03/09/2010
 
 
   
 
 
  سرائیکی علاقے کے سیاسی رہنماﺅں کو امتیاز ی سلوک کی شکایت
 

سرائیکی علاقے کے سیاسی رہنماﺅں کو امتیاز ی سلوک کی شکایت

پنجاب اسمبلی میں صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے قیام کا مطالبہ

عامر حسینی

پنجاب اسمبلی میں ان دنوں پری بجٹ مباحثہ اور وقفہ سوالات کے دوران جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے اپنی جماعتی وابستگیوں کو نظر انداز کر کے سرائیکی خطے کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی ہے۔ بھکر سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہونے والے مسلم لیگ (نواز) کے رکن سعید اکبر نوانی نے ابتدا کی اور انہوں نے حیران کن حد تک جنوبی پنجاب کے مسائل کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیا۔ سعید اکبر نوانی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی فنڈز مہیا نہیں کر رہی، لاہور کی ایک سڑک کے لیے 25 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے جاتے ہیں جبکہ بھکر کو محض 20 ملین روپے دے کر ٹال دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنوبی پنجاب کے عوام کو یونہی نظر انداز کیا جاتا رہا تو سرائیکی صوبہ کی تحریک کو کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ واضح رہے کہ سعید اکبر نوانی نے ہی ایک سیٹ پر بھکر سے میاں شہباز شریف کو کامیاب کرایا تھا۔

مسلم لیگ فنکشنل کے مخدوم احمد محمود کا کہنا تھا کہ 2009-10ء کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کو محض 5 ارب روپے دیے گئے جبکہ 2008-09ء کے بجٹ میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے لیے 3 ارب روپے رکھے گئے تھے جن میں سے ایک پائی بھی خرچ نہیں کی گئی۔ مخدوم احمد محمود نے کہا کہ بہاول پور کے سرکاری سکولوں سے پڑھنے والے بچوں میں سے کسی کو اب ڈی ایم جی(ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ) افسر نہیں لیا جاتا، سارے کے سارے ڈی ایم جی افسر وسطی پنجاب سے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو سزا دینا ہو تو اسے جنوبی پنجاب میں افسر تعینات کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک سڑک کی تعمیر کے لیے 21 ارب کے فنڈز دیے جاتے ہیں جبکہ سرائیکی بیلٹ کے 13 اضلاع کو صرف 5 ارب روپے دیے جاتے ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن مخدوم ارتضیٰ نے کہا کہ اگر جنوبی پنجاب کے ساتھ زیادتی جاری رہی تو وہ 2010-11ء کے بجٹ کی منظوری کے وقت اسمبلی کی لابی میں بیٹھ جائیں گے۔ ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ (قائد) کے رکن محسن لغاری کا کہنا تھا کہ گندم کی کاشت کے موقع پر جنوبی پنجاب کا پانی بند کر دیا گیا۔ جنوبی پنجاب کی نہریں شمشاہی ہیں جبکہ بالائی پنجاب کی نہریں 12 ماہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ارسا والوں کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کی نہروں کو 12 ماہی کرنے کا فیصلہ پنجاب کو کرنا ہے مرکز کو نہیں۔

مسلم لیگ(قائد) کے رکن شیر علی کا کہنا تھا کہ پنجاب بجٹ کا نام لاہور بجٹ رکھ دینا چاہیے۔ مسلم لیگ (قائد)، مسلم لیگ (نواز)، پاکستان پیپلز پارٹی کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے پری بجٹ بحث کے دوران پنجاب حکومت پر زور دیا کہ وہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ سے ملنے والی رقم کو آبادی، پسماندگی اور آمدنی کے اسی پیمانہ کو بروئے کار لائے جو وفاقی حکومت نے این ایف سی میں بنایا ہے اور اسے بنیاد بناتے ہوئے تمام اضلاع میں فنڈز کی تقسیم کرے۔

جنوبی پنجاب کے ارکین صوبائی اسمبلی نے پنجاب فنانس کمیشن ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے تمام اضلاع کو اسی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم کا جو مطالبہ کیا ہے وہ ایسا مطالبہ ہے جس کی تائید پنجاب کے 36 اضلاع میں سے ہر وہ ضلع کرے گا جو فنڈز کی تقسیم میں ناانصافی کا شکار ہوتا آیا ہے۔ لاہور ڈویژن، فیصل آباد ڈویژن، سرگودھا ڈویژن اور راولپنڈی ڈویژن میں ایسے کئی اضلاع موجود ہیں جن کے ساتھ فنڈز کی فراہمی میں زیادتی ہوتی رہی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، سرگودھا اضلاع اپنے حصے سے زیادہ فنڈز حاصل کرتے رہے ہیں۔ اگر صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ قائم ہوتا ہے تو فنڈز کے حوالے سے ناانصافی کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف، صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ کی طرف سے تاحال ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔ مسلم لیگ (نواز) کو اس وقت کہ اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ وسطی پنجاب میں صرف لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی کی خواہاں نہیں ہے بلکہ وہ سب اضلاع کی ترقی کے لیے کام کرنے کی خواہاں ہے۔ گذشتہ دنوں مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک تقریب میں علانیہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ملتان بگ سٹی کا ایشو، ایم ڈی اے ملتان کے 30 کروڑ فنڈز کی پنجاب حکومت کو منتقلی اور جنوبی پنجاب کو کم ترقیاتی فنڈز کی فراہمی ایسے معاملات ہیں جن کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے عوام میں احساس محرومی اور صوبائی حکومت کے خلاف جذبات پیدا ہورہے ہیں۔

بہاول پور صوبے کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس میں بھی مسلم لیگ (نواز) بہاولپور شریک نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ (نواز) کی یہ پالیسیاں بہت سارے سوالیہ نشان اس پارٹی کے قومی تشخص پر لگا رہی ہیں۔ مسلم لیگ (نواز) کے اپنے جنوبی پنجاب سے منتخب اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی یہ کہتے پائے جا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت کا رویہ امتیازی ہے اور صوبائی سول نوکر شاہی میں ان کے علاقے کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے کم ہے۔ مسلم لیگ (نواز) پنجاب میں بھی وسطی پنجاب کی پارٹی کہلا رہی ہے۔ اس گرتے ہوئے امیج کو وزیرعلیٰ پنجاب کے چند فیصلہ کن اقدامات ہی بحال کر سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر مسلم لیگ (نواز) اور اس کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس کی حکومت اس مرتبہ پنجاب کے بجٹ 2010-11ء میں جنوبی پنجاب کے عوامی مطالبات کا جواب کس طرح سے دیتی ہے۔ کیا صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ میں فنڈز کی تقسیم کی بنیاد آبادی، پسماندگی اور آمدنی کو بنایا جائے گا؟ کیا صوبائی حکومت آغاز حقوق بلوچستان طرز کا کوئی پیکیج سرائیکی خطے کے لیے بنائے گی؟ کیا صوبائی نوکریوں کے تناسب میں وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کے درمیان پائے جانے والے فرق کو دور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی سامنے آئے گی؟

اگر صوبائی حکومت 2010-11ء کے بجٹ میں مذکورہ بالا سوالوں کو پیش نظر رکھ کر جنوبی پنجاب کے لیے وافر فنڈز مختص نہیں کرتی تو پھر پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے بڑی عوامی تحریک کے سوا کوئی اور راہ جنوبی پنجاب کے لیے نہیں بچے گی۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive