03/09/2010
 
 
   
 
 
  عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق
 

عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق

سوات اور مانسہرہ میں ضمنی انتخابات، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کی جیت

ضیاءالرحمٰن

صوبہ سرحد کے دو حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات انتہائی سخت سکیورٹی میں مکمل ہوئے جس میں سوات کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر عوامی نیشنل پارٹی اور مانسہرہ کی قومی اسمبلی کی نشست پر جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ہارنے والی سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب دونوں حلقوں میں بڑی تعداد میں خواتین کی جانب سے ان انتخابات میں ووٹ کاسٹ نہیں کیے گئے۔

سوات کے حلقہ پی ایف 83 کی نشست عوامی نیشنل پارٹی کے رکن سرحد اسمبلی ڈاکٹر شمشیر علی کی یکم دسمبر 2009ء کو ہونے والے ایک خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد خالی ہوئی تھی جس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 28جنوری کوضمنی انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا۔ اے این پی کی جانب سے مرحوم ڈاکٹر شمشیر علی کے بھائی رحمت علی خان کو انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا تھا اور اے این پی کی صوبائی قیادت کی جانب سے رحمت علی خان کو بلا مقابلہ منتخب کروانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات بھی کیے گئے جو ناکام ہوئے۔ سوات کی اس نشست پر پیپلز پارٹی (شیر پاﺅ)، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور سوات امن جرگہ کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اے این پی کے امیدوارکی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ واضح رہے کہ اے این پی اور پی پی پی کی صوبائی قیادت کے مابین سوات اور مانسہرہ کے دونوں حلقوں کے لیے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا طے پایا تھا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے سابق صوبائی وزیر حسین احمد کانجو کو اس حلقہ کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا جس کی جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے حمایت کی گئی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شیر خان اور مسلم لیگ (قائد) کی جانب سے حاجی جلات خان کو امیدوار نامزد کیا گیا۔

سوات میں انتخابات کے موقع پر حلقے کے تمام پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ حلقہ پی ایف 83 کی حدود میں گاڑیوں کے داخلے اور مردوں کے چادر اوڑھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں تمام پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی بھی تلاشی لی گئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے نتیجہ کے سرکاری اعلان کے مطابق سوات کے حلقہ پی ایف 83 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار رحمت علی خان 7505 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ (قائد) کے حاجی جلات خان 3884 ووٹوں کے ساتھ دوسرے، پاکستان تحریک انصاف کے شیر خان 3821 ووٹوں کے ساتھ تیسرے، جماعت اسلامی کے حسین احمد کانجو 3749 ووٹ لے کر چوتھے اور آزاد امیدوار محمد خان 554 ووٹ لے کر پانچویں نمبر پر آئے۔ اس حلقہ میں کل رجسٹرڈ 114568 ووٹوں میں سے 21111 ووٹ کاسٹ ہوئے یعنی ووٹوں کی شرح 17.53 فیصد تھی۔

مانسہرہ کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 21 مسلم لیگ (نواز) کے ایم این اے فیض محمد خان کے انتقال کے سبب خالی ہوئی تھی جس پر بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 28 جنوری کو انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی کی اس نشست پر پانچ مرتبہ کامیاب ہونے والے نوابزادہ صلاح الدین پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات لڑ رہے تھے جبکہ مسلم لیگ (نواز) کی جانب سے میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کے بھائی حاجی طاہر، جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی کے بھائی اور تحصیل ناظم لائق احمد خان اور مسلم لیگ (قائد) کی جانب سے زرگل خان کو اس حلقے سے امیدوار نامزد کیا گیا تھا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار اقبال زیب حسن زئی پی پی پی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔ اس نشست پر ہونے والے انتخابات کے سرکاری نتائج کے مطابق جے یو آئی (ف) کے حمایت یافتہ لائق محمد خان 36629 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ (قائد) کے امیدوار زرگل خان 31774 ووٹ لے کر دوسرے، مسلم لیگ (نواز) کے امیدوار حاجی طاہر 29911 ووٹ لے کر تیسرے اور پیپلز پارٹی کے نوابزادہ صلاح الدین 28234 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر آئے۔ مقامی سیاسی و صحافتی حلقوں کے مطابق ضلع مانسہرہ میں انتخابات سیاسی جماعتوں کے بجائے شخصیات کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں جن میں سینیٹر اعظم خان سواتی، ضلعی ناظم سردار محمد یوسف، سابق ایم پی اے وجیہہ الزمان، نوابزادہ صلاح الدین، کیپٹن (ر) صفدر قابل ذکر ہیں۔ ان انتخابات میں بھی سواتی گروپ بے دریغ دولت کے استعمال کے سبب کامیاب قرار پایا۔ واضح رہے کہ اعظم خان سواتی پارلیمنٹ کے امیر ترین اراکین میں سے ایک ہیں جو امریکہ سے واپس لوٹنے کے بعد ضلع ناظم، سینیٹر اور وفاقی وزارت کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم لیگ (نواز) کے قائد نواز شریف کے داماد اور راولپنڈی سے منتخب رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے مرحوم ایم این اے فیض محمد خان کی صاحبزادی امبر فیض سے ٹکٹ لے کر اپنے بھائی حاجی طاہر کو نامزد کیے جانے کے سبب مسلم لیگ (نواز) کے ہاتھوںسے نہ صرف یہ نشست چلی گئی بلکہ عددی لحاظ سے منتخب خاتون رکن قومی اسمبلی کی نشست مسلم لیگ (نواز) سے جے یو آئی (ف) کو منتقل ہوئی۔

سوات اور مانسہرہ میں ضمنی انتخابات میں ہارنے والی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (قائد) کے صوبہ سرحد کے صدر امیر مقام نے ”ہم شہری“ کو بتایا کہ سوات اور مانسہرہ کے حلقوں میں ضمنی انتخابات میں دھاندلی اورسرکاری مشینری کے استعمال کے باوجودمسلم لیگ (قائد) کے امیدوار دوسرے نمبرپرآئے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (قائد) صوبے کی نمائندہ جماعت ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سوات کے زیادہ تر پولنگ سٹیشنوں پر خواتین کے ووٹ سرے سے پول ہی نہیں ہوئے اس کے باوجوداے این پی کے امیدوار کے حق میں بڑی تعداد میں خواتین کے جعلی ووٹ کاسٹ ہونا بھی باعث حیرت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 80 میں سے 78 پولنگ بوتھوں پر تعینات عملے کی سیاسی وابستگی اے این پی سے تھی جبکہ دو پولنگ سٹیشنوں پر اے این پی کے ایک صوبائی وزیر نے بندوق کے زور پر ووٹ کاسٹ کروائے۔ سوات سے ہارنے والے تینوں امیدواروں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل مٹہ کے پانچ پولنگ سٹیشنوں شور، برشور، گٹ، سجبنڈ اور سلینڈ میں گن پوائنٹ پر اے این پی کے امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ کیے گئے جبکہ مخالفین کے ووٹروں کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا کہ اگر وہ ووٹ ڈالنے پولنگ سٹیشن آئے تو ان کے نام طالبان عسکریت پسندوں کی لسٹ میں شامل کر دیے جائیں گے۔ مانسہرہ سے ہارنے والے تمام امیدواروں بالخصوص مسلم لیگ (قائد) کے زرگل خان، پی پی پی کے نوابزادہ صلاح الدین اور مسلم لیگ (نواز) کے حاجی طاہر نے بھی انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کالا ڈھاکہ کے پولنگ سٹیشنوں میں اعظم خان سواتی کی جانب سے بھرپوردھاندلی کی گئی جبکہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشنوں میں بیٹھنے سے جبری روکا گیا۔

