|
جیل
خانہ جات
تہہ
در تہہ مسائل اور جرائم میں اصلاح حوال
کا سوال
عون
علی
جیل
خانہ جات کا فرسودہ اور غیر منصفانہ
نظام،پولیس اور جیل اہلکاروں کی کرپشن،سیاسی
مداخلت اور نظام عدل کی سست روی کے باعث
ملک میں جیلوں کی صورتحال خاصی تشویش ناک
صورت اختیار کر چکی ہے ۔گذشتہ کچھ عرصے
کے دوران جیلوں میں قیدیوں کے ہنگامے،
ہلاکتیں ، جیلوں میں منشیات کے استعمال،
اسلحے کی فراہمی اور جیلوں میں بیٹھ کر
جرائم کی سر پرستی جیسے متعدد ایسے گھناؤنے
واقعات ہو تے رہے ہیں جن کا بظاہر جو بھی
سبب قرار دیا جائے ، در حقیقت وہ واقعات
کرپشن اور ادارہ جاتی نا اہلی کی نشاندہی
کرتے ہیں۔ 30
جنوری
کو سنٹرل جیل فیصل آباد میں ہنگامہ آرائی
کا واقعہ پیش آیا، اس سے قبل 2008ء
اور 2009ء
کے دوران سندھ میں خیر پور، میر پور خاص،
سکھر، حیدرآباد اور کراچی کی جیلوں میں
بھی قیدیوں کی طرف سے ہنگامہ آرائی کے
متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔
25
جولائی
2003ء
کا واقعہ ہے کہ اس وقت کے سیشن جج سیالکوٹ
ظفر حسین کی قیادت میں ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ
کے دورے پر آئے سول ججوں کو قیدیوں نے جیل
میںمحبوس کر لیا جبکہ سیشن جج نے جیل
سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں چھپ کر جان
بچائی۔بتایا جاتا ہے کہ قیدیوں کے پاس
اسلحہ بھی تھا بعد ازاں قیدیوں اور پولیس
اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں
سول جج صغیر احمد، آصف محمود چیمہ ، شاہد
منیر رانجھا اور شہریار بخاری جاں بحق
اور دو سول جج سبطین رضا اور جاوید اقبال
شدید زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ججوں
کو اغوا کرنے والے مجرموں نے کوئلے کی
بوریوں میں اسلحہ جیل میں منگوایا تھا۔
اگلے روز سنٹرل جیل فیصل آباد میں ہنگامہ
آرائی کا واقعہ ہوا تو اسی جیل کے قیدیوں
نے فون پر ذرائع ابلاغ کو اس حوالے سے
اطلاعات دیں اور کم و بیش دو روز تک جیل
سے قیدیوں کی فون کالز نجی ٹی وی چینلز کے
خبر ناموں میں نشر کی جاتی رہیں۔ واضح رہے
کہ جیل کے ضابطے کے مطابق قیدیوں کے لیے
جیل میں آنے والی ہر چیز کو کم و بیش پانچ
مختلف جگہوں پر تلاشی کے عمل سے گزرنا
پڑتا ہے اس کے باوجود اگر جیل میں منشیات،
موبائل فون اور اسلحہ پہنچتا ہے تو اس کی
بنیادی وجہ جیل خانہ جات کے عملے کی کرپشن
ہی ہو سکتی ہے۔ 25
جولائی
2003ء
کو سیالکوٹ جیل میں مجرموں کے ہاتھوں
اعلیٰ سرکاری افسران کی ہلاکت کا واقعہ
بھی بلاشبہ اسی کرپشن کا شاخسانہ تھا جو
جیل خانہ جات کے نظام میں گہرائی تک سرایت
کر چکی ہے۔
جیل
کی دنیا کے مسائل گوناں گوں ہیں اور ہر
مسئلے کی تہہ میں کئی مسائل پوشیدہ ہیں۔
جیلوں کی تعداد ،گنجائش اور قیدیوں کی
تعداد ہی پر غور کریں،اس وقت ملک میں 97
جیلیں
ہیں جہاں 42167
قیدی
رکھنے کی گنجائش ہے تاہم ان میں 87
ہزار
سے زائد قیدیوں کو ٹھونسا گیا ہے، ان حالات
میں جائز حقوق، معیار اور اصلاح کیونکر
ممکن ہے۔ جیلوں میں انسانی حقوق اور قیدیوں
کے معیار زندگی کے لیے کام کرنے والی ایک
غیر سرکاری تنظیم ’سپارک‘ کے اعلیٰ
عہدیدار سجاد چیمہ جیلوں میں قیدیوں کے
کم تر معیار زندگی ، جائز حقوق سے محرومی
اور جیل انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے،
جس کی بنیادی وجہ کرپشن اور سفارش ہے، کو
قیدیوں کی تشویش کی بنیادی وجہ قرار دیتے
ہیں۔ ان کے بقول جیلوں میں
قیدیوں کے رویے کی اصلاح کے لیے بھی کوئی
سنجیدہ اقدام نہیں کیے گئے، قیدیوں کو
