03/09/2010
 
 
   
 
 
  آلودہ پانی اور انسانی زندگی
 

آلودہ پانی اور انسانی زندگی

کیا 2015ء تک پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی؟

منصور مہدی

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار نے مضر صحت بوتل بند پانی کی فروخت کے خلاف ایک درخواست پر حکومت کو نہ صرف بوتل پانی کے بارے میں بلکہ پورے لاہور کا پانی چیک کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے دوران سماعت قرار دیا کہ پانی ہمارے بچوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے جس سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خوبصورت بوتلوں میں منرل واٹر فروخت کرنے والی کمپنیاں ایل ڈی اے کے ٹیوب ویلوں سے پانی بھر کر اسے مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں لیکن ایل ڈی اے ان کمپنیوں کو پانی لینے کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ اس پر کوئی نہیں پوچھ رہا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ فاضل جج نے سماعت 2 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے لائسنس کے بغیر پانی بیچنے والی تمام کمپنیوں کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے بغیر لائسنس پانی بیچنے والی چوبیس کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے اور انہیں عدالتی احکامات سے آگاہ کرنے کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کرنے کا بھی حکومت کو حکم دیا۔ اس درخواست میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں اس وقت 64 کمپنیاں منرل واٹر کے نام پر پانی فروخت کر رہی ہیں جن میں دس کمپنیوں کے پاس لائسنس ہیں اور 25 کمپنیوں نے لائسنس میں توسیع کے لیے درخواست دے رکھی ہے جبکہ 24 کمپنیوں کو لائسنس نہ ہونے کی بنا پر سٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول نے نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ یہ کمپنیاں پانی فروخت کرنے پر فی بوتل 5 پیسے حکومت کو ٹیکس کی مد میں دیتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے 1993ء میں تیسرے دور حکومت میں جب صدر پاکستان آصف علی زرداری وزیر ماحولیات تھے اس وقت لاہور کی ایک سماجی تنظیم سانجھی سوچ نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک اسی نوعیت کی رٹ درخواست دائر کی تھی جس میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ نہ صرف لاہور بلکہ پورے ملک میں ماحولیات کے حوالے سے صورت حال بہت مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔ اس پر عدالت عالیہ نے حکومت کو نوٹس جاری کیے اور بعد ازاں اسی نوعیت کی بیشتر درخواستیں بھی دائر ہوتی رہیں اور عدالت اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی رہی۔ عدالت میں تو متعلقہ اداروں کے افسران عدالت کو یقین دلا دیتے ہیں کہ ہم اس بارے میں کاروائی کر رہے ہیں مگر بعد ازاں اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے سنئیر وکیل سید محمد ثقلین جعفری ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون سے زیادہ طاقت ور یہاں کے پرائیویٹ ادارے ہیں جو قانون کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور ان کا ساتھ متعلقہ ذمہ دار اداروں کے بعض اہلکار دیتے ہیں، جیسا کہ چینی کے کیس میں عام مجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک نے سستی چینی کی فروخت کو یقینی بنانے کی کوشش کی مگر شوگر ملز کے مالکان نے ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ لہٰذا یہاں قانون پر عملدر آمد کو اگر یقینی بنا دیا جائے تو لوگوں کو بہت حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔

سب سے پہلے پلاسٹک کی بوتلوں میں پینے کے پانی کی فروخت فرانس میں شروع ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والی بے انتہا صنعتی ترقی کی وجہ سے متعدد علاقوں اور شہروں کا پانی پینے کے قابل نہ رہا تو حکومت نے عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لیے اس کام کا آغاز کیا جو بعد ازاں سوئٹزر لینڈ اور امریکہ میں متعارف ہوا اور پھر یورپ کے متعدد ممالک کے بعد آہستہ آہستہ یہ مشرقی ممالک تک پہنچا۔ اب یہ دنیا بھر کے ممالک کی عام مارکیٹوںاور بازاروں میں فروخت ہو رہا ہے۔

فرانس اور دیگر ممالک میںبوتلوں میں بند پانی کی فروخت شروع ہونے سے پہلے وہاں کی حکومتوں نے نہ صرف پینے کے پانی کا معیار مقرر کیا بلکہ اس کی پیکنگ اورکافی عرصہ محفوظ رکھنے کے لیے مختلف کیمیائی اجزا اور مرکبات کی ترکیب مقرر کی اور اس کی تیاری، سٹور اور فروخت کے طریقہ ہائے کار مقرر کیے اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ان کمپنیوں پر چیک رکھنے کے لیے ادارے قائم کیے تاکہ عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت پانی کی فروخت ممکن نہ ہو۔ مگر جب اس پانی کو پیک کرنے کی ٹیکنالوجی عام ہو گئی تو 90ء کی دہائی میں پاکستان میں بھی لوکل سطح پر بعض اداروں نے پانی پیک کرنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی کی فروخت عام ہو گئی۔ اس منفعت بخش کاروبار کی وجہ سے متعدد مقامی اداروں نے اپنے طور پر پانی کی فروخت شروع کر دی۔ خالص خوراک کے رائج الوقت قانون پیور فوڈ رولز میں اس پانی کا معیار مقرر نہ ہونے کی وجہ سے متعدد اداروں نے از خود بنائے ہوئے فارمولا کے تحت پینے کا پانی فروخت کرنا شروع کر دیا۔ ایسے میں بعض بد دیانت اور خودغرض لوگوں نے منرل واٹر کے نام پر عام پانی بھر کر فروخت کرنا شروع کر دیا جبکہ اس کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی غیر معیاری مرکبات استعمال کیے جاتے ہیں اور اس کی پیکنگ میں بھی حفضان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بعض لوگوں نے مختلف کمپنیوں کی خالی بوتلوں پر اپنے سٹکر چھپوا کر دو نمبر پانی بیچنے کا دھندا شروع کر دیا۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسا غیر معیاری اور مضر صحت پانی پینے سے بڑے اور بچے پیٹ اور معدہ کی مختلف بیماریوں میں نہ صرف مبتلا ہو رہے ہیں بلکہ ہلاکتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

لاہور میں بوتلوں میں بندپانی جہاں بعض ملٹی نیشنل کمپنیاں فروخت کر رہی ہیں وہاں بعض افراد پانی کو پیک کرنے کے لیے تقریباً ایک لاکھ روپے مالیت کی عام سی مشین استعمال کرتے ہیں جو چند سلنڈروں، پائپوں اور ٹبوں وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ پانی کو پیک کرنے سے پہلے اسے کاربن، خاص قسم کی گوند اور مختلف کیمیائی مرکبات سے گزارا جاتا ہے تاکہ پانی صاف ہو جائے اور اس میں سے غیر ضروری اجزا نکل جائیں۔ اس طرح پلاسٹک کی بوتل تھوک میں 1.50روپے سے 2روپے تک مل جاتی ہے جبکہ چھپے ہوئے لیبل 10 سے 50 پیسے میں مل جاتے ہیں اور پیکنگ کے لیے بھی دیسی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی لاگت بھی 50 پیسے سے زیادہ نہیں ہوتی جبکہ پانی مفت کا ہوتا ہے۔ اس طرح اڑھائی روپے لاگت سے تیار کی ہوئی بوتل بازار میں 25 روپے سے 30 روپے میں فروخت ہوتی ہے جبکہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں ان کی 50 روپے سے 100 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ دو نمبر اور جعلی پانی کی بوتلیں زیادہ تر چھوٹے شہروں اور قصبات کے علاوہ چھوٹی دکانوں اور متوسط اور غریب علاقوں میں فروخت ہوتی ہیں جبکہ لاری اڈے، بس سٹاپ اور ریلوے سٹیشن پر بھی ایسی ہی فروخت زیادہ تر ہوتی ہے۔

پاکستان میں بوتلوں میں بند پانی کی فروخت میں اضافہ اس لیے ہو رہا ہے کہ یہاں پر عام نلکوں کا پانی آلودگی کے سبب مضر صحت ہو چکا ہے۔ میو ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر فرید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پینے کا پانی انسانی جانوں کے لیے ”واٹر بم“ کا کام انجام دے رہا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں پینے کے لیے جو پانی استعمال ہو رہا ہے اس کا 75 فیصد حصہ پینے کے لیے مضر اور ناقابل استعمال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں سالانہ 10 ملین سے زائد لوگ پانی کی بیماریوں سے مررہے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں میں پھیلی ہوئی 37 مہلک بیماریوں میں سے 21 کا تعلق گندے پانی اور سیوریج کے ناقص نظام سے ہے جبکہ بڑھتی ہوئی آبی آلودگی اور صحت کے مسائل سے ڈائریا اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں 40 فیصد بیماریاں اور 10 برس تک کے بچوں کی اموات کی بڑی وجہ آلودہ پانی ہے جبکہ شدید گرمی کے موسم میں پانچ برس کی عمر تک 35 فیصد بچے دستوں (ڈائریا) کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ملک کے شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی لائن میں سیوریج کے پانی کی آمیزش کی وجہ سے پانی آلودہ ہورہا ہے اور اس آلودہ پانی کے استعمال سے صرف کراچی میں سالانہ 60 فیصد سے زائد اموات ہوتی ہیں جبکہ لاہور میں 50 فیصد اموات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے پانی کو اُبال کر پیا جائے جبکہ شیشے کی شفاف بوتلوں میں پانی بھر کر دھوپ میں چند گھنٹے رکھنے سے سورج کی شعاعیں بھی پانی کو آلودگی سے پاک کر دیں گی، تاہم یہ شعاعیں 10 سینٹی میٹر تک ہی جراثیم کو مار سکتی ہیں۔

پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہونے والے نقصانات پر ہر برس 365 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں جن میں سے 112 ارب روپے پانی کی ناکافی فراہمی، نکاسی اور حفظان صحت کے باعث خرچ ہوتے ہیں لہذا حکومت کو ماحولیاتی آلودگی اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کے خاتمے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سانجھی سوچ کے نائب صدر رانا سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کے باعث روزانہ 630 بچے ہلاک ہو جاتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں پانی اور نکاسی آب کے مسائل عام ہیں اور حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان اشتراک کے ذریعے ان مسائل کے حل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی پینے کے پانی کی ضروریات پورا کرنے سے قاصر رہا ہے۔ 90 فیصد پانی زرعی مقاصد کے لیے جبکہ 10 فیصد پانی پینے اور نکاسی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1950ء کی دہائی کی ابتدا میں پانی کی دستیابی 5000 کیوبک میٹر تھی جو اب 1500 کیوبک میٹرز سے کم ہوگئی ہے اور یوں پاکستان پانی کی کمی کی اس راہ پر گامزن ہے جب سالانہ 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہوگا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ ایڈز، ٹی بی، ملیریا اور انفیکشن سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کو اس وقت تک شکست نہیں دی جا سکتی جب تک کہ پینے کے لیے محفوظ پانی، نکاسی آب اور صحت کی بنیادی دیکھ بھال کے میدانوں میں فتح حاصل نہ ہو جائے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے طے کردہ اہداف کے حصول کی خاطر 2015ء تک دنیا میں ہر برس 100 ملین افراد تک صاف پانی کی فراہمی کا نظام وضع کرنا ہوگا۔ قطع نظر اس سوال کے کیا آئندہ 5 برسوں میں اس عالمی ہدف کا حصول ممکن ہو پائے گا یا نہیں؟ فی الحال پاکستان میں اس ضمن میں کامیابی ہوتی نظر نہیں آ رہی کیونکہ پی سی آر ڈبلیو آر( پاکستان کونسل آف ریسرچ آن واٹر ریسورسز) کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سات برسوں کے مقابلے میں اب پنجاب میں آلودہ پانی کا تناسب 81 سے بڑھ کر 90، سندھ 87 سے بڑھ کر 95، سرحد 74 سے بڑھ کر 80 اور بلوچستان میں 83 سے بڑھ کر 85 فیصد ہو چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 80 فیصد بیماریاں گندے پانی کی وجہ سے پھیلتی ہیں اور اس سے 2.5 بلین افراد بیمار ہوتے جبکہ 5 ملین اموات ہوتی ہیں۔

ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ ضلعی حکومت کے تعاون سے لاہور میں اس وقت بیس سے زائد صاف پینے کے پانی کے ٹیوب ویل کام کر رہے ہیں جبکہ دیگر نوعیت کے صاف پانی کے ٹیوب ویل بھی کام کر رہے ہیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک اہلکار کی وجہ سے کوئی ان ٹیوب ویلوں سے پانی کے ٹینک بھر کر لے جائے تو سارا محکمہ تو قصور وار نہیں کہلائے گا۔ محکمہ نے اس بارے میں انکوائری شروع کر دی ہے کہ کس کس پمپ سے کون کیسے پانی لے کر جاتا ہے کیونکہ اس بارے میں ہائیکورٹ کو بھی رپورٹ دینی ہے، اور جو ذمہ دار ہو گا اس کے خلاف یقینی طور پر کارروائی کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس نے ایسی تمام کمپنیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جن کو ہائیکورٹ کی طرف سے نوٹس دیے گئے ہیں اور جلد ہی اس بارے اخبارات کے ذریعے عوام کو بھی مطلع کیا جائے گا۔

شفیق آباد کے رہائشی حبیب الرحمن سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ”میرے چھ برس کے بچے کو ڈائریا کا مرض ہو گیا، جب میں نے ڈاکٹر کو دکھایا تو انہوں نے بیماری کا سبب غیر معیاری پانی بتایا کیونکہ ہم اپنے بچے کو ماں کا دودھ دینے کے بجائے خشک دودھ بازار سے ملنے والے بوتل بند پانی میں حل کر کے دیتے تھے اور اس کے معیاری یا غیر معیاری کا ہمیں پتہ نہیں تھا لہٰذا ڈاکٹر نے نمکول یا اُبلے ہوئے پانی میں نمک اور چینی کی مناسب مقدار شامل کرنے کا بتایااور دوا بھی دی مگر بیماری بڑھ چکی تھی جس وجہ سے میرا بیٹا ہلاک ہو گیا“۔ اس موقع پر عبد القدوس نامی شہری نے پانی کی متعدد بوتلیں دکھاتے ہوئے بتایا کہ بازار میں فروخت ہونے والی متعدد اداروں کی بوتلوں پر تاریخ تیاری کا اندراج نہیں ہوتا جبکہ اس کے استعمال کی مدت چند ماہ سے ایک برس تک درج ہوتی ہے جس وجہ سے اس کے ایکسپائر ہونے کی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکتا، اسی طرح بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پانی پر بھی تیاری کی تاریخ درج نہیں ہوتی جبکہ اس کے اپنے ملک سے چلنے اور یہاں کی مارکیٹ تک پہنچنے میں کافی عرصہ گزر جاتا ہے، اس طرح ایکسپائر پانی بھی مارکیٹ میں بکتا رہتا ہے۔ ان بوتلوں کی بھر مار کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور نالوں اور گٹروں میں پھینکے جانے کی وجہ سے پانی کی نکاسی رُک جاتی ہے۔

لاہور کی سیر کے لیے آنے والی آسٹریا کی ٹورسٹ سیلیا نامی خاتون نے پینے کے پانی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”ہمارے ملک میں اگرچہ پیک واٹر فروخت ہوتا ہے مگر بہت کم افراد خصوصاً امیر لوگ یہ پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ اکثریت سرکاری ٹینکوں اور نلکوں کا پانی پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ ہمارے متعلقہ اداروں کی طرف سے چیک رکھنے کی وجہ سے وہاں غیر معیاری پانی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا“۔ انہوں نے بتایا کہ دوران سفر سب سے زیادہ ضروری چیز پانی ہوتی ہے اور ان علاقوں میں ہمارا زیادہ خرچ بھی پانی کی مد میں ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے علاوہ ہالینڈ، جاپان اور دیگر یورپی ممالک میں دیواروں، ٹرینوں اور دیگر نمایاں جگہوں پر سرکاری ٹینکوں پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ پینے کا معیاری پانی ہے“۔ انھوں نے بتایا کہ جدید طریقوں سے وہاں ہر ہفتہ پانی کے ٹینکوں کی صفائی کی جاتی ہے۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive