستان کی پولیس اور
فوج میں تجربہ کار افسروں کی شدید کمی ہے۔
تیسرا افغان عوام کرزئی حکومت اور اس کے
گورنروں سے سخت مایوس ہیں۔ تحریک طالبان
افغانستان اور حزب اسلامی افغانستان اگر
تعاون نہیں کرتے تو پھر افغانستان کو
کرزئی حکومت قطعاً کنٹرول نہیں کر سکے
گی۔ افغانستان کی اس وقت جو صور ت حال ہے
اس میں ” افغان طالبان“ فیصلہ کن حیثیت
کے حامل ہو چکے ہیں۔ ابھی تک تحریک طالبان
افغانستان کی طرف سے ”لندن کانفرنس“ کے
بارے میں کسی مثبت رائے کا اظہار نہیں کیا
گیا ہے اس کانفرنس میں ایران نے شرکت نہیں
کی ہے۔ مغربی افغانستان پر ایران کا اثرو
رسوخ واضح ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک
شمالی اتحاد، حامد کرزئی رجیم کو افغانستان
کی مجوزہ نئی حکومت کا حصہ بنائے رکھنا
چاہتے ہیں جو کہ تحریک طالبان افغانستان
کے لیے کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہے۔
افغانستان میں قومی مفاہمت کی نئی کوشش
کسی نتیجے پر اسی لیے نہیں پہنچ پا رہی۔
ادھر امریکا کے اندر عوامی حلقوں میں
معاشی بحران کے سنگین ہونے اور افغانستان
کے اندر طویل عرصے تک جنگ میں ملوث رہنے
کی وجہ سے امریکی عوام میں سخت بے چینی
پائی جاتی ہے۔ سینٹ کی ایک سیٹ ڈیموکریٹس
گنوا چکے ہیں۔ کانگریس کی نصف نشستوں کے
انتخابات میں ڈیمو کریٹس کی پوزیشن کمزور
ہونے کے واضح اشارے بھی آ رہے ہیں۔ امریکی
صدر کے لیے عوامی دباﺅ کے باعث افغانستان
میں جنگ جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اسی وجہ سے تحریک طالبان افغانستان بھی
زیادہ سخت شرائط کے ساتھ میدان میں اتر
رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے پاکستان کی
عسکری قیادت بھی امریکا کے مؤقف
کے سامنے سخت رویہ اختیار کرتی نظر آتی
ہے۔ افغانستان پر لندن کانفرنس سے قبل
ترکی، پاکستان اور ایران نے جو باہمی
مذاکرات کیے اس میں بھی مغرب کو اپنی
روایتی سوچ میں تبدیلی لانے پر زور دیا
گیا ہے۔ روس کی حکومت، سابق سوویت فوجی
کمانڈرز اور افغان امور کے ماہرین نے
امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوویت یونین
والی غلطی دہرا رہے ہیں۔ ایک روسی کمانڈر
کا کہنا تھا کہ 80ء
کے عشرے میں خود کش بمباروں کی فوج نہیں
تھی۔ نہ ہی کابل انقلابی حکومت اس قدر
کمزور تھی جس قدر کرزئی حکومت کمزور ہے۔
پھر بھی سوویت افواج گوریلا وار کا مقابلہ
نہ کر سکیں۔ آج طالبان گوریلے ماضی کے
گوریلوں سے زیادہ منظم اور تربیت یافتہ
ہیں اور افغانستان میں ان کی حمایت بھی
بہت زیادہ ہے اس لیے امریکا کو فوجی حل کی
بجائے اور حل سوچنا چاہیے۔ مغربی حلقوں
میں یہ سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ وہ
کرزئی حکومت کی جگہ ایسے لوگوں کو شمالی،
مغربی اور جنوبی افغانستان کے لیے قابل
قبول ہو۔ دوسری طرف وہ افغانستان کے لبرل
حلقوں کو بھی مطمئن کرتی ہو۔ اس کے ساتھ
اسے سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور ایران
کی حمایت بھی حاصل ہو۔ یہ ایک آئیڈیل خواہش
ہے جو موجودہ حالات میں کس طرح پوری ہو
گی؟ اسی سوال کے باوقار حل پر اوبامہ اور
مغربی برادری کے سربراہوں کی قائدانہ
صلاحیتوں کے اعتبار کے قائم رکھنے کی
بنیاد ہے۔
|