|
بلدیاتی
نظام کی تبدیلی کا جواز؟
روشن
لعل
سابق
حکومت کے رائج کردہ بلدیاتی نظام کی تبدیلی
کا عمل اس وقت تمام صوبوں میں جاری ہے۔
ملک کے چاروں صوبوں میں موجود مختلف سیاسی
جماعتوں کے اتحادیوں پر مشتمل حکومتیں
ان دنوں ایک یکساں سیاسی عمل میں مصروف
ہیں۔ یہ عمل بلدیاتی نظام میں کی جانے
والی ممکنہ تبدیلیوں سے تعلق رکھتا ہے۔
چاروں صوبوں میں جاری و ساری یہ یکساں عمل
دراصل شہری حکومتوں کے نظام کی اس یکسانیت
کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جو پرویز
مشرف کے جاری کردہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس
2001ء
کے نفاذ کا حصہ تھی۔
صوبائی
حکومتوں کی طرف سے شہری و ضلعی حکومتوں
کے نظام میں تبدیلیاں لانے کے عمل کا آغاز
اس وقت شروع ہوا جب سال 2009ء
اور 2010ء
کی درمیانی رات کو صدر آصف علی زرداری نے
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر
آئین کے چھٹے شیڈول سے چاروں صوبوں کے لیے
علیحدہ علیحدہ موجود لوکل گورنمنٹ آرڈیننس
ختم کر دیے۔ ان آرڈی نینسوں کے خاتمے کے
بعد چاروں صوبائی حکومتوں کو داخلی طور
پر اپنے لیے اپنی منشا کے مطابق علیحدہ
اور مختلف بلدیاتی نظام تشکیل دینے کی
آزادی حاصل ہو گی۔
31
دسمبر
2009ء
کے بعد کی صورت حال یہ ہے کہ ضلعی، تحصیل
اور یونین کونسل کی سطح پر منتخب ناظمین
کو ان کے عہدوں کی میعاد پوری ہونے کے بعد
گھر بھیج دیا گیا ہے اور ان کی جگہ
ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ان ایڈمنسٹریٹروں کے متعلق کہا گیا ہے کہ
آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد تک یہ
اپنے عہدوں پر کام کرتے رہیں گے۔ آئندہ
بلدیاتی انتخابات کے لیے صوبائی حکومتوں
نے تین سے چھ ماہ کا وقت دیا ہے اور کہا ہے
کہ اس دوران نئے بلدیاتی نظام کے لیے قانون
سازی کر لی جائے گی۔ چاروں صوبے اس وقت
اپنے لیے کسی بھی طرز کا بلدیاتی نظام
تشکیل دینے کا مکمل اختیارر کھتے ہیں۔ اس
سلسلے میں اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ
آئندہ بلدیاتی نظام کی تشکیل کے لیے صوبائی
حکمرانوں کی ترجیح 2001ء
میں پرویز مشرف کا بنایا گیا شہری وضلعی
حکومتوں کا ماڈل نہیں بلکہ ضیا الحق کی
طرف سے 1979ء
میں دیا گیا بلدیاتی نظام ہے۔
ابھی
تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ شہری و ضلعی
حکومتوں پر مبنی موجودہ بلدیاتی نظام کی
تبدیلی کی حقیقی وجہ اور جواز کیا ہے۔ جب
تک یہ بات سامنے نہیں آئی تھی کہ صوبائی
حکمرانوں کی ترجیح 1979ء
کے لوکل گورنمنٹ آرڈی ننس کے تحت قائم
ہونے والا بلدیاتی نظام ہے اس وقت تک یہ
بات بہت زور و شور سے کہی جا رہی تھی کہ
لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء
کے تحت قائم بلدیاتی نظام کیونکہ فوجی
آمر جنرل پرویز مشرف کا قائم کردہ ہے اس
لیے اسے ایک آمر کی باقیات سمجھ کر ختم کر
دینا چاہیے۔ 1979ء
کا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کیونکہ ایک زیادہ
جابر فوجی آمر ضیا الحق کا جاری کردہ تھا
اس لیے اسے قابل ترجیح سمجھنے والوں کے
لیے اب یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ کہہ سکیں
کہ انہوں نے شہری حکومتوں کے نظام کو فوجی
آمرپرویز مشرف کا نظام سمجھ کر مسترد کر
دیا۔ مروجہ بلدیاتی نظام کے خاتمے کے لیے
اگر یہ وجہ بھی واجب نہیں کہ یہ ایک آمر
کا وضع کردہ نظام تھا تو پھر آخر کیا وجہ
ہے کہ صوبائی حکومتیں ایک ایسے نظام کو
ختم کرنے کے درپے ہیں جس سے عام عورتوں کی
کثیر تعداد کو عوام کی نمائندگی کا حق
ملا۔ مزدوروں اور کسانوں کو اپنے علیحدہ
نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا گیا۔ پہلی
مرتبہ ضلع اور یونین کونسل کے ساتھ تحصیل
کی سطح پر بھی عوام کو اپنے نمائندوں کے
انتخاب کا حق ملا۔ یونین کونسل کی شکل میں
عام آدمی کے لیے اپنے علاقے میں ایک ایسے
ادارے تک رسائی ممکن ہوئی جس کی کارکردگی
پر وہ براہ راست نظر رکھ سکتا ہو۔ جس کا
حصہ بننے کا اس کے پاس بھر پور موقع ہو اور
جو عام آدمی کی جمہوری تربیت کا سامان
پیدا کرتا ہو۔ مروجہ بلدیاتی نظام کے
خاتمہ کی ممکنہ وجہ کا تجزیہ کرنے سے پہلے
یہ جاننا ضروری ہے کہ بلدیاتی نظام برصغیر
میں کیسے معرض وجود میں آیا، پاکستان میں
یہ کس وجہ سے اور کس شکل میں قائم ہوا اور
ارتقائی عمل کے دوران موجودہ شہری و ضلعی
حکومتوں کی شکل میں اس کی تشکیل کیا حقیقتاً
غیر واجب ہے؟
برصغیر
میں میونسپلٹی یا بلدیاتی نظام کا آغاز
ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1688ء
میں مدارس شہر کی صفائی کے لیے انتظامی
باڈی تشکیل دے کر کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی
نے 1842ء
میں کنزروینسی (Conservancy)
ایکٹ
کے نفاذ کے ذریعے مدارس کے علاوہ بنگال
میں بھی ایسی سینٹری کمیٹیاں قائم کیں جن
کے ذمے صفائی کے علاوہ شہر سے کوڑا کرکٹ
اٹھانے کا کام بھی تھا۔ اس وقت پاکستان
میں موجود علاقوں میں سے کراچی وہ پہلا
شہر تھا جہاں 1867ء
میں انگریزوں نے کنزورینسی (Conservancy)
ایکٹ
کا نفاذ کیا۔ یہ ایکٹ بعد میں 1867ء
تک لاہور اور راولپنڈی میں بھی نافذ کر
دیا گیا۔ 1882ء
میں انگریزوں نے برصغیر میں سینٹری کمیٹیوں
میں کچھ منتخب نمائندوں کی شمولیت کا نظام
متعارف کرایا۔ 1907ء
میں ایک کمیشن کی سفارشات کے تحت کسی
سرکاری افسر کو میونسپل کمیٹی کا چیئر
مین بنانے کی بجائے کسی غیر سرکاری فرد
کو چیئر مین نامزد کرنے کا آغاز ہوا۔ 1935ء
کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت مرکز کی
بجائے صوبوں کو لوکل گورنمنٹ کا نظام
تشکیل کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔
قیام
پاکستان کے بعد کراچی کے علاوہ جن علاقوںمیں
لوکل گورنمنٹ سسٹم کچھ بہترشکل میں موجود
تھا۔ وہ زیادہ تر پنجاب میں تھے۔ ان علاقوں
کے بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب بالغ رائے
دہی کی بنیاد پر عمل میں نہیں آیا تھا۔ ان
اداروں کا بجٹ اور دوسرے امور کی انجام
دہی زیادہ تر افسر شاہی کے ہاتھ میں تھی۔
اس نظام کو ایوب خان نے مارشل لاءنافذ
کرنے کے بعد1959ء
کے بنیادی جمہورتیوں کے آرڈیننس کے ذریعے
ختم کیا۔ ایوب خان کے مستعفی ہونے کے بعد
اس کا قائم کردہ بنیادی جمہورتیوں کا نظام
اور اس کے ذریعے سیاست کرنے والے لوگ بھی
غیر مؤثر ہو گئے۔ 1970ء
کے عام انتخابات اور بنگلہ دیش کی علیحدگی
کے بعد پاکستان میں قائم ہونے والی حکومت
نے نئے بلدیاتی نظام کی تشکیل کے لیے لوکل
گورنمنٹ آرڈیننس 1975ء
جاری کیا لیکن اس پر کبھی عمل در آمد نہ
ہو سکا۔ 1977ء
