|
طالبان
تحریک کے سربراہ کی ہلاکت کا دعویٰ
جمشید
احمد خان
اتوار
31
جنوری
سے پاکستانی طالبان تحریک کے سربراہ حکیم
اللہ محسود کی ہلاکت کے حوالے سے متضاد
اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ یہ خبر سب سے
پہلے پاکستان ٹیلی ویژن کے اورکزئی ایجنسی
میں مقیم نمائندے کے حوالے سے نشر کی گئی
جس کے بعد پورے ملک کے الیکٹرانک میڈیا
نے کچھ وقت تک اس خبر کو اہم ترین خبر کے
طور پر نشر کیا، تاہم حکومتی ترجمان اور
مسلح افواج کے دفتر تعلقات عامہ (آئی
ایس پی آر)
کی
طرف سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس خبر
کی واضح طور پر تردید کی گئی اور نہ ہی
تصدیق کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان
کاسربراہ 14
جنوری
کے روز جنوبی وزیرستان کے علاقے شکتوئی
میں ایک امریکی ڈرون حملے میں زخمی ہوا
تھا۔ اطلاعات ہیں کہ زخمی حالت میں اسے
اورکزئی ایجنسی کے علاقے مامونزئی لایا
گیا اور اس کے علاج کے لیے طالبان نے ہنگو
کے علاقے سے ایک ڈاکٹر کو بھی اغوا کیا
تھا تاہم اس علاج کے باوجود طالبان کا
سربراہ جانبر نہ ہو سکا اور 26
یا
27
جنوری
کو اسے اورکزئی ایجنسی کے علاقے تاجکہ
میں دفن کر دیا گیا۔
دسمبر
2007ء
میں جب بیت اللہ محسود نے تحریک طالبان
پاکستان کے نام سے اپنا انتہا پسند گروہ
قائم کیا تو حکیم اللہ محسود کو خیبر، کرم
اور اورکزئی ایجنسی کا کمانڈر مقرر کیا
گیا۔ اس دوران اس نے خیبر ایجنسی کے علاقے
سے گزرنے والے اتحادی افواج کے سامان رسد
کے ٹرکوں پر حملے کرنے کا سلسلہ شروع
کردیا۔ اورکزئی ایجنسی اور کرم ایجنسی
میںاسے متعدد ہلاکتوں کا ذمہ دار بھی قرار
دیا جاتا ہے۔ اگست 2009ء
کو بیت اللہ کی ایک امریکی ڈرون حملے میں
ہلاکت کے بعد وہ طالبان تحریک کا سربراہ
بن گیا، اس دوران اس نے ملک بھر خصوصاً
پشاور، لاہور اور اسلام آباد میں دہشت
گردی کے متعدد واقعات کی ذمہ داری قبول
کی جن میں سینکڑوں شہری جاں بحق ہوئے اور
اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔
حکیم
اللہ محسود کی ہلاکت کے بارے میں اگرچہ
اس کے گروہ کے ترجمان کی طرف سے تصدیقی
بیان کا انتظار ہے تاہم حالیہ گذشتہ تین
چار روز کے دوران طالبان ترجمان بھی اس
حوالے سے خاموش ہے۔ بعض طالبان عناصر کی
طرف سے اس اطلاع کی تردید کی گئی ہے لیکن
طالبان کی طرف سے ان کے سربراہ کی ہلاکت
کے حوالے سے ماضی اور حال کے تردیدی بیانات
میں واضح فرق ہے۔
حکیم
اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق اورا س کے
نتیجے میں طالبان تحریک پر پڑنے والے
ممکنہ اثرات کے حوالے سے سابق سیکرٹری
داخلہ سرحد بریگیڈیئر (ر)
محمود
شاہ کا کہنا تھا کہ سرکاری ٹی وی کے مقامی
نمائندے کی خبر کے مطابق حکیم اللہ محسود
کو شکتوئی سے مامونزئی منتقل کیا گیا تھا
جہاں اسے اس کی دوسری بیوی کے والدین کے
گھر رکھا گیا تھا۔ اس دوران لوگ بڑی تعداد
میں اس کو دیکھنے کے لیے اس کے سسر کے گھر
آتے رہے۔ تصدیق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے
بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ حکیم اللہ
محسود ماضی میں بھی ایسی خبروں کی تردید
کے لیے خود میڈیا کے سامنے بیان دیتا رہا
ہے تاہم اس بار اس کی طرف سے کوئی تردیدی
بیان اب تک سامنے نہیں آیا جس کو دیکھتے
ہوئے اس بات کا امکان بڑھ چکا ہے کہ اس کی
ہلاکت ہو چکی ہے۔ بریگیڈیئر محمود شاہ کے
مطابق طالبان تحریک مکمل طور پر شکست و
ریخت کا شکار ہے اور اب طالبان فرار کی
راہ تلاش کر رہے ہیں۔ ایک سوال کا جواب
دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ
محسود کی ہلاکت کا دہشت گردی کے خلاف جنگ
پر گہرا اثر پڑے گا جس کے بعد شمالی وزیرستان
میں ایک بڑے آپریشن کی ضرورت ہو گی تاکہ
باقی ماندہ طالبان تحریک کو بھی کچل دیا
جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن
سے پہلے فاٹا کے دیگر علاقوں خاص طور پر
مہمند، باجوڑ اور خیبر ایجنسی کے قبائلی
علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنا ہوں گے۔
حکیم اللہ محسود کی خفیہ تدفین کے بارے
میں بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر
محمود شاہ کا کہنا تھا کہ اسے شکتوئی
(جنوبی
وزیرستان)
سے
مامونزئی، تاجکہ (اورکزئی
ایجنسی)
تک
لانا اور یہاں اس کی انتہائی خفیہ تدفین
ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان علاقوں میں
تاحال حکومتی رٹ بحال نہیں ہو سکی۔ سابق
سفارت کار رستم شاہ مہمند نے حکیم اللہ
محسود کی ہلاکت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے
کہا کہ اگر واقعی طالبان تحریک کا سربراہ
ہلاک ہو چکا ہے تو اس کا منفی اثر طالبان
کی کارروائیوں پر پڑے گا۔ تاہم ان کا کہنا
تھا کہ زخمی حالت میں اس کی شکتوئی سے
مامونزئی کے علاقے میں منتقلی واضح طور
پر سکیورٹی فورسز اور دیگر ذمہ داران کی
کاکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ اس
علاقے تک پہنچنے کے لیے ضلع کوہاٹ کے بیشتر
علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ مستقبل میں ان
علاقوں کے اندر حکومتی عملداری کے حوالے
سے رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ حکومت
کو ان علاقوں میں بااثر افراد کو اعتماد
میں لے کر موبلائزیشن کی تحریک چلانا ہو
گی تاکہ یہاں لوگوں کی سوچ میں تبدیلی
لائی جا سکے۔
|