03/09/2010
 
 
   
 
 
  ناظمین کا نئے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج
 

ناظمین کا نئے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج

پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی بِل 2010ء نامنظور، حکومت فوری الیکشن شیڈول کا اعلان کرے

وقاص عظیم

پنجاب کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (نواز) اور پیپلز پارٹی نے صوبہ میں مقامی حکومتوں کے نظام کے مستقبل کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے بلدیات اور پنجاب کابینہ نے ”پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2010ء“ کی منظوری دیتے ہوئے اس کی سمری وزیر اعلیٰ کو بھجوا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ سے منظوری کے بعد چیف سیکرٹری صوبہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو تحلیل اور ناظمین کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کے احکامات جاری کریں گے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2010ء کے خلاف مسلم لیگ (قائد) اور ناظمین نے احتجاج کرتے ہوئے اسے موجودہ نظام کے خلاف سازش قرار دیا ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2010ء کے مطابق حکومت پنجاب آئندہ چھ ماہ کے دوران صوبہ میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا اعلان کرے گی۔ یہ انتخابات ”پنجاب الیکشن ریگولیٹری اتھارٹی“ کے زیر نگرانی ہوں گے جس کا سربراہ ہائی کورٹ کا ایک جج ہو گا جبکہ اس کے کم از کم دو ارکان 20ویں گریڈ کے سرکاری افسران ہوں گے۔ نئے بل کے تحت ضلعی ناظمین کی جگہ ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن افسر کو بطور ایڈمنسٹریٹرز تعینات کیا جائے گا۔

قومی تعمیر نو بیورو کے سابق چیئر مین دانیال عزیز نے لاہور میں ضلعی ناظمین کے دو روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کی دعویدار دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ناظمین کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز تعینات کر کے آئین کے آرٹیکل 140-A اور 32 کی خلاف ورزی کی ہے جس کے مطابق حکومت کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ بلدیاتی نظام حکومت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سیاسی، انتظامی اور مالی معاملات کے اختیارت عوامی نمائندوں کے سپرد کرے گی۔ دانیال عزیز کے مطابق مسلم لیگ (نواز) اور پیپلز پارٹی نے لندن میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی کی ہے۔ میثاق جمہوریت کے تحت دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ وہ ملک میں آئندہ آ زاد اور غیر جانبدار ”الیکشن کمیشن آف پاکستان“ کے ذریعے شفاف انتخابات کرائیں گی تا ہم صوبہ پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) نے میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے ”پنجاب الیکشن ریگولیٹری اتھارٹی“ کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے تاہم پنجاب الیکشن ریگولیٹری اتھارٹی مکمل طور پر صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہو گی۔ حکومت اپنی مرضی کے مطابق اس کے سربراہ اور ارکان کو تعینات اور برخاست کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ گذشتہ برس اکتوبر تک مسلم لیگ (نواز) نے پنجاب الیکشن ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ اور ارکان کی اہلیت اور مدت ملازمت بارے کسی قسم کے قواعد و ضوابط طے نہیں کیے تھے۔ دانیال عزیز کے بقول ان حالات میں کس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں آئندہ چھ ماہ کے دوران شفاف بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل میں صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے 180 دن یعنی چھ ماہ کا وقت مانگا ہے جس کے دوران اس نے اس نظام کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے مختلف ”سٹیک ہولڈرز“ کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دانیال عزیز کے بقول صوبائی حکومت کے اس مؤقف سے حکمرانوں کی بد نیتی کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ اس نظام کو جاری رکھنے کے حق میں بالکل نہیں ہیں کیونکہ ابھی تک انہوں نے بلدیاتی نظام کے متعلق کوئی ہوم ورک ہی نہیں کیا۔

