|
سرکاری
سکولوں میں این جی اوز کی بڑھتی ہوئی
مداخلت
حکومت
پنجاب اور محکمہ تعلیم واضح پالیسی اختیار
کرنے سے قاصر
وقاص
عظیم
صوبہ
پنجاب میں سرکاری سکول غیر سرکاری تنظیموں
(این
جی اوز)
کو
دیے جانے پر پنجاب اسمبلی میں حزب اقتدار
اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے
پرزور احتجاج کرتے ہوئے حکومت کی اس پالیسی
پر کڑی تنقید کی ہے۔ ارکان پنجاب اسمبلی
کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں سرکاری
سکولوں میں تعلیمی اصلاحات کے نام پر جہاں
ہر سال کروڑوں روپے کے فنڈز حاصل کر کے
انہیں اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر
رہی ہیں وہاں اِن تنظیموں کے عہدیداروں
نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے
سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی اپنی مرضی سے
تعیناتی اور تبادلہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
غیر سرکاری تنظیموں نے مختلف سکولوں کے
نصاب میں بھی تبدیلیاں کرنا شروع کر دی
ہیں جس سے محکمہ تعلیم پنجاب کی ناکامی
اور سرکاری افسران کی نااہلی کے ثبوت واضح
ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اساتذہ کی تنظیموں
نے بھی سرکاری سکول مختلف این جی اوز کو
دیے جانے کی حکومتی پالیسی پر احتجاج کرتے
ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے سرکاری سکولوں
میں این جی اوز کی بے جا اور بڑھتی ہوئی
مداخلت کو قابو نہ کیا تو وہ16
فروری
سے صوبہ پنجاب میں مظاہرے کرنا شروع کردیں
گے۔
27
جنوری
کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبہ کی
حکمران جماعت مسلم لیگ(نواز)
کی
ایک رکن اسمبلی عارفہ خالد پرویز نے وقفہ
سوال و جواب کے دوران وزیر تعلیم میاں
مجتبیٰ شجاع الرحمن سے کہا کہ وہ صوبے میں
غیر سرکاری تنظیموں کو دیے جانے والے
سرکاری سکولوں کی تفصیلات سے آگاہ کریں
اور جس پالیسی کے تحت یہ سکول این جی اوز
کے حوالے کیے جا رہے ہیں اس کی وضاحت بھی
کی جائے۔ اس کے جواب میں وزیرتعلیم میاں
مجتبیٰ شجاع الرحمن نے محض غیر سرکاری
تنظیموں کو دیے جانے والے سرکاری سکولوں
کے اعداد و شمار بیان کرنے پر اکتفا کیا
تاہم وہ اس بارے میں حکومتی پالیسی اور
این جی اوز کو چیک کرنے کے بارے میں اجلاس
کو تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے۔ صوبائی
وزیر تعلیم میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کے
مطابق صوبہ پنجاب میں اس وقت1164
سرکاری
سکول مختلف این جی اوز کو دیے گئے ہیں جو
ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پالیسی کے تحت
اِن میں تعلیمی اصلاحات کر رہی ہیں۔ لاہور
میں340
سرکاری
سکولوں کو این جی اوز کے حوالے سے کیا گیا
ہے۔ وزیرتعلیم کے بقول این جی اوز سرکاری
سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور
ان سکولوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے
کے لیے کام کررہی ہیں۔
مسلم
لیگ (نواز)
کی
رکن صوبائی اسمبلی عارفہ خالد پرویز نے
وزیر تعلیم کے بیانات پر عدم اطمینان کا
اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب نے
دراصل سرکاری سکولوں کو این جی اوز کو دیے
جانے کے معاملے پر تاحال کسی قسم کی پالیسی
ہی وضع نہیں کر رکھی۔ ان این جی اوز پر کسی
قسم کا سرکاری چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔
سکولوں کے نام پر ہر سال کروڑوں روپے حاصل
کرنے والی این جی اوز کے متعلق محکمہ تعلیم
اور حکومت کو کسی قسم کا علم نہیں ہے۔
عارفہ خالد کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب یہ
بتانے سے قاصر ہے کہ تعلیمی اصلاحات کے
لیے کام کرنے والی این جی اوز نے حالیہ
برسوں کے دوران کتنے غیر ملکی فنڈز اکٹھے
کیے اور انہیں کن سکولوں میں کن مقاصد کے
لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
مختلف علاقوں میں ایسی اطلاعات بھی سامنے
آئی ہیںجہاں جعلی این جی اوز نے سرکاری
سکولوں کو اپنی تحویل میں لے رکھا ہے اور
وہاں اپنی مرضی سے کام چلا رہی ہیں۔ عارفہ
خالد نے کہا کہ جب ایک این جی او کسی سرکاری
سکول میں تعلیمی اصلاحات کرنے کے لیے اپنی
خدمات حکومت کو پیش کرتی ہے تو اسے صرف
تعلیمی اصلاحات پر ہی توجہ دینی چاہیے نہ
کہ وہ اس سکول میں موجود سرکاری اساتذہ
کو ہراساں کرنا شروع کردے اور ان کی جگہ
”انگلش سپیکنگ“ اپنے عزیز و اقارب کو
تعینات کرنا شروع کر دے۔ عارفہ خالد کا
کہنا تھا تعلیمی اصلاحات کے لیے پبلک
پرائیویٹ پارٹنر شپ کا آئیڈیا اچھا ہے
تاہم حکومت اس سلسلے میں واضح پالیسی کا
اعلان کر کے این جی اوز پر مکمل چیک اینڈ
بیلنس رکھے۔
مسلم
لیگ (قائد)
کی
رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر آمنہ الفت نے
کہا کہ سرکاری سکولوں میں کام کرنے والی
این جی اوز صرف پنجاب کے دو تین بڑے شہروں
میں کام کرنے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ
کر رہی ہیں لیکن صوبہ پنجاب کے دورافتادہ
علاقوں میں یہ این جی اوز کام کرنے سے
گریزاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ کے
دور دراز کے علاقوں میں اب بھی سینکڑوں
ایسے سکول موجود ہیں جہاں بنیادی سہولیات
موجود نہیں ہیں لیکن یہ این جی اوز ان
سکولوں میں کام نہیں کرتیں کیونکہ انہیں
وہاں کام کرنے کے زیادہ فنڈز نہیں مل پاتے۔
آمنہ الفت کا کہنا تھا کہ جس این جی او کو
کسی سرکاری سکول کی عمارت تعمیر کرنے کا
منصوبہ دیا جاتا ہے پہلے تو وہ اس سکول کی
موجودہ بلڈنگ اور سرکاری اراضی پر اپنا
قبضہ کرنا شروع کردیتی ہے اور بعد میں
وہاں تعینات اساتذہ کو مختلف علاقوں میں
ٹرانسفر کرنا شروع کردیتی ہے اور پھر اس
سکول کے نصاب میں تبدیلیاں کرنے پر اُتر
آتی ہے۔ آمنہ الفت کا کہنا تھا کہ حکومت
پنجاب اس سلسلے میں فوری طور پر واضح
پالیسی کا اعلان کرے۔
پنجاب
ٹیچرز یونین ایسوسی ایشن اور جوائنٹ ایکشن
کمیٹی اساتذہ پنجاب نے سرکاری سکولوں کو
این جی اوز کے حوالے کرنے کے خلاف 16فروری
کو صوبہ بھر کے ڈی سی اوز کے دفاتر کے سامنے
احتجاج کرنے اور جلوس نکالنے کا اعلان
کیا ہے۔ پنجاب ٹیچر یونین ایسوسی ایشن کے
جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے بتایا کہ جن
سکولوں کو این جی اوز کے حوالے کیا گیا ہے
اگر ان کا موازنہ دیگر سکولوں سے کیا جائے
تو ان کی بہتری میں کسی قسم کا اضافہ نہیں
ہوا ۔ دراصل ان این جی اوز نے غیر تربیت
یافتہ نوجوانوں کو انتہائی کم تنخواہوں
پر بھرتی کیا ہوا ہے۔ این جی اوز نے سکولوں
میں اساتذہ کی کمی کو اپنی مرضی سے پورا
کیا۔ رانا لیاقت کا کہنا ہے کہ سرکاری
سکولوں کو این جی اوز کے حوالے کیے جانے
کے وقت یہ طے پایا تھا کہ وہ وہاںبنیادی
سہولتوں کی فراہمی، ٹیچرز کی ٹریننگ،
بچوں کے داخلے کی شرح میں اضافے اور اخراج
کو کم کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کریں گی
تاہم این جی اوز نے حکومت سے مشاورت کرنے
کے بجائے اپنی مرضی شروع کر دی اور اساتذہ
کو ہراساں کیا جانے لگا جس سے مسائل میں
اضافہ ہوا۔ این جی اوز نے سرکاری سکولوں
کے اساتذہ کو ”سپوکن انگلش“ کے کورس بھی
کروانا تھے تاہم انہوںنے کسی جگہ اس منصوبے
پر کام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری
سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے
لیے حکومت این جی اوز کو فنڈز دینے کے
بجائے براہ راست اسی سکول کی انتظامیہ
کودے،این جی اوز ترقیاتی کا موں کے نام
پر کروڑوں روپے کے فنڈز کا بے جا استعمال
کر رہی ہیں۔ این جی اوز ان سکولوں میں کام
کر رہی ہیں جن کا معیار پہلے ہی بہتر ہے۔
پنجاب میں ہزاروں سکول صرف کاغذوں میں
موجود ہیں لیکن این جی اوزاس سلسلے میں
کام کرنا مناسب نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے
مطالبہ کیا کہ حکومت سرکاری سکولوں میں
کام کرنے والی این جی اوز کے اساتذہ کی
بھرتی کے لیے بھی وہی معیار مقرر کرے جو
سرکاری اساتذہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور
ٹھوس لائحہ عمل اپناتے ہوئے این جی اوز
کو دیے جانے والے فنڈز پر بھی چیک رکھا
جائے۔
|