قابو میں رکھنے کے لیے ہر طرح سے رکاوٹیں،
سزائیں اور مشقت کے حربے استعمال کیے جاتے
ہیںتاہم ایک مجرم کے لیے بہتر شہری بننے
کی ترغیب کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔
امتحان پاس کرنے، مذہبی تعلیمات حاصل
کرنے اور شریفانہ رویہ اختیار کرنے پر
قید میں کچھ کٹوتی ضرور ہوتی ہے تا ہم ان
اقدامات کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی
اور نہ ہی اس طرز عمل کی تحریک کے لیے جیل
میں سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ہفتے میں
ایک دفعہ آدھ گھنٹے کی ملاقات اور وہ بھی
بغیر رشوت کے ناممکن، ان اقدامات کا الٹا
اثر یہ ہے کہ قیدیوں کی بڑی تعداد نے اثرو
رسوخ اور رشوت کے ذریعے جیلوں میں موبائل
فون رکھ لیے ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں کوئی
جیل ایسی ہے جہاں ناجائز طور پر موبائل
فون استعمال نہیں ہوتا، یہ سوال جب آئی
جی جیل خانہ جات پنجاب کے دفتر میں تعینات
ایک اعلیٰ افسر سے کیا تو انہوں نے کافی
دیر سوچ کر غالباً ایک جیل کا نام لیا لیکن
اس کے حوالے سے بھی انہیں پوری تسلی نہ
تھی۔ تاہم اگر جیل میں ٹیلی فون جیمرز
نہیں لگ سکتے تو قیدیوں کے لیے کال آفس کا
بندوبست ہی کر دیا جائے، اس سے ملاقات کے
لیے آنے والوں کی تعداد اور جیلوں کے
انتظامی مسائل میں بھی خاصی کمی ہو سکتی
ہے۔
انسانی
حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری
تنظیم ’گلوبل فاﺅنڈیشن‘ کی گذشتہ برس
دسمبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ
جیلوںمیں قیدیوں کی صحت کی تشویشناک
صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق
پنجاب کی جیلوں میں 197
قیدی
ایڈز میں مبتلا ہیں۔ تنظیم کے سربراہ الفت
حسین کاظمی کے بقول سنٹرل جیل لاہور میں
ایڈز کے 77،
منڈی بہاﺅالدین میں 44،
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 30،
ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں 30
جبکہ
ڈسٹرکٹ جیل لاڑکانہ میں 21
اور
کراچی جیل میں ایڈز کے 34
مریض
ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیمار قیدیوں کے لحاظ
سے سنٹرل جیل لاہور پہلے نمبر پر ہے،
ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاﺅالدین دوسرے نمبر
پر اورڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ تیسرے نمبر پر
ہے۔الفت کاظمی کے بقول گلوبل فاﺅنڈیشن
کی تجویز پر ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں
کا طبی معائنہ کروانے کے لیے چند ماہ قبل
چیف جسٹس آف پاکستان نے احکامات دیے تھے
جس کے بعد صوبہ پنجاب کی 32
میں
سے 29
جیلوں
میں قید 32464
قیدیوں
کا معائنہ کروایا گیا جن میں سے 26328
کی
رپورٹس میں سے 197
ایڈز
کے مریض ثابت ہوئے جبکہ مجموعی طور پر
5047
قیدی
مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے، جن میں
3464
ہیپاٹائٹس
سی اور1002
ہیپاٹائٹس
بی کے مریض ہیں۔ سنٹرل جیل اڈیالہ میں
5987
افراد
میں سے 3500
قیدیوں
کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 97
ٹی
بی، 34
ہیپاٹائٹس
بی، 249
ہیپاٹائٹس
سی اور 30
ایڈز
میں مبتلا ہیں۔ تا ہم رپورٹ کے مطابق
ڈسٹرکٹ جیل مظفر گڑھ، گجرات
اور ڈیرہ غازی خان سے ٹی بی چیک کرنے کے
لیے نمونے حاصل نہیں کیے گئے۔ گوجرانوالہ
جیل سے بھی کسی قیدی کا طبی نمونہ حاصل
نہیں کیا گیا۔گلوبل فاؤنڈیشن
کے سربراہ الفت کاظمی کے مطابق جیلوں کے
ہسپتال رشوت اور سفارش کے مراکز ہیں جہاں
عام قیدی کو طبی سہولیات تک رسائی حاصل
نہیں ہے۔ رپورٹ میں جیلوں کے ہسپتالوں کے
نظام میں اصلاح کی تجویز دی گئی ہے۔
گزشتہ
کچھ برسوں کے دوران جیلوں کے اندر فرقہ
وارانہ اور مذہبی منافرت کے نتیجے میں
تشدد کے بھی کئی واقعات ہوئے ہیں، جن میں
کئی قیدی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں ۔ 15
ستمبر
2009ء
کو ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں توہین قرآن کا
مبینہ ملزم رابرٹ عرف دانش مسیح ہلاک ہو
گیا۔ ملزم رابرٹ کو عدالت نے 14
روزہ
ریمانڈ پر جیل بھیجاتھا۔ جیل حکام کے بقول
رابرٹ کو ایک الگ سیل میں رکھا گیا تھا
جہاں اس نے خود کشی کر لی تا ہم ملزم رابرٹ
کے لواحقین کے بقول اس کی موت تشدد کی وجہ
سے ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں سانگھڑ، ڈیرہ
غازی خان اور کوٹ لکھپت جیل لاہور میں بھی
اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
جیل
خانہ جات میں اصلاحات کے ذریعے سے جرائم
کی روک تھام کے سلسلے میں خاص مدد حاصل کی
جا سکتی ہے۔ جیل کو دراصل ایک ایسا ادارہ
ہونا چاہیے جہاں ان افراد کے رویے میں
مثبت تبدیلی لانے اور انہیں بہتر انسان
بنانے کے مقصد سے کام ہو، جن سے جرائم سرزد
ہوئے ہیں نہ کہ چھوٹے مجرموں کو عادی مجرم
بنانے کی تربیت گاہیں، جیسا کہ ہمارے ہاں
ہو رہا ہے۔ تاہم جیل کے نظام میں اصلاحات
کے لیے عدل و انصاف کے نظام میں اصلاحات
نا گزیر ہےں۔اس وقت جیلوں میں بند 80
ہزار
سے زائد افراد میں سے 70
فیصد
کے قریب ایسے قیدی ہیں جن کے مقدمات عدالتوں
میں زیر سماعت ہیں اور ان قیدیوں کو اپنے
مقدمات کے فیصلوں کے انتظار میں برسوں
جیل میں گزارنا پڑتے ہیں۔ بعض صورتوں میں
زیر سماعت قیدیوں کی جیل میں قید کا عرصہ
ان کے جرائم کی پوری سزا سے بھی زیادہ ہوجا
تا ہے۔ اگلے روز خبر آئی تھی کہ سنٹرل جیل
پشاور کے ایک قیدی نے انکشاف کیا ہے کہ
اسے 1990ء
میں چوری کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا
تھا اور آخری دفعہ اسے 2000ء
میں عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ رواں برس
یکم فروری تک پنجاب کی 32
جیلوں
میں جہاں 21527
قیدی
رکھنے کی گنجائش ہے وہاںمجموعی تعداد
49291
قیدی
رکھے گئے تھے جن میں 33441
قیدیوں
کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،جبکہ
سزا یافتہ قیدیوں کی مجموعی تعداد صرف
1341
ہے۔
واضح رہے کہ اس میں سنٹرل جیل فیصل آباد
کے قیدیوں کی تعداد شامل نہیں ہے۔ تاہم
اگر زیر سماعت مقدمات میں سزا کی شرح پر
غور کیا جائے تو یہ دس سے پندرہ فیصد کے
قریب ہی بنتی ہے دوسرے لفظوں میں جن قیدیوں
کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان
میں سے غالب حصہ ان قیدیوں کا ہے جو یا تو
بے گناہ ہیں یا ان کے مقدمات کی نوعیت ایسی
ہے کہ انہیں اپنے مقدمات کے فیصلوں کی
صورت میں بالآخر رہا ہونا ہے۔ قیدیوں کو
جیل کے نظام میں رائج برائیوں کا سامنا
تو رہتا ہی ہے تا ہم مقدمات کی سماعت اور
فیصلوں میں بے جا تاخیر کسی بھی قیدی کے
لیے سب سے زیادہ اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے۔
مقدمات کی سماعت کے نظام کو بہتر کر کے
جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں خاطر خواہ
کمی کی جا سکتی ہے۔تاہم قیدیوں کو جیلوں
سے عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے گاڑیوں
اور پولیس کے عملے کی ناکافی تعداد بھی
زیر سماعت مقدمات میں تاخیر کی ایک بڑی
وجہ قرار دی جا سکتی ہے۔
پنجاب
کی جیلوں میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے
والی غیر سرکاری تنظیم ’سپارک‘ کے عہدیدار
سجاد چیمہ کے مطابق جیل حکام کی کرپشن کے
خاتمے اور قیدیوں کو جائز حقوق اور سہولیات
کی فراہمی کے بغیر جیل کی فصیلوں کے اندر
کی مجرمانہ کارروائیوں کا خاتمہ ناممکن
ہے اور قیدیوں کو سہولیات کی فراہمی میں
سب سے بڑی رکاوٹ جیلوں میں گنجائش سے
قیدیوں کی دوگنا زیادہ تعداد ہے۔ ان کا
کہنا تھا کہ جیلوں میں شکایات درج کروانے
کا رواج نہیں ، قیدی جیل حکام سے خوفزدہ
ہو کر جیل کا دورہ کرنے والے سرکاری یا
غیر سرکاری اہلکاروں سے بھی اپنے مسائل
پر گفتگو نہیں کرتے، تاہم جیلوں میں شکایات
درج کروانے کا اگر ٹھوس نظام قائم کر دیا
جائے تو امکان ہے کہ قیدیوں کے اہم نوعیت
کے مسائل کا کوئی حل نکل آئے اس طرح رشوت
کے طرز عمل کی حوصلہ شکنی کا امکان بھی
ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کی
سماعت کے نظام میں بہتری کے علاوہ جیل کے
متبادل اور Reclamation
& Probation کے
ادارے کو فعال بنا کر بھی جیل خانہ جات کے
مسائل کو بڑی حد تک حل کیا جا سکتا ہے،
تاہم ان کے بقول یہ حیران کن امر ہے کہ
گذشتہ دس برس کے دوران پنجاب میں اس ادارے
کا ڈائریکٹر ہی تعینات نہیں کیا گیا۔
جیل
میں قیدیوں کی ہلاکت ۔۔خود کشی یا تشدد
انسانی
حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری
تنظیم گلوبل فاﺅنڈیشن کے مطابق گزشتہ نو
برسوں کے دوران ساڑھے چار سو سے زائد قیدی
جیلوں میں تشدد کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
تنظیم کی رپورٹ کے مطابق جیلوں میں نمبرداری
نظام کے تحت افسران نے فورس قائم کر رکھی
ہے جن کے تشدد سے متعدد قیدی بری طرح زخمی
ہوئے ہیں، تاہم زیادہ تر واقعات کو خود
کشی یا فرار کے دوران چھت سے گرکر زخمی
ہونے کا واقعہ قرار دے کر رفع دفع کر دیا
جاتا ہے۔
2000ء
میں اٹک جیل میں قیدی محمد انور کو برہنہ
کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو اس نے
جیل سپرنٹنڈنٹ پر گندگی کا ڈبہ انڈیل دیا۔
بعد ازاں جیل اہلکاروں کے تشدد سے قیدی
کی موت واقع ہو گئی۔
2001ء
میں ملتان جیل میں ایک قیدی خاتون غلام
سکینہ کو من مانے احکامات نہ ماننے پر
تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ جاں بحق
ہو گئی۔
8اکتوبر
2001ء
کو کوٹ لکھپت جیل میں قید 100
بچوں
کے قاتل جاوید اقبال کی پراسرار حالت میں
موت واقع ہو گئی۔
جون
2002ء
میں اڈیالہ جیل کے ایک قیدی امیر افضل کو
تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا تا ہم جیل
ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قیدی کے
جسم پر ہلکی ضربات کی تصدیق کے باوجود وجہ
موت دل کا دورہ قرار دیا۔
13
اپریل
2003ء
کو اڈیالہ جیل میں قیدی راشد حسین کو
بیماری کی حالت میں بیگار پر مجبور کیا
گیا جس کے بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔
12
جون
2003ء
کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں توہین رسالت
کے ملزم محمد یوسف کو جیل کے اندر ایک قیدی
نے پستول سے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
جولائی
2003ء
میں اڈیالہ جیل میں قیدی راشد ولد یاسین
کو مخالفین نے گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا
اور اس کی لاش غسل خانے میں لٹکا دی۔ واقعہ
کے عینی شاہد ین عمران ، عطاءاللہ اور
عثمان نے جب اس قتل کے خلاف آوازبلند کی
تو انہیں نشہ آور ٹیکے لگا کر پاگلوں کی
بیرک میں بند کر دیا گیا۔
12
جولائی
2003ء
کو سزائے موت کے قیدی اظہر محمود کو جیل
میں اس کے مخالفین نے گلا گھونٹ کر ہلاک
کر دیا۔
29
مئی
2004ء
کو کوٹ لکھپت جیل کے قیدی سیموئیل مسیح
کو ایک جیل اہلکار نے سر میں آئینی سریا
مار کر ہلاک کر دیا۔
فروری
2005ء
میں اڈیالہ جیل کے قیدی امجد محمود سے جیل
اہلکاروں نے پیسے چھیننے کی کوشش کی مزاحمت
پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ 22
روز
ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد اس کی
موت واقع ہو گئی۔
30
نومبر
2006ء
کو ملتان جیل میں قیدی سردار علی پر اسرار
حالات میں ہلاک ہوا۔
اپریل
2007ء
میں اڈیالہ جیل میں ایک قیدی پر تشدد کیا
گیا جس سے اس کی ذہنی حالت خراب ہو گئی۔
اسے جیل ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں وہ
ہلاک ہو گیا۔ مجسٹریٹ نے اپنی رپورٹ میں
قیدی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی تصدیق
کی تھی۔
4
ستمبر
2008ء
کو چکوال کے رہائشی غلام حیدر عرف گلاب
کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے
اس کے بازو اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور سر
میں بھی شدید چوٹیں آئیں جس کے بعد اس کی
موت واقع ہو گئی تا ہم جیل حکام نے اپنی
رپورٹ میں لکھا کہ قیدی فرار کی کوشش میں
چھت سے گر کر ہلاک ہوا تھا۔
19
ستمبر
2008ء
کو میانوالی جیل کا قیدی محمد اجمل جیل
اہلکاروں کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہو گیا
تا ہم جیل اہلکاروں نے اس واقعے کو بھی
خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ اس واقعہ
کے بعد قیدیوں نے جیل کے اندر تین اہلکاروں
کو یرغمال بنا لیا۔
اکتوبر
2008ء
میں سنٹرل جیل سکھر میں 60
سالہ
قیدی حاجی داﺅد جیل کے ڈاکٹر کی غفلت سے
جاں بحق ہو گیا ۔
اکتوبر
2008ء
میں کراچی کی ڈسٹرکٹ ملیر جیل میں ہنگامہ
آرائی کے دوران پولیس کی فائرنگ سے تین
قیدی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
23
نومبر
کو ڈسٹرکٹ جیل سانگھڑ میں مکرانی نامی
ایک قیدی ہلاک ہو گیا۔
جون
2009ء
میں ڈیرہ غازی خان جیل میں فرقہ واریت کے
مقدمات کے دو قیدیوں میں لڑائی ہوئی اس
دوران ایک قیدی ہلاک ہو گیا۔ بتایا جاتا
ہے کہ مقتول قیدی بشیر احمد کو دوسرے قیدی
لعل ملنگ نے ٹین کا تیز دھار ٹکڑا گردن پر
مار کر ہلاک کر دیا۔
جون
2009ء
لاڑکانہ سنٹرل جیل میں قید منیر پٹھان 22
جون
کو جیل میں ہلاک ہو گیا، جیل حکام نے اس
واقعے کو بھی خود کشی کا واقعہ قرار دیا،
جیل سپرنٹنڈنٹ کے بقول قیدی نے اپنی شلوار
کا ازار بند گلے میں ڈال کر خود کو ہلاک
کر لیا۔ تا ہم متوفی قیدی کا پوسٹمارٹم
کرنے والے ڈاکٹر کا بیان ہے کہ قیدی کے
جسم پر تشدد کے نشانات تھے ۔
13
اپریل
2009ء
کو سانگھڑ جیل میں توہین رسالت کے ملزم
انیس ملاح کو ہلاک کر دیا گیا۔ 25
سالہ
ملزم کو اسی روز میر پور خاص جیل سے سانگھڑ
منتقل کیا گیا تھا۔ تا ہم جیل آمد کے فوراً
بعد قیدی مشتعل ہو گئے اور انیس ملاح پر
حملہ کر دیا۔ اس کو پستول سے گولیاں ماری
گئیں اور چھرے سے اس کی گردن الگ کر دی
گئی۔ تا ہم جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی مدعیت
میں نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر
دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ قیدیوں کو انیس
ملاح کی آمد کی خبر کیسے ہوئی نیز جیل میں
چھرا اور پستول کیسے پہنچے؟
|