پنجاب لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2010ء کے مطابق ہر ضلع میں شہری اور دیہی یونین کونسلوں کو 1979ء کے قانون کی طرح ایک مرتبہ پھر تشکیل دیا گیا ہے۔ تحصیل ناظم لودھراں اصغر شاہ گیلانی کا کہنا ہے کہ ایک ضلع کو شہری اور دیہی یونین کونسلوں میں تقسیم کرنے سے اس بات کا امکان ہے کہ دیہی علاقے ترقی سے محروم رہ جائیں گے کیونکہ دنیا بھر میں شہریوں میں آبادی کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ برسوں کے دوران پاکستان میں بھی اس رجحان میں اضافہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2001ء کے مقامی حکومتوں کے نظام کی وجہ سے شہری اور دیہی یونین کونسلوں کا فرق ختم کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے تمام علاقوں کو یکساں ترقی کرنے کا موقع میسر آرہا تھا۔ مجوزہ قانون کے مطابق شہری اور دیہی یونین کونسلوں میں ترقی کا واضح فرق نظر آئے گا۔دوسری جانب مخالفین یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ 2001ء کے مقامی حکومتوں کے نظام کے مسودے میں تو دیہی اور شہری یونین کونسلوں کا خا تمہ کر دیا گیا تھا تاہم حقائق اس کے بر عکس تھے۔ بیشتر اضلاع میں تما م یونین کونسلوں کو مساوی فنڈز فراہم نہیں کیے جاتے تھے جبکہ شہری اور دیہی تقسیم کے نا م نہاد خاتمے کی وجہ سے شہری علاقے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ تحصیل ناظم لودھراں اصغر شاہ گیلانی کے مطابق ترمیمی بل 2010ء میں جنرل کونسلرز اور خواتین کی نمائندگی کو کم کر دیا گیا ہے۔ 2001ء میں جنرل کونسلرز کی تعداد آٹھ تھی جسے اب تین کر دیا گیا ہے اور خواتین کی چار نشستوں کو کم کر کے ایک کر دیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے مجوزہ بلدیاتی نظام کے تحت ہر ضلع میں تین حکومتیں متوازی کام کریں گی جن میں بیورو کریسی کے ذریعے حکومت، شہری حکومت اور دیہی حکومت شامل ہیں۔ ضلع ناظم خانیوال سردار احمد یار ہراج نے صوبائی حکومت کے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 2001ء کا بلدیاتی نظام ملک بھر میں خاموش انقلاب لایا تھا۔ اس نظام کی وجہ سے اختیارات نچلی سطح تک عوامی نمائندوں تک منتقل ہوئے تھے اور ملک بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام مکمل کرائے گئے تھے۔ صوبائی حکومت نے ضلعی ناظمین پر کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں بد نام کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے ۔ نئے نظام کے تحت ایک مرتبہ پھر اختیارات عوامی نمائندوں سے چھین کر بیورو کریسی کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ احمد یار ہراج کے مطابق صوبائی حکومت نے مالی بے ضابطگیوں کو روکنے کا جواز ڈھونڈتے ہوئے ضلعی محکمہ خزانہ کو ختم کر دیا ہے اور اب صوبائی مالیاتی کمیشن کی جگہ لوکل گورنمنٹ گرانٹ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو کہ مکمل طور پر صوبائی حکومت کی صوابدید پر ہو گی۔نئے نظام میں ہر ضلع کا ڈسٹرکٹ کو آرڈی نیشن افسر جہاں ایک ایڈمنسٹریٹر کے فرائض سر انجام دے گا وہیں وہ ناظمین کے بعد تمام یونین کونسلوں کے ترقیاتی منصوبوں اور ان کی گرانٹس کی منظوری بھی دے گا۔

مقامی حکومتوں کے نظام کی سب سے بڑی حامی مسلم لیگ (قائد) نے اس نظام کو بچانے کے لیے تاحال کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں اپنایا تاہم (قائد) لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی سردار محسن لغاری نے اپنی جماعت کی طرف سے اسمبلی میں پیش کیے گئے مجوزہ ترمیمی بل کی چند شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ چودھری پرویز الٰہی پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ (نواز) کی دیوالیہ حکومت ضلعی حکومتوں کے فنڈز کو غیر ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب ضلعی ناظمین نے صوبائی حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اس کی خرابیوں کو دور کرے اور فوری طورپرنئے بلدیاتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرے۔

 
  تبصرہ
امیل
نام
جگھ
تبصرہ
 
 
 
   
C O N T E N T S مکمل فہرست
کورسٹوری نیشنل
کالم رپورٹ
انٹرویو فیچر
خصوصی کالم شاعری
فیشن ھالی ووڈ
بک ریویو میوزک
آرٹ انفوسائنس
خواتین کارنر فلم ریویو
اداریہ کارٹون
ہفتہ رفتہ ان باکس
نقطہ نظر اشتہار
بالی ووڈ
   
 
  Terms & Conditions   Disclaimer   Archive