03/09/2010
 
 
   
 
 
  امریکا کا تائیوان سے عسکری سازوساما ن کا معاہدہ
 

امریکا کا تائیوان سے عسکری سازوساما ن کا معاہدہ

امریکا اور چین کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے

ریاض حسین

امریکا کی طرف سے تائیوان کو 6.4 بلین امریکی ڈالر کا فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کے اعلان پر چین سیخ پا ہوا ہے۔ خطے میں ’سلامتی‘ اور ’استحکام‘ کو فروغ دینے کی غرض سے دیا جانے والا عسکری سازوسامان نہ صرف دو عالمی طاقتوں کے درمیان خلیج بڑھانے کا باعث بن رہا ہے بلکہ امکانی طور پر اس کے اثرات دیگر عالمی امور پر بھی پڑتے محسوس ہورہے ہیں۔

اس اعلان کے مطابق تائیوان امریکا سے 60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر مالیتی3.1 بلین ڈالر اور 114 پیٹریاٹ میزائل مالیتی 2.8 بلین ڈالر کے علاوہ 10 ہارپون میزائل، ریڈار سیٹ اور مواصلاتی ساز و سامان خریدے گا۔ واضح رہے مذکورہ سودے میں وہ 66 ایف 16 لڑاکا طیارے اور آٹھ سب میرینز شامل نہیںجو تائیوان حاصل کرنا چاہتا تھا۔

امریکا کی طرف سے اسلحہ اور عسکری سازوسامان فروخت کرنے کا یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان ایک سے زیادہ معاملات پر پہلے ہی سے اختلافات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ انٹرنیٹ سنسر شپ کا ہے اور اُس وقت زیادہ شدت اختیار کرگیا تھا جب 21 جنوری کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے چین کی انٹرنیٹ سنسر شپ پر تنقید کرتے ہوئے’گوگل‘ کے خلاف سائبر حملوں کی تحقیق کا مطالبہ کیا۔ 12 جنوری کو گوگل نے الزام لگایا تھا کہ اس پر چین سے سائبر حملے ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اس نے بھی چین میں وسط جنوری میں اپنی سروس بند کرنے کی دھمکی دی اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے چینی سول رائٹس اینڈ لِولی ہُڈ واچ، انڈی پینڈنٹ چائنیز پین سنٹر، نیوسنچری نیوز اور کان یو نامی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کے عہدیداروں کے gmail اکاؤنٹ hack کر سکتے ہیں۔ چینی حکام نے ہیلری کلنٹن اور گوگل کی طرف سے عاید کیے گئے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور چین کو عالمی سطح پربد نام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار’ دی پیپلز ڈیلی‘ کا کہنا تھا کہ گوگل مسئلے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے امریکا چین کا امیج خراب کررہا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان صحت مند اور مستحکم تعلقات کو فروغ دینے میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔

دوسرا اہم مسئلہ کے مطابق ایران پر پابندیوں کے حوالے سے امریکا کو چین کی حمایت درکار ہے۔ 29 جنوری کا ہیلری کلنٹن کا وہ بیان نہایت اہم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چین ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر مزید پابندیوں کے معاملے میں عدم تعاون کارویہ اپنا کر سفارتی تنہائی اور معاشی بے یقینی کاخطرہ مول لے گا۔ واضح رہے چین کے ایران کے ساتھ وسیع معاشی اور عسکری تعلقات ہیں اور امریکا کے سفارتی ذرائع سلامتی کونسل کی طرف سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی ممکنہ قرار داد کے پاس ہونے میں چین کو بڑی رکاوٹ خیال کررہے ہیں۔ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان مذکورہ دو اہم مسائل کے علاوہ اسلحہ کے عدم پھیلاؤ، ماحولیاتی تبدیلی، تجارت اور کرنسی کے ایشوز پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تناؤ کو عسکری سازوسامان کے معاہدے کے اعلان سے چند روز قبل ہی بھانپ لیا گیا تھا۔ چین کی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کی جانب سے خبردار کیا جارہا تھا کہ اگر امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کیا تو امریکا چین کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوگااور باہمی اعتماد کی فضا برقرار نہ رہ سکے گی۔ 26 جنوری کو Tsinghua یونیورسٹی کے ادارے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیزسے وابستہ لیوژ یانگ یونگ نے خبردار کیا تھا کہ تائیوان کو اسلحہ کی فروخت سے چین امریکا تعلقات کے فروغ پر منفی اثر پڑے گا۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے نزدیک اس سے امریکی حکومت کی تزویراتی بصیرت کی کمی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ پروفیسر لیوکا مزید کہنا تھا کہ 2008ء میں چائنا فرینڈلی صدر ماینگ چیو کے صدارتی انتخابات کے بعد بیجنگ نے تائیوان کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے دی جانے والی طاقت کے استعمال کی دھمکیوں میں کمی کردی ہے، دونوں کے درمیان براہِ راست پروازیں شروع ہوچکی ہیں، اب چینی سیاح تائیوان جا سکتے ہیں اور 26 جنوری سے دونوں کے درمیان بیجنگ میں آزاد تجارت کے معاہدے پر مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک ان اقدامات کو اسلحہ کی فروخت کے خلاف ایک مضبوط دلیل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تائیوان کو اسلحہ کی فروخت کے اعلان کے اگلے روز امریکی سفیر کو چینی وزارت خارجہ میں طلب کر کے امریکی فیصلے پر باضابطہ احتجاج کیا گیا اور واشنگٹن پر زور دیا گیا کہ وہ چین کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہونے والے اس معاہدے کو فوری طور پر منسوخ کر دے۔ چین کی طر ف سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ وہ امریکا کے ساتھ فوجی وفود کے تبادلوں اور سلامتی کے مسائل پر مذاکرات کو فوری طور پر معطل کر رہا ہے، نیز اس نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے والی 34 امریکی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ چین کے نائب وزیر خارجہ نے اس معاہدے کو چین کے داخلی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا ہے۔ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سودا تائیوان سے دوبارہ پُر امن اتحاد کے لیے کی جانے والی چین کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملہ کو حالیہ لندن کانفرنس کے موقع پر بھی اپنے امریکی ہم منصب کے سامنے علیحدہ ملاقات میں اٹھایا تھا۔

چین نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ تائیوان کے ساتھ کیے گئے اس سودے سے اس مشترکہ اعلامیہ کی خلاف ورزی بھی ہوئی ہے جو 17 اگست 1982ء کو چین اور امریکا کے درمیان تائیوان کے مسئلے پر مذاکرات کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ اس مشترکہ اعلامیے میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ امریکا تائیوان کو اسلحہ کی فروخت میں بتدریج کمی کرے گا تاوقتیکہ تائیوان کا کوئی حل نکال لیا جائے۔ اس اعلامیے میں دونوں ملکوں نے خود کو پابند کیا کہ وہ ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھیں گے اور یہ کہ ایک دوسرے کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کے بنیادی اصول کی پاسداری کرتے ہوئے تعلقات کو مضبوط اور دیر پا کریں گے۔

واشنگٹن میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی کا مقصد علاقے میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ امریکا کے نزدیک چین کی طرف سے احتجاجاً دو طرفہ فوجی وفود کے تبادلوں اور سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت کو معطل کرنے اور امریکی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ افسوس ناک ہے۔

تائیوان کے صدر ماینگ چیو نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب تائیوان چین کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے، اسلحے کے اس سودے سے جزیرے کے دفاع کو تقویت ملے گی اور یہ تحفظ کا احساس فراہم کرے گا۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ فی الحال چین کی طرف سے تائیوان کے خلاف کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

مستقبل قریب میں جزیرہ تائیوان اور چین کے درمیان تعلقات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں اس حوالے سے مختلف تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ تائیوان میں ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ چین کے فوجی بجٹ میں اضافے کی وجہ سے تائیوان کو بھی اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ واضح رہے چین نے 2009ء میں اپنے فوجی بجٹ میں15.3 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 69 بلین ڈالر کر دیا تھا۔ بعض مبصرین کے نزدیک اس سے چین کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا امکان ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کے پروفیسر یو وانلی کے نزدیک حالیہ اسلحہ فروخت کے معاہدے سے چین اور تائیوان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بگاڑ آ سکتا ہے اور اس سے جزیرے کی رسمی آزادی کے حامیوں کو مزید بڑھا وامل جائے گا۔ ان کی رائے میں امریکا تائیوان کو ایک غلط اشارہ دے رہا ہے کہ امریکا اُس کے جمہوری نظام کی حمایت کرتا ہے جو بالآخر اس کی آزادی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

