03/09/2010
 
 
   
 
 
  کرنل اکرام کی ہلاکت کا ذمہ دار کون؟
 

کرنل اکرام کی ہلاکت کا ذمہ دار کون؟

اب تک کی تحقیقات میں جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا: لواحقین

ایم مہدی

پنجاب کے چیف سیکرٹری جاوید محمود کی گاڑی تلے آ کر ریٹائرڈ کرنل محمداکرام خان کی ہلاکت ایک افسوس ناک واقعہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق مورخہ 23 جنوری 2010ء کو جب کرنل ریٹائرڈ اپنی موٹر سائیکل پر سرور روڈ سے گزر رہے تھے تو گرجا چوک میں چیف سیکرٹری کی گاڑی کی ٹکر سے فٹ پاتھ سے جا ٹکرائے اور شدید زخمی ہو گئے جنہیں سی ایم ایچ لے جایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ اس وقت چیف سیکرٹری ائیرپورٹ پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے استقبال کے لیے جا رہے تھے۔ اس وقت ان کی سرکاری گاڑی نمبری LEG 7777 ان کا ڈرائیور غلام مصطفی چلا رہا تھا۔ متوفی کرنل کے بیٹے محمد اعظم اکرام کے مطابق مرحوم علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کیمپس سے آرہے تھے جہاں پر وہ وزٹنگ پروفیسر کے طور پر کام کرتے تھے۔ جب متوفی گرجا چوک پر پہنچے تو سرخ اشارہ ہونے کی بنا پر وہ کھڑے ہو گئے مگر چیف سیکرٹری کی گاڑی نے اشارہ کی پروا نہ کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کی تو ان کی گاڑی کرنل کے موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ تھانہ سرور روڈ نے رپورٹ درج کرنے کے بعد اس حادثہ کی تحقیقات کی جس کے مطابق کرنل مرحوم کی لاپرواہی کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیا۔ جس پر مرحوم کے لواحقین نے احتجاج کیا چنانچہ کیس کی انکوائری سی آئی اے کے سپرد کر دی گئی۔

سی آئی اے پولیس نے بھی کرنل (ر) اکرام کیس میں چیف سیکرٹری اور ڈرائیور کو بے گناہ قرار دے دیا۔ سی سی پی او کو بھجوائی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اشارہ کھلنے سے قبل ہی کرنل (ر) اکرام نے موٹر سائیکل چلا دی تھی جس کے باعث وہ حادثے کا شکار ہوئے جبکہ ان کے بیٹے محمد اعظم اکرام نے گورنر پنجاب کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات میرٹ پر نہیں ہوئی‘ چیف سیکرٹری جاوید محمود کو معطل کر کے شامل تفتیش کیا جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کرنل ریٹائرڈ اکرام کی اپنی غفلت کے باعث یہ حادثہ پیش آیا چونکہ چیف سیکرٹری کی گاڑی نارمل سپیڈ میں تھی لیکن کرنل ریٹائرڈ اکرام نے ٹریفک اشارہ کھلنے سے قبل ہی موٹر سائیکل چلا دی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا جبکہ کرنل ریٹائرڈ اکرام کے بیٹے نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے روز سے ہی کہہ رہے ہیں کہ پولیس تحقیقات میں جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور چیف سیکرٹری کی گاڑی نے ان کی موجودگی میں مجرمانہ غفلت برتتے ہوئے اشارہ توڑا جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔ میرے والد کو ہسپتال پہنچانے کی بجائے چیف سیکرٹری موقع سے بھاگ گئے‘ ایس ایچ او تھانہ سرور روڈ نے درخواست کے باوجود چیف سیکرٹری کا نام نہیں ڈالا۔

اس کیس میں چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود نے بھی اپنا بیان قلم بند کروایا۔ پولیس کو دیے گئے اپنے تحریری بیان میں چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود نے تسلیم کیا ہے کہ وہ حادثے کے وقت کار میں موجود تھے اور پچھلی سیٹ پر اخبار پڑھ رہے تھے۔بیان میں چیف سیکرٹری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حادثے سے ان کا کوئی تعلق نہیں حادثے کے بعد انہوں نے خود اتر کر کرنل اکرام کو دیکھا اور اپنے ڈرائیور کو انہیں ہسپتال پہنچانے کو کہا۔ بعد میں چیف سیکرٹری نے خود کمشنر لاہور کو سی ایم ایچ ہسپتال جا کر کرنل اکرام کی عیادت کرنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں چیف سیکرٹری طویل رخصت پر چلے گئے۔ چیف سیکرٹری جاوید محمود نے اپنی رخصت کی درخواست میں کہا ہے کہ انہیں چھٹی پر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے حوالے سے یہ تاثر دور ہو سکے کہ وہ اس مقدمے کی کارروائی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

متوفی کے اہل خانہ کا مطالبہ تھا کہ اس حادثے کا مقدمہ ڈرائیور کی بجائے چیف سیکرٹری جاوید محمود کے خلاف درج کیا جائے مگر پولیس نے نہ صرف ان کا مطالبہ مسترد کر دیا بلکہ مقدمہ درج کرنے کے بعد ڈرائیور غلام مصطفی کو بھی بے گناہ قرار دےدیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے بعد پنجاب حکومت یا چیف سیکرٹری نے متوفی کرنل کے لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ہمیں یکسر نظر انداز کیا جس پر متوفی کے بیٹے نے گورنر پنجاب کو خط لکھا جس پر وہ متوفی کرنل اکرام کے گھر گئے اور کرنل کی ہلاکت کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کرکے وفاقی حکومت کو بھی بھجوائی۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پولیس کی انکوائری ٹیم کا سربراہ ایسا افسر ہے جو پولیس مقابلوں کا ماہر ہے، ملک میں چیف سیکرٹری اور وزیر قانون کے لیے الگ قانون ہے اور عام آدمی کے لیے دوسرا قانون ہے۔ گورنرسلمان تاثیر کا کہنا تھا کہ انہیں حقائق کا علم ہے، یہ بات اب یہاں ختم نہیں ہوگی، عوام دیکھیں گے اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔گورنر کے دورے کے بعد مسلم لیگ (نواز) کی قیادت کو اس حادثے کی سنگینی کا احساس ہوا اور مسلم لیگ (نواز) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے متوفی کے اہل خانہ سے رابطہ کیا۔جس کے بعد مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی تعزیت کے لیے مرحوم کے گھر گئے اور لواحقین کو یقین دلایا کہ ان کے ساتھ انصاف ہو گا۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ چیف سیکرٹری مسلم لیگ (نواز) کے کیمپ کا ہے لہٰذا گورنر جو پیپلز پارٹی کیمپ کے ہیں اس لیے اس کیس کو اچھالا جا رہا ہے وگرنہ گذشتہ دس سالوں میں صرف پنجاب میں 52,116 حادثات ہوئے جن میں 29,719 افراد جاں بحق ہوئے۔

مسلم لیگ (قائد) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے بھی کرنل اکرام کیس کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور میں کرنل اکرام کی رہائش گاہ پر ان کے لواحقین سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری کا رخصت پر جانا قابل قبول نہیں۔ انہیں معطل کر کے کیس کی غیر جانبدار تحقیقات کروائی جائے۔جبکہ چوہدری شجاعت نے کرنل ریٹائرڈ اکرام کے ا ہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اورمتعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ کرنل ریٹائرڈ اکرام کی ہلاکت پر پولیس اور چیف سیکرٹری کا رویہ قابل افسوس ہے۔

چیف سیکرٹری پنجاب کی گاڑی کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والے کرنل (ر) اکرام کے اہل خانہ نے پولیس ٹیم اور تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اب عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ مرحوم کے اہل خانہ نے تفتیشی ٹیم کو کسی بھی قسم کا بیان ریکارڈ کرانے یا معلومات دینے سے انکار کردیا۔جب اس کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایس پی سی آئی اے عمر ورک اور ڈی ایس پی وارث بھروانہ نے مرحو م کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انکے بیانات قلمبند کرنا چاہے تو انہوں نے بیان قلمبند کرانے سے انکار کر دیا۔

مرحوم کے صاحبزادے اعظم اکرام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اپنا فیصلہ سنا چکی ہے اور ملزموں کو بے گناہ قرار دیدیا گیا ہے ۔ ہمارا شروع دن سے مطالبہ ہے کہ چیف سیکرٹری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر شامل تفتیش کیا جائے اور اب تک کی تحقیقات میں جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ جبکہ پنجاب سول سیکرٹریٹ سٹاف ایسوسی ایشن نے مرحوم کرنل اکرام کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈرائیورغلام مصطفےٰ کو معاف کردیں اوریہ معاملہ اللہ پرچھوڑدیں۔

لیکن اب متوفی کے لواحقین نے لاہور کی مقامی عدالت میں چیف سیکرٹری پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی ہے جس پر عدالت نے تین فروری کو تھانہ سرور روڈ پولیس سے ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔





 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive