|
کراچی
کا امن اور سیاسی جماعتوں کا اتحاد خطرے
میں پڑ گیا
صدر
زرداری کے دورہ سے ٹارگٹ کلنگ پر خون آلود
اختلافات کھل کر سامنے آ گئے
سانول
شیخ
صدر
آصف علی زرداری کے دورہ کراچی کے دوران
پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی
موومنٹ کے رہنماﺅں نے صوبے میں آئندہ
بلدیاتی نظام کے مستقبل پر مذاکرات جاری
رکھے لیکن اس دوران شہر میں ہونے والی
ٹارگٹ کلنگ نے صدر آصف علی زرداری کے دورہ
کراچی کو خون آلود کیے رکھا۔ پیپلز پارٹی
اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماﺅں نے صدر
آصف علی زرداری سے ہونے والی پے در پے
ملاقاتوں میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد
کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ
پیپلز پارٹی کی طرف سے بار بار یہ دہرایا
گیا کہ وہ ’مفاہمتی پالیسی‘ پر عمل کر
رہی ہے لیکن سازشی عناصر اس پالیسی کو
کامیاب نہیں ہونے دے رہے جس کی وجہ سے
پیپلز پارٹی اور متحدہ کا اتحاد خطرے میں
پڑ سکتا ہے۔ اس کا کھلا اظہار سندھ اسمبلی
میں دو فروری کو ہونے والے اجلاس کے دوران
اس وقت ہوا جب وزیر داخلہ سندھ سردار
ذوالفقار مرزا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو
گیا اور انہوں نے اسمبلی میں ایک پرجوش
تقریر کر ڈالی۔ اس پر متحدہ قومی موومنٹ
کے ارکان نے اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا۔ سندھ
اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی کے بعد وزیر
اعظم یوسف رضا گیلانی نے متحدہ قومی موومنٹ
کے قائد الطاف حسین سے فون پر رابطہ کیا
اور انہیں مفاہمتی پالیسی جاری رکھنے کا
یقین دلایا جبکہ اس دوران وزیر اعلیٰ سندھ
قائم علی شاہ گورنر عشرت العباد سے ملاقات
کے لیے گورنر ہاﺅس جا پہنچے۔
سندھ
کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا
نے اسمبلی کے اجلاس کے دوران امن و امان
کی صورتحال پر ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے
کہا کہ کراچی میں سوات جیسی صورتحال پیدا
ہو رہی ہے۔ فوج سے درخواست ہے کہ وہ آئے
اور کراچی کو ٹیک اوور کرے۔ ان کا کہنا
تھا ”مفاہمت کی پالیسی کے بغیر تین ماہ
ملتے تو میں بدمعاش سیاستدانوں کو چوراہوں
میں الٹا لٹکا دیتا“۔ ذولفقار مرزا کے
مطابق کراچی میں سیاسی ٹارگٹ کلنگ ہے۔
”میں نے ایک علاقے میں دفعہ 144
لگوائی
تو ٹارگٹ کلنگ دوسرے علاقے میں پھیلا دی
گئی۔ میں ایک ایک رکن پارلیمنٹ کے بارے
میں بتاﺅں گا کہ کون کتنے جرائم پیشہ
لوگوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ صورتحال سے
صدر مملکت، وزیر اعظم، گورنر و وزیر اعلیٰ
سندھ اور پاک افواج کو مطلع کر دیا گیا
ہے“۔ انہوں نے کہا کہ ”اس ایوان کے رکن،
پیپلز پارٹی کے کارکن، پاکستان کے شہری
اور سندھ دھرتی کے غیرت مند بیٹے کی حیثیت
سے میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ امن وامان
میری وجہ سے خراب ہوا، جس کی میں ذمہ داری
قبول کرتا ہوں۔ کاش مفاہمت کی پالیسی کے
بغیر مجھے تین ماہ کا موقع ملتا تو میں
بدمعاش سیاستدانوں کو چوراہوں میں ٹانگ
دیتا اور یہ ٹارگٹ کلنگ اور اندرون سندھ
سیاسی مقاصد کے لیے کرائے گئے جرائم کا
خاتمہ کر دیتا“۔ ذولفقار مرزا نے کہا کہ
”میں خبردار کر رہا ہوں کہ غریب، بھوکے،
مسکین لوگوں کا خون بہانا بند کرو، مارنا
ہے تو مجھے مارو، فٹ پاتھ اور سڑکوں پر
سوئے ہوئے لوگوں کو کیوں مارا جاتا ہے“۔
انہوں نے کہا کہ کوئی رکن قومی اسمبلی یا
رکن صوبائی اسمبلی کیوں نہیں مارا جاتا؟
امن و امان کی صورتحال خراب ہے تو سب کے
لیے ہونی چاہیے۔ صرف غریب لوگ مارے جا رہے
ہیں۔
ڈاکٹر
ذوالفقار مرزا نے اجلاس کی صدارت کرنے
والی ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی سیدہ شہلا
رضا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے
قرآن پر ہاتھ رکھوائیں کہ کوئی براہ راست
یا بالواسطہ جرائم میں ملوث نہیں ہو گا،
اس کے بعد کوئی ایک بندہ مرے تو پھر مجھے
پھانسی دے دی جائے۔ ہم میں سے کوئی بھی
مخلص نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ذرا سا
ڈسپلن لانے کی کوشش کرتے ہیں تو بلیک میلنگ
شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان
میں جمہوریت کو بچانے کے لیے یہ آخری موقع
ہے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اسے قوم
کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے، لیکن
ہم سب سیاسی گنتی میں لگے ہیں جس میں ملک
اور ہم سب کا نقصان ہے۔
محکمہ
داخلہ سندھ نے شہر میںٹارگٹ کلنگ کی روک
تھام کے لیے کراچی کے 26
تھانوں
کی حدود میں رینجرز کوانسداد دہشت گردی
کے خصوصی اختیارات دینے کا نوٹیفیکیشن
جاری کر دیا ہے، جس کے تحت وہ بغیر وارنٹ
اور گرفتاریوں کے چھاپے مار سکتے ہیں۔
رینجرز کو یہ اختیارات ایک ماہ کے لیے دیے
گئے ہیں تاہم اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
اس سے قبل کراچی کے علاقے اورنگی ٹاﺅن،
قصبہ کالونی، بخاری کالونی، نارتھ ناظم
آباد، نیو کراچی بنارس، گلستان جوہر،
زرینہ کالونی، شارع نور جہاں، مجاہد
کالونی اور دیگر میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ
میں 39
سے
زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ابھی تک
ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹارگٹ کلنگ
کا سلسلہ پیر آباد کے علاقے میں یونٹ آفس
کھولنے کے معاملے پر متحدہ قومی موومنٹ
کے مقامی یونٹ انچارج جاوید سرور کے قتل
کے بعد شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی کے
بعد مختلف علاقوں میں فائرنگ کے نتیجے
میں چن چن کر قتل کئے جانے کی وارداتوں سے
شروع ہوا تھا جو ابھی تک تھم نہیں رہا ہے۔
حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ نے اورنگی ٹاﺅن
میں دفعہ 144
کے
تحت علاقہ میں جاری کیے جانے والے اسلحہ
کے تمام لائسنس منسوخ کر دیے۔ اورنگی
ٹاﺅن، قصبہ کالونی اور اطراف کے علاقوں
میں پرتشدد واقعات کے بعد محکمہ داخلہ نے
اس نوٹیفکیشن کے ذریعہ دفعہ 144
کے
تحت اورنگی ٹاﺅن میں ہتھیار لے کر چلنے
پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ جن علاقوں
میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے وہاں شہریوں میں
عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو گےا ہے۔ اورنگی
ٹاﺅن کے داخلی علاقوں قصبہ موڑ، علی گڑھ
کالونی، بخاری کالونی، مسلم آباد سیکٹر
زون اے کے علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ
شروع ہو گیا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق
فائرنگ کے واقعات کے وقت رینجرز اور پولےس
بھی مسلح گروپوں کے سامنے بے بس ہے۔ ہلاک
ہونے والوں میں سے پانچ کا تعلق عوامی
نیشنل پارٹی اور ایک کا ایم کیو ایم سے
بتایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی
شاہ اوروفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے
حکام کوامن و امان کے قیام کے سلسلے میں
ہرممکن اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
عوامی
نیشنل پارٹی سندھ کے صدر و پختون ایکشن
کمیٹی (لویہ
جرگہ)
کے
چیئرمین شاہی سید نے کہا ہے کہ ہم کراچی
کو اسلحہ سے پاک کرنے اور ٹارگٹ کلنگ کے
خاتمہ کے لیے آپریشن کے حق میں ہیں تاہم
اگر آپریشن کسی ایک مخصوص علاقے یا صرف
پختونوں کے خلاف ہوا تو ہم حکومت سے علیحدگی
اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو سڑکوں
پر لاکر بھرپور احتجاج بھی کر سکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیفنس سوسائٹی
میں اپنی رہائش گاہ مردان ہاﺅس میں پریس
کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر جنرل
سیکرٹری امین خٹک، مرکزی لیبر سیکرٹری
رانا گل آفریدی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری بشیر
جان سمیت پختون ایکشن کمیٹی (لویہ
جرگہ)
اور
اے این پی کے عہدہ دار بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ سمیت تمام
سانحات اور کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ
کے 15
ہزار
کارکنوں کے قتل کی بھی اعلیٰ سطحی تحقیقات
ہونی چاہیے اور ان واقعات میں ملوث مجرموں
کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ حالیہ
تمام واقعات میں وہ دہشت گرد ملوث ہیں جو
کراچی میں اپنا مکمل کنٹرول قائم رکھ کر
قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ شاہی سید کا کہنا
تھا کہ مسلم آباد کا علاقہ پختون اور
پنجابی آبادی پر مشتمل ہے جہاں دیگر سیاسی
جماعتوں کے دفاتر بھی موجود ہیں۔ اے این
پی کی جانب سے مسلم آباد نمبر 1
میں
یونٹ آفس کھولا جا رہا تھا جس پر بلاجواز
دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، بعد
ازاں سو کوارٹر ایریا، ای ایریا، کے ایریا،
ایف ایریا، کے علاقوں سے مسلح افراد نے
بے گناہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا شروع
کر دیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس
سلسلے کو بخاری کالونی، مومن آباد اور
اورنگی ٹاﺅن کے علاقوں میں اسی طرح پھیلا
دیا گیا جس طرح 29
اپریل
کے دن پورے کراچی میں بے گناہ پختونوں کو
ہلاک کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور پچاس سے
زائد قیمتی جانیں اور گھروں کے سہارے ختم
ہوئے تھے، جن کے ورثا کو اعلان کے باوجود
آج تک امدادی رقم نہیں ملی۔ ان علاقوں میں
اب تک 18
سے
زائد انسانوں کو ہلاک جبکہ پچاس سے زائد
افراد کو زخمی کیا جا چکا ہے اور لاتعداد
گاڑیوں کو جلایا جا چکا ہے۔ ان میں اکثریت
ان بے گناہ پختونوں کی ہے جو رکشہ یا ٹیکسی
ڈرائیور، فروٹ اور سبزی فروش یا عام راہگیر
تھے۔
شاہی
سید نے کہا کہ ہم جب بھی امن کی بات کرتے
ہیں یا شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مطالبہ
کرتے ہیں تو اچانک سوچے سمجھے منصوبے کے
تحت ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے واقعات
شروع کر دیے جاتے ہیں۔ پولیس خاموش تماشائی
بنی نظر آتی ہے یا پھر کارگردگی کا مظاہرہ
کرنا ہو تو اس کا نزلہ بھی پختونوں پر ہی
گرتا ہے اور شناختی کارڈ کے نام پر بے گناہ
پختونوں کو بند کرنا یہ اپنا اوّلین فرض
سمجھتی ہے۔ رینجرز کے پاس اختیارات نہ
ہونے کی وجہ سے ان کی پوری نفری پہلا فائر
ہوتے ہی علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے
بجائے اپنے ہیڈ کوارٹر جانے کو ترجیح دیتی
ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات میں
تمام ہلاکتیں اور تشدد کے واقعات اردو
بولنے والے اور متحدہ کے علاقوں میں ہوئے
ہیں، اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔ اسلحے
سے بھرے علاقوں خاص طور قصبہ کالونی اور
اورنگی ٹاﺅن میں اسلحے کے برآمدگی کے لیے
آپریشن کیا جائے، ایمبولینس کے ذریعے
اسلحہ کی ترسیل کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں
نے کہا کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کی
آزادانہ سرگرمیوں کو روکے جانے پر حکومت
خاموش تماشائی نہ بنے اور مصلحت سے بالاتر
ہو کر عوام کے جان و مال کے مفاد کی خاطر
اقدامات کو ترجیح دی جائے۔ علاوہ ازیں
پولیس کی جانب سے یکطرفہ طور پر پختونوں
کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔
|