تائیوان اور چین کے سیاسی دانشوروں اور عوام میں یہ سوچ کافی غالب ہے کہ جب تک ماینگ چیو تائیوان کے صدر ہیں دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی نہیں آسکتی۔ با الفاظ دیگر صدر ماینگ کے ہوتے تائیوان آزادی کا اعلان کرسکتا ہے نہ ہی چین کی طرف سے جارحیت کا امکان ہے۔

بی بی سی نیوز کے نمائندہ برائے عالمی امور پال رنیو لڈر نے امریکی قانون’تائیوان ریلیشنز ایکٹ1979ء‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایکٹ کے بعد چین اور امریکا کے درمیان ’سرخ لکیر‘ کھینچ دی گئی ہے، تاہم ابھی تک اس لکیر کو عبور نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو بگاڑ آیا ہے اس پر فی الحال قابو پایا جا سکتا ہے۔ مگر بعض مبصرین کے نزدیک آنے والے دنوں میںاِس خلیج کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

اس ساری صورت حال کو موجودہ عالمی سیاست کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات طے ہے کہ امریکا کسی بھی صورت خطے میں چین کو اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت اور بالخصوص خطے میں اس کا بڑھتا ہوا اثر و روسوخ برداشت نہیں کر سکتا، چنانچہ امریکا سے ہر اس سیاسی چال، عسکری اقدام یا دفاعی معاہدے کی توقع کی جاسکتی ہے جس سے چین پر دباؤ پڑے یا اس کے لیے مشکلات پیدا ہوں۔

چین معاشی اور عسکری لحاظ سے ابھی امریکا کا ہم پلہ نہیں۔ زبانی احتجاج سے لے کر فوجی وفود کے تبادلوں، سلامتی کے مسائل پر مذاکرات کی معطلی اور تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی تک چین نے جو جوابی اقدامات کیے ہیں ان سے ضروری نہیں کہ واشنگٹن کا ذہن بدل جائے اور وہ اس معاہدے پر نظر ثانی کرے، تاہم امریکا کو ایک پیغام پہنچ چکا ہے۔ اب امریکاکو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ چین علاقائی مسائل اور عالمی معاملات پر امریکا سے آئندہ کھل کر تعاون کرے گا۔

تائیوان: ایک مختصر تعارف

تائیوان چین کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے میں آبنائے تائیوان کے پار براعظم ایشیا سے180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک جزیرہ ہے۔ اس کی لمبائی 394 کلو میٹر اور چوڑائی 144 کلو میٹر ہے۔ اس کے شمال مشرق میں جزیروں پر مشتمل ملک جاپان ہے جبکہ جزیروں پر ہی مشتمل فلپائن اس کے جنوب میں واقع ہے۔

تائیوان کی آبادی تقریباً اڑھائی کروڑ ہے جن میں سے 98 فیصد نسلاً ہان چینی ہیں۔ تائیوانیوں کی اکثریت مینڈیرن زبان بولتی ہے اور پرائمری کی سطح تک ذریعہ تعلیم بھی یہی زبان ہے۔ یہاں کی 93 فیصد آبادی بدھ ازم، کنفیوشن ازم اور تاؤ ازم کی پیروکار ہے جبکہ 4.5 فیصد عیسائی اور 2.5 فیصد دیگر مذاہب مثلاً اسلام کے ماننے والے ہیں۔ چین نے تائیوان کو اسے 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں جاپان سے حاصل کیا تھا، مگر 1949ء میں اسے دوبارہ کھو دیا۔ 1949ء کے بعد سے تائیوان کا نام جمہوریہ چین پڑا جبکہ ’مین لینڈ چین‘ عوامی جمہوریہ چین کے نام سے پہچانا گیا۔ مغربی ممالک اور اقوام متحدہ 70ء کی دہائی تک تائیوان کو ایک جائز چینی علاقہ تسلیم کرتے رہے ہیں۔

تائیوان کوئی ایسی الگ ریاست نہیں جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کررکھا ہے۔ اسے فی الوقت چین اپنا حصہ گردانتا ہے تاہم وہاں چین کی عمل داری نہیں ہے۔ تائیوان کو امریکا چین تعلقات کے حوالے سے ایک حساس مسئلہ خیال کیا جاتا ہے۔ امریکا نے کہا ہے کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو وہ تائیوان کی مدد کرے گا۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive