|
محکمہ
تعلیم سندھ میں کرپشن اور افسران کی من
مانیوں کا دوردورہ
ایشیائی
ترقیاتی بینک نے تنگ آ کر اربوں روپے کا
تعلیمی منصوبہ ختم کر دیا
انیس
منصوری
سندھ
میں محکمہ تعلیم میں کرپشن، افسروں کی
نااہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے ایشیائی
ترقیاتی بینک (اے
ڈی بی)
نے
تعلیم کی بہتری کے لیے صوبہ میں جاری 70
ارب
روپے کا منصوبہ ختم کر دیا ہے۔ گذشتہ ہفتے
اے ڈی بی کی طرف سے شائع ہونے والی ایک
رپورٹ اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ محکمہ
تعلیم سندھ میں کرپشن عروج پر ہے جبکہ
سرکاری افسران صوبہ میں تعلیم کے فروغ کے
لیے دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے، جس کا
ثبوت یہ ہے کہ محکمہ تعلیم نے بینک سے ملنے
والے 75
ملین
میں سے صرف 8.84
ملین
ڈالرز یعنی 11.78
فیصد
فنڈز خرچ کیے ہیں۔ حکومت سندھ کو ان فنڈز
میں سے 22
ملین
ڈالر خرچ کرنا تھے لیکن حکومت نے اسے
استعمال کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں
کیا اور خرچ ہونے والی رقم میں 50
فیصد
فنڈز تعلیم کے بجائے تعمیراتی کاموں پر
خرچ کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطا بق پراجیکٹ
کے دوران اے ڈی بی کو کئی ایسے شواہد ملے
تھے جس سے کرپشن کی واضح نشاندہی ہوتی
تھی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے
جاری کردہ رپورٹ میں محکمہ تعلیم اور سندھ
حکومت کی جانب سے ان اخراجات پر شکوک کا
اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مانیٹرنگ
ٹیموں نے جن سکولوں کا دورہ کیا ہے وہاں
کیا گیا تعمیراتی کام انتہائی ناقص تھا۔
سابق
حکومت نے پرائمری تعلیم کی بہتری کے لیے
”پاکستان ڈی سینٹرالائزیشن ایلیمنٹری
ایجوکیشن پراجیکٹ“ کے نام سے ایک منصوبہ
پیش کرتے ہوئے بینک سے درخواست کی تھی کہ
اس منصوبے کے لیے حکومت سندھ کو 32
برس
کی معیاد پر سات کروڑ 50
لاکھ
(75
ملین)
ڈالرز،
ایک سے ڈیڑھ فیصد شرح سود پر دیے جائیں۔
اے ڈی بی نے تعلیم کی شرح بڑھانے اور اس
کی بہتری کے لیے 19
ستمبر
2002ء
کو قرض منظور کیا اور اس کا باقاعدہ آغاز
جولائی 2003ء
سے ہوا۔
منصوبہ
چار حصوں پر مشتمل تھا۔ اوّل بچوں کی سکول
تک رسائی کو بہتر بنانا، دوم طلبا کے لیے
خصوصی پروگرام، سوم سکولوں کی کوالٹی کو
بہتر بنانا اور آخر میں انتظامی سطح پر
سرکاری ملازمین کی صلاحیتوں میں اضافہ
کرنا تھا لیکن حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پانچ
برس جاری رہنے کے باوجود یہ منصوبہ اپنے
مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
پراجیکٹ
کے مطابق وزارتِ تعلیم کوبراہِ راست مقامی
حکومت کے ساتھ چلانا تھا جس کی سربراہی
سیکرٹری تعلیم کے پاس تھی اور ان کی نگرانی
صوبائی رابطہ کمیٹی کے سپرد کی گئی تھی۔
کمیٹی میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کے علاوہ
سندھ حکومت کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ فنانس
کے ساتھ دو ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر، دو
اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ افسر تعلیم اور سکولز
مینیجمنٹ کمیٹی کے دو ممبران کو شامل کیا
گیا تھا۔ پراجیکٹ ایمپلی مینٹیشن یونٹ
کی ذمہ داری ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسروں
کے پاس تھی۔ اس منصوبہ کو پایہٴ تکمیل تک
پہنچانے کے لیے بھاری تنخواہوں پر پراجیکٹ
ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اوردیگر عملہ
بھرتی کیا گیا تھا تاکہ مڈل تک گرتی ہوئی
تعلیم کی شرح کو روکا جا سکے مگر زمینی
حقائق سے ناواقفیت کی بنا پر تمام سنہری
خواب چکنا چور ہو گئے۔
پراجیکٹ
میں سب سے اہم بچوں کی سکول تک رسائی کو
یقینی بنانے کا عمل تھا۔ اس کے لیے سب سے
زیادہ بجٹ مخصوص تھا اور کرپشن کے شواہد
بھی اس میں سب سے زیادہ ملے ہیں۔ اس کا
پہلا جُز یہ تھا کہ سندھ کے تمام اضلاع
میں سے 1200
پرائمری
سکول منتخب کر کے انہیں مڈل تک ترقی دی
جائے گی جس میں 65
فیصد
سکول لڑکیوں کے ہوں گے۔ چھ برس کا نتیجہ
یہ نکلا کہ منتخب کیے گئے 1200
میں
سے صرف 17
فیصد
یعنی 208
سکولوں
کو ہی ترقی دی جا سکی۔ 1400
سکولوں
میں لیبارٹریاں قائم کرنا تھیں تاہم صرف
190
سکولوں
میں لیبارٹریاں قائم کی جا سکیں۔ 980
سکولوں
کی چار دیواری تعمیر کرنا تھی لیکن صرف
118
سکولوں
میں یہ کام کیا گیا۔ منصوبے کے مطابق 102
انگریزی
میڈیم سکول بنانا تھے جن میں سے ایک بھی
نہیں بن سکا۔ 1000
پرائمری
کلاس روم تعمیر کرنا تھے جن میں سے صرف
104
کمرے
تعمیر کیے جا سکے۔ 100
بغیر
شیلٹر کے سکولوں کو ایلیمنٹری کا درجہ
دینا تھا مگر یہ خواب ہی رہا۔
ایشیائی
ترقیاتی بینک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے
کہا کہ اکثر سرکاری تعمیرات میں انتہائی
ناقص میٹریل استعمال کیا گیا مگر اس کے
باوجود 50
کروڑ
روپے سے زائد فنڈز اس مد میں خرچ ہو گئے۔
اہم انکشاف یہ ہے کہ 70
فیصد
سے زائد فنڈز فرنیچر اور تعمیرات کی مد
میں خرچ کیے گئے جبکہ دیگر تمام سرگرمیوں
کو نظر انداز کردیا گیا۔ اے ڈی بی کی جانب
سے سوالات کیے جانے پر حکومت سندھ نے جون
2007ء
میں 75
ملین
ڈالر میں سے 40
ملین
ڈالر نہ لینے کا فیصلہ کیا اور بعد ازاں
مزید معذرت کرتے ہوئے نومبر 2007ء
میں یہ معاہدہ ختم کرنے کی سفارش کی۔
محکمہ
تعلیم کے افسران کی عدم دلچسپی اور ہر کام
کو طول دینے کی روش کی وجہ سے کوئی بھی کام
وقت پر شروع ہوا اور نہ مکمل کیاجا سکا۔
تعمیراتی کام تین برس بعد یعنی 11
اگست
2006ء
کو شروع ہوا۔ پہلی خریداری 20
ماہ
بعد 24
مارچ
2005ء
کو کی گئی اور بچوں کو پہلا وظیفہ 21
ماہ
گزر جانے کے بعد اپریل 2005ء
میں دیا گیا۔
سندھ
میں سیکنڈری سطح پر لڑکیوں کی شرح تعلیم
میں کمی ہو رہی ہے۔ پراجیکٹ کے دوسرے حصے
میں لڑکیوں کی شرح تعلیم کو 25
فیصد
سے بڑھا 45
فیصد
کرنا تھا۔ چھٹی سے آٹھویں جماعت میں تعلیم
حاصل کرنے والی لڑکیوں کے لیے وظیفہ کا
اعلان کیا گیا تاہم پراجیکٹ شروع ہونے کے
21
ماہ
بعد اپریل 2005ء
میں صرف ایک مرتبہ ان طالبات کو وظیفہ دیا
گیا اور اسے بھی بعد میں روک لیا گیا۔ طلبا
کو کتابوں کی فراہمی میں بھی بڑے پیمانے
پر بدعنوانی کی گئی اور صرف ایک برس یعنی
2005ء
میں ایک لاکھ 36
ہزار
512
طلبہ
و طالبات کو کتب دی گئیں۔
حکومت
سندھ کو اس حوالے سے سکول مینجمنٹ کمیٹیوں
(ایس
ایم سی)
کی
تشکیل کرتے ہوئے اس کے ذریعے سکول ڈویلپمنٹ
فنڈز خرچ کرنا تھے لیکن اس پورے عرصہ کے
دوران صرف سات کروڑ روپے خرچ ہوئے اور یہ
سلسلہ آگے نہ چل سکا۔ ذرائع کے مطابق چند
کیس ایسے بھی دیکھے گئے جہاں طالبات تو
زیر تعلیم نہیں تھیں لیکن ان کو وظیفے دیے
گئے۔
ابتدائی
طور پر اس منصوبے میں شامل تھا کہ خواتین
