|
جیل
یا جرائم کی آماجگاہ؟
احمدنور
فیصل
آباد سنٹرل جیل میں 30
جنوری
کی شام قیدیوں نے نئے سپرنٹنڈنٹ جیل کی
تعیناتی کے خلاف ہنگامہ کر کے پہلے جیل
کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی اور اس کے بعدچھتوں
پر چڑھ کر آگ لگا دی ۔ پولیس نے آنسو گیس
اور ہوائی فائرنگ کے استعمال سے صورتحال
کو قابو میں کرنے کی کوشش کی اوراس تصادم
کے نتیجے میں 40قیدی
اور پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پرائیویٹ
ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھایا کہ قیدی
چھتوں پر چڑھ کر آگ لگارہے تھے اور جیل
انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔
سنٹرل
جیل فیصل آباد میںہنگامہ آرائی ہونا جیل
کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے
بلکہ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف جیلوں
میں گاہے بگاہے ایسے متعدد واقعات سامنے
آچکے ہیں ۔تاہم ان میں سے زیادہ تر واقعات
میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیل کے اندر
موجود خطرناک اسیران نے اپنے گروہ بنا
رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ جیل میں اپنی
اجارہ داری قائم کرتے ہیں اور اپنی جائز
ناجائز ضروریات کو پوری کروانے کےلئے جیل
عملے پر دباﺅ ڈالتے ہیں۔محکمہ جیل کے
کرپٹ ملازمین قیدیوں کے ان پریشر گروپس
کی ضروریات پوری کرنے کےلئے ان سے رشوت
لیتے ہیں جس کی وجہ سے جیل کا نظم و ضبط
بتاہ ہو جاتا ہے۔کرپشن کے جرم میں سینکڑوں
جیل ملازمین کو نوکری سے برخاست بھی کیا
گیا ہے لیکن تاحال رشوت کے عفریت پر قابو
نہیں پایا جا سکا ہے کیونکہ رشوت صرف جیلوں
ہی میں نہیں ہے بلکہ یہ مختلف شکلوں میں
پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ توکیا
کرپشن کے علاوہ اور بھی وجوہات ہو سکتی
ہیں جن کے باعث جیل کا نظام فرسودہ ہو چکا
ہے؟
ہفت
روزہ ہم شہری کی طرف سے فیصل آباد کی سنٹرل
جیل میں پیش آنے والے حالیہ و اقعے کی
تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ رواں
برس 10
اور
11
جنوری
کی درمیانی شب سزائے موت کا قیدی شہزاد
الحسن فیصل آباد سنٹرل جیل سے پو لیس کی
وردی پہپن کر فرار ہو نے میں کامیاب ہو
گیا تھا جس کے بعدمحکمہ جیل میں ہلچل کی
سی صوتحال تھی کیونکہ گذشتہ پانچ برس
میںصرف پنجاب کی مختلف جیلوں سے نو خطرناک
قیدی فرار ہو چکے ہیں۔ چند روز قبل محکمہ
جیل میںقیدیوں کے فرار کو روکنے کےلئے
حفاظتی اقدامات کی تجاویز بھی گردش کر
رہی تھیں جن میں جیل عملے کی شناخت کےلئے
پرانے طریقہ کار کو فوری طور پر تبدیل کر
کے اس کی جگہ مقناطیسی پٹی اور بائیو میٹرک
نظام(Magnetic
strip and Biomatry system) کی
تجویز کے علاوہ جیل یونیفارم کو بھی ایک
ضابطے کے تحت جاری کرنا شامل تھا۔فیصل
آباد جیل سے سزائے موت کے قیدی کے بھاگ
جانے کے بعد ہوم سیکرٹری پنجاب نے اس وقت
کے جیل سپرنٹنڈنٹ قاضی اسلم، ایڈیشنل
سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ
ندیم فضل سمیت آٹھ اہلکاروں کو معطل کر
دیا تھااور ان کی جگہ سپرنٹنڈنٹ طارق بابر
کو تعینات کیا تھاتاکہ جیل کا نظم و ضبط
بہتر کیا جا سکے۔قیدیوں نے الزام لگایا
کہ طارق بابر نے قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی
اور ان پر تشدد کیا جس پر قیدیوں نے چھتوں
پر چڑھ کر احتجاج کیا۔تاہم طارق بابر کا
کہنا تھا کہ قیدیوں کی ملی بھگت سے صرف
سنٹرل جیل سے اب تک پانچ قیدی فرار ہو چکے
ہیں اسلئے وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے
والے قیدیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔
محکمہ
جیل میں سپرنٹنڈنٹ طارق بابر کے بارے میں
عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ایماندار
اور نڈرپولیس افسر ہیں اور وہ جیل قوانین
سے ہٹ کر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے ہیں ۔کسی
بھی جیل میں اُنہیں بھیجنے کا مطلب یہ
ہوتا ہے کہ وہاں نہ تو جیل کے عملے کو رشوت
لےنے کی چھوٹ دی جائے گی اور نہ ہی قیدیوں
کوقانون سے بالا تر کوئی بھی سہولت فراہم
کی جائے گی۔تاہم یہ تاثر بھی اپنی جگہ
موجود ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کروانے
کےلئے بد نظمی پیدا کرنے والے قیدیوں پر
تشدد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔
جیل
پولیس کے ایک اعلی افسر نے نام ظاہر نہ
کرنے کی شرط پر”ہم شہری“ کو بتایا کہ
سنٹرل جیل فیصل آبادمیں کرپشن اور اس کے
نتیجے میں ہونے والے جرائم کے پیش نظر جیل
کی صورتحال کافی عرصے سے انتظامیہ کے قابو
سے باہر ہوچکی تھی۔جیل میں قیدیوں کی نقل
و حرکت پر کوئی پابندی نہیں تھی اور قیدی
قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بیرک
سے دوسری بیرک میں جا کر منشیات بھی فروخت
کرتے تھے اور لڑائی جھگڑے بھی کرتے تھے۔جیل
قوانین کے تحت کسی بھی قیدی کو جیل میں
موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہے لیکن
جیل انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے قیدیوں
کے پاس موبائل فون بھی تھے جن کے ذریعے
جرائم پیشہ قیدی جیل کے اندر اور باہر
جرائم کرواتے ہیں۔جیل میں قیدیوں کے پاس
موبائل فون ہونے کا ایک واضع ثبوت یہ ہے
کہ ہنگامے کے دوران متعدد قیدیوں نے موبائل
فون کے ذریعے ٹی وی چینلوں پر براہ راست
بات چیت کی۔واضع رہے کہ نہ صرف سنٹرل جیل
فیصل آباد بلکہ پاکستان بھر کی جیلوں میں
اسی سے ملتی جلتی صوتحال پائی جاتی ہے ۔
جیل
ذرائع کے مطابق سپرنٹنڈنٹ طارق بابر کی
سنٹرل جیل فیصل آباد تعیناتی کی خبر آتے
ہی پوری جیل کے قیدیوں اور وہاں کے کرپٹ
عملے میں یہ خوف سرایت کر چکا تھا کہ اب
اُن کی من مانی نہیں چلے گی۔ طارق بابر نے
30جنوری
یعنی ہنگاموں کے روز سنٹرل جیل فیصل آباد
کا چارج سنبھالا اور سب سے پہلے سزائے موت
کے قیدیوں کی ایک بیرک سے دوسری بیرک میں
نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی اور اس
پر عمل درآمد نہ کرنے والے قیدیوں کو سزا
دی۔اس کے بعد قیدیوں نے احتجاج کا سلسلہ
شروع کر دیا اور بات ہنگامے تک پہنچ گئی۔
باوثوق
ذرائع اور عینی شاہدین نے بتایا کہ ہاتھوں
میں ڈنڈے، پتھر اور دیگر چیزیں اُٹھائے
1500کے
قریب قیدیوں نے سب سے پہلے جیل کے مرکزی
دروازے پرحملہ کیا اور اسے توڑ کر فرار
ہونے کی کوشش کی جس پر جیل پولیس نے آنسو
گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔اس
کے بعد غصے میں بپھرے ہوئے قیدی جیل کی
چھتوں پر چڑھ گئے اور جیل انتظامیہ کے
خلاف نعرے بازی کی اور مختلف چیزوں کو آگ
لگانے کے ساتھ ساتھ عملے پر پتھراﺅ بھی
کیا۔جیل انتظامیہ نے قیدیوں کے ساتھ
مذاکرات کی کوشش کی جو کہ ناکام ہو گئی
اور اس کے بعد فیصل آباد کے مختلف تھانوں
سے پولیس کو طلب کر لیا گیا اور مشتعل
قیدیوں کو قابو میں کرنے کےلئے پولیس نے
رات بھر کارروائی کی۔جیل عملے اور قیدیوں
کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں
کم از کم 40جیل
اہلکاراور قیدی زخمی ہو گئے۔ذرائع کے
مطابق دریں اثناصوبائی وزیر جیل خانہ جات
چوہدری عبدالغفور بھی سنٹرل جیل فیصل
آباد پہنچ گئے اور قیدیوں کے ساتھ مذاکرات
کرنے کی کوشش کی لیکن قیدیوں نے اُن پر
بھی پتھراﺅ کر دیااور وزیر جیل خانہ جات
نے جیل کی ڈیوڑھی میں بھاگ کر اپنی جان
بچائی۔ ”ہم شہری“ کے ساتھ ٹیلیفون پر
گفتگو کرتے ہوئے چوہدری عبدالغفور نے
بتایا کہ وہ پہلے سمجھتے تھے کہ جیل افسران
قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں اور
انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں لیکن فیصل
آباد والے واقعے کے بعد انہیں یقین ہو چلا
ہے کہ جیلوں کے اندر جرائم پیشہ قیدیوں
نے پریشر گروپ بنا رکھے ہیں جو جیل قوانین
کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
یہ جاننے کےلئے تحقیقات جاری ہیں کہ ہنگامہ
کروانے والوں میں کون لوگ ملوث ہیں لیکن
ابتدائی تحقیقات میںیہ بات سامنے آئی ہے
کہ طارق بابر سے پہلے تعینات سپرنٹنڈنٹ
جیل قاضی اسلم نے جیل میں موجود اپنے
حامیوں کی مدد سے ہنگامہ کروانے کی کوشش
کی ہے تاکہ انہیں دوبارہ تعینات کیا جا
سکے۔ذرائع نے بتایا کہ ہنگامے کے دوران
مشتعل قیدی یہ مطالبہ با ر بار دہراتے رہے
کہ سپرنٹنڈنٹ جیل قاضی اسلم کو دوبارہ
تعینات کیا جائے کیونکہ طارق بابر کی
تعیناتی کی وجہ سے کرپشن کے ذریعے مراعات
حاصل کرنے والے قیدیوں اور ان سے رشوت
کھانے والے جیل کے نچلے عملے کےلئے مشکلات
میں اضافہ ہو گیا تھا۔اور ساری سازش کا
مقصد طارق بابر کوراستے سے ہٹانا تھا۔جیل
حکام نے قیدیوں کی طرف سے طارق بابر کو
ہٹانے کا مطالبہ رد کر دیا تو قیدیوں نے
مطالبہ کر دیا کہ وہ چیف جسٹس لاہور ہائی
کورٹ خواجہ محمد شریف کی یقین دہانی پر
احتجاج ختم کریں گے۔تاہم آئی جیل کوکب
ندیم وڑائچ نے جیل کی مسجد میں جا کر حلف
دیا کہ ہنگامہ کرنے والے قیدیوں کو کچھ
نہیں کہا جائے گا بشرطیکہ وہ اپنا احتجاج
ختم کر دیں۔ اس کے بعداحتجاج کا سلسلہ
اختتام پذیر ہوا اور صورتحال پر قابو پا
لیا گیا۔خواجہ محمد شریف نے 31
جنوری
کو فیصل آباد کی سینٹرل جیل میں قیدیوں
کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے واقعے کا
از خود نوٹس لے لیا اورفیصل آباد کے ڈی
آئی جی جیل خانہ جات اور جیل سپرنٹنڈنٹ
کو ریکارڈ سمیت دو فروری کو طلب کیا لیکن
رپورٹ مکمل نہ ہونے کے باعث چارفروری کی
تاریخ دے دی گئی۔
ویسے
تو پاکستان بھر کی جیلوں میں آئے روز
ہنگاموں کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں
لیکن اگر صرف پنجاب کی جیلوں کا جائزہ لیا
جائے توایسے متعدد واقعات رونما ہوچکے
ہیں۔ حالیہ واقعے سے قبل گذشتہ برس فیصل
آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں چند مہینوں کے
وقفے سے ہنگامہ آرائی کے دو واقعات سامنے
آئے جن میں سے ایک واقعہ میں جیل کے عملے
نے جیل کے اندر منشیات کا دھندا کرنے والے
ایک گروہ کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش
کی تو انہوں نے ایک اہلکار کے منہ پر بلیڈ
کے ساتھ حملہ کرکے اسے زخمی کر دیا اور اس
کے بعد پوری جیل میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
تاہم میڈیا میں قیدیوں کو معصوم اور جیل
عملے کو ظالم بنا کر پیش کیا گیا۔ دوسرے
ہنگامے کی وجہ یہ تھی کہ اظہر جاوید چیمہ
نے ایک قیدی پر تشدد کیا تھا جس کی وجہ سے
جیل عملے اور قیدیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی
تھی۔انکوائری کے بعد اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ
جیل کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔
ٹوبہ
ٹیک سنگھ جیل میں بھی پچھلے تین برسوںکے
دوران تین دفعہ ہنگامے ہوئے جن میں ایک
قیدی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔اس جھگڑے
کی وجہ یہ تھی کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ جیل نئی
بنی تھی اور قیدیوں کے ایک با اثر گروہ نے
سیاستدانوں کی سفارش سے مختلف سہولیات
لینا شروع کر دیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ
معاملات جیل عملے کے قابو سے باہر ہوگئے
اور جب حالات پرقابو پانے کی کوشش کی گئی
تو بات ہنگاموں تک پہنچ گئی۔2008میں
منڈی بہاوالدین جیل میں مظہر نامی قیدی
کے قتل کی افواہ پھیلی جس کی وجہ سے ہنگامے
ہوئے۔2008ہی
میںبرس میانوالی جیل میں ایک قیدی نے گلے
میں پھندہ ڈال کر خود کشی کر لی جس کے
بعدپوری جیل میں ہنگامہ ہوا۔تاہم اس واقعے
کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہو سکیں ہیں۔
جیل
بنانے کی ضرورت تو اس لئے پڑی تاکہ معاشرے
میں پائے جانے والے خطرناک ترین جرائم
پیشہ افراد کو قابو کیا جا سکے اور انہیں
سزا دی جا سکے لیکن ہماری جیلوں میں گنگا
ا#±لٹی
بہتی ہے کیونکہ جیل میں آنے کے بعد جرائم
پیشہ افراد زیادہ محفوظ ہو جاتے ہیں اور
وہ نہ صرف جیل کے اندر اعتماد کے ساتھ پہلے
سے زیادہ خطرناک جرائم میں ملوث ہوجاتے
ہیں بلکہ جیل کے باہر بھی اپنے جرائم کا
نیٹ ورک کامیابی سے چلاتے ہیں ۔ اس کی
بنیادی وجہ تو جیل کے اندر کرپشن کا وہ
بازار ہے جو پوری جیل میں قدم قدم پر گرم
نظر آتا ہے اور یہ کرپشن ہی ہے جس کی وجہ
سے جرائم پیشہ افراد کو جیل میںغیر قانونی
سرگرمیاں جاری رکھنے کا لائسنس مل جاتا
ہے ۔تاہم تصویر کے اور رُخ بھی ہیں جن کو
مد نظر نہ رکھے جانے کے باعث بہت سے دیگر
مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔مثلاً جیلوں میں
گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں جس کی وجہ سے
گوناگوں مسائل جنم لےتے ہیں ۔ملک میں
موجود 97جیلوں
میں 42165
قیدیوں
کو رکھنے کی اجازت ہے لیکن موجودہ تعداد
87000تک
پہنچ چکی ہے اور جیلیں ہیومن زو یعنی
انسانوں کا چڑیا گھر بن چکی ہیں۔جیلوں کی
آبادی کے تناسب کے لحاظ سے جیل عملے کی
تعداد بہت تھوڑی ہے جس کی وجہ سے جیل کے
نظم و ضبط کو قائم رکھنے میں مشکلات پیش
آتی ہیں اور جرائم پیشہ قیدی اپنی اجارہ
داری قائم کر لےتے ہیں۔ سُست عدالتی نظام
کی وجہ سے ہزاروں ایسے اسیران جیل میں
ہیںجن کا ابھی تک کوئی فیصلہ ہی نہیں ہو
سکا ہے۔محکمہ جیل سے حاصل ہونے والے اعداد
وشمار کے مطابق جیلوں کی ستر فیصدآبادی
میں ایسے قیدی موجود ہیںجن کے کیسزکی ابھی
تک سماعت ہی نہیں ہو سکی ہے ۔پنجاب کی
32جیلوں
میں53000
قیدی
ہیں جن میں سے 34000انڈر
ٹرائل قیدی ہیں۔ان میں سے بہت سارے ایسے
افراد بھی ہیں جو یا تو بے گناہ ہیں یا وہ
پولیس کی نااہلی کے باعث چھوٹے موٹے جرائم
میں جیل کے اندر برسوں سے قید ہیں لیکن
غربت اور عدالتی نظام کے موثر نہ ہونے کی
وجہ سے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ہے۔
جیل
مینول یعنی جیل قوانین جدید دور کے تقاضوں
سے ہم آہنگ نہیں ہے اور میں انقلابی سطح
پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔آج کی تاریخ تک
جیل ریفارمز یعنی جیل کی حالت بہتر کرنے
سے متعلق مختلف حکومتوں کے ادوار میں دس
کمیٹیاں بن چکی ہیں اور ان سب کمیٹیوں کی
سفارشات وزارت قانون میں موجود ہیں مگر
ان سفارشات پر کوئی عملی اقدامات نہیں
کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی
خود بھی جیل میں رہ چکے ہیں اور اقتدار
میں آنے کے بعد انہوںنے وزارت قانون کو
ہدایت کی تھی کہ وہ قیدیوں کے بارے میں
بنائے گئے قوانین میں تبدیلی کے لیے
سفارشات مرتب کرے اور رپورٹ وزیراعظم
سیکریٹریٹ کو بھجوائیں لیکن اس میں بھی
کوئی مچبت پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔جیل
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے آخری کمیٹی
حمزہ شہباز کی سربراہی میں قائم کی گئی
ہے جو جیل قوانین میں اصلاحات لانے پرکام
کر رہی ہے۔
اس
کے علاوہ محکمہ جیل کاخود مختار نہ ہونا
اور اس میں سیاستدانوں اور بیورو کریسی
کی مداخلت بھی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے۔پنجاب
پولیس کے آئی جی کو(Administration
Head of Department) کا
ٹائٹل دیا گیا ہے یعنی اس کے پاس ہوم
سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کے برابر اختیارات
ہیں اور وہ جب چاہے ناقص کا رکردگی کا
مظاہرہ کرنے والے پولیس ملازمین یا افسران
کا تبادلہ بھی کر سکتا ہے اور انہیں معطل
یا برخاست بھی کر سکتا ہے لیکن جیل پولیس
کے سربراہ کو (Attached
Head of Department)کہا
جاتا ہے یعنی وہ نہ تو کوئی ایکشن لے سکتا
ہے اورنہ ہی کسی کو نوکری سے برخاست یا
تبادلہ کرسکتا ہے۔ یہ اختیار صرف ہوم
سیکرٹری کے پاس ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ
محکمہ جیل ایک ایسا ادارہ ہے جس کے آئی جی
اور ڈی آئی جی کےلئے وردی ہی نہیں ہے۔جہاں
قیدی کا ماہانہ راشن الاونس 1500
روپے
ہے جبکہ جیل کے سپاہی کا الاونس 900روپے
ہے۔جہاں چند مہینے پہلے تک مقابلے کے
امتحان کے ذریعے منتخب کئے جانے والے
اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کی تنخواہ 6000
روپے
تھی جبکہ راشن الاونس 390روپے
ماہانہ اور دھوبی الاونس 50
روپے
تھا۔یاد رہے کہ پاکستان میں مزدور کی کم
از کم تنخواہ بھی 6000
روپے
ہے۔
محکمہ
جیل کا کوئی میڈیا ترجمان نہیں ہے جس کی
وجہ سے ملک کی کسی بھی جیل میں کوئی واقعہ
رونما ہوتا ہے تو ذرائع ابلاغ میں افواہیں
گردش کرتی ہیں اور تصویر کا صرف ایک رُخ
یعنی قیدیوں کے ساتھ ظلم کی خبریں ہی
نمایاں ہوتی ہیں لیکن جیل کا موقف واضع
کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے۔مثال کے طور
پر سنٹرل جیل فیصل آباد میں ہنگامے کے
دوران میڈیا کی طرف سے ایک غلط خبر بھی چل
گئی کہ جھڑپوں میں دو قیدی ہلاک ہو گئے
ہیںلیکن نہ تو میڈیا نے اس کی معذرت کرنا
مناسب سمجھی اور نہ ہی محکمہ جیل میں سے
کسی نے اس کی تردید کی۔پنجاب پولیس کی
کوئی وزارت نہیں ہے جبکہ محکمہ جیل کی
وزارت بنا دی گئی ہے۔سیاسی مداخلت سے حکم
عدولی کرنے والے جیل افسران کے تبادلے
کروانا اور پاکستان بھر میں سب سے خطرناک
اسیران کو سہولتیں فراہم کروانا بھی
سیاستدانوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔جیل کے
ایک سینئر افسر نے بتایا کہ وہ یہ نہیں
کہتے کہ جیل کے محکمے میں کرپشن نہیں ہوتی
لیکن بیوروکریسی اور سیاستدانوں کی’بیہودہ
مداخلت‘کی وجہ سے جیل کے نظام میں بہتری
آنے کے بجائے اس کے مسائل میں اضافہ ہو
رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ جیل کو
وزارت قانون و انصاف کے زیر اثرکر دیا
جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
محکمہ
جیل کے موجودہ مسائل کومد نظر رکھنے کے
بعد یہ چیز سامنے آتی ہے کہ حکومت کو چاہیئے
کہ وہ محکمہ جیل کے سربراہ کو خود مختار
بنا ئے اور جس طرح ٹریفک کے محکمے میں
موجود پرانے اور رشوت خور اہلکاروں کو کم
آبادی والے شہروں میں بھیج کر یا انہیں
جبری ریٹائر کر کے ان کی جگہ زیادہ تنخواہوں
پر پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ ٹریفک وارڈنز
کو تعینات کیاگیا ہے۔اسی طرح کی انقلابی
تبدیلی کی اب جیل کے محکمے کو بھی ضرورت
ہے۔ ٹریفک کے نئے نظام کی وجہ سے نہ صرف
رشوت کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ ٹریفک کے نظام
میں بھی بہتری آئی ہے ۔
|