میں ضیا الحق نے جب مارشل لاءنافذ کرنے
کے بعد عام انتخابات کروانے کے اپنے وعدوں
سے راہ فرار اختیار کی تو اس نے بھی لوکل
گورنمنٹ آرڈیننس 1979ء
کے تحت ایوب خان کی طرح بلدیاتی انتخابات
منعقد کروا کر ان میں منتخب ہونے والے
لوگوں کو اپنے کارندوں کی طرح استعمال
کیا۔ضیا الحق کا وضع کردہ یہ لوکل گورنمنٹ
آرڈیننس کچھ ترامیم کے ساتھ 14
اگست
2001ء
تک نافذ العمل رہا۔ 14
اگست
2001ء
کے بعد پرویز مشرف نے قومی تعمیر نو بیورو
کے اس وقت کے چیئر مین جنرل (ر)
تنویر
نقوی کا تشکیل کردہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس
2001ء
نافذ کیا۔ اس آرڈیننس کے تحت اگست 2001ء
میں شہری و ضلعی حکومتوں کے قیام کے لیے
پہلے بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔ شہری
حکومتوں پر مبنی بلدیاتی نظام کو اختیارات
کی نچلی سطح پر منتقلی کا نام دیا گیا۔ اس
نظام کی تشکیل کے وقت بہت بلند و بانگ دعوے
کیے گئے کہ اس کے نفاذ سے اختیارات کا مرکز
میں ارتکاز ممکن نہیں رہے گا۔ انتظامی
امور پر مرکز کی اجارہ داری کا خاتمہ ہو
گا۔ اوپر سے نیچے تک وسائل کی تقسیم میں
توازن پیدا کیا جائے گا اور نئے سماجی
رشتے استوار ہوں گے۔ یہ تمام دعوے اس وقت
دھرے کے دھرے رہ گئے جب پرویز مشرف نے بھی
دو سابق فوجی آمروں کی طرح اپنے وضع کردہ
بلدیاتی نظام کو اپنے اقتدار کو طول دینے
اور شہری و ضلعی حکومتوں کے منتخب اداروں
کو اپنا حلقہ انتخاب بنانے کی کوشش کی۔
اگر
بلدیاتی اداروں کی قیام پاکستان کے بعد
کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے
آتی ہے ۔ یہاں بلدیاتی نظام قائم کرنے کے
پیچھے فوجی حکمرانوں کی مثبت نہیں بلکہ
منفی سوچ کار فرما تھی۔ اس بات کو تاریخ
کا جبر کہا جائے یا ارتقا کی برکت کہ ہمارے
ملک کے فوجی آمروں کے پاس اپنی آمریت قائم
رکھنے کے لیے جو ہتھیار دستیاب تھے وہ
زمانہ قدیم کے جبر کے ہتھکنڈے نہیں بلکہ
وہ سیاسی آلات تھے جن کا ظہور عوام کو حقوق
سے محروم رکھنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں
حقوق دینے کی ضرورت کے تحت ہوا تھا۔ آمروں
نے اپنے جاری کردہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننسوں
کوسیاسی آلے کے طور پر مثبت نہیں بلکہ
مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ جدید
دور کے سیاسی آلات کے مثبت پہلوﺅں کو دفن
کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس حوالے
سے اگر جنرل (ر)
پرویز
مشرف کے قائم کردہ شہری حکومتوں کے نظام
کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اپنی
تمام تر آمرانہ خواہشوں کے باوجود اسے
تبدیل شدہ دور میں اپنے پیش رو آمروں سے
مختلف اور بہتر بلدیاتی نظام وضع کرنا
پڑا۔
پرویز
مشرف کے بنائے گئے شہری حکومتوں کے نظام
پر اب تک جو تنقید ہوتی رہی وہ زیادہ تر
یہ نہیں تھی کہ یہ نظام غلط ہے بلکہ یہ تھی
کہ پرویز مشرف نے اپنے مخصوص مقاصد کی وجہ
سے اس نظام پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں
کیا۔
اس
وقت اگر تمام صوبائی حکومتیں شہری حکومتوں
کے نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں تو یہ بات
اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ ابھی تک کوئی
ایسا جواز سامنے نہیں آ سکا جس سے یہ واضح