سوات اور مانسہرہ کے حلقوں میں ضمنی انتخابات کے موقع پر بڑی تعداد میں خواتین کی جانب سے ووٹ کاسٹ نہیں کیے گئے۔ سوات سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کے مطابق سوات پی ایف 83 کے ضمنی انتخابات میں خواتین کے 33 پولنگ سٹیشنوں میں سے صرف دو پولنگ سٹیشنوں نظر آباد اور کوز شور میں خواتین کی جانب سے ووٹ کاسٹ کیے گئے جبکہ باقی پولنگ سٹیشنوں پر خواتین کی جانب سے ووٹ نہیں ڈالے گئے۔ مانسہرہ کے ضمنی انتخابات میں این اے 21 کے علاقے کالا ڈھاکہ میں خواتین کی جانب سے باکل ووٹ کاسٹ نہیں کیے گئے۔ کالا ڈھاکہ نیم قبائلی علاقہ ہے جہاں آباد مختلف قبائل کی جانب سے ہمیشہ خواتین کے ووٹ ڈالنے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، عورت فاﺅنڈیشن اور انتخابات پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کی جانب سے ہمیشہ صوبہ سرحد کے اضلاع میں ہر قسم کے انتخابات میں مقامی سطح پر منعقد کیے جانے والے جرگوں میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پاپندی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سیکولر جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی خواتین کو ووٹنگ کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے فیصلوں میں شریک رہی ہیں۔


کراچی میں آپریشن ’راہ نجات‘ کے متاثرین امداد کے منتظر

معاشی مسائل اور ذہنی امراض میں اضافہ

ض - رحمان

جنوبی وزیرستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن کے سبب نقل مکانی کر کے کراچی پہنچنے والے ہزاروں متاثرین حکومتی امدادنہ ملنے کے سبب تین ماہ سے کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ حال ہی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ان متاثرین کوواپس نہ آنے کی ہدایت کے بعدوزیرستان کے آئی ڈی پیزمیں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