اساتذہ کو بی اے تک تعلیم کے حصول کے لیے
وظیفہ دیا جائے گا تاکہ وہ چھٹی سے آٹھویں
جماعت کی طالبات کو بہتر انداز میں تعلیم
دے سکیں۔ ان رقوم کو صرف تعمیراتی کاموں،
گاڑیوں کی خریداری میں ہی اس قدر خرچ کیا
گیا کہ اس پر عمل درآمد ہی نہیں ہو سکا۔
عوامی آگہی مہم اور ہر ضلع سے سات افراد
کی فیلو شپ کا معاملہ بھی کھٹائی میں
پڑگیا۔
منصوبے
کا مرکزی دفتر کراچی میں بنایا گیا۔ دفتر
نے قائم ہوتے ہی 23
گاڑیاں
خریدیں جن میں سے 16
سوزوکی
پوٹھوہار ڈسٹرکٹ پراجیکٹ کوآرڈی نیٹر کے
لیے جبکہ 5
موبائل
ٹریننگ یونٹ اور دو ڈبل کیبن شامل ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق یہ صرف
دکھاوا تھا جبکہ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے
مطابق تین برسوں کے دوران ان گاڑیوں کی
نصف تعداد کباڑہ ہو چکی ہے اور چند ایک
گاڑیاں ابھی تک محکمہ تعلیم کے افسران کے
پاس ہے۔
خریداری
کا عمل انتہائی پیچیدہ ہونے کے باوجود
جابجا من پسند افراد کو نوازنے کے شواہد
ملے ہیں۔ کسی سکول کے لیے ہونے والی تعمیر
اور خریداری کے عمل کے لیے پہلے ضلع افسر
صوبائی کو آرڈی نیشن کمیٹی کو آگاہ کرتا
تھا۔ صوبائی رابطہ کمیٹی اسے اے ڈی بی کو
بھیجتی تھی اور وہاں سے جواب آنے تک انتظامی
سطح پر تبدیلیاں ہوجاتی تھیں۔ یہی وجہ
تھی کہ ابتدا میں مرکزی دفتر نے 216
سکولوں
کو منتخب کیا تھا۔ اس عمل کے ایک برس بعد
یعنی فروری 2005ء
میں بینک نے ان میں سے صرف 23
کو
چنا اور 2006ء
میں کہیں جا کر ان پر کام شروع ہوا۔
پروگرام
کا ایک مقصد محکمہ تعلیم کے ملازمین کی
تربیت بھی تھا۔ 3400
سکولوں
کے سربراہان کے علاوہ ہر ضلع کے تعلیمی
افسر اور دیگر انتظامی امور پر مامور
اہلکاروں کی تربیت تھی لیکن اس حوالے سے
کراچی میں ہونی والی ایک نشست کے علاوہ
کوئی اور کام نہیں ہوا۔ چھ برس گزرنے کے
باوجود سندھ حکومت کوئی کنسلٹنٹ مقرر
نہیں کرسکی۔
محکمہ
تعلیم اقلیتوں کے لیے ان کی مقامی زبان
میں ٹریننگ کا انتظام نہیں کر سکی۔ وہ
ایسا مواد بھی تیار نہ کرسکی جس میں اقلیتوں
کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے علاوہ جنس
کے امتیاز کو بھی ختم کیا جا سکے۔
حکومت
سندھ کواس منصوبہ کے لیے قرض کی پہلی قسط
8
اپریل
2004ء
کو ملی تھی جبکہ آخری قسط 16
اکتومبر
2008ء
کو موصول ہوئی تھی، اور اسی دن سے یہ
پراجیکٹ ختم ہو گیا جبکہ اسے 30
جون
2009ء
کو اختتام پذیر ہونا تھا۔ پراجیکٹ جولائی
2003ء
میں شروع ہوا لیکن اس کے اطلاق کا طریقہ
11
مارچ
2006ء
کو یعنی اڑھائی سال بعد دیا گیا۔
خطیر
رقم سے شروع ہونے والا یہ پراجیکٹ ناقص
کارکردگی کے باعث لپیٹ دیا گیا۔ بینک نے
اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ سندھ میں
لوگ تعلیم کے حصول میں دلچسپی نہیں رکھتے
جبکہ سندھ حکومت کے ذرائع کے مطابق تعلیم
کے شعبے میں کرپشن اور پیچیدہ سیاست کے
باعث اس منصوبے کو مکمل کرنا ممکن نہیں
ہے۔ ان وجوہ کی بنیاد پر اے ڈی بی سمیت
دیگر عالمی اداروں نے تعلیم میں سرمایہ
کاری یا امداد دینے سے اجتناب کرنا شروع
کر دیا ہے۔ اس سارے عمل میں سندھ کے شہریوں
کو جہاں تعلیم کے حصول میں پھر دھچکا لگا
ہے وہاں سرکاری افسران کی شاہ خرچیوں اور
ناقص حکمت عملی کے باعث قرض کا ایک اور
بوجھ شہریوں کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔
|