ہو کہ یہ نظام برا کیوں ہے اور اسے کیوں
ختم کر دینا چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی،
مسلم لیگ (نواز)
اور
عوامی نیشنل پارٹی (اے
این پی)
وہ
جماعتیں ہیں جو ہر حال میں ضلعی حکومتوں
کے نظام کو لپیٹ کر ان کی جگہ ضیا الحق کا
1979ء
کا وضع کردہ بلدیاتی نظام نافذ کرنا چاہتی
ہیں۔ مذکورہ تینوں جماعتوں میں سے شہری
حکومتوں کے نظام کے حوالے سے پیپلز پارٹی
کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر
موجود ہے کہ جب پرویز مشرف نے 2001ء
میں شہری وضلعی حکومتوں پر مبنی لوکل
گورنمنٹ آرڈیننس جاری کیا تھا اس وقت
پیپلز پارٹی کے قائدین نے یہ کہا تھا کہ
شہری حکومتوں کا تصور مشرف نے ان کے 1993ء
میں پیش کردہ انتخابی منشور سے مستعار
لیا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی یہ بات کس حد
تک سچ تھی اس کا اندازہ ان کے منشور میں
تجویز کیے گئے بلدیاتی نظام کے خاکے کوپڑھ
کر ہو جائے گا۔ جو کچھ اس طرح ہے”بوسیدہ
سماجی نظام کے مقابلہ میں اور سماجی او ر
معاشرتی نظام کی اس بگڑتی ہوئی صورت حال
کے پیش نظر پاکستان پیپلز پارٹی نے نئے
سماجی معاہدے کے نظام کو متعارف کرایا ہے
جو کہ طاقت میں توازن پیدا کرے گا اور ایک
ایسا نظام رائج کرے گا جس میں عوام کے حقوق
کو غصب نہیں کیا جائے گا۔ نئے سماجی معاہدے
کے نظام کو رائج کرنے کا مقصد یہ ہے کہ
وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں میں
اختیارات کو ازسر نو تقسیم کیا جائے گا
تا کہ حکومت کو زیادہ مؤثر
اور عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے
زیادہ اختیارات حاصل ہوں۔ ایک بالکل نیا
اور مؤثر نظام جس میں
تھانیدار، جاگیردار اور استحصال کرنے
والے کی اجارہ داری کے خاتمے کی ضمانت
ہوگی۔ ایک ایسا نظام جس میں مظلوم اور
کچلے ہوئے استحصال زدہ عوام کو تحفظ فراہم
کیا جائے گا۔ آج کل بلدیاتی ادارے بد
عنوانی کے گندے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔ ترقیاتی
رقوم خورد برد کی جا رہی ہیں، اشیائے
خوردنی میں ملاوٹ ایک کاروبار بن چکا ہے،
عام شہری پریشان اور مایوس ہے، اب ایسا
نہیں ہو سکے گا، حکومت عوام کی دہلیز پر
ہو گی۔ نئے سماجی معاہدے کے نظام کے ذریعے
بلدیاتی اداروں کی از سر نو تشکیل کی جائے
گی۔ ڈویژنوں کو بتدریج ختم کر دیا جائے
گا اور دیہی علاقوں میں حکومت کو نچلی سطح
سے متعارف کرا کے براہ راست حکومت کا قیام
عمل میں لایا جائے گا۔ ہم ضلعی مقننہ کے
ذریعے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو
مؤثر بنائیں گے۔ ضلعی
کونسلر اپنا ایک قائد ایوان منتخب کریں
گے جو گورنر کہلائے گا اورصوبے کا گورنر
گورنر جنرل کہلائے گا۔ گورنر ایک کابینہ
بنائے گا تا کہ شہری اپنے منتخب نمائندوں
کے ذریعے ان محکموں کا احتساب کر سکیں۔
ڈپٹی کمشنر ضلعی حکومت کا سیکرٹری ہو گا
جس طرح صوبے کا چیف سیکرٹری ہوتا ہے۔
کابینہ مندرجہ ذیل اراکین پر مشتمل ہو
گی۔
وزیر
قانون اس بات کا ذمہ دار ہو گا کہ اس کے
ضلع میں عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی
سرگرمی سے پیروی کی جائے اور انصاف کے
حصول کو آسان بنایا جائے، وزیر برائے
پولیس امور، پولیس کی کارکردگی کا ذمہ
دار ہو گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا
کہ کسی بے گناہ کو نا جائز مقدمات بنا کر
حوالات میں نہ ڈالا جائے اور چور ڈاکو کو
آزاد نہ گھوم سکیں، وزیر خزانہ اپنے ضلع
کے بجٹ، اخراجات اور تمام حسابات کا ذمہ
دار ہو گا، وزیر برائے منصوبہ بندی آبادی
ضلع میں ماں اور بچے کے کلینک کی دیکھ بھال
کرے گا، وزیر برائے زکوٰاة اس بات کا خیال
رکھے گا کہ زکوٰاة فنڈ کی رقم خورد برد نہ
ہونے پائے، وزیر آب پاشی اس بات کا خیال
رکھیں کہ کھیتی باڑی درست ہو رہی ہے اور
نہروں کی صفائی کی نگرانی کرے گا، وزیر
برائے انسداد رشوت و بد عنوانی کی ذمہ
داری اشیائے خوردنی میں ملاوٹ سے متعلق
شکایات کی چھان بین ہو گی اور وہ ان کا
ازالہ کرے گا، وزیر صحت اس بات کو ممکن
بنائے گا کہ اس کے ضلع میں واقع ہسپتال
صحیح طور پر کام کر رہے ہیں، وزیر تعلیم
اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کے ضلع میں
واقع اسکول قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے
ہوئے کام کر رہے ہیں، وزیر برائے عشر، عشر
کی رقوم کی وصولیابی کو مؤ
ثر بنائے گا اور اس کی دیکھ بھال کرے گا،
ضلع میں ایک ٹاسک فورس کا قیام عمل میں
لایا جائے گا، جو یہ دیکھے گی کہ ضلع کے
خود مختار بن جانے کے بعد ایسی زیادتیوں
کا ازالہ ہو سکے جن کا ارتکاب سرکاری
افسروں یا وزرا کی طرف سے کیا جائے۔ بیورو
کریسی (نوکر
شاہی)
کی
حوصلہ افزائی کی جائے گی تا کہ وہ اپنا
کام حوصلہ اور جرأت مندانہ
طریقے سے سول سروس رولز کے تحت کرنے میں
آزاد ہوں۔ اگر کسی سرکاری افسر اور وزیر
کے درمیان کسی مسئلہ پر اختلاف رائے پایا
جائے گا تو اس مسئلہ کو گورنر کے پاس بھیجا
جائے گا۔ تمام کونسلر اور سرکاری ملازمین
کو اپنے اپنے اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔ جو
افسر یا وزراقرضوں کی معافی کے لیے اپنے
اختیارات کا ناجائز استعمال کریں گے یا
اپنے بقایا جات ادا نہیں کریں گے ان کو نا
اہل قرار دیا جائے گا۔“
1993ء
میں پیپلز پارٹی کے وضع کردہ بلدیاتی نظام
کے خاکے کو جاننے کے بعد یہ بات بہت واضح
ہو جاتی ہے کہ پیپلز پارٹی اگر موجودہ
بلدیاتی نظام کو تبدیل کر کے ضیا الحق کے
وضع کردہ اصولوں کے مطابق بلدیاتی نظام
قائم کرنا چاہتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے
کہ وہ اپنی کہی ہوئی باتوں سے منحرف ہو
رہی ہے۔
پیپلز
پارٹی سمیت جو بھی سیاسی جماعتیں اس وقت
موجودہ بلدیاتی نظام کو ختم کرنا چاہتی
ہیں ان کے بارے میں یہ بات کہی جا رہی ہے
وہ محمد خاں جونیجو کے پانچ نکاتی پروگرام،
نواز شریف کے تعمیر وطن پروگرام یاپیپلز
پارٹی کے پیپلز ورکس پروگرام کی طرح کا
کوئی پروگرام شروع کر کے اپنے ممبران
صوبائی و قومی اسمبلی کو قانون سازی کی
بجائے نالیوں گلیوں کی تعمیر و مرمت تک
محدود رکھنا چاہتی ہیں جو شہری و ضلعی
حکومتوں کے ناظموں اور کونسلروں کی موجودگی
میں ممکن نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے انحطاط
پذیر سیاسی و سماجی ڈھانچے کو مزید شکست
و ریخت سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں
شہری و ضلعی حکومتوں کاایسا نظام قائم و
موجود رہنا چاہیے جو نچلی سطح پر عام آدمی
کی سیاسی تربیت کا سامان پیدا کر سکے۔ جس
سے ملک میں مجموعی طور پر سیاسی شعور
بتدریج ارتقا ممکن ہو سکے گا۔
|