|
امداد
کے نام پر
ہیٹی
سے فریب
جان
پلجر
ہیٹی
کو ہتھیانے کا عمل سرعت سے اور ناشائستہ
انداز میں ہوا ہے۔ تمام بندرگاہوں، فضائی
اڈوں اور ”محفوظ“ سڑکوں پر قبضہ جمانے
کے لیے 22
جنوری
کو امریکا نے اقوام متحدہ سے ”باضابطہ
منظوری“ حاصل کی۔ اس غیر قانونی معاہدے
پر ہیٹی کے کسی شخص کے دستخط موجود نہیں
ہیں۔ امریکی بحریہ کے اس محاصرے میں طاقت
حکمرانی کرتی نظر آتی ہے اور 13,000
بحری
فوجی، خصوصی دستے، جاسوس اور کرائے کے
سپاہی بغیر کسی امدادی کارروائیوں کی
مہارت کے پہنچ چکے ہیں۔
دارالحکومت
پورٹ اوپرنس اب امریکا کا فوجی اڈہ بن چکا
ہے جبکہ امدادی کاموں کے لیے پروازیں
ڈومینکن ری پبلک سے پرواز کررہی ہیں ۔
ہیلری کلنٹن کی آمد کے موقع پر تمام پروازیں
3
گھنٹے
کے لیے منسوخ کر دی گئیں۔ شدید زخمی ہیٹین
باشندے بے یارو مددگار پڑے رہے جبکہ اس
دوران وہاں مقیم 800
امریکی
باشندوں کو نکالنے، انہیں خوراک اور پانی
بہم پہنچانے کے لیے سرگرمیاں جاری رہیں۔
6
دن
گزرجانے کے بعد امریکی فضائیہ کی طرف سے
جسم میں پانی کی کمی (ڈی
ہائیڈریشن)
کے
شکار لوگوں کے لیے پانی کی بوتلیں گرائی
گئیں۔
یہ
امریکی کودیتا ہے
ابتدائی
ٹی وی رپورٹس شدید مجرمانہ افراتفری کا
تاثر ابھارنے کے سلسلے میں اہم کردارادا
کرتی نظر آئیں۔ واشنگٹن سے بھیجے گئے بی
بی سی کے نمائندے میٹ فرائی ، جو اس مقام
پر موجود تھا، نے ”تشدد“ اور ”تحفظ “
کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اگرچہ زلزلے کے
شکار لوگ قابل مظاہرہ عظمت کا رویہ اختیار
کر رہے تھے لیکن بجائے اس کے کہ بے یارومددگار
شہریوں کی طرف سے متاثرین کی مدد کے لیے
کی گئی جاں فشانی کو سراہا جاتا اور خود
امریکی جائزہ کار جنرل کے اعلان کے مطابق
کہ گزشتہ زلزلے کے مقابلے میں اس بارتشدد
کا عنصر کہیں کم ہے، میٹ فرائی نے کہنا
شروع کردیا ”ہر طرف لوٹ بازاری ہے“ اور
”ہیٹی کی عظمت رفتہ بھلا دی گئی ہے“۔
یوں
امریکی تشدد اور استحصال کی بے خطا تاریخ
کو ہیٹی کے مقہور لوگوں کے سر تھوپ دیا
گیا۔ 2003ء
میں عراق میں خون آشام حملے کے اثرات پر
بات کرتے ہوئے میٹ فرائی نے کہا تھا ”اس
بات میں کوئی شک نہیں کہ بہتری لانے کی
خواہش اور باقی دنیا، خاص طور پر مشرقِ
وسطیٰ میں امریکی اقدار لانے کے لیے
....معاملات
کا انحصار فوجی طاقت پر ہے“۔
ایک
لحاظ سے وہ ٹھیک ہی تھا۔ نام نہاد دورِ
امن میں قبل ازیں کبھی انسانی تعلقات کو
اندھی طاقت نے اس طرح جنگ زدہ نہیں کیا۔
قبل ازیں کبھی کسی امریکی صدر نے اپنی
حکومت کی ساکھ مجروح کرنے والے پیش رو کو
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے تابع نہیں کیا تھا،
جس طرح باراک اوبامہ نے کیا ہے۔ غلبے اور
جنگ کی جارج ڈبلیو بش کی پالیسی جاری رکھتے
ہوئے اوبامہ نے کانگریس سے 700
بلین
ڈالر سے زائد کابجٹ پاس کرایا جس کی اس سے
قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ اوبامہ درحقیقت
فوجی قبضوں کا ترجمان بن چکا ہے۔
ہیٹی
کے عوام کے لیے نتائج وعواقب واضح ہیں۔
ان کا ملک امریکی فوجیوں کے قبضے میں ہے
اور اوبامہ نے ”امدادی کوششوں“ کا نگران
بش کو نامزد کردیا ہے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز
صورتحال ہے ....2005ء
کے کترینہ طوفان کے نتیجے میں بش کی امدادی
کوششوں کی بدولت نیو آرلینز کی سیاہ فام
آبادی کی نسل کشی کی گئی۔ 2004ء
میں اس نے جمہوری طریقے سے منتخب شدہ ہیٹی
کے صدر جین برٹرنڈارسٹائڈ کے اغوا کا حکم
دیا اور اسے ملک بدر کرکے افریقہ بھیجا۔
جمہوری ارسٹائڈ اصلاحات کے حوالے سے بے
باکی سے قدم اٹھارہا تھا۔ اس نے ہیٹی کی
چھوٹی فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت
کشوں کی کم سے کم اجرت مقرر کرکے اس بے
باکی کو ثابت کیا تھا۔
جب
میں ہیٹی میں قیام پذیر تھا تو وہاں میں
نے نوجوان لڑکیوں کو دیکھا جو پورٹ اوپرنس
میں واقع سپیرئیر بیس بال پلانٹ میں سر
جھکائے گھوں گھوں کرتی فیکٹری میں کام کر
رہی تھیں، ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات
نمایاں تھے۔ بہت سی لڑکیوں کی آنکھیں سوجی
ہوئی تھیں اور بازوﺅں پر خراشیں تھیں۔
میں نے جب وہاں تصویریں بنانے کی کوشش کی
تو مجھے وہاں سے اٹھا کرباہر پھینک دیاگیا۔
ہیٹی وہ ملک ہے جہاں امریکا کے مقدس قومی
کھیل کا مکمل سازوسامان تیار ہوتا ہے مگر
بے فائدہ۔ ہیٹی ہی وہ ملک ہے جہاں سے والٹ
ڈزنی کے ٹھیکیدار مکی ماﺅس کے لیے پاجامے
تیار کراتے ہیں مگر لاحاصل۔ امریکا کا
ہیٹی کی شوگر، باکسائٹ اور سیسل کی صنعت
پر مکمل قبضہ ہے۔ چاول کی پیداوار روک کر
درآمد شدہ امریکی چاولوں کو اس کی جگہ دی
گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ ہجرت کرکے بڑے
شہروں میں آنے پر مجبور ہو گئے جہاں وہ
بوسیدہ اور گندی جگہوں پر رہائش پذیر ہیں۔
سالہا سال سے امریکی بحری افواج کی ہیٹی
میں در اندازی جاری ہے، وہ بحری دستے جو
فلپائن سے افغانستان تک کی تاریخ میں اپنے
مظالم کے حوالے سے بدنام ہیں۔ بل کلنٹن
ایک اور ابوالصبحی ہے جس نے اپنے آپ ہی
خود کو ہیٹی میں اقوام متحدہ کا نمائندہ
نامزد کرلیا ہے۔ بی بی سی پر چاپلوسانہ
انداز میں کلنٹن کے بارے میں کہا گیا
”مسٹر
نائس گائے ....جو
اس اداس وتباہ حال ملک میں جمہوریت کو
واپس لانے کی کوشش کررہا ہے“۔
کلنٹن
ہیٹی کا بدنام ترین ہرنجکار ہے جس نے مل
مالکان کے مفادات کے لیے قوانین میں نرمی
کا مطالبہ کیا۔ بعد میں اس نے 55
ملین
ڈالر پر مبنی اس ڈیل کو آگے بڑھانے میں
اپنا کردارادا کیا جس کا مقصد ہیٹی کے
شمالی علاقے کو امریکا کے زیر قبضہ ”ٹورسٹ
پلے گراﺅنڈ“ بنانا تھا۔
ہیٹی
میں قائم شدہ امریکی سفارت خانہ پانچویں
بڑی امریکی ایمبیسی ہے جو سیاحوں کے لیے
نہیں۔ دہائیاں قبل ہیٹی میں تیل دریافت
ہوا مگر امریکا نے اس وقت تک ریزرو رکھنے
کا فیصلہ کیا جب تک مشرقی وسطیٰ کا تیل
ختم نہیں ہوتا۔ اور اب جنوبی امریکا میں
واپس ”پاﺅں پھیلانے“ کی امریکی کوششوں
میں مقبوضہ ہیٹی کو ایک بار پھر تنرویراتی
اہمیت حاصل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ خطے میں قائم
جمہوریتوں کو ہٹایا جائے جیسے وینز ویلا،
بولیویا اور ایکواڈور میں قائم جمہوریتیں۔
وینزویلا میں پٹرولیم کے بے تحاشا ذخائر
پر قبضہ کرنا اور خطے کے ممالک کے مابین
بڑھتے ہوئے علاقائی تعاون کو سبوتاژ کرنا
ہے جس کا امریکی حمایت یافتہ ریاستیں
انکار کرتی ہیں۔
اوبامہ
کی اگلی جنگ
”پاﺅں
پھیلانے“ کے سلسلے میں پہلی کامیابی اس
وقت ہوئی جب ہنڈوراس میں صدر جوزمینویل
زیلایا کا تخت الٹایا گیا۔ صدر زیلا یا
نے بھی مزدوروں کی کم سے کم اجرت اور امیروں
پر ٹیکس عائد کرنے کی جرات کی تھی۔ ہنڈوراس
کی ناجائز حکومت کی اوبامہ کی طرف سے خفیہ
حمایت وسطی امریکا کی کمزورریاستوں کے
لیے خطرے کی واضح گھنٹی ہے۔ کولمبیا کی
حکومت جس کی لمبے عرصے تک واشنگٹن مالی
اعانت کرتا رہا اور جسے ڈیتھ سکواڈز کی
بھی حمایت حاصل رہی، نے اپنے سات فوجی
اڈوں کو خطے میں امریکا مخالف حکومتوں کا
مقابلہ کرنے کے لیے امریکیوں کو دیے ہیں۔
امریکی
میڈیا کے پراپیگنڈے نے اوبامہ کی اگلی
جنگ کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔ دسمبر میں
یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ کے تحقیق کاروں
نے گزشتہ دس سالوں میں وینز ویلا سے متعلق
بی بی سی کی رپورٹوں کا ایک مطالعہ پیش
کیا جس کے مطابق وینز ویلا کے متعلق کل
304
رپورٹیں
بی بی سی نے پیش کیں، جس میں صرف3
ہوگوشاویز
کی تاریخی اصلاحات کے متعلق تھیں جبکہ
باقی تمام میں شاویز کے غیر معمولی جمہوری
ریکارڈ کو گنہانے کی کوشش کی گئی یہاں تک
کہ اسکا مقابلہ ہٹلر سے بھی کیا گیا ۔
اینگلو
امریکی میڈیا میں حقائق کو توڑ مروڑ کر
پیش کیا جانا اور طاقتور ریاستوں کی غلامی
کا روبہ عروج ہے۔ وہ لوگ جو بہتر زندگی
بلکہ صرف زندگی کے لیے کوشاں ہیں، وینز
ویلا سے ہنڈوراس اور ہیٹی تک، ہماری حمایت
کے حقدار ہیں۔
مترجم:
صفدر
سحر
بشکریہ
ہفت روزہ نیو سٹیٹس مین
|