گذشتہ برس 17 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد مقامی محسود قبائلی اپنے گھربارچھوڑکرنقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے جن کی بڑی تعداد ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور بنوںکے اضلاع کے علاوہ کراچی و حیدرآباد میں مقیم ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے محسود آئی ڈی پیز کی تعداد 293000 ہے۔ جنوبی وزیرستان سے کراچی نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کی درست تعداد کے بارے میں تو کسی کو معلوم نہیں ہے مگر ایک اندازے کے مطابق 12 سے 15 ہزار کے لگ بھگ متاثرین جنوبی وزیرستان سے شورش کے سبب کراچی پہنچے ہیں جہاں یہ افراد کراچی کی مضافاتی کچی آبادیوں سہراب گوٹھ، بھکر گوٹھ، فقیرا گوٹھ، مچھر کالونی، جنجال گوٹھ، لانڈھی، اولڈ مظفر آباد کالونی، مجید کالونی، گلشن بونیر، اتحاد ٹاﺅن، منگھو پیر اور کنواری کالونی میں انتہائی بدحالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ”ہم شہری“ کو سہراب گوٹھ میں رہائش پذیر متاثرین وزیرستان سے بات چیت سے پتہ چلا کہ یہ آئی ڈی پیز پہلے ہی سے بڑی تعداد میں کراچی میں مستقل طور پر آباد اپنے رشتہ داروں کی وجہ سے کراچی آئے ہیں جبکہ ایک وجہ ڈی آئی خان، ٹانک اور بنوں میں آباد قبائل کے ساتھ قبائلی دشمنیاں بھی ہے۔ ان آئی ڈی پیز کو تین ماہ گزر جانے کے باوجود حکومت اور امدادی اداروںکی جانب سے کسی بھی قسم کی امداد نہیں ملی ہے۔ ”ہم شہری“ کی جانب سے کیے گئے سروے میں معلوم ہوا کہ کراچی کی متعدد کچی آبادیوں میں بڑی تعدادمیںیہ آئی ڈی پیز کرائے کے کچے اور ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں رہ رہے ہیں جبکہ معاشی طور پر بدحال گھرانے خالی پلاٹوں میں رہنے پرمجبورہے۔ محسود متاثرین نے یہ بھی شکوہ کیا ہے کہ سوات کے متاثرین کی نسبت انہیں امداد دینے اور رجسٹریشن کے عمل کے حوالے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ غیر علانیہ آپریشن شروع ہونے کے سبب اپنا گھربار چھوڑ کر نقل مکانی کرنے والے متاثرین یہ سمجھ رہے تھے کہ آپریشن زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کا عرصہ لے گا مگر تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی آپریشن مکمل نہیں ہو سکا ہے اور پہلے سے ہی بد حالی کاشکارہزاروں متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حال ہی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں تقسیم کیے گئے پمفلٹوں میں نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیزکوجاری جنگ کے سبب واپس نہ لوٹنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متاثرین کی اکثریت نقل مکانی کرتے وقت قومی شناختی کارڈ تک ساتھ نہ لا سکی تھی کیونکہ ضرورت پیش نہ آنے کے سبب جنوبی وزیرستان میں شناختی کارڈ جیب مےں رکھنے کے بجائے گھروں میں رکھے جاتے ہیں۔ شناختی کارڈ نہ ہونے کے سبب کراچی میں انہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے ہراساں کرتے ہیں۔ متاثرین نے یہ بھی شکایت کی کہ مقامی صنعتوں اور فیکٹریوں میں انہیں روزگار نہیں دیا جا رہا جس کے سبب گذشتہ تین ماہ سے کرائے کے مکانوں میں رہنے والے ان متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ کراچی میں آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن نہ ہونے کے سبب کراچی سے سینکڑوں متاثرین رجسٹریشن کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان گئے مگر وہاں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل بند کر دیا گیا ہے جس کے سبب ہزاروں آئی ڈی پیز نہ صرف اب امدادسے محروم ہوگئے ہیں بلکہ واپس جانے کی صورت میں وہاں بھی ان آئی ڈی پیز کو امداد و بحالی کے منصوبوں میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ چند ہفتے قبل ٹانک سے کراچی پہنچنے والے ان کے رشتہ داروں نے بتایا ہے کہ وزیرستان میں آپریشن کے سبب زیادہ تر مکانات تباہ ہوگئے ہیں جس کے باعث متاثرین کافی پریشان ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے یہ آئی ڈی پیزنہ صرف معاشی مسائل کا شکار ہیں بلکہ ان کی اکثریت نفسیاتی اورذہنی عوارض میں مبتلا ہو چکی ہے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ بچوں کے حقوق کی تنظیم چائلڈ ایڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (چھاﺅ) کے صدر اکرام اللہ نے ”ہم شہری“ کو بتایا کہ لانڈھی کے مضافاتی علاقے مجید کالونی میں وزیرستان سے شورش کے سبب آئے ہوئے آئی ڈی پیز خصوصاً بچوں کی ایک بڑی تعدادنفسیاتی وذہنی عوارض میںمبتلاہے جس کی وجہ ان بچوںکاوزیرستان میں جاری آپریشن کے دوران بمباری، ڈرون حملوں سے ہونے والی تباہی، اپنے گھر سے بے گھر ہونا اور نقل مکانی کرتے وقت متعدد صعوبتیں سہنا ہے۔

جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو نظر انداز کیے جانے کے سبب کراچی میں مستقل طور پر آباد محسود قبائل کے مقامی سماجی رہنماﺅں نے ”متاثرین جنوبی وزیرستان کمیٹی کراچی“ تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کے رکن اورطالبعلم رہنمااسماعیل محسودنے ”ہم شہری“ کو بتایا کہ چند ہفتے قبل کمیٹی کے تحت کراچی میں آئے ہوئے متاثرہ قبائلیوں کو بحالی اورامدادی سرگرمیوں میں نظر انداز کیے جانے کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں متاثرین نے شرکت کی مگر پھر بھی حکومت اور امدادی تنظیموں کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سوات کے متاثرین کی طرح جنوبی وزیرستان کے متاثرین کو بھی آئی ڈی پیز کا درجہ دے کر فوری طور پر ان کی رجسٹریشن شروع کی جائے، ان کی امداد و بحالی کے لیے منصوبے کا اعلان کیا جائے اور متاثرہ قبائلی طلبا کو کراچی کے تعلیمی اداروں میں داخلے دیے جائیں۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive